سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
’ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بایو مینوفیکچرنگ کو ہم آہنگ بنانے‘ کے موضوع پر محکمہ بایو ٹیکنالوجی کا ویبینار
प्रविष्टि तिथि:
05 JUN 2026 4:23PM by PIB Delhi
عالمی یوم ماحولیات 2026 کے موقع پرحکومت ہند کے محکمہ بایوٹکنالوجی(ڈی بی ٹی)’ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بایو مینوفیکچرنگ(حیاتیاتی پیدوار) کو ہم آہنگ بنانے‘ کے موضوع پر ایک ویبینار کا انعقاد کیا، جو عالمی موضوع ’ماحولیاتی اقدام #NowForClimate‘ کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔ اس نشست میں ڈی بی ٹی کے ان اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی، جو حیاتیاتی پیداوار، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، موسمیاتی لحاظ سے لچکدار حل اور پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
ڈاکٹر سنگیتا ایم کستوری، سائنس داں جی اور سربراہ، بایو مینوفیکچرنگ ڈائریکٹوریٹ،ڈی بی ٹی نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور بایو ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعی اور پائیدار حل کے ذریعے حیاتیاتی پیداوار کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے محکمے کی مسلسل کاوشوں کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بایو3ای پالیسی کے اس وژن کو اجاگر کیا ،جس کا مقصد قابل تجدید ایندھن، کیمیکلز، بایو میٹریلز اور دیگر حیاتیات پر مبنی مصنوعات کے لیے اعلیٰ کارکردگی کی بایو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے، جو ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی لحاظ سے لچکدار زراعت کی حمایت کرتی ہیں۔
ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے،سکریٹری، ڈی بی ٹی، ڈی جی بی آئی آر اے سی اور چیئرمین بی آئی آر اے سی نےمواد کے ناپائیدار تصرف، فضلے کی بڑھتی ہوئی مقدار اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے چیلنجز کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بی آئی او ای3پالیسی کے تحت اعلیٰ کارکردگی والی حیاتیاتی پیداوار کے ذریعے ہندوستان کے ماحولیاتی اور پائیداری کے اہداف کی حمایت میں ڈی بی ٹی کی کوششوں پر زور دیا اور تحقیق اور صنعتی نفاذ کے درمیان خلا کو پُر کرنے کے لیےبایو باؤنڈریز اوربایو مینوفیکچرنگ ہبس کے ذریعے اختراعات کو وسعت دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے حیاتیات پر مبنی ٹیکنالوجیز کو تیز تر اپنانے کے لیے اطلاقی تحقیق اور صنعتی شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔
ہماچل انوائرنمنٹ اینڈ سسٹین ایبلٹی کنزرویشن آرگنائزیشن(ایچ ای ایس سی او)، اتراکھنڈ سے وابستہ ایک ماہر ماحولیات ڈاکٹر انل پرکاش جوشی نے ہمالیائی ماحولیاتی نظام کے تحفظ پر کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے کمیونٹی کی قیادت میں ماحولیاتی ذمہ داری، تحقیق کی افادیت، پائیدار وسائل کے انتظام اور موسمیاتی لحاظ سے لچکدار ترقی پر زور دیا۔ اس کے علاوہ حیاتیاتی پیداوارمیں بایو ٹیکنالوجی کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے حل کے ماحولیاتی اثرات کے تجزیے (فٹ پرنٹ اسسمنٹ) کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر جوشی نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی کے لیے مربوط طریقۂ کار کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیاتی خدمات کا تحفظ کیا جا سکے اور لچکدار معاشروں کو سہارا دیا جا سکے۔
ویبینار نے محکمہ کی سرگرمیوں کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی پائیداری سے نمٹنے کے لیے ہونے والی بایو ٹیکنالوجی کی پیش رفت کو اجاگر کیا۔ اس میں کاربن سائیکل کو بند کرنا اور کاربن کو روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا، مائکروبیل پلیٹ فارمز کے ذریعے پائیدار حیاتیاتی پیداوار کے طریقۂ کار؛ سندربن میں مقامی پودوں کی افزائش کو فروغ دینے والے ریزوبیکٹیریا کے ذریعے مینگروو حیاتیاتی تنوع کی بحالی؛ حیاتیاتی قابلِ تجدید وسائل سے پائیدار ہوا بازی کے ایندھن اور گرین ٹرانسپورٹیشن ایندھن کی تیاری؛ مائیکرو بایوم سائنس کے استعمالات برائے پائیداری اور حیاتیاتی معیشت کی ترقی؛ ماحولیاتی نظام کی نگرانی اور ماحولیاتی طور پر حساس آبی زمینوں کو نقصان پہنچانے والے انواع کے اثرات؛ اور جنگلات میں پودوں کی خصوصیات اور خشک سالی کے ردعمل کا مطالعہ شامل تھے۔
وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے نمائندے نے مشن لائف پر زور دیتے ہوئے آگاہی سے عملی اقدام کی طرف منتقلی کی اپیل کی۔ انہوں نے قدرتی وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کے فروغ کے لیے اجتماعی عمل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
صنعت کے شعبہ سےوابستہ دو ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی پر مرکوز بایو ٹیکنالوجیز کو لیبارٹری تحقیق سے صنعتی سطح پر نفاذ کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے۔ اس میں الجی پر مبنی بایو مینوفیکچرنگ نظام شامل ہیں، جو کاربن کو روزگار کے مواقع میں تبدیل کرتے ہیں اور مصنوعی نائٹروجن کی کھادوں پر انحصار کو کم کرتے ہیں، اسی طرح بایومیتهینیشن کے ذریعے پیدا ہونے والے سی او -2 کو قیمتی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے طریقے بھی شامل ہیں۔ اداروں جیسے آئی آئی ایس سی بنگلور، آئی سی جی ای بی نئی دہلی، ویسٹ بنگال اسٹیٹ یونیورسٹی، آئی آئی ٹی-آئی ایس ایم دھنباد،آئی آئی ایس ای آر کولکاتا،اے ٹی آر ای ای بنگلور، آئی آئی ایس ای آر ترواننت پورم، اور این سی بی ایس بنگلور کے مقررین نے لیکچرز دیے، جبکہ 100 سے زائد اداروں کے شرکاء نے اس پروگرام میں شرکت کرکے اس سے استفادہ کیا۔
ویبینار کا اختتام ایک پرجوش سوال و جواب کے سیشن پر ہوا۔ شرکاء نے ماہرین کے ساتھ فعال طور پر تبادلۂ خیال کیا اور ملک میں موسمیاتی تبدیلی پر مرکو حیاتیاتی پیداوار کےحل کو وسعت دینے کے مواقع اور چیلنجز پر گفتگو کی۔
****
ش ح۔م ع ن-م ر
U-8020
(रिलीज़ आईडी: 2269431)
आगंतुक पटल : 9