قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وِکست بھارت کے وژن کے تحت قبائلی حکمرانی میں اصلاحات کے لیے مربوط قبائلی ترقیاتی ایجنسیوں اور منصوبوں سے متعلق قومی کانکلیو میں آئندہ لائحۂ عمل طے


معزز صدرِ جمہوریہ  ہندمحترمہ دروپدی مرمو نے بنگلورو میں واقع آئی آئی ایس سی کے مرکز برائے نینو سائنس و انجینئرنگ (سی ای این ایس ای) میں ٹریننگ فیب کا افتتاح کیا،75 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) میں خلائی تجربہ گاہوں کا آغاز کیا اور مختصر فلم ‘‘سب سے دور، سب سے پہلے’’ ریلیز کی

प्रविष्टि तिथि: 03 JUN 2026 9:42PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کی قبائلی امور کی وزارت  نے آج نئی دہلی کے وگیان بھون میں مربوط قبائلی ترقیاتی ایجنسیوں اور منصوبوں (آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پی) کو مضبوط بنانے کے موضوع پر قومی کانکلیو کا انعقاد کیا۔ اس کانکلیو میں ملک بھر کی مربوط قبائلی ترقیاتی ایجنسیوں اور منصوبوں کے پروجیکٹ افسران، ڈائریکٹروں اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ ریاستی حکومتوں اور وزارت کے نمائندے بھی موجود تھے۔ کانکلیو کا مقصد قبائلی ترقی سے وابستہ اداروں کو مزید مؤثر بنانے اور قبائلی علاقوں میں عوام تک بنیادی سہولیات اور سرکاری خدمات کی آخری سطح تک بہتر رسائی یقینی بنانے کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل پر غور و خوض کرنا تھا۔

ایسے وقت میں یہ کانکلیو منعقد ہورہا ہے جب بھارت میں قبائلی ترقی کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہے۔ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران معزز وزیر اعظم کی دوراندیش قیادت میں قبائلی امور کی وزارت نے قبائلی برادریوں کی سماجی و معاشی ترقی، تعلیمی بااختیاری اور جامع ترقی کو فروغ دینے کے لیے متعدد انقلابی اقدامات کیے ہیں۔اس سلسلے میں نمایاں کامیابیوں میں ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) کے نیٹ ورک کی توسیع شامل ہے، جس کے تحت اب 499 اسکول  فعال ہیں۔ اسی طرح 22 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کی وظیفہ جاتی معاونت کے ذریعے ہر سال تقریباً30 لاکھ قبائلی طلباء مستفید ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، پی ایم-جن من اور دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان (ڈی اے جے جی یو اے) جیسے انقلابی پروگرام شروع کیے گئے ہیں، جن کے لیے مجموعی طور پر ایک لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔ وزارت کا سالانہ بجٹ بھی4,295 کروڑ روپے سے بڑھ کر تقریباً13 ہزار کروڑ روپے ہو گیا ہے، جو تقریباً تین گنا اضافہ ہے۔ ان کوششوں کو مزید تقویت دینے کے لیے ملک گیر مہم بھی جاری ہیں، جن میں جن جاتیہ گرِیما اُتسو (10 مئی تا 9 جون) اور حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی جن بھاگیداری ابھیان— ’’سب سے دور، سب سے پہلے‘‘ شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے عوامی شمولیت، رسائی اور بیداری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، جس سے ترقی کے ثمرات دور دراز قبائلی بستیوں تک پہنچانے میں مدد ملی ہے۔

معزز صدرِ جمہوریہ ہندمحترمہ دروپدی مرمو  نے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اور جن جاتیہ گرِیما اُتسو 2026 کے تحت تین اہم اقدامات کا افتتاح کیا۔ ان میں بنگلورو میں واقع بھارتی ادارۂ سائنس (آئی آئی ایس سی) کے مرکز برائے نینو سائنس و انجینئرنگ (سی این ایس ای) میں قائم تربیتی مرکز (ٹریننگ فیب)، ملک بھر کے 75 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) میں خلائی تجربہ گاہیں (اسپیس لیبز)اور دستاویزی فلم ’’سب سے دور، سب سے پہلے‘‘ شامل ہیں۔اپنے خطاب میں معزز صدرِ جمہوریہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وِکست بھارت کے سفر میں کسی بھی قبائلی شہری کو پیچھے نہیں چھوڑا جائے گا اور ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے، خصوصاً دور افتادہ قبائلی علاقوں تک پہنچائے جائیں گے۔

بنگلورو میں واقع بھارتی ادارۂ سائنس (آئی آئی ایس سی) کے مرکز برائے نینو سائنس و انجینئرنگ (سی ای این ایس ای) میں قائم ٹریننگ فیب ملک کا پہلا خصوصی سیمی کنڈکٹر مائیکرو فیبریکیشن تربیتی مرکز ہے۔ یہ مرکز طلباء اور پیشہ ور افراد کو عملی تربیت فراہم کرے گا اور ملک میں تیزی سے فروغ پانے والے سیمی کنڈکٹر شعبے کے صنعت کی ضروریات کے مطابق تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس مرکز کے قیام کے لیے وزارت نے کلین روم کے بنیادی ڈھانچے اور خصوصی تربیتی آلات کی فراہمی کے سلسلے میں4.7 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی ہے۔

18ریاستوں کے 75 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) میں خلائی تجربہ گاہوں (اسپیس لیبز) کا قیام قبائلی امور کی وزارت کا ایک اہم اقدام ہے، جسے بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) کے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) پروگرام کے تحت تقریباً 12 کروڑ روپے کی مالی معاونت سے نافذ کیا جا رہا ہے۔اسرو سے منظور شدہ اسپیس ٹیوٹر اداروں کی تکنیکی رہنمائی میں تیار کیے گئے اس منصوبے سے تقریباً 50 ہزار قبائلی طلباء کے براہِ راست مستفید ہونے کی توقع ہے۔ یہ خلائی تجربہ گاہیں قبائلی طلباء میں عملی تعلیم، سائنسی جستجو اور اختراعی سوچ کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی ہیں، جبکہ ان کے ذریعے خلائی علوم، فلکیات، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ و ریاضی (ایس ٹی ای ای) کے دیگر جدید شعبوں میں مستقبل کے پیشہ ورانہ مواقع کی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔ سائنسی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے معزز صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ملک بھر کے قبائلی طلباء کو جدید تعلیمی مواقع تک رسائی فراہم کرنے کے لیے اس نوعیت کی مزید تجربہ گاہیں قائم کی جانی چاہئیں۔

معزز صدرِ جمہوریہ نے ’’سب سے دور، سب سے پہلے‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر فلم بھی ریلیز کی، جس میں جن جاتیہ گرِیما اُتسو کے تحت 18 مئی سے 25 جون 2026 تک منعقد ہونے والی جن بھاگیداری مہم کی جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔ اس مہم کے ذریعے ایک غیر معمولی عوامی رسائی مہم کے تحت سرکاری خدمات کو براہِ راست ان قبائلی برادریوں تک پہنچایا گیا جو ملک کے انتہائی دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں آباد ہیں۔ یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ ترقی اور فلاحی منصوبوں کے فوائد معاشرے کے ان طبقات تک بھی پہنچیں جو طویل عرصے سے مرکزی دھارے سے دور رہے ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب جوئل اورام نے کہا کہ حکومت کا وژن یہ ہے کہ قبائلی برادریوں کو محض فلاحی اسکیموں کے مستفیدین کے طور پر نہیں، بلکہ وِکست بھارت کی تعمیر میں مساوی شراکت دار کے طور پر دیکھا جائے۔ انہوں نے قبائلی اور جنگلات پر انحصار کرنے والے علاقوں میں ترقیاتی خلا کو کم کرنے میں مربوط قبائلی ترقیاتی ایجنسیوں (آئی ٹی ڈی اے) کے تاریخی رول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان اداروں کے عملے، مالی وسائل اور جوابدہی کے نظام میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی جائیں۔

وزیر موصوف نے اعلان کیا کہ وزارت، آئی ٹی ڈی اے کے اہلکاروں کے لیے ایک خصوصی استعداد سازی کے نظام پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت پروجیکٹ افسران اور زمینی سطح پر کام کرنے والے عملے کو جدید طرزِ حکمرانی، ڈیجیٹل آلات اور بہترین عملی تجربات سے روشناس کرایا جائے گا۔ انہوں نے مختلف محکموں کے درمیان باہمی اشتراک اور ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی ڈی اے کی قیادت میں علاقے کی ضروریات کے مطابق مربوط منصوبہ بندی، الگ الگ اسکیموں کے نفاذ کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر نتائج فراہم کرتی ہے۔ ریاستوں کے ساتھ مکمل تعاون کے وزارتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس کانکلیو سے سامنے آنے والا قومی لائحۂ عمل آئندہ ایک دہائی کے دوران قبائلی حکمرانی میں اصلاحات کی رہنمائی کرے گا۔

وزیر مملکت برائے قبائلی امور جناب درگاداس اؤیکے نے کہا کہ مربوط قبائلی ترقیاتی ایجنسیاں (آئی ٹی ڈی اے) بھارت کے قبائلی حکمرانی کے ڈھانچے کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک ہیں اور ان کی مؤثریت کا براہِ راست اثر کروڑوں درج فہرست  قبائل سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے معیارِ زندگی پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معزز وزیر اعظم کی قیادت میں قبائلی فلاح و بہبود کے لیے سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی عکاسی پی ایم-جن من اور دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان (ڈی اے جے جی یو اے) جیسے اہم پروگراموں سے ہوتی ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے قبائلی برادریوں کی سماجی و معاشی ترقی، بنیادی سہولیات تک رسائی اور مجموعی معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی کوششوں کو نئی رفتار ملی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ مالی وسائل میں اضافے کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی صلاحیت کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے، تاکہ فلاحی اور ترقیاتی خدمات کی مؤثر ترسیل آخری فرد تک یقینی بنائی جا سکے۔ ان کے مطابق مربوط قبائلی ترقیاتی ایجنسیوں (آئی ٹی ڈی اے) کو مضبوط بنانا  درج فہرست  قبائل کے تئیں آئینی وعدوں کی تکمیل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے پروجیکٹ افسران پر زور دیا کہ وہ خود کو محض انتظامی اہلکار نہ سمجھیں بلکہ تبدیلی کے علمبردار اور ترقی کے محرک کے طور پر اپنا  کردار ادا کریں۔ انہوں نے انہیں ترغیب دی کہ کانکلیو کی سفارشات کو سنجیدگی، عزم اور فوری اقدام کے ساتھ عملی جامہ پہنائیں تاکہ قبائلی برادریوں کی ترقی اور خوشحالی کے اہداف مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔

وزارتِ قبائلی امور کی سکریٹری، محترمہ رنجنا چوپڑا  نے استقبالیہ خطاب میں مربوط قبائلی ترقیاتی ایجنسیوں (آئی ٹی ڈی اے) کے ارتقا کا جائزہ پیش کیا اور بتایا کہ یہ ادارے قبائلی ذیلی منصوبہ (ٹرائبل سب پلان) کے انتظامی یونٹوں سے ترقی کرتے ہوئے قبائلی ترقی کے جامع پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ آئی ٹی ڈی اے ملک میں درج فہرست  قبائل کی سب سے بڑی آبادی کو خدمات فراہم کرتے ہیں، تاہم مختلف علاقوں میں ان کی ادارہ جاتی صلاحیت یکساں نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں عملے کی کمی، مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی میں کمی، فنڈز کے غیر یکساں استعمال اور ٹیکنالوجی کے محدود استعمال جیسے عوامل شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کانکلیو کا مقصد محض کارکردگی کا جائزہ لینا نہیں، بلکہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایک ایسے مکالمے کو فروغ دینا ہے جس کے ذریعے ریاستی حکومتوں اور وزارت کے لیے قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جا سکیں۔ شرکاء سے موضوعاتی نشستوں میں تعمیری اور فعال انداز میں حصہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس کانکلیو میں ہونے والی گفتگو اور غور و خوض ملک بھر میں قبائلی ترقی سے وابستہ اداروں کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

کانکلیو کی ایک اہم جھلک وزارتِ قبائلی امور کی ڈائریکٹرمحترمہ ورنالی ڈیکا کی جانب سے مربوط قبائلی ترقیاتی ایجنسیوں اور منصوبوں (آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پی) کو مضبوط بنانے کے لیے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی لائحۂ عمل کے مسودے  پیش کی ۔ یہ لائحۂ عمل ایک وسیع مشاورتی عمل کے بعد تیار کیا گیا، جس میں ریاستی سطح کی ورکشاپس، زمینی دورے اور پروجیکٹ افسران، قبائلی برادریوں اور ریاستی حکومتوں کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال شامل تھا۔ اس مشاورتی عمل کے دوران آندھرا پردیش، تلنگانہ، راجستھان، مہاراشٹر، گجرات، کیرالہ، کرناٹک، تمل ناڈو، اوڈیشہ، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ سمیت مختلف ریاستوں میں قبائلی ترقی سے متعلق تجربات، چیلنجز اور بہترین عملی نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔

ڈاکٹر ورنالی ڈیکا نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے مؤثر استعمال کے لیے وزارت کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت، وزیر اعظم کی جانب سے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں پیش کیے گئے ایم اے این اے وی فریم ورک کی روشنی میں اپنی حکمتِ عملی مرتب کر رہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس فریم ورک کے بنیادی اصول اخلاقی اور اقداری نظام، جوابدہ طرزِ حکمرانی، قومی خودمختاری، قابلِ رسائی اور جامع مصنوعی ذہانت اور قانونی نظام ہیں۔ڈاکٹر ڈیکا نے کہا کہ یہ فریم ورک وزارت کو مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات کے استعمال میں رہنمائی فراہم کرے گا، جن سے منصوبوں کی نگرانی، مستفیدین کی معلومات کا مؤثر اندراج و تعاقب اور شکایات کے ازالے کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان تمام اقدامات میں شفافیت، جوابدہی  اور شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد زیادہ سے زیادہ قبائلی برادریوں تک پہنچ سکیں۔

وزارتِ قبائلی امور کے ڈپٹی سکریٹری  آئی اے ایس جناب جعفر ملک نے ان میں سے متعدد ریاستوں میں مشاورتی عمل کی قیادت کی اور وزارت کی جانب سے زمینی سطح پر رابطے اور شراکت داری کے اس عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا۔ مرتب کردہ لائحۂ عمل ان مشاورتوں سے حاصل ہونے والے تجربات، درپیش چیلنجز اور بہترین عملی نمونوں کا جامع خلاصہ پیش کرتا ہے۔ اس میں ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، افرادی وسائل کی بہتری، فنڈز کی فراہمی اور ترسیل کے نظام میں اصلاحات، مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے اور نگرانی و جائزے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد اصلاحی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

کانکلیو میں چار موضوعاتی گروپ مباحثوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں درج ذیل امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا: (i) ادارہ جاتی ڈھانچہ اور انسانی وسائل  (ii) فنڈز کی ترسیل اور مالیاتی نظام  (iii) نگرانی، جائزہ اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے نظام (iv) بین محکماتی ہم آہنگی اور اسکیموں کی مؤثر عمل آوری، ان گروپوں  مباحثوں میں ہونے والی سفارشات، بعد ازاں ایک مشترکہ اجلاس (پلینری سیشن) میں پیش کی گئیں۔

اختتامی اجلاس میں نیتی ایوگ کے وائس چیئر مین ڈاکٹر اشوک کمار لہری  نے  بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں خدمات کی فراہمی سے متعلق اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے وزارتِ قبائلی امور کی منظم اور جامع حکمتِ عملی کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قبائلی علاقوں میں مؤثر طرزِ حکمرانی کے لیے شواہد اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی ناگزیر ہے، تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی پروگراموں کے نتائج کو مزید مؤثر اور دیرپا بنایا جا سکے۔

وزارتِ قبائلی امور کے ایڈیشنل سکریٹری جناب منیش ٹھاکر اختتامی خطاب میں شواہد پر مبنی آئی ٹی ڈی اے تشخیصی درجہ بندی فریم ورک پیش کیا۔ یہ فریم ورک کانکلیو کی مباحث کو ایک قابلِ اعتماد قومی اصلاحاتی لائحۂ عمل میں تبدیل کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ فریم ورک 17 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں موجود 214 مربوط قبائلی ترقیاتی ایجنسیوں (آئی ٹی ڈی اے) کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے۔ اس میں اداروں کو پانچ بنیادی شعبوں اختیارات، افرادی عملہ، منصوبہ بندی، حقوق اور نتائج ، کے تحت 15 مختلف معیارات کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔

 

انہوں نے سطح 1 پر بنیادی انتظامی دفتر سے لے کر سطح 5 پر حقوق سے منسلک ، ڈیٹا سے چلنے والے ادارے تک کے پانچ سطحی آئی ٹی ڈی اے میچوریٹی ماڈل کی بھی نقاب کشائی کی اور آئی ٹی ڈی اے پر زور دیا کہ وہ تعلیم ، صحت ، معاش ، بنیادی ڈھانچے ، حقوق اور ڈیجیٹل گورننس سسٹم میں ہم آہنگی کے ساتھ مربوط ایریا ڈیولپمنٹ اداروں کے طور پر کام کریں ۔

کانکلیو سے ابھرتے ہوئے وژن کا خلاصہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’کمزوروں کو مضبوط کریں ۔  مضبوط کو  فروغ دیں ۔  جو کام کرتا ہے اسے معیاری بنائیں ۔  جو مشکل میں ہو اس کی حمایت کریں ۔ ‘‘  ریاستوں سے درخواست کی جائے گی کہ وہ آئی ٹی ڈی اے کے نوڈل افسران کو نامزد کریں اور قومی روڈ میپ کو حتمی شکل دینے اور تشہیر کرنے میں مدد کے لیے بنیادی ڈیٹا پیش کریں ۔

کانکلیو میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پیز کے ایوارڈز بھی پیش کیے گئے ، جن میں پروجیکٹ افسران اور ایجنسیوں کو تسلیم کیا گیا، جنہوں نے خدمات کی فراہمی ، کنورجنس ، فنڈ کے استعمال اور کمیونٹی آؤٹ ریچ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔  ایوارڈز کا مقصد اختراع کا جشن منانا اور قبائلی علاقوں میں بہترین طریقوں کی نقل کی حوصلہ افزائی کرنا تھا ۔

آئی ٹی ڈی اے اور آئی ٹی ڈی پی آندھرا پردیش ، تلنگانہ ، اوڈیشہ ، گجرات ، مہاراشٹر ، راجستھان ، جھارکھنڈ ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ سمیت ریاستوں کے درج فہرست علاقوں میں کام کرتے ہیں ، جو پی ایم-جن من ، ڈی اے جی جی یو اے اور دیگر قبائلی ترقیاتی پروگراموں جیسے فلیگ شپ اقدامات کے لیے اہم  ڈیلیوری میکانزم کے طور پر کام کرتے ہیں ۔

جن جاتی گریما اتسو کے تحت 18 مئی سے 25 جون 2026 تک منعقدہ حال ہی میں اختتام پذیر جن بھاگیداری ابھیان کے دوران 57,000 سے زیادہ کیمپ اور آؤٹ ریچ سرگرمیاں منعقد کی گئیں ، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں90 لاکھ سے زیادہ قبائلی مستفید ہوئے ۔  ابھیان نے منریگا ، آدھار ، آیوشمان بھارت ، راشن کارڈ ، ذات کے سرٹیفکیٹ ، پنشن اسکیموں اور سکل سیل کی بیماری کی اسکریننگ سمیت اہم سرکاری خدمات تک رسائی کی سہولت فراہم کی۔

اس مہم نے قبائلی بستیوں میں37,000 سے زیادہ آئی ای سی تنصیبات ، 21,000 سیلفی پوائنٹس اور تقریباً20,000 وال پینٹنگ کے ذریعے بیداری اور کمیونٹی کی شرکت کو بھی مضبوط کیا ۔  خدمات کی فراہمی کے علاوہ ، ابھیان نے قبائلی ثقافت ، صنعت کاری ، نوجوانوں کی شمولیت اور ڈیجیٹل شمولیت کا جشن منایا ، جن بھاگیداری کے جذبے کو تقویت بخشی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کو مستحکم کیا کہ ترقی کے فوائد آخری میل تک پہنچیں جبکہ قبائلی برادریوں کو وکست بھارت کی طرف سفر میں فعال شراکت دار کے طور پر بااختیار بنایا جائے ۔

A group of people standing in front of a large screenAI-generated content may be incorrect.

A group of people sitting at a podiumAI-generated content may be incorrect.

A group of people sitting at a table with flowersAI-generated content may be incorrect.

A group of people sitting at a podiumAI-generated content may be incorrect.

A group of men sitting at a tableAI-generated content may be incorrect.

A group of people holding a large checkAI-generated content may be incorrect.

A group of people holding a checkAI-generated content may be incorrect.

A group of people holding a checkAI-generated content may be incorrect.

A group of people standing on a stageAI-generated content may be incorrect.

****

ش ح۔ ت ف۔ش ت

U.NO-7964


(रिलीज़ आईडी: 2268812) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी