پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
آئی ای ڈبلیو 2026: بھارت توانائی ہفتہ 2026 کے دوسرے دن عالمی توانائی نظام کے منظرنامے کی تشکیل میں بھارت کے مرکزی کردار کو اجاگر کیا گیا
سستی توانائی، مضبوط بنیادی ڈھانچہ، ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعات اور پالیسی ہم آہنگی ایک محفوظ، پائیدار اور شمولیت پر مبنی توانائی کےمستقبل کے لیے اہم مشترکہ موضوعات کے طور پر سامنے آئے
प्रविष्टि तिथि:
28 JAN 2026 8:55PM by PIB Delhi
بھارت توانائی ہفتہ 2026 کے دوسرے دن صنعت کے سرکردہ ماہرین اور پالیسی سازوں نے بھارت کی توانائی کی منتقلی کو تشکیل دینے والے اہم ستونوں پر توجہ مرکوز کی۔ ان میں مائع قدرتی گیس کی قابلِ برداشت قیمت، مضبوط شہری گیس تقسیم کے نیٹ ورک، برق کاری اور طویل مدتی توانائی کی مانگ شامل ہیں۔ اعلیٰ سطحی مباحثوں اور مذاکروں کے دوران مقررین نے عالمی توانائی کے شعبے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار اور مربوط پالیسی، سرمایہ کاری اور تکنیکی اختراعات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس کی رسد اور مانگ کے توازن پر گفتگو کرتے ہوئے پیٹرونیٹ ایل این جی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو افسر اکشے کمار سنگھ نے زور دیا کہ بھارت میں قدرتی گیس کے استعمال میں اضافہ، خصوصاً نقل و حمل، بجلی کی پیداوار اور شہری گیس تقسیم کے شعبوں میں، اسی صورت ممکن ہے جب اس کی قیمت عام صارف کی پہنچ میں ہو۔ انہوں نے کہا کہ نئے صارفین کو متوجہ کرنے اور طویل مدتی مستحکم مانگ برقرار رکھنے کے لیے ایل این جی کی قیمت 6 سے 7 امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان رہنا ضروری ہے۔
بعد ازاں منعقدہ ایک دلچسپ مذاکرے میں شہری گیس کی تقسیم کے نیٹ ورک کے لیے عالمی معیار کے نمونے قائم کرنے کے موضوع پر ماہرین نے اس شعبے کی توسیع کے محرکات کا جائزہ لیا۔ گیل گیس لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر گوتم چکروورتی نے پائپ لائن رابطہ کاری، نیٹ ورک کی توسیع، مربوط اقدامات اور شہری سطح کی منصوبہ بندی کی اہمیت پر روشنی ڈالی تاکہ عملی کارکردگی، قابلِ اعتماد خدمات اور مناسب لاگت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اندرپرستھ گیس لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو افسر ابھیلیش گپتا نے ترقی یافتہ شہری گیس منڈیوں کے تجربات بیان کرتے ہوئے پائپ کے ذریعے قدرتی گیس اور دباؤ والی قدرتی گیس کے پھیلاؤ، حفاظتی معیارات اور صارفین کے اعتماد کو اس شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے بنیادی عوامل قرار دیا۔
ادانی ٹوٹل گیس لمیٹڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو افسر سریش منگلانی نے پالیسی سازوں اور صنعت کے درمیان مربوط پیغام رسانی کی ضرورت پر زور دیا اور صاف ایندھن کے مستقل استعمال کو فروغ دینے کے لیے "پرجولا" کے تصور کی تجویز پیش کی۔
ایک معلوماتی پیشکش کے دوران تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم کے تحقیقی شعبے کے توانائی مطالعاتی محکمے کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرزاق بن یوسف نے عالمی تیل منظرنامہ 2025 کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت 2050 تک عالمی توانائی کی مانگ میں اضافے کا سب سے بڑا محرک ملک بن سکتا ہے۔ نقل و حمل، صنعتی سرگرمیوں اور پیٹروکیمیکل شعبے کی ترقی کے باعث بھارت میں 2050 تک یومیہ تیل کی مانگ میں 8.2 ملین بیرل تک اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2050 تک بھارت کی بنیادی توانائی کی مانگ تقریباً دوگنی ہو جائے گی، جبکہ تیل، گیس اور قابلِ تجدید توانائی ایک متوازن توانائی کےنظام میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہوئے ملک کی توانائی ضروریات پوری کریں گے۔
اس رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ بھارت عالمی اقتصادی ترقی، آبادیاتی رجحانات اور توانائی کی کھپت میں مرکزی کردار ادا کرے گا، جس سے اس بات کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے کہ اپ اسٹریم، مڈ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم انفراسٹرکچر میں مسلسل سرمایہ کاری جاری رکھی جائے۔
برقی توانائی پر مبنی معیشت کی جانب منتقلی کے عبوری مرحلے کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں بھارت کی اقتصادی ترقی، توانائی تحفظ اور کاربن اخراج میں کمی کی کوششوں میں بجلی کے کلیدی کردار کا جائزہ لیا گیا۔متحدہ عرب امارات کے احمد الکعبی، پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا کے نوین سریواستو، مرکزی برقیاتی اتھارٹی کے گھن شیام پرساد، نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کی سمن چندرا اور آر ای سی لمیٹڈ کے پرنس دھون سمیت دیگر ماہرین نے برق کاری، گرڈ کی توسیع اور ڈیجیٹلائزیشن کو صاف ستھری اور لچکدار توانائی کے نظام کے اہم محرکات قرار دیا۔
اس موقع پر احمد الکعبی نے برقی گرڈ کی مضبوطی کے لیے شراکت داری، اختراع اور غیر مرکزی توانائی کے نظاموں کی اہمیت پر زور دیا۔پرنس دھون نے ازسرِ نو مرتب شدہ تقسیم کے شعبہ کی اسکیم کے تحت کیے گئے اقدامات کے ذریعے بھارت کے بجلی تقسیم کے شعبے میں آنے والی تبدیلیوں کی تفصیل پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ نتائج پر مبنی سرمایہ کاری، میٹرنگ اور انتظامی اصلاحات تقسیم کی کمپنیوں کی عملی اور مالی صحت کو مضبوط بنا رہی ہیں، جس سے زیادہ اسمارٹر اور لچکدار برقی گرڈ کی تشکیل ممکن ہو رہی ہے۔
بھارت توانائی ہفتہ کے بارے میں
بھارت توانائی ہفتہ ملک کا ایک اہم عالمی توانائی پلیٹ فارم ہے جو حکومت کے رہنماؤں، صنعت کے ایگزیکٹوز اور جدت کاروں کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے تاکہ محفوظ، پائیدار اور کم لاگت کی توانائی کے مستقبل کی طرف پیش رفت کو تیز کیا جا سکے۔ آئی ای ڈبلیو ایک غیر جانبدار بین الاقوامی فورم کے طور پر، سرمایہ کاری، پالیسی ہم آہنگی اور ٹیکنالوجی میں تعاون کو فروغ دیتا ہے، جو عالمی توانائی کے منظرنامے کو تشکیل دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
****
(ش ح ۔ع ح۔ع ن)
U. No.7900
(रिलीज़ आईडी: 2268278)
आगंतुक पटल : 13