سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
بورےگاؤں سے شاہ پور تک :وسطی ہندوستان کے قلب میں نئی امکانات کی شاہراہ
प्रविष्टि तिथि:
30 MAY 2026 2:27PM by PIB Delhi
کھنڈوا اور برہان پور مدھیہ پردیش کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے زرعی خطے اور وسطی ہندوستان میں کیلے کی پیداوار کے اہم مرکز ہیں، جہاں سالانہ 17 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کیلے پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں سے روزانہ تقریباً 140 بڑے ٹرک کیلے لے کر ملکی منڈیوں اور بین الاقوامی بندرگاہوں کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔ کئی برسوں سے ان ٹرکوں کو تنگ اور خستہ حال سڑکوں پر سفر کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث نقل و حمل کی رفتار سست رہتی تھی، سفر کا دورانیہ بڑھ جاتا اور سامان کی ترسیل ایک دشوار عمل بن جاتی تھی۔ تاہم بھارت مالا پریوجنا کے تحت این ایچ-753 ایل کے بورے گاؤں تا شاہ پور سیکشن کو جدید چارلین والی شاہراہ کاریڈورکے طور پر ترقی دیے جانے سے اب یہ صورتحال بدلنے والی ہے۔
این ایچ-753 ایل کا بوری گاؤں تا شاہ پور سیکشن اسٹریٹجک اعتبار سے نہایت اہم ہے اور یہ مہاراشٹر میں بوری گاؤں بجرگ سے مکتائی نگر تک پھیلی ہوئی ایک بڑے کاریڈور کا حصہ ہے۔ وزارت برائےسڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ کی جانب سے تیار کیے جانے والے اس راہداری سے مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے درمیان بین الریاستی رابطے کو نئی جہت ملنے کی توقع ہے۔ تقریباً 944 کروڑ روپے کے تخمینہ لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ کاریڈورتقریباً 47 کلومیٹر طویل ہے اور اس کا تقریباً 85 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ مکمل ہونے کے بعد یہ راستہ اندور اور چھتر پتی شامبھا جی نگر(اورنگ آباد) کے درمیان ایک تیز رفتار، محفوظ اور زیادہ مؤثر متبادل رابطہ فراہم کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ علاقائی لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بناتے ہوئے بین ریاستی نقل و حمل کی ایک اہم شاہراہ اور مرکزی محور کے طور پر ابھرے گا۔
کھیت سے منڈی تک رابطے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم
یہ منصوبہ زرعی لحاظ سے نہایت زرخیز علاقوں سے گزرتا ہے، جہاں کیلا، کپاس، سویا بین اور گندم جیسی اہم فصلیں پیدا کی جاتی ہیں۔ مقامی کسانوں اور ٹرانسپورٹروں کے لیے بہتر سڑکیں براہ راست منڈیوں تک تیز تر رسائی اور نقل و حمل کے کم اخراجات کی صورت میں فوائد فراہم کریں گی۔
علاقے کے دیہات میں اس شاہراہ کو روزمرہ زندگی میں ایک بڑی بہتری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ضلع برہان پور کی جھری پنچایت کی سرپنچ آشا کیتھواس کے مطابق پرانی سڑک کی خستہ حالی کے باعث آمد و رفت انتہائی دشوار ہو گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹوٹی پھوٹی سڑک اور گڑھوں کی وجہ سے بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت بہت مشکل تھی۔ نئی شاہراہ کی تعمیر کے ساتھ اب ٹرکوں کی آمد و رفت کہیں زیادہ ہموار ہو گئی ہے، جس سے کسانوں اور ٹرانسپورٹروں دونوں کو زرعی پیداوار کی مؤثر تر ترسیل میں مدد مل رہی ہے۔
اس کاریڈور میں ایک ریلوے اوور برج (آر او بی)، 7 بڑے پل، 20 چھوٹے پل، 98 کلورٹس، 3 ہلکی گاڑیوں کے لیے انڈر پاس (ایل وی یو پی)، 5 چھوٹی گاڑیوں کے لیے انڈر پاس (ایس وی یو پی) اور 6 گاڑیوں کے انڈر پاس (وی یو پی) شامل ہیں۔ ان میں سے متعدد ڈھانچے اس انداز میں تعمیر کیے گئے ہیں کہ مقامی رابطہ کاری متاثر نہ ہو اور دیہات، کھیتوں اور قریبی علاقوں کے درمیان آمد و رفت بلا رکاوٹ اور ہموار طریقے سے جاری رہے۔
شہروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے والی شاہراہ
شاہ پور-برہان پور خطے میں کولڈ اسٹوریج کے کاروبار سے وابستہ کوپال کاڈو ٹیمکر کا کہنا ہے کہ جلگاؤں یہاں سے تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جبکہ مہاراشٹر کی سرحد اس علاقے سے محض 10 کلومیٹر دور ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس کی تکمیل کے بعد اندور اور مالوا خطہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ قریب محسوس ہوں گے۔ تیز رفتار سفر، نقل و حمل کے کم اخراجات اور آمد و رفت میں آسانی سے مقامی کاروبار، ہنگامی سفری ضروریات اور روزمرہ کے سفر کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
