خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جدید پروسیسنگ ٹیکنالوجیز کا اپنایا جانا


جدید ٹیکنالوجی، ہنر مند افرادی قوت اور مضبوط برانڈزوزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز ایم او ایف پی آئی، خوراک کی پروسیسنگ کے مستقبل کو نئی سمت دے رہی ہیں

प्रविष्टि तिथि: 29 JAN 2026 3:29PM by PIB Delhi

خوراک کی ڈبہ بند کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے، وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز (ایم او ایف پی آئی) تعلیمی و تحقیقی اداروں کو گرانٹ اِن ایڈ فراہم کرتی ہے، جن میں کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) سے تسلیم شدہ نجی شعبے کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) یونٹس بھی شامل ہیں۔ یہ معاونت پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کی آر اینڈ ڈی اسکیم کے تحت طلب پر مبنی تحقیقی منصوبوں کے لیے دی جاتی ہے۔31 دسمبر 2025 تک 257 تحقیقی منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن کے لیے 102.47 کروڑ روپے کی منظور شدہ سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔اس کے علاوہ، وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کے زیر انتظام نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ (این آئی ایف ٹی ای ایم) کنڈلی اوراین آئی ایف ٹی ای ایم ، تنجاوور بھی اس شعبے میں تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

پی ایم فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز (پی ایم ایف ایم ای) اسکیم کے تحت کیپیسٹی بلڈنگ کے جزو میں وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز (ایم او ایف پی آئی) ٹرینرز کی تربیت (ماسٹر ٹرینرز، ڈسٹرکٹ لیول ٹرینرز)، ڈسٹرکٹ ریسورس پرسنز، فوڈ پروسیسنگ انٹرپرینیورز اور دیگر گروپس (ایس ایچ جیز، ایف پی او ز ، کوآپریٹوز) کی تربیت کے لیے گرانٹس فراہم کرتی ہے۔مزید برآں،ایف ایس ایس اے آئی کے ضوابط، فوڈ سیفٹی اور حفظانِ صحت کے اصولوں، اور فوڈ کوالٹی ٹیسٹنگ کے معیار سے متعلق تربیت بھی دی جاتی ہے تاکہ مائیکرو فوڈ انٹرپرائزز میں فوڈ سیفٹی اور حفظانِ صحت کے طریقوں کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا جا سکے۔اس اسکیم کے تحت ایف پی اوز ،ایس ایچ جیز، کوآپریٹوز یا مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز کے اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) گروپس کو برانڈنگ اور مارکیٹنگ سپورٹ کے لیے 50 فیصد تک گرانٹ بھی دستیاب ہے۔ اس جزو کے تحت مشترکہ پیکیجنگ اور برانڈنگ کی ترقی میں بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے، جس میں کوالٹی کنٹرول، اسٹینڈرڈائزیشن اور فوڈ سیفٹی کے تقاضوں کی پابندی کو یقینی بنایا جاتا ہے تاکہ مصنوعات کو صارفین تک محفوظ طریقے سے پہنچایا جا سکے۔وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کے تحت منظور شدہ تمام منصوبوں کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کے ضوابط کی پابندی لازمی ہوتی ہے۔

وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز ( ایم او ایف پی آئی) بیرونِ ملک برانڈنگ اور مارکیٹنگ سرگرمیوں کی بھی حمایت کرتی ہے، جن میں اسٹور کے اندر برانڈنگ، شیلف اسپیس کرایہ پر لینا اور مارکیٹنگ شامل ہیں، تاکہ مضبوط بھارتی برانڈز کے فروغ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ یہ سہولت فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو اسکیم (پی ایل آئی ایس ایف پی آئی) کے تحت فراہم کی جاتی ہے۔اس اسکیم کے تحت کسی کمپنی کو بیرونِ ملک برانڈنگ اور مارکیٹنگ پر کیے گئے اخراجات کا 50 فیصد مالی ترغیب کے طور پر دیا جا سکتا ہے، تاہم یہ رقم فوڈ مصنوعات کی فروخت کے 3 فیصد یا 50 کروڑ روپے سالانہ (جو بھی کم ہو) تک محدود ہے۔ اس کے لیے کم از کم 5 کروڑ روپے کا خرچ پانچ سال کی مدت میں ضروری ہے۔

یہ اسکیمیں طلب پر مبنی نوعیت کی ہوتی ہیں، اور منصوبوں کی تیز رفتار جانچ، پراسیسنگ اور منظوری کے لیے درخواستیں آن لائن مدعو کی جاتی ہیں، جو متعلقہ اسکیم کے رہنما اصولوں کے مطابق نمٹائی جاتی ہیں۔

وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز (ایم او ایف پی آئی) اپنی مختلف اسکیموں کے ذریعے خوراک کی تحفظ اور پروسیسنگ کی صلاحیتوں میں اضافہ، ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی ترقی، جدید اور اختراعی ٹیکنالوجیز کے فروغ، فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں پیداواری صلاحیت اور کارکردگی میں بہتری، انٹرپرینیورشپ کے فروغ، کسانوں کو بہتر منافع کی فراہمی اور اس شعبے کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

یہ معلومات فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کے وزیر مملکت جناب رونیٹ سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک  سوال کے تحریری جواب  میں فراہم کیں۔

***

ش ح ۔ش ت۔اش ق

U. No.7810


(रिलीज़ आईडी: 2267468) आगंतुक पटल : 3
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी