سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی  وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ اور تھورنگیا کے وزیر -صدرماریو وائیگٹ نے کوانٹم کمیونیکیشن، فوٹونکس اور صنعت کی قیادت والی ڈیپ ٹیک شراکت داری پر تبادلۂ خیال کیا


جرمنی نے بھارت کے ساتھ تحقیقی تبادلے اور دوہری  ڈگری والی شراکت داری کو بڑھانے کی تجویز پیش کی

بات چیت کے دوران کوانٹم کمیونیکیشن، کوانٹم سیٹلائٹ کمیونیکیشن، آپٹیکل گراؤنڈ اسٹیشنز، یورو او جی ایس نیٹ ورک، خلائی ٹیکنالوجیز، اسٹارٹ اپس اور تحقیق-صنعت تعاون شامل رہے

ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے جرمن ریاست تھورنگیا کے ساتھ بات چیت کے دوران بھارت کے اختراعی ماحولیاتی نظام کی جھلک پیش کی

تھورنگیا کی فوٹونکس مہارت بھارت-جرمنی ٹیکنالوجی تعاون کے لیے نئے مواقع کھولتی ہے

प्रविष्टि तिथि: 02 JUN 2026 2:09PM by National

جرمنی کی آزاد ریاست تھورنگیا کے وزیر-صدر ماریو وائیگٹ اس وقت بھارت کے دورے پر ہیں۔ اس دوران انہوں نے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیرِ مملکت برائے وزیرِ اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلاء، ڈاکٹر جیتندر سنگھ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران بھارت اور جرمنی نے آج کوانٹم کمیونیکیشن، فوٹونکس، کوانٹم سیٹلائٹ کمیونیکیشن، خلائی ٹیکنالوجیز اور ڈیپ ٹیک اختراع کے شعبوں میں مستقبل پر مبنی شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لیا۔

اس ملاقات میں دونوں ممالک کی حکومتوں، تحقیقی اداروں اور صنعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ اختراعی ماحولیاتی نظاموں کو آپس میں جوڑنے اور جدید ترین ٹیکنالوجیز میں تعاون کو تیز کرنے کے لیے ممکنہ راستوں کی نشاندہی کی جا سکے۔

اجلاس میں محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے سیکریٹری راجیش ایس۔ گوکھلے، محکمہ سائنسی و صنعتی تحقیق کی سیکریٹری اور سی ایس آئی آر کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر این۔ کالائی سیلوی، نیز محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی، محکمہ خلاء، ڈی آر ڈی او اور دیگر سائنسی اداروں کے سینئر حکام شریک ہوئے۔ جرمن وفد کی قیادت ماریو وائیگٹ نے کی، جبکہ وفد میں فاؤنڈیشن فار ٹیکنالوجی، انوویشن اینڈ ریسرچ تھورنگیا کی ایگزیکٹو بورڈ رکن کرسچیانے کیلین سمیت حکومت، تحقیقی تنظیموں، صنعت اور ٹیکنالوجی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔

وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ بھارت اور جرمنی کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی، اختراع اور عوامی روابط پر مبنی ایک مضبوط شراکت داری موجود ہے۔ انہوں نے 2024 میں بھارت-جرمنی سائنس و ٹیکنالوجی تعاون کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی تعاون دوطرفہ تعلقات کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک بن چکا ہے اور تحقیق، اختراع اور صنعتی ترقی کے جدید شعبوں میں نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔

