دیہی ترقیات کی وزارت
ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کے زیر اہتمام ’’تنظیم، صحت اور خوشحالی: صحت مند دل اور صحت مند زندگی کے لیے متوازن تیل کا استعمال‘‘ کے موضوع پر ویبینار کا انعقاد
ویبینار میں صحت مند دل اور بہتر زندگی کے لیے خوردنی تیل کے متوازن استعمال کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 MAY 2026 5:21PM by PIB Delhi
دیہی ترقی کی وزارت کے تحت دین دیال انتودیہ یوجنا – نیشنل رورل لائیولی ہڈز مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) نے 29 مئی 2026 کو صبح 10:30 بجے ’’تنظیم، صحت اور خوشحالی: صحت مند دل اور صحت مند زندگی کے لیے متوازن تیل کا استعمال‘‘ کے عنوان سے ایک ویبینار کا انعقاد کیا۔
ویبینار میں دیہی آبادی میں بڑھتے ہوئے موٹاپے اور امراضِ قلب کے تناظر میں خوردنی تیل کے متوازن استعمال کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس کا مقصد کمیونٹی کی سطح پر صحت مند غذائی عادات کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور متوازن غذا کے فروغ کو یقینی بنانا تھا۔

ویبینار کی صدارت دیہی ترقی کی وزارت کے ایڈیشنل سیکریٹری جناب ٹی کے انیل کمار نے کی۔ اس موقع پر ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کی جوائنٹ سیکریٹری محترمہ ایم جی جے شری اور ڈپٹی سیکریٹری (آر ایل) ڈاکٹر مونیکا بھی موجود تھیں۔
اس پروگرام میں قومی اور ریاستی سطح کے سینئر افسران، ریاستی مشن ڈائریکٹرز، ضلع اور بلاک سطح کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ موصولہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کی تمام 34 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے 10 لاکھ سے زائد سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) اراکین نے ویبینار میں حصہ لیا۔

اپنے افتتاحی خطاب میں دیہی ترقی کی وزارت کے ایڈیشنل سیکریٹری جناب ٹی کے انیل کمار نے کہا کہ روزمرہ کے کھانوں میں تیل اور چکنائی کا ضرورت سے زیادہ استعمال دیہی ہندوستان میں خاموشی سے پھیلنے والے صحت کے بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔
انہوں نے صحت مند اور بااختیار دیہی برادریوں کی تشکیل کے لیے ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کے نقطۂ نظر پر زور دیتے ہوئے سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) کے کارکنان کو اپنے دیہات میں رہنما، تبدیلی کے علمبردار اور عوام کے قابلِ اعتماد نمائندے قرار دیا۔
انہوں نے جناب نریندر مودی کی اس اپیل کا بھی حوالہ دیا جس میں خوردنی تیل کے استعمال میں کمی، ایندھن کی بچت اور غیر ضروری خریداری سے گریز کرنے کی تلقین کی گئی تھی، اور کہا کہ یہ اقدامات معاشی مضبوطی اور اجتماعی قومی فلاح و بہبود کے لیے اہم ہیں۔
محترمہ ایم جی جے شری نے استقبالیہ خطاب پیش کرتے ہوئے ویبینار کے موضوع اور پس منظر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی اے وائی-این آر ایل ایم، جو 91 لاکھ سے زائد سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز) کے ذریعے 10 کروڑ سے زیادہ خاندانوں تک رسائی رکھتا ہے، دنیا کے سب سے بڑے خواتین کی قیادت والے کمیونٹی نیٹ ورکس میں شامل ہے اور نچلی سطح پر صحت اور غذائیت سے متعلق بیداری پیدا کرنے کے لیے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ موٹاپے اور امراضِ قلب سمیت صحت کے مسائل اب صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ دیہی خاندانوں میں بھی تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں۔
محترمہ جے شری نے اپنی مدد آپ گروپوں اور کمیونٹی کارکنان کو کھانہ بنانے کے صحت مند طریقوں کو فروغ دینے کی ذمہ داری اٹھانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہر ایس ایچ جی خاندان اپنی روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی مثبت تبدیلیاں اختیار کرے تو اس کے نتیجے میں زیادہ صحت مند دل، زیادہ صحت مند خاندان اور ایک زیادہ صحت مند قوم کی تشکیل ممکن ہو سکے گی۔

ماہرِ غذائیت ڈاکٹر سبّا راؤ ایم گاوراوراپو، سائنس دان جی اور سربراہ، نیوٹریشن انفارمیشن، کمیونیکیشن اینڈ ہیلتھ ایجوکیشن (نِش) ڈویژن، آئی سی ایم آر-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:
’’ہندوستان اس وقت غذائی قلت، موٹاپے اور غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے بوجھ جیسے غذائیت کے تیہرے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے اور غیر صحت مند چکنائیوں کا استعمال اس بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کوئی ایک تیل مکمل طور پر مثالی نہیں ہوتا۔ آئی سی ایم آر-این آئی این کی غذائی رہنما ہدایات کے مطابق سرسوں، مونگ پھلی، تل، سورج مکھی اور دیگر مقامی طور پر دستیاب تیلوں کا باری باری اور معتدل استعمال کیا جانا چاہیے۔ 2000 کیلوری پر مشتمل غذا کے لیے فی فرد روزانہ 30 گرام سے زیادہ ظاہری چکنائی استعمال نہیں کرنی چاہیے۔
تیل کو بہت زیادہ درجہ حرارت پر طویل عرصے تک گرم نہیں کرنا چاہیے اور بار بار ایک ہی تیل کو گرم کرنے سے سختی سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے مضر صحت مرکبات پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں سے دور رہنا بھی نہایت ضروری ہے۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ہمارے بچے چپس، میٹھے مشروبات اور پیک شدہ اسنیکس کے استعمال کے عادی ہو رہے ہیں۔ آج بننے والی یہ غذائی عادات کل ہماری قوم کی صحت کا تعین کریں گی۔‘‘
اختتامی خطاب میں ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کی نیشنل مشن منیجر ڈاکٹر واسودھا شکلا نے تمام شرکاء کا پُرجوش شرکت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ روزمرہ غذائی عادات میں معمولی تبدیلیاں بھی صحت پر دیرپا اور مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
انہوں نے اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جی) کی تمام اراکین سے اپیل کی کہ وہ اس پیغام کو اپنے دیہات کی ہر دیدی تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہانہ ایس ایچ جی اجلاسوں اور کمیونٹی سرگرمیوں کے ذریعے متوازن مقدار میں خوردنی تیل کے استعمال سے متعلق آگاہی کو ہر دیہی گھرانے تک پہنچایا جانا چاہیے۔
ویبینار کا اختتام اس مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ اس دن حاصل ہونے والے اسباق کو نچلی سطح پر عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اچھی صحت کا آغاز باورچی خانے سے ہوتا ہے اور بچایا گیا تیل کا ہر قطرہ "تنظیم، صحت اور خوشحالی" کے تصور کو مضبوط بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :7764 )
(ریلیز آئی ڈی: 2267096)
وزیٹر کاؤنٹر : 10