سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی مشاورتی کمیٹی نے پی ایم-اے جے اے وائی کا اعلیٰ سطحی جائزہ لیا، اس نے درج فہرست ذاتوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے آئندہ کا لائحۂ عمل وضع کیا

प्रविष्टि तिथि: 03 JUN 2026 9:49PM by PIB Delhi

پرائم منسٹر انوسوچت جاتی ابھیوَدے یوجنا (پی ایم-اے جے اے وائی) کے لیے مرکزی مشاورتی کمیٹی (سی اے سی) کا اعلیٰ سطحی قومی اجلاس آج منتھن ہال، جی پی او اے-3، نئی دہلی میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت معزز مرکزی وزیر برائے سماجی انصاف و تفویض اختیارات جناب ڈاکٹر وریندر کمار نے کی۔

اجلاس میں مرکزی مشاورتی کمیٹی (سی اے سی) کے اراکین نے شرکت کی، جن میں اتر پردیش، بہار، تلنگانہ، راجستھان اور ہریانہ کے سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے ریاستی وزراء، اراکین پارلیمنٹ، قومی کمیشن برائے درج فہرست ذات(این سی ایس سی)، نیتی آیوگ اور مختلف وزارتوں و محکموں کے افسران شامل تھے۔کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے معزز مرکزی وزیر نے درج فہرست ذاتوں (ایس سی) سے تعلق رکھنے والی برادریوں کی سماجی اور معاشی بااختیاری کے لیے حکومت کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

مرکزی وزیر جناب وریندر کمار نے اس بات پر زور دیا کہ پروگرام کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی کہ وہ اسکیم پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور مختص فنڈز کا بروقت استعمال کریں۔ انہوں نے مرکزی مشاورتی کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پی ایم-اے جے اے وائی کے دائرۂ کار کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ سماجی اور معاشی ترقی کے خواہاں  درج فہرست ذاتوں کے زیادہ سے زیادہ افراد اور برادریاں اس سے مستفید ہو سکیں۔

کمیٹی نے مالی سال 22-2021 سے 26-2025 تک اسکیم کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا اور اس کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو سراہا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ15,387 دیہاتوں کو کامیابی کے ساتھ ’’آدرش گرام‘‘ (مثالی گاؤں) قرار دیا جا چکا ہے۔ امدادی گرانٹ کے جزو کے تحت ریاستوں کو براہِ راست 1,730 کروڑ روپے سے زائد جاری کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ انفرادی اور اجتماعی مستفیدین کو ہنرمندی، بااختیاری، اثاثہ سازی اور روزگار کے مواقع فراہم ہوئے ہیں۔مزید برآں، طلباء کے لیے785 ہاسٹل مکمل کیے جا چکے ہیں تاکہ طلباء کو محفوظ رہائشی سہولتیں میسر ہو سکیں  اور اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کو فروغ دیا جا سکے۔ کمیٹی نے ’’اجے موبائل ایپ‘‘ کے آغاز کا بھی نوٹس لیا، جو 24 بھارتی زبانوں میں ڈیجیٹل بنیادوں پر زمینی سروے کی سہولت فراہم کرتی ہے اور تمام اجتماعی اثاثوں کی تصدیق کے لیے جغرافیائی محلِ وقوع سے منسلک اور وقت کے اندراج والی تصاویر کو لازمی قرار دیتی ہے۔

ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے پیش کردہ آراء و تجاویز:

مختلف ریاستوں کے معزز وزراء نے پی ایم-اے جے اے وائی کے تحت ہونے والی پیش رفت کو سراہا اور اسکیم کے لیے فنڈز کی مقدار میں اضافے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے اسکیم کے مؤثر نفاذ اور مختلف پروگراموں کے باہمی ربط و اشتراک کو بہتر بنانے کے لیے متعدد تجاویز بھی دیں۔ ریاستی نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ زمینی سطح پر مختلف محکموں اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے اور مالی معاونت میں اضافہ کیا جائے تاکہ اسکیم کے نتائج کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ مرکزی مشاورتی کمیٹی نے اسکیم کے اگلے مرحلے کے لیے ایک مستقبل بین اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی اختیار کرنے پر وسیع اتفاقِ رائے کا اظہار کیا، جس کے ذریعے درج فہرست  ذاتوں کی سماجی و معاشی ترقی کے عمل کو مزید مؤثر اور پائیدار بنایا جا سکے۔

پی ایم-اے جے اے وائی کے دائرۂ کار میں توسیع: پی ایم-اے جے اے وائی کے لیے آئندہ لائحۂ عمل کے تحت اسکیم کے تینوں اجزا کو مزید وسعت دینے اور ملک بھر میں سماجی و معاشی ترقی کے خواہاں درج فہرست  ذاتوں کی زیادہ سے زیادہ برادریوں تک اس کے فوائد پہنچانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

روزگار اور ہنرمندی کی ترقی کے لیے جامع حکمتِ عملی:  درج فہرست ذاتوں کی معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی نے سفارش کی کہ روزگار کے مواقع اور ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنے کے سلسلے میں ایک جامع، منظم اور ہدفی حکمتِ عملی اختیار کی جائے، تاکہ ان برادریوں کو خود کفیل اور بااختیار بنایا جا سکے۔

تعلیمی بااختیاری اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ہاسٹل: کمیٹی نے سفارش کی کہ طلباء ہاسٹلوں کی تعمیر کے لیے مزید مالی وسائل مختص کیے جائیں، تاکہ درج فہرست  ذاتوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کی تعلیمی ترقی، محفوظ رہائش اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔

 

****

 

 

ش ح۔ ت ف۔ش ت

U.NO-7961

 


(रिलीज़ आईडी: 2268774) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी