بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جناب منوہر لال نے ہریانہ میں بجلی کے شعبے کو درپیش مسائل کاجائزہ لیا


ہریانہ میں اسمارٹ بجلی میٹر نصب کرنے کا کام 31 اگست سے شروع ہوگا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 JUN 2026 11:12AM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے بجلی اور رہائش و شہری امور، جناب منوہر لال نے گزشتہ روز چنڈی گڑھ میں ریاست ہریانہ کے بجلی کے شعبے سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔

اس اجلاس میں حکومتِ ہریانہ کے وزیرِ بجلی جناب انل وج، ریاستی حکومت کے اعلیٰ حکام، حکومتِ ہند کی وزارتِ بجلی کے افسران اور بجلی کے شعبے سے وابستہ مرکزی سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے آغاز میں جناب منوہر لال نے اُن اہم شعبوں کی نشاندہی کی جن میں ریاستی محکمۂ بجلی اور ریاستی ملکیت کے بجلی کے عوامی شعبے کے ادارے(پی ایس یو)ایک جامع عملی منصوبے کے تحت مزید مؤثر انداز میں کام کر سکتے ہیں۔ اجلاس میں نظرِ ثانی شدہ تقسیم کے شعبہ اسکیم (آر ڈی ایس ایس)، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکامز) کی عملی کارکردگی اور مالیاتی اشاریوں سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

مرکزی وزیر نے زور دے کر کہا کہ بجلی ایک معاشی اہمیت کی حامل چیز ہے، اس لیے بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو مستحکم تجارتی اصولوں کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے بجلی کی خریداری پر آنے والی لاگت میں کمی، اخراجات کو معقول سطح پر رکھنے اور آمدنی میں اضافے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی تکنیکی و تجارتی نقصانات (اے ٹی اینڈ سی) میں گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل بہتری آئی ہے، تاہم اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ کارکردگی میں مزید بہتری لائی جائے اور اس پیش رفت کو برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری محکموں کے بقایا واجبات اور امدادی رقم (سبسڈی) کی بروقت ادائیگی کے لیے خودکار ادائیگی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ مالی معاملات میں تاخیر سے بچا جا سکے۔

مرکزی وزیر نے جدید (اسمارٹ) بجلی میٹروں کی تنصیب کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور متعلقہ کاموں کے ٹھیکوں کی جلد منظوری اور عمل درآمد کی ہدایت دی۔ ریاستی حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ اسمارٹ میٹر نصب کرنے کا عملی کام 31 اگست سے شروع کر دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید زور دیا کہ پیشگی ادائیگی والے اسمارٹ میٹروں کا نفاذ مرحلہ وار انداز میں کیا جائے۔ اس کا آغاز سرکاری صارفین اور سرکاری ملازمین سے کیا جائے، جس کے بعد 10 کلوواٹ سے زیادہ برقی بوجھ رکھنے والے بڑے صارفین کو اس نظام میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے رضاکارانہ طور پر اس نظام کو اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے مناسب ترغیبات فراہم کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔

جناب منوہر لال نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ بجلی کی تقسیم اور ترسیل میں ہونے والے نقصانات میں کمی لانے سے متعلق تمام کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر انجام دیا جائے اور ان کی تکمیل کے لیے واضح اور وقت مقررہ اہداف طے کیے جائیں۔

انہوں نے بجلی کی مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دستیاب وسائل کی صورتِ حال اور ریاست کے اندر بجلی کی ترسیل کے نظام کی منصوبہ بندی کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا کہ زیرِ التوا مسائل کو جلد از جلد حل کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بجلی کی پیداوار اور فراہمی کی صلاحیت میں اضافہ، مانگ میں ہونے والے مسلسل اضافے کے مطابق ہوتا رہے۔

اجلاس میں پردھان منتری سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ریاستی حکومت کو ہدایت دی گئی کہ اس منصوبے سے زیادہ سے زیادہ صارفین کو جوڑنے کے لیے ایک جامع اور ہدف پر مبنی عملی منصوبہ تیار کیا جائے۔ اس اقدام سے مستفید ہونے والے صارفین کے بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

جناب منوہر لال نے کہا کہ مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں ریاست کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکامز) کو مالی طور پر مستحکم بنانے اور بجلی کے شعبے کو خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے ریاست کی ہمہ جہت ترقی کے لیے حکومتِ ہند کی جانب سے مسلسل تعاون اور بھرپور معاونت جاری رکھنے کا یقین دلایا۔

ریاست ہریانہ کے بجلی کےوزیر  جناب انل وج نے یقین دہانی کرائی کہ ریاستی حکومت منظور شدہ منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور بجلی کے شعبے کی مجموعی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔

************

ش ح۔ت ف۔ش ت

 (U: 7847)


(ریلیز آئی ڈی: 2267805) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil