وزارت خزانہ
ممبئی میں بھارت میری ٹائم انشورنس پول کی ورکشاپ کا انعقاد
بی ایم آئی پول نے جنگی خطرات کے بیمہ پریمیم میں 48 فیصد تک کمی کی؛ حکومت نےہندستان کے گھریلوپی اینڈ آئی بیمہ نظام کے تشکیل کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل روڈ میپ کا اعلان کیا
ہندوستان کی بحری بیمہ میں خود کفالت کی طرف پیش قدمی ، بی ایم آئی پی نے پریمیم لاگت میں کمی کی
प्रविष्टि तिथि:
05 JUN 2026 6:11PM by PIB Delhi
حال ہی میں شروع کیے گئے بھارت میری ٹائم انشورنس پول(بی ایم آئی پی) پر ایک ورکشاپ آج ممبئی میں شپنگ کارپوریشن آف انڈیا کے آڈیٹوریم میں منعقد کی گئی۔ یہ تقریب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ اور جنرل انشورنس کونسل کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔
اس ورکشاپ میں بحری شعبے کے اہم اسٹیک ہولڈرز جیسے جہاز مالکان، کارگو مالکان اور شپنگ لائنز نے شرکت کی تاکہ بحری بیمہ کے حل اور شعبے کی مستقبل کی ترقی پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔
ورکشاپ کا افتتاح ڈاکٹر دیباشیش پرستی (ایڈیشنل سکریٹری، ڈی ایف ایس) نے کیا۔ اس موقع پر شپنگ اور جنرل انشورنس انڈسٹری کے مختلف سینئر نمائندوں جیسےڈائریکٹر جنرل آف شپنگ، ڈائریکٹر (شپنگ کارپوریشن آف انڈیا)، جی آئی کونسل، جی آئی سی ری اور این آئی اے سی ایل وغیرہ شامل تھے، نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

جناب پرستی نے تمام شرکاء کا خیرمقدم کیا اور جی آئی کونسل، ڈی جی شپنگ اور جی آئی سی ری کی ان کوششوں کی تعریف کی کہ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک جگہ اکٹھا کر کے بی ایم آئی پول کے ذریعے دستیاب موجودہ کوریج کو سمجھنے اور ہندوستان میں پی اینڈ آئی کوریج اور پی اینڈ آئی کلب کے حوالے سے صنعت کی ضروریات اور توقعات پر تبادلۂ خیال کیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بی ایم آئی پول کے تحت ہل وار(جہاز کے ڈھانچے کو جنگی خطرات سے ہونے والا نقصان) اور کارگو وار رسک کوریج پالیسیوں کے پریمیم میں بالترتیب 27 سے 48 فیصد تک کمی آئی ہے۔
انہوں نے مستقبل کے روڈ میپ کے لیے تین مراحل کی تجویز پیش کی، جن میں ملک میں پی اینڈ آئی پروڈکٹ تیار کر کے بحری تجارت میں خود کفالت حاصل کرنا، بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کی وزارت(ایم او پی ایس ڈبلیو) کے ساتھ مل کر منتخب بحری جہازوں کے لیے بی ایم آئی پول کوریج کے دائرہ کار کو وسعت دینا اور بین الاقوامی قواعد و ضوابط اور معیارات کے مطابق باہمی کلب تشکیل دے کر انٹرنیشنل گروپ پی اینڈ آئی کلبز (آئی ج کلبز) کے ساتھ ممکنہ انضمام کے امکانات تلاش کرناشامل ہے۔

ڈائریکٹر جنرل (شپنگ) نے نشاندہی کی کہ 2015 سے اب تک ہندوستانی شپنگ میں ہندوستانی ٹننج(مجموعی گنجائش) میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو بڑھ کر مجموعی طور پر 1600 جہازوں تک پہنچ گیا ہے۔ 01.03.2026 تک آبنائے ہرمز میں ٹریفک میں 86 فیصد کمی اور موجودہ جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافے کا بھی ذکر کیا گیا۔ انہوں نے بھارت میری ٹائم انشورنس پول (بی ایم آئی پی) کے ذریعے بحری تجارت کے لیے بیمہ کی کوریج کو یقینی بنانے پر حکومت کی کوششوں کو سراہا۔
چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر(این آئی اے سی ایل) نے بی ایم آئی پی کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا، جوہندوستان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد، پائیدار اور بین الاقوامی سطح پر قابلِ احترام پی اینڈ آئی فریم ورک حاصل کرنے کے طریقوں کی تلاش میں مدد کر سکتا ہے۔ جی آئی سی ری کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر نے بھی بی ایم آئی پول کی اس صلاحیت کو تسلیم کیا کہ یہ بحری خطرات کی بیمہ کے لیے درکار معاونت فراہم کر سکتا ہے اور ملک کی تجارت کے ایک اہم شعبے پر خودمختار کنٹرول کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ پول مینیجر، جی آئی سی ری نے شپ مالکان اور ان کی انجمنوں کی جانب سے پول کے تحت کوریج سے متعلق پوچھے گئے سوالات اور وضاحتوں کا جواب دیا۔ اس کے علاوہ میری ٹائم انڈر رائٹرز، شپ مالکان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز جیسے ایڈجسٹرز اور کورسپانڈنٹس کے ساتھ پی اینڈ آئی انشورنس مصنوعات کے ڈیزائن کے حوالے سے غور و خوض کیا گیا تاکہ ملک کی فوری پی اینڈ آئی انشورنس ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
موجودہ عالمی صورتحال میں بحری تجارت کو نمایاں دباؤ کا سامنا ہے، جو بڑھتی ہوئی غیر یقینی اور جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام سے متاثر ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی جہازوں کا پی اینڈ آئی انشورنس کے لیے بین الاقوامی گروپ پی اینڈ آئی کلبز(آئی جی پی اینڈ آئی کلبز)پر انحصار بھی زیادہ ہے، جو تیسرے فریق کی ذمہ داریوں کااحاطہ کرتے ہیں۔ اس پول کے تحت صارفین اور شپ مالکان کو حکومت کی ضمانت کا فائدہ کم پریمیم کی صورت میں فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے بحری تجارت کے لیے بیمہ کو زیادہ قابلِ استطاعت بنایا جا رہا ہے۔
****
ش ح۔م ع ن-م ر
U-8028
(रिलीज़ आईडी: 2269461)
आगंतुक पटल : 10