ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انڈیا اسکلز ایکسلریٹر راؤنڈ ٹیبل میں حکومت، صنعت اور عالمی رہنماؤں یکجا ہوئےتاکہ


مہارتوں کے خلا کوپر کرنے اور ہندوستان کو عالمی ٹیلنٹ  کے مرکزکے طور پر مضبوط بنانے کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا جاسکے

جناب جینت چودھری ، ڈاکٹر سکنتا مجمودار ، محترمہ شوبنا کامینی ، جناب سنجیو بجاج نے ہنر مندی کے مستقبل پر اعلیٰ سطحی مکالمے کی مشترکہ صدارت کی

प्रविष्टि तिथि: 01 JUN 2026 7:58PM by PIB Delhi

ہنرمندی و کاروباری ترقی(ایم ایس ڈی ای) نے ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیوای ایف) کے اشتراک سے آج نئی دہلی میں انڈیا اسکلز ایکسلریٹر(آئی ایس اے) کی اعلیٰ سطحی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا، جس کا موضوع ’بصیرت سے عمل تک: ترقی کے لیے مہارتوں کے خلا کو پر کرنا‘ تھا۔ اس گول میز کانفرنس میں حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں، بین الاقوامی تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں کے رہنماؤں نے شرکت کی تاکہ پیش آنے والے مہارتوں کے خلا کو پر کرنے اور ہندوستان کو عالمی ٹیلنٹ کے مرکز کے طور پر مضبوط بنانے کے لیے درکار ترجیحی اقدامات پر غور و خوض کیا جا سکے۔

مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد جنوری 2026 میں اعلان کردہ ’انڈیا اسکلز ایکسلریٹر‘ کو ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت چلا رہی ہے اور یہ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے ’گلوبل ایکسلریٹرس نیٹ ورک‘ کا حصہ ہے ۔ اس پہل کا مقصد ہنر مندی کے نظام کو لیبر مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق ترتیب دینے ، ہنر مندی کی مالی اعانت کے جدید ماڈل تیار کرنے اور مصنوعی ذہانت ، جدید مینوفیکچرنگ ، سپلائی چین اور گرین اکنامی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں افرادی قوت کی صلاحیت سازی کو تیز کرنے کے لیےعوامی اور خانگی شعبہ کی شراکت کو فروغ دینا ہے ۔

گول میز کانفرنس کی مشترکہ صدارت ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور حکومت ہند کے وزیر مملکت برائے تعلیم جناب جینت چودھری ، حکومت ہند کے شمال مشرقی خطے کی تعلیم اور ترقی کے وزیر مملکت ڈاکٹر سکنتا مجومدار ، اپولو ہیلتھ کو لمیٹڈ کی ایگزیکٹو چیئرپرسن محترمہ شوبنا کامینی اور بجاج فن سرو کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر جناب سنجیو بجاج نے کی ۔ شریک سربراہان کے ساتھ ورلڈ اکنامک فورم کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب میرک ڈوسیک بھی شامل ہوئے ۔

بات چیت میں ہندوستان کی لیبر مارکیٹ کی تشکیل کرنے والی کلیدی قوتوں کی نشاندہی کرنے ، اہم مہارتوں کے فرق کو دور کرنے کے لیے ترجیحی مداخلتوں کی توثیق کرنے اور انڈیا اسکلز ایکسلریٹر ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم اسٹیک ہولڈرز کا اتحاد بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور حکومت ہند کے وزیر مملکت برائے تعلیم جناب جینت چودھری نے کہاکہ اگر ہم ٹیکنالوجی ، صنعت اور معاشرے کے بدلتے ہوئے مطالبات کے مطابق مہارتوں کو مسلسل ڈھالنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہندوستان کی آبادی کی طاقت دنیاکی ترقی کا سب سے بڑا انجن بن سکتی ہے ۔ انڈیا اسکلز ایکسلریٹر تعاون کا ایک نیا ماڈل پیش کرتا ہے ، جہاں حکومت ، صنعت ، تعلیمی ادارے اور عالمی ادارے نہ صرف چیلنجوں پر بات چیت کرنے بلکہ مل کر حل تیار کرنے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ہندوستان ’وکست بھارت 2047‘ کے ہدف کی طرف گامزن ہے ، ہماری توجہ قابل ، مستقبل کے لیے تیار اور عالمی سطح پر مسابقتی ٹیلنٹ پیدا کرنے پر ہونی چاہیے ،جو ملک کے اندر اور دنیا بھر میں اختراع اور ترقی کو آگے بڑھا سکتے ہیں ۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  شمال مشرقی خطے کی تعلیم اور ترقی کے وزیر مملکت ڈاکٹر سکنتا مجومدار ، حکومت ہند نے کہاکہ ’’تعلیم اور ہنر مندی کا مستقبل سیکھنے اور روزگار کے درمیان گہرے تعلق میں مضمر ہے ، چونکہ ٹیکنالوجی صنعتوں کو بے مثال رفتار سے تبدیل کر رہی ہے ، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہمارے ادارے نہ صرف سیکھنے والوں کو علم سے آراستہ کریں ،بلکہ انہیں متعلقہ مہارتیں ، حالات کی اہلیت اور زندگی بھر سیکھنے کی ذہنیت بھی فراہم کریں ۔’انڈیا اسکلز ایکسلریٹر‘ جیسے باہمی تعاون کے پلیٹ فارم کے ذریعے ہم ایسے مواقع پیدا کر سکتے ہیں ،جو ہمارے نوجوانوں کو ابھرتے ہوئے شعبوں میں مواقع کے لیے تیار کرتے ہیں اور ہندوستان کی ترقی کی کہانی میں معنی خیز تعاون کرتے ہیں۔‘‘

ورلڈ اکنامک فورم کی منیجنگ ڈائریکٹر محترمہ سعدیہ زاہدی نے کہا ’’ہندوستان عالمی افرادی قوت کے مستقبل کی تشکیل کے لیے ایک مضبوط پوزیشن میں ہے ۔ اس موقع کو حاصل کرنے کے لیے حکومت ، صنعت اور تعلیمی اداروں میں اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہنر مندی کے نظام معاشی اور تکنیکی تبدیلیوں کے ساتھ رفتار برقرار رکھیں ۔ ’انڈیا اسکلز ایکسلریٹر‘ اس ہم آہنگی کو مضبوط کرنے ، افرادی قوت کی ترقی کو صنعت کی مانگ سے ہم آہنگ کرنے اور ایک زیادہ جامع ، مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار معیشت کی تعمیر میں مدد کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے ۔‘‘

گول میز اجلاس کا اختتام اسٹیک ہولڈرز کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا ، جس میں عوامی اورخانگی شعبہ کے منظم تعاون کے ذریعے ترجیحی اقدامات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ۔ افرادی قوت کی تبدیلی ، ہنر مندی کی مالی اعانت ، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جامع ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی ۔ بات چیت کے نتائج ’انڈیا اسکلز ایکسلریٹر‘ کے نفاذ کے روڈ میپ کو سمت کرتے ہوئے عالمی سطح پر ٹیلنٹ کے ایک سرکردہ مرکز کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کریں گے ۔

گول میز کانفرنس میں حکومت ، صنعت ، تعلیمی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کی نمائندگی کرنے والے پالیسی سازوں کے متنوع گروپ نے شرکت کی ۔ صنعت کے پالیسی سازوں میں اپولو ہاسپٹلز ، بجاج فنسر ، جے ایس ڈبلیو گروپ ، مہندرا گروپ ، آر پی-سنجیو گوئنکا گروپ ، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) ویپرو ، ریلائنس فاؤنڈیشن ، ری نیو ، آئی بی ایم ، بھارت سیٹس لمیٹڈ اور ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے نمائندے شامل تھے ۔ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی)،ایف آئی سی سی آئی ، آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (او آر ایف) آئی آئی ٹی دہلی-ایف آئی ٹی ٹی ، اے آئی سی ٹی ای ، یو جی سی ، سی بی ایس ای ، وزارت تعلیم ، وزارت خارجہ ، این سی وی ای ٹی ، این ایس ڈی سی ، وزارت ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری (ایم ایس ڈی ای) اور ہندوستان کی ہنرمندی اور افرادی قوت کے ماحولیاتی نظام کے دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کی شرکت سے بات چیت کو مزید تقویت ملی ۔

انڈیا اسکلز ایکسلریٹر کے بارے میں

’انڈیا اسکلز ایکسلریٹر‘ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کے ’گلوبل ایکسلریٹرس نیٹ ورک‘ کا ایک حصہ ہے اور اسے ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت چلا رہی ہے ۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد ہنر مندی کے فرق کو کم کرنے ، افرادی قوت کی صلاحیت کو مستحکم کرنے اور کام کے مستقبل میں ہندوستان کی اقتصادی ترقی اور مسابقت کو فروغ دینے کے لیے اختراعی اور کثیر فریقین کے حل کو فروغ دینا ہے ۔

**********

) ش ح –   م ع ن-  ش ہ ب )

U.No. 7837

 


(रिलीज़ आईडी: 2267866) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu