زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی حکومت کی خریف فصلوں کی تیاریاں زوروں پر،  مرکزی وزیر زراعت  جناب شیو راج سنگھ چوہان کی پریس کانفرنس سے خطاب


‘ خریف  کونکلیو میں ٹیم زراعت؛ کاشتکاری کو نئی سمت ملے گی’:  جناب شیورارج سنگھ چویان

‘ہر ریاست کا زرعی ماڈل مختلف ہے، اسی لیے حکمت عملی علاقائی سطح پر تیار کی جا رہی ہے’:  جناب  شیوراج سنگھ

مرکزی وزیر زراعت: غذائی اجناس کی پیداوار 3,765 لاکھ ٹن سے تجاوز کر گئی، یہ ایک تاریخی کامیابی ہے

ہندوستان  چاول  کی پیداوار میں دنیا میں پہلے نمبر پر چین کو پیچھے چھوڑ دیا:جناب شیورراج سنگھ چویان

دالوں اور  تلنہوںمیں خود کفالت ہماری اولین ترجیح ہے: مرکزی وزیر

موسمیاتی تبدیلی سے لے کر ڈجیٹل زراعت تک، خریف کونکلیو میں زرعی ترقی کا نیا روڈ میپ تیار کیا جائے گا :جناب شیوراج

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 MAY 2026 7:24PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود جناب  شیوراج سنگھ چوہان  نے آج نئی دہلی کے پوسا کمپلیکس میں ‘خریف کونکلیو-2026 ’سے متعلق ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا، کسانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانا اور شہریوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنا مرکزی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم جناب نریندرمودی کی قیادت میں مرکزی حکومت زرعی شعبہ کو مسلسل مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی خریف مہم-2026 کے تحت زرعی کانکلیو کا انعقاد 28 اور 29 مئی 2026 کو این اے ایس سی کمپلیکس،  پوسا، نئی دہلی میں کیا جا رہا ہے۔ اس کانکلیو میں ملک بھر سے زراعت کے وزراء، سائنسدان اور سینئر افسران شرکت کریں گے۔

اس اہم  کانفرنس میں انڈین کو نسل آف ایگرکلچر ریسرچ ( آئی سی اے آر)، مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندے بھی حصہ لیں گے۔

اس پروگرام میں خریف سیزن کی تیاریوں پر دو روز تک تفصیلی تبادلۂ خیال اور جائزہ لیا جائے گا۔ ہمارا مقصد ہے کہ کسانوں کو بہتر منصوبہ بندی، بہتر ٹیکنالوجی اور بہتر معاونت فراہم کی جا سکے۔

ٹیم  ایگریکلچر خریف کونکلیو

مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ خریف کونکلیو کا آغاز ہو چکا ہے اور آج پوری ٹیم زراعت یہاں موجود ہے۔ ان کے مطابق ٹیم زراعت سے مراد صرف مرکزی حکومت نہیں بلکہ ریاستی حکومتیں، انڈین کونسل آگ ایگریکلچر ریسرچ(اے سی اے آر) کے سائنسدان، مرکزی و ریاستی افسران، ایف پی او کے نمائندے اور زرعی تھنک ٹینک گروپس بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زراعت ریاستی موضوع ہے اور بہتر نتائج ہمیشہ ریاستوں سے ہی حاصل ہوتے ہیں، جبکہ مرکزی حکومت معاون کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانکلیو میں خریف اور ربیع فصلوں کی تیاری، بوائی کے لیے موزوں بیجوں کی دستیابی اور زرعی مشنز کی مؤثر ترسیل پر تفصیلی بات چیت ہو رہی ہے۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ کانفرنس سے قبل ریاستوں کے ساتھ مختلف امور پر ورچوئل اجلاس بھی کیے گئے تھے، جن کی روشنی میں ریاستیں اپنی تیاریوں کے ساتھ اس کانکلیو میں شریک ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو درپیش مسائل پر سنجیدہ گفتگو اور ان کے حل کی ضرورت ہے۔

 جناب شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ پہلے یہ کانکلیو صرف ایک دن کا ہوتا تھا، لیکن ایک بڑے ملک میں تمام مسائل ایک دن میں زیر بحث لانا ممکن نہیں۔ اس لیے پہلے دن افسران مختلف ریاستوں کے ساتھ گروپوں میں تفصیلی بات چیت کریں گے، جبکہ دوسرے دن ریاستوں کے زراعت کے وزراء بھی اس غور و خوض میں شامل ہوں گے۔

ہر ریاست میں زراعت مختلف ہے، اسی لیے علاقائی سطح پر بات چیت کی جاتی ہے

مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبودجناب شیورراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ہمارا ملک بہت بڑا ہے، اسی لیے اس بار صرف قومی زرعی کانکلیو ہی نہیں بلکہ علاقائی کانفرنسوں کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ اب تک جے پور، لکھنؤ اور بھونیشور میں تین علاقائی کانفرنسیں منعقد ہو چکی ہیں، جبکہ شمال مشرقی اور جنوبی  ہندوستان  میں مزید دو کانفرنسیں بھی منعقد کی جائیں گی، جن کی تاریخیں جلد طے کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہر ریاست میں کاشتکاری اور موسمی حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے علاقائی سطح پر بات چیت زیادہ عملی اور مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ چھوٹے گروپس میں ریاستوں کے ساتھ گفتگو کے دوران ہر ریاست کے مسائل اور ضروریات تفصیل سے زیر بحث آتی ہیں۔مرکزی وزیر نے بتایا کہ مستقبل میں زرعی و موسمی زونز کی بنیاد پر علاقائی کانفرنسیں منعقد کرنے کا بھی منصوبہ زیر غور ہے۔ انڈین کونسل آگ ایگریکلچر ریسرچ(اے سی اے آر)  کی درجہ بندی کے مطابق ملک کو مجموعی طور پر آٹھ زرعی-موسمی زونز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ انہی آٹھ زونز کی بنیاد پر علاقائی کانفرنسیں منعقد کی جائیں تاکہ زرعی اسکیمیں اور حکمتِ عملیاں مؤثر انداز میں زمینی سطح تک پہنچ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خریف کونکلیو پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن بھی تیار کی گئی ہے جس میں مختلف زرعی موضوعات پر تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔

گندم، چاول، مکئی اور  تلہنوں کی پیداوار میں نیا ریکارڈ

نئی دہلی میں مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبودجناب شیورراج سنگھ چوہان نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں مرکزی حکومت کی پالیسیوں، سائنسدانوں کی تحقیق، ریاستوں کے تعاون اور کسانوں کی محنت کے باعث اس سال  ہندوستان  نے غذائی اجناس کی پیداوار میں تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2025-26 میں ملک کی مجموعی غذائی اجناس کی پیداوار کا تخمینہ 3,765.63 لاکھ ٹن تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 188 لاکھ ٹن زیادہ ہے۔مرکزی وزیر نے بتایا کہ چاول کی پیداوار 1,540.24 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے اور  ہندوستان اب دنیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے، حتیٰ کہ اس نے چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ گندم کی پیداوار 1,206.57 لاکھ ٹن جبکہ مکئی کی پیداوار 550.92 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی ہے، جو اپنی نوعیت کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دالوں کے ساتھ ساتھ تلہنوں  کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس سال  تلہنوں کی متوقع پیداوار 430.59 لاکھ ٹن ہے، جس میں مونگ پھلی کی پیداوار 130.74 لاکھ ٹن اور سرسوں کی پیداوار 137.68 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو ایک ریکارڈ سطح ہے۔انہوں نے کہا کہ دالوں کی پیداوار میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے اور آئندہ برسوں میں اس میں مزید بہتری کی توقع ہے۔

خریف حکمت عملی پر قومی سطح پر زرعی غور و خوض

مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبودجناب  شیوراج سنگھ چوہان  نے کہا کہ دالوں اور  تلہن  اجناس کے لیے الگ الگ مشن قائم کیے گئے ہیں۔ ریاستوں کے ساتھ بہتر بیجوں کی دستیابی، بیجوں کی تبدیلی کی شرح میں اضافہ، مظاہراتی منصوبوں اور پروسیسنگ سہولیات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ  ہندوستان  باغبانی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اس میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ آف ہارٹیکلچر مشن اور کاٹن مشن پر بھی اس کانکلیو میں غور کیا جائے گا۔مرکزی وزیر نے موسمیاتی تبدیلی کو زراعت کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدلتے موسم اور بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے زرعی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ گرمی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کبھی ایک ساتھ زیادہ بارش ہوتی ہے اور کبھی طویل وقفہ آ جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں زراعت کو محفوظ اور پائیدار بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر بھی گفتگو ہوگی۔انہوں نے کہا کہ قدرتی کاشتکاری، مٹی کی صحت کارڈ اور کھادوں کے متوازن استعمال جیسے موضوعات پر خصوصی توجہ دی جائے گی کیونکہ معلومات کی کمی کی وجہ سے کئی کسان ضرورت سے زیادہ کھاد استعمال کرتے ہیں، اس لیے متوازن استعمال کو فروغ دینا ضروری ہے۔

جناب  شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے انٹیگریٹڈ فارمنگ ماڈل پر بھی غور کیا جائے گا، کیونکہ ملک میں زیادہ تر کھیت چھوٹے سائز کے ہیں، اس لیے کم زمین سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے طریقوں پر توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ زرعی سرمایہ کاری کے لیے مناسب فنڈنگ بھی ضروری ہے۔ کسانوں کو صرف پیداوار ہی نہیں بلکہ کٹائی کے بعد کے انتظامات اور خطرات سے تحفظ بھی درکار ہے۔ بعض ریاستوں میں زرعی کریڈٹ کی تقسیم میں اب بھی عدم توازن موجود ہے۔ جہاں کہیں کسان کریڈٹ گارنٹی کارڈ (کے سی سی) اور سرمایہ دستیاب ہوگا، وہاں کاشتکاری بہتر ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ زرعی انفراسٹرکچر فنڈ، پی ایم-آشا یوجنا، ڈجیٹل ایگریکلچر، فارمر آئی ڈی اور ایف پی اوز کو مضبوط بنانے جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئیں گے۔ ریاستوں کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں دن بھر تفصیلی غور و خوض ہوگا۔ اگلے دن ریاستی وزرائے زراعت کی موجودگی میں مختلف موضوعات پر پریزنٹیشنز دی جائیں گی اور خریف فصلوں کے لیے ملک اور ریاستوں کا مشترکہ زرعی روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ “کھیت بچاؤ مہم” پر بھی اس کانکلیو میں تفصیلی بحث ہوگی اور مرکزی و ریاستی حکومتیں مشترکہ طور پر طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے مربوط کوششیں کریں گی۔

 

********

 

ش ح- ظ الف-  م ش

UR- 7681


(ریلیز آئی ڈی: 2266488) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali