کیمیکل اور پٹرو کیمیکل کا محکمہ
آئی پی ایف ٹی نے اگلی نسل کے بائیو ان پٹس پربایو پی ایس ایف 2026سمپوزیم اور ورکشاپ کا انعقاد کیا
بائیو پی ایس ایف 2026 کی بنیادی توجہ اگلی نسل کے بائیو ان پٹس یعنی حیاتیاتی مادوں سے تیار کردہ کیڑے مار ادویات، محرکات اور کھادوں پر ہے
प्रविष्टि तिथि:
01 JUN 2026 7:31PM by PIB Delhi
کیمیکلز اور کھادوں کی وزارت کے کیمیکلز اور پیٹروکیمیکلز کے محکمے کے تحت ایک خود مختار ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف پیسٹیسائڈ فارمولیشن ٹیکنالوجی (آئی پی ایف ٹی)گروگرام نے نیشنل ایگریکلچرل سائنس کمپلیکس (این اے ایس سی) نئی دہلی میں دو روزہ سمپوزیم-کم-ورکشاپ ’’بائیوپی ایس ایف 2026: نیکسٹ جین بائیو ان پٹ-بائیو بیسڈ پیسٹیسائڈس ، اسٹیمولیٹس اینڈ فرٹیلائزرس‘‘ کا انعقاد کیا ۔
اس دو روزہ سمپوزیم اور ورکشاپ کا انعقاد آئی پی ایف ٹی کے 36 ویں یومِ تاسیس کی تقاریب کے ایک حصے کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ اس تقریب میں پالیسی سازوں، سائنسدانوں، صنعت کے نمائندوں، ریگولیٹرز، ماہرین تعلیم، کاروباری شخصیات (انٹرپرینیورز)، اسٹارٹ اپس، طلبہ اور محققین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا تاکہ حیاتیاتی زراعتی مصنوعات میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور پائیدار زراعت میں ان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
کیمیکلز اور پیٹرو کیمیکلز کے محکمہ کےجوائنٹ سکریٹری (پیٹرو کیمیکلز)، ڈاکٹر جی وینکٹیش نے بطور مہمانِ خصوصی اس سمپوزیم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مٹی کی صحت کو بہتر بنانے، ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے اور پائیدار زرعی ترقی کو فروغ دینے میں اگلی نسل کے بائیو ان پٹس کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ بائیو ان پٹ کے شعبے میں جدت طرازی ’’آتم نربھر بھارت‘‘ (خود کفیل بھارت) کے وژن اور ہندوستان کی بائیو اکانومی (حیاتیاتی معیشت) کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔

اپنے خطبۂ استقبالیہ میں آئی پی ایف ٹی کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر ایم کے آر مدیم نے کیڑے مار ادویات کے خلاف قوتِ مدافعت (ریزسٹنس)، موسمیاتی تبدیلی اور مٹی کی زرخیزی میں کمی جیسے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حیاتیاتی کیڑے مار ادویات، بائیو اسٹیمولینٹس (حیاتیاتی محرکات) اور بائیو فرٹیلائزرس (حیاتیاتی کھادوں) کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس شعبے میں جدت طرازی اور تجارتی پیمانے پر مینوفیکچرنگ کو تیز کرنے کے لیے ماہرین تعلیم، صنعت اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان باہمی تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
اس موقع پر معزز مہمانوں نے ’’بائیو پی ایس ایف 2026‘‘کی ایبسٹریکٹ بک کا اجراء کیا اور ہندی زبان کی اشاعت ’’کرشی رسائن دگدرشیکا‘‘کی رونمائی کی۔ افتتاحی سیشن کے دوران ’’اسٹرا دہلی-این سی آر چیپٹر‘‘کا بھی آغاز کیا گیا۔
اس تقریب کے دوران، تحقیق، جدت طرازی، ٹیکنالوجی کی ترقی اور صلاحیت سازی میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے آئی پی ایف ٹی اور کئی معروف اداروں کے درمیان مفاہمت ناموں(ایم او یوز) کا تبادلہ بھی کیا گیا۔

’’بائیو پی ایس ایف 2026‘‘کا موضوع ’’فصلوں کے تحفظ، غذائیت اور مٹی کی صحت کے لیے اسمارٹ اور پائیدار حکمت عملی‘‘ ہے، جس کا بنیادی مقصد جدید بائیو ان پٹس (حیاتیاتی مصنوعات) کی تیاری، ان کے ضوابط (ریگولیشن)، تجارتی پیمانے پر فراہمی اور ان کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ اس سائنسی پروگرام میں کلیدی خطابات (پلیینری لیکچرز)، تکنیکی سیشنز، صنعتی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ تبادلہ خیال، زبانی پیشکشیں (اورل پریزنٹیشنز) اور پوسٹر پریزنٹیشنز شامل ہیں۔
اس سمپوزیم میں سائنسی برادری اور صنعت کی جانب سے بھرپور دلچسپی اور شرکت دیکھنے کو ملی ہے، جس میں 23 مدعو کردہ لیکچرز اور 80 زبانی و پوسٹر پیشکشیں شامل ہیں۔ ان میں مائیکروبیل (جراثیمی) بائیو ان پٹس، نینو بائیو پیسٹیسائیڈس، آر این اے پر مبنی ٹیکنالوجیز، فارمولیشن انجینئرنگ، بائیو اسٹیمولینٹس، حفاظتی تشخیص اور ریگولیٹری فریم ورک جیسے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اس تقریب کا اختتام کل، 2 جون 2026 کو الوداعی سیشن کے ساتھ ہوگا، جس میں بہترین زبانی اور پوسٹر پیشکشوں کے لیے ایوارڈز دیے جائیں گے، صنعتی شعبے کے ساتھ بات چیت ہوگی اور بھارت کے بائیو ان پٹ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے اور پائیدار زرعی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے کے لیے سفارشات پیش کی جائیں گی۔
*******
(ش ح ۔ م م۔ع ن)
U. No. 7840
(रिलीज़ आईडी: 2267799)
आगंतुक पटल : 7