سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ماہرینِ فلکیات نے بلیک ہول نظام  سے آنے والی پراسرار ’’دھڑکنوں‘‘(بیٹس) کی مزید تحقیق شروع کر دی ہے

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 4:01PM by PIB Delhi

ماہرینِ فلکیات نے بلیک ہول سسٹمز میں نظر آنے والی ایک دلچسپ ’’جھلملاہٹ‘‘ کے پیچھے موجود راز کو جدید کمپیوٹر سمولیشنز کی مدد سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

بلیک ہول کائنات کی سب سے زیادہ کم حجم مگر انتہائی مضبوط کششِ ثقل رکھنے والی اشیاء ہیں۔ انہیں براہِ راست نہیں دیکھا جاتا بلکہ ان کے گرد موجود مادے سے خارج ہونے والی برقی مقناطیسی شعاعوں کا مشاہدہ کر کے ان کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ بلیک ہول کی طرف گرتا ہوا مادہ پہلے ایک عارضی ڈھانچے میں جمع ہوتا ہے جسے ’’ایکریشن ڈسک ‘‘کہا جاتا ہے۔

اسی ڈسک کا رویہ یہ طے کرتا ہے کہ توانائی اور شعاعیں کیسے پیدا ہوں گی۔ اگر ڈسک میں مادے کی حرکت زیادہ تر گردشی ہو تو اندرونی بہاؤ سست ہو جاتا ہے اور حرارتی شعاعیں پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن اگر مادہ زیادہ تیزی سے اندر کی طرف گرے تو غیر حرارتی شعاعیں  غالب آ جاتی ہیں، جو اکثر ’’کوازی پیریاڈک آسکیلیشنز‘‘پیدا کرتی ہیں۔ یہ سگنلز چند ہرٹز سے لے کر درجنوں ہرٹز تک کی فریکوئنسی رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے بلیک ہول نظام مسلسل چمکنے کے بجائے دھڑکنوں کی طرح جھلملاتے ہیں۔

بھارت کے آریہ بھٹا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنس (اے آر آئی ای ایس)، جو محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی )حکومتِ ہند کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے،اس کے سائنسدانوں نے ان فلوئڈ کے بہاؤ کا وقت کے ساتھ تجزیہ کیا۔ انہوں نے ایک عددی سمولیشن کوڈ استعمال کیا جو توانائی، کمیت اور مومینٹم کے تحفظ کے اصولوں پر مبنی ہے اور ریلیٹوِسٹک گیس کے لیے موزوں مساواتِ حالت استعمال کرتا ہے۔

اس تحقیق میں سائنسدانوں نے دیکھا کہ بلیک ہول کی طرف آنے والا مادہ ہمیشہ ہموار انداز میں نہیں گرتا۔ بعض حالات میں یہ اچانک جھٹکوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جہاں بہاؤ سست ہو کر گرم اور زیادہ کثیف ہو جاتا ہے، بالکل ایسے جیسے سپرسونک جیٹ میں جھٹکے پیدا ہوتے ہیں۔

جب ڈسک میں اندرونی رگڑ موجود ہو اور ساتھ ہی ٹھنڈا ہونے کا عمل بھی جاری ہو تو یہ جھٹکے غیر مستحکم ہو جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ ہلنے، جھولنے اور آگے پیچھے حرکت کرنے لگتے ہیں۔ یہی غیر استحکام ان جھلملاہٹوں اور کیو پی او کی وجہ بنتا ہے۔

مطالعے میں یہ بھی دیکھا گیا کہ گھنے اور گرم مادے کے یہ جھٹکے بعض اوقات بلیک ہول کے محور کے عمود پر ’’بائپولر جیٹس‘‘ یا اخراجی بہاؤ پیدا کر سکتے ہیں۔ زیادہ ویسکوٹی (α 0.05) کی صورت میں ڈسک کے اندر گرم، ببل نما  تربولنٹ علاقے بن جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ اوسیلیٹ کرتے ہیں اور کبھی کبھار پھٹنے جیسے رویے دکھاتے ہیں، جس سے مادے کا اخراج مزید بڑھ جاتا ہے۔

مزید یہ کہ محققین نے یہ بھی پایا کہ بعض حالات میں خارج ہونے والے مادے کی رفتار اوسطاً روشنی کی رفتار کے 25 فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جو بلیک ہول سسٹمز کی انتہائی طاقتور طبیعیات کو ظاہر کرتا ہے۔

شکل: پہلی قطار میں کثافت کے کانٹورز اور رفتار کے ویکٹرز (تیر)، دوسری قطار میں درجۂ حرارت (کیلون میں)، اور تیسری قطار میں زاویائی مومینٹم (λ) دکھایا گیا ہے، جس میں ماڈل L2 کے لیے α = 0.05 ہے۔ پہلی، دوسری، تیسری اور آخری کالم بالترتیب 85,000 tg، 95,000 tg، 104,000 tg اور 112,500 tg کے اوقات پر حاصل کیے گئے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے متن ملاحظہ کریں۔

 

لہٰذا، جھولتے ہوئے جھٹکےہائی انرجی شعاعوں کو وقت کے ساتھ بدلتے ہیں، جس سے کوازی پیریاڈک آسکیلیشنز کی فطری وضاحت ممکن ہو جاتی ہے جو اکثر ایکریشن کرنے والے بلیک ہول نظام میں دیکھی جاتی ہیں۔چونکہ شاک کے بعد والا ایکریشن ڈسک ایک سیال کی طرح برتاؤ کرتا ہے، اس لیے یہ کسی ٹھوس جسم کے بجائے ایک سیال ٹورس کی طرح ارتعاش کرتا ہے۔ اس گرم اور سیال خطے سے خارج ہونے والی شعاعیں پاور ڈینسٹی اسپیکٹرم میں بنیادی فریکوئنسی اور اضافی ثانوی پیکس کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں۔محققین کے مطابق یہ غالباً پہلا موقع ہے کہ بلیک ہولز کی طرف ہونے والے وسکاس  ٹرانسوسونک ایکریشن فلو کا دو بعدی (2D) عددی سمولیشن کیا گیا ہے، جس میں ریلیٹوِسٹک ایکویشن آف اسٹیٹ اور الیکٹران-پروٹون پلازما کو شامل کیا گیا ہے۔

آخر میں، انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کم فریکوئنسی والے C-type QPOs، جو ایک سٹیلر ماس بلیک ہول کے گرد ایک ہرٹز سے کم سے لے کر دسیوں ہرٹز تک ہوتے ہیں، ان کی بہترین وضاحت جھولتے ہوئے جھٹکوں  کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔

Publication link: https://iopscience.iop.org/article/10.3847/1538-4357/ae0ca7/pdf

 

*****

(ش ح ۔ اع خ۔ م ذ)

U.No: 7989


(रिलीज़ आईडी: 2268999) आगंतुक पटल : 3
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी