قبائیلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قبائلی امور کی وزارت نے مغربی بنگال میں پی ایم جن من اور ڈی اے – جے جی یو اے کے نفاذ کا جائزہ لیا


این ای ایس ٹی ایس نے ای ایم آر ایس نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کے لیے مفاہمتی عرضداشت پر دستخط کیے؛ فنڈنگ کو بڑھا کر 1.47 لاکھ روپے فی طالب علم کر دیا گیا

مغربی بنگال میں پی وی ٹی جی گھرانوں کے سروے کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد قبائلی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے فوائد کی بروقت بہم رسانی ہے

عزت مآب وزیر اعظم کی وکست بھارت  کی تصوریت سے ہم آہنگ، قبائلی امور کی وزارت اور مغربی بنگال نے قبائلی فلاح وبہبود سے متعلق پہل قدمیوں اور ای ایم آر ایس کی توسیع کے عمل کو تیز کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAY 2026 6:54PM by PIB Delhi

قبائلی امور کی وزارت کی سکریٹری محترمہ رنجن چوپڑا  کے زیر صدارت 27 مئی 2026 کو ایک جائزہ میٹنگ کا اہتمام کیا گیا، جس میں قبائلی ترقی کے محکمے (ٹی ڈی ڈی)، حکومت مغربی بنگال کی پرنسپل سکریٹری  محترمہ چوٹن دھیندپ لامہ کے ساتھ وزارت اور متعلقہ تنظیموں کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔ اس میٹنگ میں جناب منیش ٹھاکر، ایڈشنل سکریٹری؛ جناب برج نندن پرساد، جوائنٹ سکریٹری؛ جناب ٹی روموان پائٹے، سی ایم ڈی، این ایس ٹی ایف ڈی سی؛ جناب اننت پرکاش پانڈے، جوائنٹ سکریٹری؛ ڈاکٹر پرتیما، کمشنر، این ای ایس ٹی ایس اور وزارت دیگر سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔

A group of people sitting at a deskAI-generated content may be incorrect.

میٹنگ میں ریاست مغربی بنگال میں قبائلی امور کی وزارت کی مختلف اسکیموں اور پروگراموں کے نفاذ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ بات چیت کا محور بین محکمہ جاتی تال میل کو مضبوط بنانے، فنڈ کے استعمال کو بہتر بنانے اور قبائلی اور خاص طور پر کمزور قبائلی گروپ (پی وی ٹی جی) علاقوں میں زیر التواء مداخلتوں کی کوریج کو تیز کرنے پر تھا۔

میٹنگ کے دوران اہم توجہ  وزارت کی دو فلیگ شپ پہل قدمیوں- پردھان منتری جن جاتی آدی واسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم جن من) اور دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان (ڈی اے – جے جی یو اے)  کے تحت ریاستی حکومت کو شامل کرنے پر دی گئی۔  قبائلی امور کی وزارت کے سکریٹری  نے زور دیتے ہوئے کہا کہ  یہ وزارت اور ریاستی حکومت کے لیے مل کر کام کرنے کا موقع ہے تاکہ  اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان ابھیانوں کے فوائدمؤثر طور پر قبائلی برادریوں اور پی وی ٹی جیز تک پہنچیں۔

محترمہ چوٹن دھینڈپ لامہ نے بتایا کہ ریاستی حکومت کے مختلف شعبہ جات ابھیان کے تحت متعلقہ مرکزی وزارتوں کو مناسب تجاویز مرتب کرنے اور پیش کرنے کے عمل میں ہیں۔ میٹنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ ریاست میں پی وی ٹی جی گھریلو سروے 27 مئی 2026 کو شروع ہوا تھا اور ریاستی حکومت نے اس مشق کو بروقت مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

قبائلی امور کے سکریٹری نے ریاستی حکومت کو آدی کرم یوگی ابھیان (اے کے اے) کے ساتھ مربوط کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ وزارت نے مطلع کیا کہ ریاستی حکومت کے عہدیداروں کے لئے جلد ہی اے کے اے پر ایک ہینڈ ہولڈنگ سیشن کا انعقاد کیا جائے گا۔ ریاست کو مزید مشورہ دیا گیا کہ وہ ڈی اے – جے جی یو اے اور پی ایم جن من کے تحت آنے والے دیہاتوں میں آدی سیوا کیندروں (اے ایس کے) کے نوٹیفکیشن کو تیز کرے، جس میں کمیونٹی کی شراکت کے مضبوط میکانزم کے ذریعے ہر اے ایس کے میں 5-7 رضاکاروں کی ٹیمیں تعینات کرنے کی کوشش کی جائے۔

A group of people standing in front of a deskAI-generated content may be incorrect.

قبائلی تعلیم کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت میں، قبائلی امور کی وزارت کے تحت نیشنل ایجوکیشن سوسائٹی فار ٹرائبل اسٹوڈنٹس (این ای ایس ٹی ایس) نے ریاست میں ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں (ای ایم آر ایس) اسکیم کے موثر نفاذ اور نگرانی کے لیے حکومت مغربی بنگال کے ساتھ مفاہمتی عرضداشت پر بھی دستخط کیے ہیں۔

قبائلی امور کی وزارت کی سکریٹری محترمہ چوپڑا ؛ قبائلی ترقی کے محکمے، حکومت مغربی بنگال کی پرنسپل سکریٹری  محترمہ چوٹن دھیندپ لامہ؛ اوراین ای ایس ٹی ایس کے کمشنر ڈاکٹر پرتیما کی موجودگی میں مفاہمتی عرضداشت پر دستخط کیے گئے۔

معاہدے کے تحت، ای ایم آر ایس اسکیم کے تحت فی طالب علم کی فنڈنگ 61,500 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1.47 لاکھ روپے فی طالب علم ہو جائے گی۔ ریاستی حکومت منظور شدہ ای ایم آر ایس کو تیزی سے چلانے اور زیر التوا اسکول کے بنیادی ڈھانچے کی تکمیل کے لیے بھی اقدامات کرے گی۔ اساتذہ کی بھرتی ایک مرکزی عمل کے ذریعے کی جائے گی۔

ایم او یو کا مقصد مغربی بنگال میں ای ایم آر ایس کی منصوبہ بندی، تعمیر، قیام اور انتظامیہ کے لیے ادارہ جاتی تال میل کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ این سی ای آر ٹی کے رہنما خطوط پر مبنی اور سی بی ایس ای کے اصولوں اور معیارات کے ساتھ ہم آہنگ ایک مشترکہ بنیادی نصاب کو اپنانے کے ذریعے قبائلی طلباء کی مجموعی ترقی کے لیے معیاری جدید تعلیم کو یقینی بنانا بھی چاہتا ہے۔

میٹنگ کے دوران زیر بحث دیگر اہم امور میں تجاویز اور استعمال کے سرٹیفکیٹ جمع کروانا، مختلف اسکیموں کے تحت منظور شدہ پروجیکٹوں کی پیشرفت، فاریسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے ) کا نفاذ، ون دھن وکاس کیندروں (وی ڈی وی کے ) کو فعال کرنا، ٹرائبل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ٹی آر آئی) کو مضبوط کرنا، اور جدید پروجیکٹوں میں حصہ لینا شامل ہیں جن میں قبائلی افراد کے لیے ہنر مندی پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

میٹنگ کے دوران جن اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور جن پر اتفاق کیا گیا، ان سے قبائلی امور کی وزارت اور مغربی بنگال کی حکومت کی شمولیتی ترقی، قبائلی بااختیار بنانے، اور قبائلی نوجوانوں اور برادریوں کے لیے پائیدار مواقع کی تخلیق کے وژن کے تئیں عزم کی توثیق ہوتی ہے، جو ایک آتم نربھر اور وکست بھارت کے وژن میں بامعنی کردار ادا کرتے ہیں۔

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:7638


(ریلیز آئی ڈی: 2266028) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी