دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم مودی کی قیادت میں زراعت اور دیہی ترقی کی وزارت “ریفارم ایکسپریس” پر سوار ہے — شیو راج سنگھ چوہان


وزیر اعظم مودی کے’اصلاح، کارکردگی، تبدیلی اور معلومات‘ کے منتر سے کسانوں کی زندگیوں میں خوشحالی اور مسرت آئے گی — مرکزی وزیر زراعت

مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکمرانی سے متعلق ہدایات پر فوری طور پر متحرک ہو گئے

وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والی وزراء کونسل کی میٹنگ کے اگلے ہی دن جناب شیو راج سنگھ چوہان نے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا؛ سینئر افسران کو اہم ہدایات جاری کیں

کسانوں اور غریبوں کو در در بھٹکنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے؛ شکایات کے ازالے کو سب سے پہلی ترجیح دی جائے: شیو راج سنگھ چوہان

نتائج کی نگرانی کے لیے ماہانہ جائزے ہوں گے؛ صرف شکایات کا نمٹانا کافی نہیں، زمینی سطح پر حل ضروری ہے: شیو راج سنگھ چوہان

ضابطے و طریقہ کار کو سادہ بنایا جائے؛ زراعت اور دیہی ترقی میں اے آئی، ڈیٹا اور ڈیجیٹل حکمرانی نئی رفتار پیدا کریں گے: شیو راج سنگھ چوہان

شیو راج سنگھ چوہان کا عدالتی مقدمات، فائل کلچر اور انتظامی ڈرافٹنگ کے حوالے سے بڑا اصلاحاتی ایجنڈا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 MAY 2026 7:46PM by PIB Delhi

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے جمعرات کی شام وزراء کی کونسل کی میٹنگ میں دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کے حوالے سے مرکزی وزیر برائے زراعت و کسان بہبود اور دیہی ترقی جناب شیو راج سنگھ چوہان نے اگلے ہی دن اپنے دونوں وزارتوں کے تحت آنے والے محکموں کے سینئر افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا اور واضح طور پر کہا کہ حکومت کا کام فائلوں میں نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں نظر آنا چاہیے۔

انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ کسان، غریب، دیہی آبادی اور عام شہری کو اسکیموں کا فائدہ حاصل کرنے یا شکایات کے حل کے لیے بھٹکنا نہ پڑے، اس کے لیے ایک منظم، وقت کا پابند اور نتائج پر مبنی نظام فوری طور پر قائم کیا جائے۔

مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے میٹنگ میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح طور پر کہا ہے کہ عام آدمی کو لڑنا نہ پڑے، اسے در بدر نہ بھٹکنا پڑے اور اسے اسکیموں کا فائدہ آسانی، سادگی اور بروقت طریقے سے ملنا چاہیے۔ اسی کو سب سے بڑی ترجیح قرار دیتے ہوئے انہوں نے زراعت، دیہی ترقی، لینڈ ریسورسز اور آئی سی اے آر سمیت متعلقہ اداروں میں شکایات کے ازالے کے نظام کو مضبوط، مؤثر اور جوابدہ بنانے کی ہدایت دی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت مختلف اسکیموں اور محکموں میں شکایات کے حل کے لیے الگ الگ نظام موجود ہیں، جیسے الگ پورٹل، الگ میکانزم اور الگ سسٹم، لیکن اب اس نظام کو زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے زراعت اور دیہی ترقی دونوں محکموں میں کم از کم 10-10 افسران کی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی، جو روزانہ شکایات، عوامی مسائل، خطوط، عوامی نمائندوں کی درخواستوں اور مختلف پورٹلز پر آنے والی شکایات کا جائزہ لے گی۔

جناب چوہان نے اس بات پر خاص زور دیا کہ شکایات کے حل کو صرف کاغذی “ڈسپوزل” دکھانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے افسران سے کہا کہ یہ دیکھا جائے کہ آیا مستفید ہونے والے شخص کو واقعی راحت ملی یا نہیں، آیا اسکیم کا فائدہ حقیقت میں پہنچا یا نہیں اور کہیں ایسا تو نہیں کہ ریکارڈ میں تقسیم ظاہر ہو رہی ہو ،لیکن زمینی سطح پر فائدہ حاصل نہیں ہوا۔

میٹنگ میں مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ نے اپنے ایک تجربے کا بھی ذکر کیا ،جس میں مستفید افراد کو فون پر تصدیق کرنے پر بعض معاملات میں کاغذی ریکارڈ اور اصل صورتحال کے درمیان فرق سامنے آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ آسان نہیں ،بلکہ پیچیدہ ہے، اس لیے شکایات کی نوعیت، علاقائی رجحانات اور اسکیم وار رکاوٹوں کی نشاندہی کر کے نظام میں ضروری تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

انہوں نے ہدایت دی کہ ہر ماہ شکایات کے ازالے کے نظام کا جائزہ لیا جائے گا۔ شیو راج سنگھ نے کہا کہ مہینے کے پہلے پیر کے روز کو جائزہ لیا جائے گا، تاہم جون میں خریف کے کاموں کی مصروفیت کے پیش نظر دوسرے پیر کے روز کو تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، لیکن اس وقت تک نظام کو مزید منظم، جوابدہ اور مؤثر بن جانا چاہیے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے اصلاحات پر دیے جا رہے مسلسل زور کا حوالہ دیتے ہوئے جناب شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ اب ہر ڈویژن، ہر اسکیم اور ہر محکمہ اپنی سطح پر یہ شناخت کرے کہ مسئلہ کہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم آواس یوجنا، سڑک اسکیم، زرعی اسکیمیں، باغبانی، انشورنس، مارکیٹنگ یا دیگر پروگراموں میں جہاں کہیں بھی مستفید افراد کو غیر ضروری چکر لگانے پڑ رہے ہیں، وہاں قواعد، طریقۂ کار، نظام اور کام کرنے کے انداز کو لازماً سادہ بنانا ہوگا۔

مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ نے واضح طور پر کہا کہ طریقۂ کار کو سادہ بنایا جائے اور پرانے اور غیر متعلقہ ضوابط کو ختم کرنا اب ضروری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہر چیز کے لیے لائسنس کی ضرورت کیوں ہواور کئی جگہ رجسٹریشن یا آسان نظام کے ذریعے کام کیوں نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ایک ہفتے کے اندر مختلف اسکیموں میں رکاوٹ پیدا کرنے والی شقوں، پیچیدہ طریقۂ کار اور قابلِ اصلاح نکات کی نشاندہی کر لی جائے تاکہ آئندہ فوری فیصلے کیے جا سکیں۔

میٹنگ میں اے آئی اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر اہم گفتگو کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ زراعت، دیہی ترقی، لینڈ ریسورسز اور آئی سی اے آر سمیت تمام شعبوں میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ڈیٹا شیئرنگ، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی، نگرانی اور بین  محکمہ جاتی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے اس کے لیے ایک علیحدہ ٹیم تشکیل دے کر مطالعہ کرنے اور مفید تجاویز پیش کرنے کی ہدایت دی۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل حکمرانی کے ذریعے شفافیت اور کارکردگی دونوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے محکموں کے درمیان مشترکہ کام اور ڈیٹا کے انضمام کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں یہ بھی سامنے آیا کہ مختلف شکایتی ڈیٹا بیس کو جوڑنے کی سمت میں کام جاری ہے تاکہ صرف ایک پورٹل کے بجائے ایک مربوط شکایتی نظام کی بنیاد پر محکماتی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔

جناب چوہان نے انتظامی کلچر میں تبدیلی پر بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ فائل نیچے سے بن کر اوپر جاتی ہے اور اکثر اوقات نچلی سطح کا پرانا ذہنی رجحان پوری عمل کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اس لیے صرف اوپر کی سطح پر نہیں بلکہ نیچے سے فائل سازی، نوٹنگ، فیصلہ سازی کی تیاری اور ڈرافٹنگ کے معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈرافٹنگ کو انتہائی اہم موضوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ محکموں میں ایسے افسران تیار کیے جائیں جو فائلیں اور نوٹس مضبوط، واضح اور پالیسی کے مطابق تیار کر سکیں۔ اس کے لیے تربیت، صلاحیت سازی اور مہارت میں اضافے کا انتظام کیا جائے تاکہ فائلیں غیر ضروری طور پر نہ رُکیں اور فیصلوں کا معیار بھی بہتر ہو۔

عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے حوالے سے بھی مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی معاملات میں حکومت اس لیے کمزور پڑ جاتی ہے ،کیونکہ سرکاری مؤقف وقت پر اور مؤثر انداز میں عدالت میں پیش ہی نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ زیر التوا عدالتی مقدمات کی فہرست تیار کریں، ان کا جائزہ لیں، نِوڈل افسران مقرر کریں، قانونی تیاری کو مضبوط بنائیں اور ضرورت پڑنے پر بہتر وکلاء کا انتظام کریں، کیونکہ حکومت کی شکست کا براہِ راست نقصان عوامی مفاد کو ہوتا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کے حل کے پیغام کو آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی وزیر جناب چوہان نے کہا کہ ہر ڈویژن یہ بتائے کہ کام کس وجہ سے رُکتا ہے، کون سی رکاوٹیں فیصلوں، عملدرآمد اور فائدے کی تقسیم میں تاخیر کا باعث بنتی ہیں اور انہیں دور کرنے کے لیے کیا اصلاحات کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشق ایک ساتھ چلنی چاہیے—ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم کے ساتھ ساتھ انفارم بھی۔

انہوں نے کہا کہ کئی بار اسکیمیں اچھی ہوتی ہیں، اصلاحات بھی کی جاتی ہیں، لیکن عوام تک معلومات ہی نہیں پہنچتی۔ اس لیے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطہ، کسان تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں، مزدوروں اور سرپنچوں سے گفتگو، عوامی نمائندوں کے ذریعے معلومات کی ترسیل، سوشل میڈیا، گرافکس، ویڈیوز، ریلز اور تخلیقی ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسکیموں اور اصلاحات کو عوام تک پہنچایا جائے۔

میٹنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ جو اصلاحات پہلے ہی کی جا چکی ہیں، ان کا “ریفارم اُتسو” کی طرح تشہیر و فروغ ہونا چاہیے۔ جناب چوہان نے کہا کہ صرف اصلاحات کر دینا کافی نہیں ہے ،بلکہ جن کے لیے اصلاحات کی گئی ہیں، انہیں بلا کر مکالمہ کیا جانا چاہیے، بتایا جانا چاہیے کہ کیا بدلا ہے، اس سے کیا فائدہ ہوگا اور آگے مزید کیا بہتری لائی جا سکتی ہے۔

جناب چوہان نے ریاستوں کے ساتھ شراکت داری کو زراعت اور دیہی ترقی کی کامیابی کی کلید قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل کام ریاستوں میں ہوتا ہے، اس لیے ریاستوں کے ساتھ روڈ میپ پر مبنی شراکت، زونل کانفرنسز، اسکیم وار ہم آہنگی اور مسئلہ پر مبنی مکالمے کو مزید مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ جو ریاستیں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں، ان کے ساتھ بھی رابطہ بڑھایا جائے گا، کیونکہ مرکز کی ذمہ داری پورے ملک کے عوام کے لیے ہے۔

انہوں نے زراعت، مویشی پروری، ماہی پروری، فوڈ پروسیسنگ اور دیگر متعلقہ شعبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی بھی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق انٹیگریٹڈ فارمنگ، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور علاقائی زرعی روڈ میپ جیسے امور پر مختلف وزارتوں اور محکموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

اجلاس میں’وِکست بھارت 2047‘ کے ہدف کے مطابق محکماتی وژن دستاویز تیار کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ نے کہا کہ ہر محکمہ اپنا 2047 وژن، اس سال کے اہداف، سالانہ، ششماہی، سہ ماہی، ہفتہ وار اور روزانہ منصوبہ بندی تیار کرے تاکہ نگرانی مضبوط ہو اور کام کی واضح جانچ ممکن ہو سکے۔

انہوں نے سرکاری عمارتوں اور اداروں میں ’پی ایم سوریا گھر‘ جیسی پہل کے مطابق سولرائزیشن کو بھی آگے بڑھانے کی بات کی اور کہا کہ جہاں کام ہو چکا ہے اور جہاں باقی ہے اس کا واضح جائزہ تیار کر کے وقت مقررہ کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودہ مدت کے دو سال اور مجموعی 12 سال کی کامیابیوں کی مؤثر پیشکش پر بھی میٹنگ میں بات ہوئی۔ جناب چوہان نے کہا کہ محکمے اپنی کامیابیوں کو ابھی سے منظم کریں اور پریس کانفرنس کے ساتھ ساتھ گاؤں کی سطح تک جانے والے پروگرام، پریزنٹیشن، تخلیقی مواد، ویڈیوز اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے عوام تک پہنچائیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے اثر کو دیکھتے ہوئے مختصر ویڈیوز، گرافکس، مستفید افراد کی کہانیاں اور اسکیموں سے زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو مرکز میں رکھنے کی تجویز دی۔ ان کا خیال تھا کہ اخبارات اور ٹی وی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مؤثر پیشکش آج زیادہ اثر انگیز ہو سکتی ہے۔

میٹنگ میں بیرونی دوروں کے حوالے سے بھی وزیر اعظم مودی کی ہدایات کا ذکر کرتے ہوئے جناب چوہان نے افسران سے کہا کہ غیر ضروری بیرونی دوروں سے گریز کیا جائے اور صرف انتہائی ضروری معاملات میں ہی ایسے تجاویز آگے بڑھائی جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ترجیح ملک کے اندر کام کی رفتار، معیار اور نتائج کو بہتر بنانا ہے۔

فائلوں کے نمٹانے کے حوالے سے جناب چوہان نے کہا کہ ان کی ترجیح صرف رفتار نہیں بلکہ معیاری اور نتیجہ خیز فیصلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون یا فائل کئی لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، اس لیے اسے سمجھ کر، پرکھ کر اور مثبت سوچ کے ساتھ فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی نظام سازی کی جائے ،جس سے غیر ضروری تاخیر نہ ہو اور اہم معاملات پر بروقت گفتگو ممکن ہو سکے۔

میٹنگ میں مرکزی وزیر جناب چوہان نے افسران کو واضح پیغام دیا کہ کوئی بھی محکمہ پیچھے نہ رہے۔ شکایات کے ازالے سے لے کر اصلاحات، ٹیکنالوجی، عدالتی مقدمات، ریاستوں کے ساتھ رابطہ کاری، عوامی رابطہ، 2047 کے روڈ میپ اور کامیابیوں کی پیشکش تک ہر محاذ پر فعال، وقت کا پابند اور جوابدہ کام کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وزیراعظم نریندر مودی  کی اچھی حکمرانی کے وژن کے مطابق حکومت کے فوائد مؤثر طریقے سے آخری فرد تک پہنچ سکیں۔

****

ش ح۔م ع ن۔ م ش

U. No. 7554


(ریلیز آئی ڈی: 2265326) وزیٹر کاؤنٹر : 7