عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
آئی اے ایس میں خواتین کی نمائندگی ریکارڈ 41 فی صد تک پہنچ گئی ہے ؛ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اسے معاصر بھارت میں مواقع کی جمہوریت کاری کی عکاسی قرار دیا
سال 2047 آپ کا ہوگا : ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نوجوان آئی اے ایس افسران سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی آئندہ آنے والی حکمرانی کی تبدیلی کی قیادت کریں
مرکزی وزیر نے اسسٹنٹ سکریٹری پروگرام کے تحت 2024 بیچ کے تربیت یافتہ آئی اے ایس افسران سے بات چیت کی
ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے مطابق اسسٹنٹ سکریٹری پروگرام زیادہ بااعتماد اور پالیسی پر مبنی آئی اے ایس افسران تیار کر رہا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 MAY 2026 3:32PM by PIB Delhi
سال 2024 کے آئی اے ایس بیچ میں خواتین افسران کی تقریباً 41 فی صد نمائندگی کا حوالہ دیتے ہوئے، جو آئی اے ایس کی تاریخ میں صنفی شمولیت کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے، سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز کے وزیرِ مملکت ( آزادانہ چارج ) اور وزیرِ اعظم کے دفتر ، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ بھارت کی سول سروسز کا بدلتا ہوا کردار ، ملک میں جاری وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مواقع تک رسائی اب روایتی سماجی اور علاقائی حدود سے آگے بڑھ رہی ہے اور نوجوان بھارتی امنگ ، ٹیکنالوجی اور جوابدہی پر مبنی ایک نئی طرزِ حکمرانی تشکیل دے رہے ہیں۔
نئی دلّی کے وِنے مارگ میں واقع سول سروسز آفیسرز انسٹی ٹیوٹ ( سی ایس او آئی ) میں 2024 بیچ کے تربیت یافتہ آئی اے ایس افسران سے خطاب کرتے ہوئے ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ آج خدمات میں شامل ہونے والے افسران تاریخ کے ایک منفرد مرحلے پر کھڑے ہیں، کیونکہ جب بھارت 2047 میں آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا تو یہ افسران اپنے کیریئر کے عروج پر قیادت کے مناصب پر فائز ہوں گے۔ انہوں نے اس لمحے کو ایک اعزاز اور ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حکمرانی کے سفر کے مستقبل کا بڑا حصہ اسی نسل کے سول سرونٹس کی کارکردگی سے طے ہوگا۔
یہ ملاقات اسسٹنٹ سکریٹری پروگرام کا حصہ تھی، جس کے تحت 2024 بیچ کے 184 آئی اے ایس افسران کو 4 مئی سے 25 جون ، 2026 ء تک آٹھ ہفتوں کے لیے حکومتِ ہند کی 49 وزارتوں اور محکموں کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے تاکہ انہیں پالیسی سازی، رابطہ کاری کے نظام اور مرکزی انتظامی امور کی براہ راست آگاہی حاصل ہو سکے۔
پروگرام میں شریک سینئر افسران میں محترمہ چھوی بھاردواج، جوائنٹ سیکریٹری (ٹریننگ)، محکمہ عملہ و تربیت؛ محترمہ شنموگا پریا مشرا، جوائنٹ ڈائریکٹر، لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن ( ایل بی ایس این اے اے ) ؛ اور جناب کرانتی کمار پتی، ڈپٹی ڈائریکٹر، ایل بی ایس این اے اے شامل تھے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندرمودی کی قیادت میں شروع کیا گیا اسسٹنٹ سکریٹری پروگرام نوجوان آئی اے ایس افسران کو ابتدائی انتظامی تجربہ فراہم کرنے کے نظام میں بنیادی تبدیلی لا چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ، اس اقدام کے ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ اس پروگرام نے ایسی افسر شاہی کی نئی نسل تیار کرنے میں مدد دی ہے ، جو ابتداء ہی سے زیادہ بااعتماد، پالیسی پر مبنی اور ادارہ جاتی طور پر مضبوط روابط رکھنے والی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ خواتین افسران کی تقریباً 41 فی صد نمائندگی بھارت میں جاری وسیع سماجی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسابقتی امتحانات، اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی موجودگی ، اس بات کا ثبوت ہے کہ مواقع اور رسائی بتدریج زیادہ جمہوری اور سب کے لیے دستیاب ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سول سروسز میں منتخب ہونے والے امیدواروں کے بدلتے ہوئے علاقائی پس منظر پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریاستیں، جن کی پہلے محدود نمائندگی تھی، اب بڑی تعداد میں کامیاب امیدوار پیدا کر رہی ہیں، جب کہ کئی روایتی طور پر نمایاں خطوں میں نوجوانوں کی ترجیحات ابھرتے ہوئے شعبوں اور عالمی مواقع کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ تبدیلیاں ایک زیادہ پُرعزم، متحرک اور ترقی پذیر بھارت کے عروج کی نشاندہی کرتی ہیں۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ موجودہ بیچ میں 78 افسران انجینئرنگ کے پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں، جب کہ دیگر افسران طب، قانون، مینجمنٹ اور ہیومینیٹیز جیسے شعبوں سے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں حکمرانی کے لیے ٹیکنالوجی کی سمجھ اور مختلف علوم کے امتزاج پر مبنی سوچ کی ضرورت بڑھ گئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں ، جب حکومتی پروگرام زیادہ ڈیٹا پر مبنی، ڈیجیٹل اور اختراعی ہوتے جا رہے ہیں۔
تربیت یافتہ افسران سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جدید حکمرانی اب سخت درجہ بندی اور یکطرفہ رابطے کے اصولوں پر نہیں چلتی۔ انہوں نے افسران کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے پورے کیریئر کے دوران کھلے ذہن کے ساتھ سیکھنے کا عمل جاری رکھیں، کیونکہ بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے، پرانی سوچ کو ترک کرنے اور مسلسل ترقی کرنے کی صلاحیت آج جامد معلومات سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں انتظامیہ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جہاں شفافیت، جوابدہی اور عوامی شمولیت پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے طرزِ حکمرانی کے فلسفے ’’ زیادہ سے زیادہ حکمرانی، کم سے کم حکومت ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو صرف کارکردگی بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ شہریوں اور اداروں کے درمیان اعتماد مضبوط کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے افسران سے اپیل کی کہ وہ مشن کرم یوگی جیسے پلیٹ فارمز سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل گورننس، ڈیٹا اینالیٹکس اور عوامی رابطے جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بناتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے منتظمین سے توقع کی جائے گی کہ وہ تکنیکی مہارت کے ساتھ ہمدردی، حساسیت اور اخلاقی عوامی رویے کو بھی یکجا کریں۔
گفتگو کے دوران ، وزیر موصوف نے تربیت یافتہ افسران کے ساتھ ضلعی انتظامیہ، حکمرانی کے چیلنجز، قیادت کی ذمہ داریوں اور سول سرونٹس سے متعلق عوامی توقعات میں آنے والی تبدیلیوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے نوجوان افسران کو تلقین کی کہ وہ غیر جانبداری برقرار رکھیں، عوام کے لیے قابلِ رسائی رہیں اور صرف نمایاں نظر آنے کے بجائے بامعنی عوامی نتائج پر توجہ دیں۔
بھارت@2047 کو محض ایک سنگِ میل کے بجائے ایک قومی مشن قرار دیتے ہوئے ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس نسل کے افسران آنے والی دہائیوں میں ، بھارت کے عروج کے اصل محرک بنیں گے۔ انہوں نے افسران سے اپیل کی کہ وہ عوامی خدمت کو عاجزی، نظم و ضبط اور قومی مقصد کے وسیع تر احساس کے ساتھ انجام دیں۔




..................................................... ...................................................
) ش ح – ا ک - ع ا )
U.No. 7618
(ریلیز آئی ڈی: 2265899)
وزیٹر کاؤنٹر : 18