کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

وزیرِ مملکت برائے تجارت و صنعت جناب  جتن پرسادنے آئی آئی ایف ٹی میں گلوبل بزنس ریسرچ کانفرنس 2026 کا افتتاح کیا


انہوں نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے

جی بی آر سی 2026 میں ڈائریکٹرز کی کانفرنس، تحقیقی مباحثے اور برکس پر خصوصی نشست شامل ہے، جو موجودہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے تناظر میں منعقد کی جا رہی ہے

प्रविष्टि तिथि: 04 JUN 2026 3:04PM by PIB Delhi

بھارت کے وزیرِ مملکت برائے تجارت و صنعت جناب جتن پرساد نے آج انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فارن ٹریڈ (آئی آئی ایف ٹی )میں گلوبل بزنس ریسرچ کانفرنس (جی بی آر سی ) 2026 کا افتتاح کیا، جو وزارتِ تجارت و صنعت، حکومتِ ہند کے تحت ایک ڈیمڈ یونیورسٹی ہے۔ یہ کانفرنس “دنیا بھر میں جاری بے یقینی کے ماحول میں کاروبار کا انتظام” کے موضوع کے تحت منعقد کی جا رہی ہے، جس میں بھارت اور بیرونِ ملک سے نامور ماہرینِ تعلیم، پالیسی ساز، مینجمنٹ اساتذہ، محققین اور صنعتی ماہرین شرکت کر رہے ہیں تاکہ عالمی کاروباری ماحول میں ابھرتے ہوئے چیلنجز اور مواقع پر غور کیا جا سکے۔

اپنے خطاب میں جتن پرساد نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب  نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ایک طویل المدتی وژن اپنایا ہے جس کا مقصد تجارت، مینوفیکچرنگ، جدت اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور عالمی تجارتی شراکت داریوں جیسے شعبوں میں بھارت کی پیش رفت اس کے عالمی معیشت میں بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیر  موصوفنے آئی آئی ایف ٹی جیسے اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے تحقیق پر مبنی علمی بصیرت پیدا کرنے، مستقبل کے کاروباری رہنما تیار کرنے اور بھارت کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جی بی آرسی 2026 میں ہونے والی گفتگو اور مباحثے پالیسی سازی اور بھارت کی معاشی ترقی کے لیے قیمتی رہنمائی فراہم کریں گے۔

آئی آئی ایف ٹی کے وائس چانسلر پروفیسر راکیش موہن جوشی نے کہا کہ ادارے نے اپنی تحقیقی سرگرمیوں اور بین الاقوامی تعاون کو وسعت دی ہے اور بین الاقوامی کاروباری تعلیم اور پالیسی تحقیق کے مرکزِ امتیاز کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس ادارے کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ عالمی تجارت، کاروباری مسابقت اور معاشی ترقی سے متعلق اہم مسائل پر علمی تحقیق اور بامعنی مکالمے کو فروغ دے رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جغرافیائی و سیاسی تبدیلیاں، تجارتی حالات کی تبدیلی اور خصوصاً مصنوعی ذہانت جیسے تکنیکی انقلابات عالمی کاروباری منظرنامے کو بدل رہے ہیں۔ ان حالات میں ممالک اپنی معاشی مضبوطی بڑھا رہے ہیں اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو وسعت دے رہے ہیں، اس لیے تحقیق اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

کانفرنس میں ڈائریکٹرز کی ایک سلسلہ وار نشستیں شامل ہیں، جن میں بزنس اسکولوں کی بین الاقوامی سطح پر توسیع کی حکمتِ عملی، مینجمنٹ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا استعمال، بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات میں تدریس، اور اعلیٰ تعلیم میں جدت اور انٹرپرینیورشپ کے فروغ جیسے موضوعات پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس کانفرنس میں تحقیق کے متعدد شعبوں سے مقالات پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں فنانس، مارکیٹنگ، عمومی مینجمنٹ اور حکمتِ عملی، عالمی تجارت اور کاروباری مسابقت، آپریشنز اور سپلائی چین مینجمنٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیٹا اینالیٹکس، اور پبلک پالیسی و گورننس شامل ہیں۔ مختلف تکنیکی نشستوں کے ذریعے محققین موجودہ معاشی اور کاروباری چیلنجز پر شواہد پر مبنی نتائج اور پالیسی سے متعلق تجزیات پیش کر رہے ہیں۔

کانفرنس کے اہم سیشنز میں ایک خصوصی نشست ’’کثیر قطبی دنیا میں جغرافیائی و سیاسی اتار چڑھاؤ کے دوران برکس‘‘ کے عنوان سے بھی شامل ہے، جس میں برکس معیشتوں کے عالمی اقتصادی نظام اور بین الاقوامی تجارتی ڈھانچے میں کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔

یہ کانفرنس ڈاکٹریٹ کے طلبہ کو سینئر ماہرینِ تعلیم اور فیلڈ ایکسپرٹس کے ساتھ گفتگو کا موقع بھی فراہم کرتی ہے، جو ایک خصوصی ڈاکٹریٹ کولاکوئیم کے ذریعے تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے اور علمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔

کانفرنس کی ایک اہم خصوصیت بھارت کے ممتاز تعلیمی اداروں کے نامور رہنماؤں کی شرکت ہے، جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹس آف مینجمنٹ(آئی آئی ایم )،  آئی آئی ٹی بمبئی، انڈین اسکول آف بزنس(آئی ایس بی)، مینجمنٹ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ (ایم ڈی آئی)گڑگاؤں،  بی آئی ایم ٹیک، گورو گووند سنگھ اندرا پرستھ یونیورسٹی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن(آئی آئی ایم سی)، گوکھلے انسٹی ٹیوٹ آف پالیٹکس اینڈ اکنامکس، دہلی اسکول آف اکنامکس، آئی آئی ایل  ایم یونیورسٹی اور جنڈل گلوبل بزنس اسکول شامل ہیں۔

کانفرنس میں ملک بھر کے نمایاں تعلیمی اداروں سے وائس چانسلرز، ڈائریکٹرز، ڈینز اور سینئر علمی رہنماؤں نے شرکت کی ہے۔ شرکاء میں ڈاکٹر پرگیہ پلیوال گور، وائس چانسلر، آئی آئی ایم سی؛ ڈاکٹر یشونت سنگھ ٹھاکر، وائس چانسلر، ڈاکٹر ہرِ سنگھ گور وِشْوَوِدْیالَیہ؛ پروفیسر ونیتا ایس سہائے، ڈائریکٹر،   آئی آئی ایم  بودھ گیا؛ ڈاکٹر پربینہ راجیب، ڈائریکٹر، بیم ٹیک؛ پروفیسر چندن چودھری، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پَنْچ لائیڈ انسٹی ٹیوٹ آف انفراسٹرکچر مینجمنٹ، آئی ایس بی؛ پروفیسر ایس وی ڈی ناگیسوار راؤ، سربراہ، شیلش جے مہتا اسکول آف مینجمنٹ، آئی آئی ٹی بمبئی؛ پروفیسر اُمکنت دَش، وائس چانسلر، گوکھلے انسٹی ٹیوٹ آف پالیٹکس اینڈ اکنامکس؛ ڈاکٹر روی کمار جین، وائس چانسلر، آئی آئی ایل ایم  یونیورسٹی؛ پروفیسر وجیتا سنگھ اگروال، ڈائریکٹر (بین الاقوامی امور)، گورو گووند سنگھ اندرا پرستھ یونیورسٹی؛ اور پروفیسر پون کمار سنگھ، سابق ڈائریکٹر،  آئی آئی ایم  ترو چرا پلی ، سمیت دیگر شامل ہیں۔

یہ کانفرنس 5 جون 2026 کو اختتامی اجلاس کے ساتھ ختم ہوگی، جس میں کانفرنس رپورٹ پیش کی جائے گی، معزز مہمان خطاب کریں گے اور نمایاں تحقیقی کاموں کے اعتراف میں انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔ انعامات مختلف زمروں میں دیے جائیں گے جن میں بہترین تحقیقی مقالہ، مجموعی طور پر بہترین پیپر، بہترین پوسٹر پریزنٹیشن اور بہترین ڈاکٹریٹ  کولاکوئیم پیپر شامل ہیں۔

 

 

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فارن ٹریڈ  (آئی آئی ایف ٹی )کا قیام 1963 میں عمل میں آیا۔ یہ ادارہ وزارتِ تجارت و صنعت، حکومتِ ہند کے تحت ایک ممتاز تعلیمی ادارہ ہے۔ اسے ڈیمڈ یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہے۔

آئی آئی ایف ٹی بین الاقوامی کاروبار، تجارت اور اقتصادی پالیسی کے شعبوں میں تعلیم، تحقیق، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔ اپنے تعلیمی پروگراموں، تحقیقی اقدامات اور پالیسی سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے یہ ادارہ بھارت کے عالمی تجارتی اور کاروباری نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

 

*****

(ش ح ۔ اع خ۔ م ذ)

U.No: 7972


(रिलीज़ आईडी: 2268915) आगंतुक पटल : 17
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil