جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر برائے جل شکتی سی آر پاٹل نے مہاراشٹر میں پینے کے پانی اور آبی وسائل کے شعبہ کا جائزہ لیا


مرکز اور ریاست نے مہاراشٹر میں طویل المدتی آبی تحفظ اور خشک سالی کے تدارک کے لیے حکمت عملیوں کو واضح کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAY 2026 9:24PM by PIB Delhi

وزارتِ جل شکتی نے آج نئی دہلی میں ڈی ڈی ڈبلیو ایس دفتر میں مہاراشٹر کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا، جس میں دیہی پینے کے پانی کی فراہمی کی اسکیموں، آبی وسائل اور آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

یہ اجلاس مرکزی وزیر برائے جل شکتی سی آر پاٹل کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیوندر فرنویس ، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے  سنیترااجیت پوار بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں مہاراشٹر کے آبی وسائل کے وزیر رادھا کرشنا ویکھے پاٹل، آبی وسائل (تاپی، ودربھ اور کونکن) کے وزیر گریش مہاجن اور پانی فراہمی و صفائی کے وزیر گلاب راؤ پاٹل سمیت مرکزی و ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ان میں آبی وسائل، دریا کی ترقی اور گنگا احیاء کے محکمہ کے سکریٹری وی ایل کانتا راؤ اور پینے کے پانی و صفائی کے محکمہ کے سکریٹری اشوک کے کے مینا بھی  موجود تھے۔اجلاس کے دوران مہاراشٹر میں مرکزی حکومت کی اہم اسکیموں- جل جیون مشن(جے جے ایم)، جل سنچیہ سے جن بھاگیداری اور پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا(پی ایم کے ایس وائے) کی عمل آوری اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے جل شکتی  سی آر پاٹل نے زور دیا کہ جل سنچیہ جن بھاگیداری کو ترجیحی بنیادوں پر ایک عوامی تحریک کے طور پر اپنایا جائے تاکہ زیرِزمین پانی کی بحالی، آبی وسائل کی پائیداری اور طویل المدتی آبی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بڑے انفراسٹرکچر جیسے ڈیم اور نہری نظام کمانڈ ایریاز تک پانی پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن نہری نظام سے دور واقع کئی دیہات اور کھیت اب بھی پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے علاقوں میں چھوٹے، کم لاگت اور کمیونٹی کی ملکیت والے رچارج ڈھانچے فوری اور واضح فوائد فراہم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبی تحفظ کی کوششوں کو جل جیون مشن کے ساتھ مربوط کیا جائے، کیونکہ صرف پائپ لائن انفراسٹرکچر کے ذریعے طویل المدتی آبی تحفظ ممکن نہیں جب تک پانی کے ذرائع کو پائیدار نہ بنایا جائے۔

وزیر موصوف  نے عالمی جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک جیسے اداروں کی رپورٹس بھی پائیدار آبی انتظام اور ذرائع کی مضبوطی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کے مطابق جل جیون مشن کے تحت محفوظ اور قابلِ اعتماد پانی تک بہتر رسائی نہ صرف معاشی نقصانات کو کم کر سکتی ہے بلکہ کمیونٹی کی مزاحمت  کو بھی بڑھاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبی تحفظ کی کوششیں عوامی صحت میں بہتری اور اخراجات میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔

 جناب  پاٹل  نے یہ بھی کہا کہ بہتر پانی کی دستیابی خصوصاً خواتین پر بوجھ کو کم کرتی ہے اور صحت کے اخراجات گھٹاتی ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ ان اقدامات کو مشن موڈ میں مسلسل نگرانی کے ساتھ نافذ کیا جائے اور چھوٹے منصوبوں کے اثرات کو کم نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے لیے پانی کی دستیابی کو بھی بڑھانا ضروری ہے، اور ‘ہر گھر جل’ کے ساتھ‘ہر کھیت پانی’ کے ویژن کو آگے بڑھانا چاہیے۔ ریاستوں کو مختلف اسکیموں کو یکجا کر کے جامع منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔

دیہی علاقوں میں مالی شراکت سے متعلق خدشات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے متوازن حل تلاش کیے جائیں جو مقامی لوگوں کو حقیقی فوائد جیسے انفراسٹرکچر سپورٹ فراہم کریں۔

مورخہ 30 اپریل کی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی اور تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے شامل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل کوششیں، مربوط منصوبہ بندی اور عوامی شمولیت ہی ملک میں طویل المدتی آبی تحفظ کی کلید ہیں۔

مہاراشٹر کے ‘جل تارا’ ماڈل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سادہ رچارج پٹ بھی کم لاگت پر بڑی مقدار میں بارش کے پانی کو زیرِ زمین پہنچا سکتا ہے۔ اگر کسان اپنے کھیتوں میں ایک یا دو ایسے ڈھانچے بنائیں تو وہ خود اس کے نتائج دیکھ کر اسے اپنانے کی ترغیب حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیرمرکزی آبی تحفظی ڈھانچے جل جیون مشن کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ستمبر 2024 میں شروع ہونے والی جل سنچیہ جن بھاگیداری مہم میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے اور مئی 2026 کے آخر تک مزید ڈھانچے مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے وزراء، افسران، سرکاری ملازمین اور زرعی  اراضی  کے مالکان پر زور دیا کہ وہ اپنی زمین پر کم از کم ایک آبی تحفظ کا ڈھانچہ ضرور قائم کریں اور اس کی رپورٹ بھی دیں، تاکہ یہ اقدام ایک حقیقی اجتماعی تحریک کی شکل اختیار کر سکے۔ انہوں  نے وی بی – جی رام – جی ، سی ایس آر تعاون، کمیونٹی شراکت اور مقامی حکومت کے وسائل کے ساتھ ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا، خاص طور پر ان علاقوں میں جو آبی دباؤ، نیم بحرانی یا شدید پانی کی کمی کا شکار ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ دیہات کا بارش کا پانی اکثر نالیوں، دریاؤں کے ذریعے بہہ کر آخرکار سمندر میں پہنچ کر ضائع ہو جاتا ہے اور مقامی طور پر استعمال نہیں ہو پاتا۔ اگر مناسب مقامات پر رچارج بورز، رچارج ویلز، فارم پونڈز، پرکولیشن ڈھانچے اور چھوٹے گڑھے بنائے جائیں تو اس پانی کو دوبارہ زمین میں جذب کر کے زیرِ زمین پانی کی سطح کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے گجرات کے بناسکانٹھا علاقے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کمیونٹی کی شمولیت اور بڑے پیمانے پر رچارج ڈھانچوں کی بدولت زیرِ زمین پانی کی صورتحال بہتر ہوئی، خشک کنویں دوبارہ فعال ہوئے اور کسانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں آبی تحفظ خصوصاً پینے کے پانی، آبپاشی اور زیرزمین پانی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر توجہ دینا ضروری ہوگا۔ انہوں نے ریاستوں اور اضلاع سے اپیل کی کہ جل سنچیہ جن بھاگیداری کو ایک عملی، کم لاگت اور قابلِ توسیع حکمتِ عملی کے طور پر ترجیح دیں تاکہ بارش کا پانی مقامی طور پر محفوظ ہو، زیرِ زمین پانی دوبارہ بھرے اور دیہی علاقوں کے پینے کے پانی کے ذرائع پائیدار بن سکیں۔

مہاراشٹر میں آبی شعبے کی اسکیموں پر جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیوندر فرنویس نے کہا کہ یہ بات چیت انتہائی نتیجہ خیز اور جامع رہی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت تمام نشاندہی شدہ خامیوں اور خلا کو منظم طریقے سے دور کرے گی اور آئندہ بجٹ میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے لیے مزید مضبوط معاونت فراہم کی جائے گی۔انہوں نے جن بھاگیداری (عوامی شراکت) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر بار بار خشک سالی کا سامنا کرتا ہے، اس لیے آبی تحفظ کو ایک عوامی تحریک بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے جل سنرکشن، بارش کے پانی کے ذخیرے، ذرائع کی پائیداری اور زیرزمین پانی کی بحالی کی جاری کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ریاستی حکومت کا ویژن مرکزی حکومت کے اہداف کے مکمل ہم آہنگ ہے۔

دریاؤں کے آپس میں ربط (ریور لنکنگ) منصوبوں کو طویل المدتی آبی تحفظ کا حل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجوزہ منصوبوں کی تکمیل سے مہاراشٹر کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کو نمایاں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2016 سے جاری  اسٹڈیز اور تکنیکی تیاری اب عمل درآمد کے مرحلے کے قریب ہیں، اور ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے مرکزی حکومت کی بھرپور معاونت، کثیر ذرائع مالی تعاون اور بین الریاستی ہم آہنگی ضروری ہے۔

آبی وسائل کے شعبہ پر مہاراشٹر کے ساتھ جائزہ اجلاس کے دوران آبی وسائل، دریا کی ترقی اور گنگا احیاء کے محکمہ کے سکریٹری وی ایل کانتا راؤ نے کہا کہ پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا(پی ایم کس ایس وائے) اور مہاراشٹر کے لیے خصوصی پیکیج کے تحت آبپاشی منصوبوں پر عمل درآمد میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ وہ مناسب فنڈز فراہم کرے اور زیر التوا منصوبوں کو مکمل کرے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ریاستی حکومت کی جانب سے مطالبہ موصول ہوتے ہی مرکزی معاونت فوری طور پر جاری کر دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر کے طویل المدتی آبی وسائل منصوبہ بندی کے حصے کے طور پر مختلف آبپاشی منصوبوں اور اندرونِ ریاست دریا ربط منصوبوں کا تکنیکی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پینے کے پانی اور صفائی کے محکمہ کے سکریٹری اشوک کے کے مینا نے پانی کے معیار، نگرانی اور منصوبوں پر عمل درآمد سے متعلق اہم نکات شیئر کیے۔ انہوں نے بتایا کہ 2024-25 تک پانی کے معیار کی جانچ اور اصلاحی اقدامات تسلی بخش انداز میں جاری تھے، تاہم بڑھتی ہوئی طلب کے باعث بعض علاقوں میں جانچ کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پی ایچ ای ڈی(پی ایچ ای ڈی) سطح پر پانی کے معیار کی جانچ کو تیز کیا جائے تاکہ باقاعدہ اور مؤثر نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ضلع سطح پر ڈسٹرکٹ واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن(ڈی ڈبلیو ایس ایم) کے اجلاس ہر ماہ ضلع کلکٹر کی صدارت میں باقاعدگی سے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 13 اضلاع میں دسمبر کے بعد کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا اور اس معاملہ میں مستقل مزاجی اور جوابدہی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ کلکٹروں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

آبی وسائل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے حوالے سے پینے کے پانی اور صفائی کے محکمہ کے سکریٹری اشوک کے کے مینا نے ڈیم سے متعلق منصوبوں کے لیے قائم کمیٹیوں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ان کاموں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جائے گا۔ مہاراشٹر کے پینے کے پانی و صفائی محکمہ کے پرنسپل سکریٹری پراگ جین- نینوتا نے پانی کی دستیابی، نگرانی کے نظام اور منصوبوں پر عمل درآمد سے متعلق اہم نکات پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ پانی کی دستیابی کی منصوبہ بندی کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، جس میں تکنیکی جائزوں اور زمینی سطح پر تصدیق کو بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ اسکیموں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ آف تھنگز(آئی او ٹی) پر مبنی مانیٹرنگ سسٹمز متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ موٹروں کے آپریشن اور سسٹم کی کارکردگی کی ریئل ٹائم نگرانی ممکن ہو سکے۔ اس اقدام کو حکومت ہند کی اصولی منظوری حاصل ہو چکی ہے اور اس پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے، جو اسمارٹ واٹر مینجمنٹ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملٹی ولیج اسکیمز(ایم وی ایس ) کو ترجیحی بنیادوں پر اپنایا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ دیہات تک پینے کے پانی کی فراہمی کو وسعت دی جا سکے۔ ساتھ ہی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود اخراجات میں توازن اور عملی افادیت کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، تاکہ پریشر مانیٹرنگ جیسے ضروری نظام بغیر اضافی پیچیدگی کے مؤثر انداز میں شامل کیے جا سکیں۔عملی نفاذ کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ متعدد منصوبہ جاتی مراحل مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ باقی کاموں کی بروقت تکمیل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

مہاراشٹر میں زمینی سطح کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور عملی چیلنجز کے حل کے لیے میونسپل کمشنرز، ضلع کلکٹروں، ضلع پریشد سی ای اوز اور ڈسٹرکٹ فاریسٹ افسران کے ساتھ ایک ورچوئل اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔

نیشنل واٹر مشن کی ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر ارچنا ورما نے شرکاء کو جل سنچیہ جن بھاگیداری (جے ایس جے بی) کے بارے میں آگاہ کیا، جو زیر زمین پانی کی بحالی کے لیے مصنوعی بارش کے پانی کے ڈھانچے بنانے کی ایک کمیونٹی پر مبنی مہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر پہلے ہی‘ جل یکت شِور’ جیسی اسکیموں کے ذریعے اس سمت میں مثال قائم کر چکا ہے اور ایسے تمام ڈھانچوں کو جے ایس جے بی پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی درخواست بھی کی۔

بعد ازاں، نیشنل واٹر مشن کے جوائنٹ سکریٹری سومنت نرین نے تفصیلی پریزنٹیشن دیتے ہوئے بتایا کہ جے ایس جے بی کا بنیادی مقصد کم لاگت آبی تحفظی اقدامات کے ذریعے حد سے زیادہ استحصال والے اضلاع کو نیم بحرانی حالت میں لانا ہے۔ انہوں نے “3Cs” فریم ورک — کمیونٹی شراکت، کم لاگت، اور کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی ( سی ایس آر) — کو اس حکمت عملی کی بنیاد قرار دیا اور اس کے نفاذ کا طریق کار پیش کیا اور مہاراشٹر میں جے ایس جے بی کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

نیشنل جل جیون مشن کے اے ایس اینڈ ایم ڈی جناب کمل کشور سون نے جل جیون مشن-2.0 کے ویژن اور مقاصد کے ساتھ ساتھ مختلف اضلاع میں مشن کی پیش رفت پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔انہوں نے اپنی پیشکش میں واضح کیا کہ جل جیون مشن کے تحت اثاثہ جات  سے اب طویل المدتی اور پائیدار خدمات کی فراہمی کے مرحلے یعنی جے جے ایم 2.0 کی جانب منتقلی کی جا رہی ہے۔ یہ نیا ماڈل بنیادی اصلاحات پر توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ موجودہ آبی اسکیموں کی مستقل فعالیت کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کے تحت گرام پنچایتوں اور ولیج واٹر اینڈ سینیٹیشن کمیٹیوں(وی ڈبلیو ایس سی ایس ) کو خودمختار مائیکرو یوٹیلیٹیز میں تبدیل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشن میں موجود ساختی اور ڈجیٹل گورننس سے متعلق خلا کو فوری طور پر دور کرنا ضروری ہے، جس کے لیے ضلع کلکٹروں اور ریاستی واٹر اینڈ سینیٹیشن مشن(ایس ڈبلیو ایس ایم) کو فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اداروں اور قبائلی بستیوں کی 100 فیصد کوریج کو ترجیح دی جائے، تھرڈ پارٹی انسپیکشن ایجنسیوں کے ذریعے جانچ کا دائرہ وسیع کیا جائے، اور دیہی آبی اسکیموں کی باضابطہ تکمیل اور ہینڈ اوور کے عمل کو تیز کیا جائے۔

مرکزی اور ریاستی سطح پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مختلف انتظامی سربراہان کے لیے ہدف پر مبنی ذمہ داریاں مقرر کی گئیں۔ ریاست بھر میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس، کلکٹروں اور ضلع پریشد کے سی ای اوز کو ہدایت دی گئی کہ وہ مقامی وسائل کو بھرپور انداز میں متحرک کریں اوروی بی-جی  رام جی اور کارپوریٹ سی ایس آر فنڈز کو یکجا کر کے تمام سرکاری عمارتوں میں سائنسی، کمیونٹی پر مبنی بارش کے پانی کے ذخیرے اور رچارج کے ڈھانچے قائم کریں۔

 

********

 

ش ح- ظ الف-  م ش

UR- 7693

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2266511) وزیٹر کاؤنٹر : 4