شاہ پور اور برہان پور کے اطراف رہنے والے بہت سے لوگوں کے لیے مہاراشٹر سے رابطہ ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے، کیونکہ یہ علاقہ ریاستی سرحد کے انتہائی قریب واقع ہے۔ نئی شاہراہ کی تکمیل کے بعد قریبی شہروں اور طبی سہولتوں تک رسائی کہیں زیادہ آسان اور تیز ہو جائے گی۔
منصوبے کا خلاصہ: این ایچ-753 ایل کا بوری گاؤں–شاہ پور سیکشن
- منصوبے کی لاگت: 944 کروڑ روپے
- کل لمبائی: تقریباً 47 کلومیٹر
- تعمیراتی پیش رفت: تقریباً 85 فیصد کام مکمل
- منسلک ہونے والی اہم ریاستیں: مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر
- اہم رابطہ شاہراہ: اندور – کھنڈوا – برہان پور – جلگاؤں-چھتر پتی سامبھاجی نگر
- اہم بنیادی ڈھانچہ: 1ریلوے اوور برج(آر او بی)، 7 بڑے پل، 20 چھوٹے پل، 98 کلورٹس اور 14 انڈر پاس
- قصبوں اور شہری علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے تقریباً 26 کلومیٹر طویل بائی پاس
- مقامی آمد و رفت کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے 19 کلومیٹر طویل سروس روڈز۔
تیز تر اور محفوظ آمد و رفت کے لیے جدید ڈیزائن
اس منصوبے کی نمایاں خصوصیات میں مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا جدید اور منصوبہ بند بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔ اس کے تحت ایک وسیع بائی پاس نظام تعمیر کیا جا رہا ہے، جس میں تقریباً 26 کلومیٹر طویل بائی پاس کل شاہراہی راستے کا ایک بڑا حصہ تشکیل دیتا ہے۔ اس کا مقصد بھاری اور طویل فاصلے کی ٹریفک کو قصبوں اور گنجان آبادی والے علاقوں سے باہر منتقل کرنا ہے، جس سے شہری علاقوں میں ٹریفک کا دباؤ، آلودگی اور سفری تاخیر میں نمایاں کمی آئے گی۔
اسی کے ساتھ مقامی ٹریفک کی محفوظ اور سہل نقل و حرکت کے لیے 19 کلومیٹر طویل سروس روڈز بھی تعمیر کی جا رہی ہیں۔ یہ سڑکیں دیہی علاقوں، زرعی کھیتوں اور چھوٹی بستیوں کو رابطہ فراہم کریں گی، جس سے مقامی مسافروں کو مرکزی شاہراہ پر داخل ہوئے بغیر محفوظ سفر کی سہولت میسر آئے گی۔
بین ریاستی رابطے کو مضبوطی
یہ شاہراہ آگے بڑھتے ہوئے مہاراشٹر کے مکتائی نگر علاقے تک پہنچتی ہے، جس سے دو ریاستوں کے درمیان ایک مضبوط رابطہ قائم ہوگا۔ یہ کاریڈور صرف مقامی رابطے تک محدود نہیں بلکہ اندور، کھنڈوا، برہان پور، جلگاؤں اورچھتر پتی سامبھاجی نگر کو ایک منظم اور مربوط نقل و حمل کے نیٹ ورک کے ذریعے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اس منصوبے کا ایک اہم ترین پہلو یہ ہے کہ یہ مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے درمیان ایک متبادل اقتصادی راہداری کے طور پر ابھر رہا ہے۔ فی الحال اندور اور چھتر پتی سامبھاجی نگر کے درمیان آمد و رفت زیادہ تر روایتی راستوں پر منحصر ہے، جہاں اکثر ٹریفک کا دباؤ، تنگ سڑکیں اور طویل سفری اوقات مسافروں اور مال برداری دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ بوری گاؤں بجرگ سے مکتائی نگر تک پورے راستے کو جدید فور لین(چار لین) شاہراہ میں تبدیل کیے جانے سے ایک تیز رفتار، محفوظ اور زیادہ مؤثر متبادل راستہ میسر آئے گا، خصوصاً بھاری گاڑیوں اور مال بردار ٹرانسپورٹ کے لیےکافی اہم ہوگا۔
اس کاریڈورکی تکمیل کے بعد تعلیم، صحت اور ہنگامی خدمات جیسی بنیادی سہولتوں تک رسائی بھی مزید آسان اور مؤثر ہو جائے گی، جس سے علاقے کی مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔
امید کی ایک نئی کرن
شاہ پور-برہانپور علاقے میں رہنے والے لوگوں کے لیے این ایچ-753ایل کا بورگاؤں-شاہ پور سیکشن محض کنکریٹ اور ڈامر کی ایک پٹی سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ مقامی کولڈ اسٹوریج آپریٹر کڈو ٹیمکر کے مطابق یہ سڑک اسپتالوں، بازاروں، صنعتوں اور مواقع کو ان کمیونٹیز کے قریب لے آئے گی جو طویل عرصے سے بنیادی ضروریات کے لیے بھی دور دراز رابطوں پر انحصار کرتی رہی ہیں۔
مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے درمیان روابط کو مضبوط بناتے ہوئے اور اندور اور مالوا خطے کو پہلے سے کہیں زیادہ قریب لاتے ہوئے، یہ راہداری روزمرہ زندگی کو نئی شکل دینے کے لیے تیار ہے — یہ طویل اور غیر یقینی سفر کو زیادہ تیز، محفوظ اور زیادہ مربوط سفر میں بدل دے گی۔
*********
UR-7796
(ش ح۔ م ع ن ۔ ج)
(रिलीज़ आईडी: 2267406)
आगंतुक पटल : 33