تھورنگیا کے فوٹونکس، آپٹکس، کوانٹم ٹیکنالوجیز اور جدید مینوفیکچرنگ کے ایک اہم یورپی مرکز کے طور پر ابھرنے کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں فریقوں نے جدید ٹیکنالوجیز کے شعبے میں طویل مدتی ادارہ جاتی شراکت داری کے امکانات پر غور کیا۔ بات چیت کا محور بھارت اور جرمنی کی تکمیلی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا اور حکومتوں، سائنسی اداروں، اسٹارٹ اپس اور صنعتوں کے درمیان گہرے تعاون کو فروغ دینا تھا، تاکہ تحقیق کو عالمی سطح پر مسابقتی ٹیکنالوجیز، مصنوعات اور اختراع پر مبنی کاروباری اداروں میں تبدیل کرنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کے تحقیقی اور اختراعی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھائے گئے اہم اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) اور صنعت سے منسلک تحقیق و اختراع کو فروغ دینے کے دیگر اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایسے پلیٹ فارمز تشکیل دے رہا ہے جو اکیڈمیا، تحقیقی اداروں، اسٹارٹ اپس اور صنعت کو آپس میں جوڑتے ہیں، جس سے سائنسی علم کو عملی حل اور معاشی قدر میں تبدیل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ آج بھارت دنیا کے تیسرے سب سے بڑے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام (اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم) کی میزبانی کر رہا ہے اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی، صحت، آبی ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت، صاف توانائی، سیمی کنڈکٹرز، جدید مینوفیکچرنگ اور خلائی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا جدت طرازی کا منظرنامہ تیزی سے سرکاری اداروں، صنعت اور کاروباری افراد کے باہمی اشتراک سے آگے بڑھ رہا ہے، جس سے عالمی ٹیکنالوجی شراکت داریوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

اجلاس کا ایک اہم محور کوانٹم ٹیکنالوجیز اور فوٹونکس میں تعاون تھا، جنہیں دونوں فریق مستقبل کی تکنیکی مسابقت کے لیے نہایت اہم سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر کوانٹم کمیونیکیشن، کوانٹم سیٹلائٹ مواصلات، آپٹیکل گراؤنڈ اسٹیشنز، کوانٹم نیٹ ورکس اور جدید فوٹونکس ٹیکنالوجیز میں مواقع پر توجہ دی گئی، جہاں بھارت اور تھورنگیا کی صلاحیتیں اور مہارتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

جرمن فریق نے کوانٹم کمیونیکیشن انفراسٹرکچر اور آپٹیکل کمیونیکیشن سسٹمز سے متعلق جاری یورپی اقدامات کی تفصیلات شیئر کیں، جن میں یورو او جی ایس نیٹ ورک کے تحت ہونے والی پیش رفت بھی شامل ہے، جس کا مقصد آپٹیکل گراؤنڈ اسٹیشن ٹیکنالوجیز میں معیار طے کرنے (اسٹینڈرڈائزیشن) اور باہمی مطابقت (انٹرآپریبلٹی) کو فروغ دینا ہے۔ بات چیت میں سائنسی تعاون، مہارتوں کے تبادلے اور دونوں جانب کے تحقیقی اداروں، ٹیکنالوجی تنظیموں اور جدت طرازی کے ماحولیاتی نظاموں کے درمیان مستقبل کے اشتراک کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

یہ مذاکرات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر کوانٹم ٹیکنالوجیز کو بڑھتی ہوئی اسٹراٹیجک اہمیت دی جا رہی ہے اور اس شعبے میں بین الاقوامی تعاون کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت کے نیشنل کوانٹم مشن کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا، جس میں محفوظ کوانٹم کمیونیکیشن اور متعلقہ ٹیکنالوجیز میں کامیابیاں شامل ہیں۔ دونوں فریقوں نے کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم کمیونیکیشن اور متعلقہ انفراسٹرکچر میں ابھرتی ہوئی پیش رفت پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا اور تحقیق، معیارات کی تیاری، مہارتوں کے تبادلے اور ٹیکنالوجی شراکت داریوں میں گہرے تعاون کے امکانات کو تسلیم کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جدید اور انقلابی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں بھارت کے مختلف مشن موڈ پروگراموں کو بھی اجاگر کیا، جن میں نیشنل کوانٹم مشن، انڈیا اے آئی مشن، نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن اور بایوٹیکنالوجی کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام مشترکہ تحقیق، جدت پر مبنی ترقی اور ٹیکنالوجی شراکت داریوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

