بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جناب سربانند سونووال نے کیرالہ میں وزینجم بین الاقوامی بندرگاہ کے توسیعی کاموں کا افتتاح کیا


بھارت کی ٹرانس شپمنٹ صلاحیت اور بحری  مسابقت کو بڑھانے کے لیے تیز رفتار توسیعی کام

وزینجم بندرگاہ کی شاندار کامیابی، عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے بھارت کے وسیع سمندری شعبے میں مزید تحقیق کرنے کے عظیم وژن کا نتیجہ ہے– سربانند سونووال

مضبوط پورٹ انفراسٹرکچر اور مؤثر آبی گزرگاہوں کے نظام کا حامل کیرالہ بھارت کے سمندری مستقبل کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے– مرکزی وزیر سونووال

प्रविष्टि तिथि: 24 JAN 2026 8:31PM by PIB Delhi

وزیر اعظم کے ’میک ان انڈیا‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کے وژن کے تحت، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے عزت مآب مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے ہفتہ کے روز کیرالہ کے ترواننت پورم میں وزینجم بین الاقوامی بندرگاہ کی گنجائش بڑھانے کے کاموں کا افتتاح کیا۔ یہ تقریب کیرالہ کے عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب پنرائی وجین، ریاستی اور مرکزی حکومت کے سینئر حکام اور کنسیشنر  کے نمائندوں کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔

اس افتتاح کے ساتھ ہی وزینجم بین الاقوامی بندرگاہ کے فیز II، III اور IV کی تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا ہے، جنہیں ایک تیز رفتار اور مربوط ترقیاتی پروگرام کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس توسیع کا مقصد بھارت کی کنٹینر ٹرانس شپمنٹ صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کرنا اور ملک کے بحری بنیادی ڈھانچے کے ایکو سسٹم کو مضبوط بنانا ہے۔

وزینجم بین الاقوامی بندرگاہ نے 3 دسمبر 2024 کو 1 ملین (10 لاکھ) ٹی ای یو کی ڈیزائن کردہ گنجائش کے ساتھ اپنے فیز I کے تجارتی آپریشنز کا آغاز کیا تھا۔ آپریشن کے ایک مختصر عرصے کے اندر، بندرگاہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1.43 ملین سے زیادہ ٹی ای یو کو سنبھالا ہے اور 130 فیصد سے زیادہ گنجائش کے استعمال کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ بندرگاہ نے یورپ، امریکہ، افریقہ اور مشرق بعید کی بڑی عالمی جہاز رانی کی گزرگاہوں کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کر لیا ہے، جس سے ایک اہم قومی ٹرانس شپمنٹ ٹرمینل کے طور پر اس کے کردار کو مزید تقویت ملی ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب سربانند سونووال نے کہا، ’’وزینجم بین الاقوامی بندرگاہ کا تیز رفتار آپریشنلائزیشن اور توسیع، عالمی معیار کا پورٹ انفراسٹرکچر بنانے کی سمت میں بھارت کے مرکوز نقطۂ نظر کی عکاسی کرتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ گنجائش میں یہ اضافہ غیر ملکی ٹرانس شپمنٹ ہب پر بھارت کے انحصار کو کم کرنے، لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور بھارت کی بیرونی تجارت کی ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

گنجائش میں اضافے کے اس پروگرام کے تحت، موجودہ کنٹینر برتھ کی توسیع کی جائے گی تاکہ ایک مسلسل 2 کلومیٹر طویل کنٹینر برتھ تیار کی جا سکے، جو بھارت میں سب سے طویل ہوگی۔ بریک واٹر  کو بڑھا کر 3.88 کلومیٹر کیا جائے گا اور سمندر کو پاٹ کراضافی کنٹینر یارڈز تیار کیے جائیں گے۔ بندرگاہ کی کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت کو جہاز سے ساحل اور یارڈ کرینوں کے اضافے کے ذریعے مزید مضبوط کیا جائے گا، جس سے 28,000 ٹی ای یو تک کے اگلے سلسلے کے کنٹینر جہازوں کو سنبھالنا ممکن ہو سکے گا۔ تکمیل پر، یہ بندرگاہ بیک وقت پانچ بڑے مدر جہازوں  کو سنبھالنے کے قابل ہو جائے گی، جس کی آپریشنل تھرو پٹ گنجائش سالانہ 5.7 ملین ٹی ای یو تک پہنچ جائے گی۔

گنجائش بڑھانے کے یہ کام کیرالہ حکومت اور اڈانی وزینجم پورٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیان نومبر 2024 میں دستخط کیے گئے ایک ضمنی رعایتی معاہدے کے مطابق کیے جا رہے ہیں، جس سے پروجیکٹ کی ٹائم لائن میں تقریباً 17 سال کا وقت بچ گیا ہے اور اس کی تکمیل کا ہدف دسمبر 2028 مقرر کیا گیا ہے۔ وزینجم بین الاقوامی بندرگاہ پروجیکٹ کے لیے متوقع کل سرمایہ کاری تقریباً 16,000 کروڑ روپے ہے، جس میں توسیعی مراحل کے لیے تقریباً 7,398 کروڑ روپے شامل ہیں۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ وزینجم بین الاقوامی بندرگاہ کی ترقی میری ٹائم وژن 2030 اور امرت کال وژن 2047 کے تحت قومی اہداف کے عین مطابق ہے اور یہ ایک لچکدار، موثر اور عالمی سطح پر مسابقتی سمندری شعبے کی تشکیل میں معاون ثابت ہوگی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیرالہ کے عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب پنرائی وجین نے کہا، ’’وزینجم اس وقت بنیادی طور پر بھارتی کنٹینر بندرگاہوں کے لیے ایک ٹرانس شپمنٹ پورٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ فیز 2 کی ترقی مکمل ہونے کے ساتھ ہی، وزینجم ایشیا، یورپ، امریکہ اور افریقہ کے براعظموں سمیت پوری دنیا کا ٹرانس شپمنٹ ہب بن جائے گا۔‘‘

گنجائش بڑھانے کے کاموں کے آغاز کے ساتھ ہی، وزینجم بین الاقوامی بندرگاہ ایک علاقائی ٹرانس شپمنٹ ہب بننے کی سمت پیش رفت کے لیے تیار ہے، جو عالمی سمندری تجارت میں بھارت کی پوزیشن کو مضبوط کرے گا اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا۔

*****

ش ح۔ ک ح

U. No. 7704


(रिलीज़ आईडी: 2266602) आगंतुक पटल : 28
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Malayalam