مستقبل کی ٹیکنالوجی شراکت داریوں کے تناظر میں فوٹونکس اور متعلقہ جدید ٹیکنالوجیز میں مشن پر مبنی تعاون کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں آپٹکس، فوٹونکس، کوانٹم ٹیکنالوجیز اور جدت پر مبنی مینوفیکچرنگ میں بھارت اور جرمنی کی تکمیلی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں خلائی شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر بھی غور کیا گیا، جو بھارتی خلائی تحقیقاتی تنظیم(اسرو) اور جرمن ایرو اسپیس سینٹر (ڈی ایل آر) کے درمیان طویل عرصے سے قائم شراکت داری پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت کی بڑھتی ہوئی خلائی صلاحیتوں، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کرنے والی حالیہ پالیسی اصلاحات، بین الاقوامی تعاون اور ملک کی وسعت پذیر خلائی معیشت میں اسٹارٹ اپس کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔

وزیر نے کہا کہ بھارت نے اپنے لانچ وہیکلز کے ذریعے کامیابی سے گیارہ جرمن سیٹلائٹس خلا میں بھیجے ہیں اور خلائی تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی اور تجارتی استعمال کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے سیٹلائٹ مواصلات، آپٹیکل کمیونیکیشن، انسانی خلائی پرواز، مائیکرو گریویٹی تحقیق، زمین کے مشاہدے (ارتھ آبزرویشن)، ڈرون ٹیکنالوجیز اور مستقبل کے خلائی مشنز میں ممکنہ تعاون پر تبادلۂ خیال کیا۔

اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ مستقبل کی تکنیکی قیادت کا انحصار حکومتوں، تحقیقی اداروں اور صنعت کے درمیان مضبوط شراکت داریوں پر ہوگا، دونوں فریقوں نے ایسے اشتراکی فریم ورک پر غور کیا جو سرکاری اداروں، اکیڈمیا، سائنسی تجربہ گاہوں، اسٹارٹ اپس اور نجی کمپنیوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کریں۔ مذاکرات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تحقیقی نتائج کو قابلِ عمل ٹیکنالوجیز، توسیع پذیر مصنوعات اور عالمی سطح پر مسابقتی ڈیپ ٹیک اداروں میں تبدیل کرنا نہایت اہم ہے۔

ڈاکٹر جیتنندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کی سائنسی ترقی میں اکیڈمیا، تحقیقی لیبارٹریز، اسٹارٹ اپس اور صنعت کو ایک ساتھ جوڑنے والی بڑھتی  شراکت داری  کا رول اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ایسے تعاون کا خیر مقدم کرتا ہے جو محققین، موجدوں، کاروباری افراد اور ڈاکٹریٹ کے طلباء کے تبادلے کو ممکن بنائے اور ساتھ ہی مشترکہ ٹیکنالوجی کی ترقی، صنعتی جدت اور تجارتی استعمال کے لیے راستے پیدا کرے۔

وزیر نے انڈو-جرمن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر(آئی جی ایس ٹی سی)اور دیگر دو طرفہ میکانیزمز کے کردار کو بھی اجاگر کیا جنہوں نے سالوں سے صنعت سے متعلقہ تحقیقی منصوبوں، جدت کی شراکت داری اور محققین کے تبادلے کے پروگراموں کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور جرمنی کے سائنسی تعاون کا اگلا مرحلہ کوانٹم ٹیکنالوجیز، فوٹونکس، مصنوعی ذہانت، جدید مینوفیکچرنگ، خلائی ٹیکنالوجیز اور ڈیپ ٹیک انٹرپرینیورشپ میں اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔

فریقین نے اس بات کا اظہار کیا کہ حکومتوں، سائنسی اداروں، صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کے درمیان قریبی رابطہ بھارت-جرمنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا اور جدت پر مبنی ترقی، تکنیکی پیش رفت اور عالمی چیلنجز کے حل کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

تصویر- جرمنی کی آزاد ریاست تھورنگیا کے وزیر-صدر ماریو ووئگٹ کی قیادت میں ایک اعلی سطحی وفد نے نئی دہلی کے کرتویہ بھون میں مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی ۔

***********

ش ح۔ض ر ۔ ا ک م

U No. 7861


(रिलीज़ आईडी: 2267965) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil