PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم


مرکزی بجٹ 2026-27 میں اس اسکیم کے لئے مختص رقم کو بڑھا کر 40,000 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 FEB 2026 2:43PM by PIB Delhi

image003QTR4.png

تعارف

image004G6DS.jpg

بھارت کا الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ شعبہ ترقی کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ مرکزی بجٹ 2026–27 میں الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم (ای سی ایم ایس)  کے لیے مختص رقم بڑھا کر 40,000 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جو ملکی سطح پر مینوفیکچرنگ صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مضبوط پالیسی اقدام کی نشاندہی کرتا ہے۔ گزشتہ گیارہ برسوں میں بھارت نے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے ایک بڑے مرکز کی حیثیت حاصل کی ہے، اور پیداوار میں تقریباً چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس شعبے نے اپنے صنعتی دائرہ کار کو وسعت دی ہے، 25 لاکھ ملازمتیں پیدا کی ہیں، اور روزگار اور معاشی ترقی کے ایک اہم محرک کے طور پر ابھرا ہے۔

یہ پیش رفت بھارت کی برآمدی کارکردگی اور عالمی ویلیو چینز میں اس کے بڑھتے ہوئے انضمام میں بھی جھلکتی ہے۔ حکومتی اسٹریٹجک اقدامات اور مسلسل پالیسی تعاون نے مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنایا ہے، برآمدات میں توسیع میں مدد دی ہے، اور بڑی مقدار میں عالمی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے۔ ای سی ایم ایس کا مقصد اسی رفتار کو آگے بڑھاتے ہوئے مقامی کمپوننٹس کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا اور بھارت کو جدید الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے ایک معتبر عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔

سال 2030-31 تک 500 ارب ڈالر کے گھریلو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کے پرعزم وژن کے ساتھ، بھارت ایک عالمی ٹیکنالوجی رہنما کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے، جو دنیا کے لیے اختراعات کرے گا اور ملک کے اندر وسیع مواقع پیدا کرے گا۔

image005HK8W.jpg

شعبہ جاتی منظرنامہ: الیکٹرانکس ہندوستان کے برآمدی زمرے میں سرفہرست

جیسا کہ اکنامک سروے 2025-26 میں نشاندہی کی گئی ہے، 2024-25 میں الیکٹرانکس بھارت کی تیسری سب سے بڑی اور سب سے تیزی سے بڑھنے والی برآمدی کیٹیگری کے طور پر ابھرا ہے، جو 2021-22 میں ساتویں پوزیشن پر تھا۔ مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں الیکٹرانکس کی برآمدات 22.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جس نے مضبوط ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا ہے اور اس شعبے کو ملک کی دوسری سب سے بڑی برآمدی شے بننے کی راہ پر ڈال دیا ہے۔

ملک کی الیکٹرانکس پیداوار 2014-15 میں 1.9 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024–25 میں 11.3 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جو تقریباً چھ گنا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اسی عرصے میں برآمدات 38,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 3.27 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئیں، جو آٹھ گنا اضافہ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ نے ملک بھر میں تقریباً 25 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔

image006J0PT.jpg

موبائل مینوفیکچرنگ نے اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس شعبے میں پیداوار 2014-15 میں 18,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 5.45 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جو 28 گنا اضافہ ہے۔ بھارت اس وقت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون مینوفیکچرر بن چکا ہے، جہاں 2014 میں صرف دو یونٹس کے مقابلے میں اب 300 سے زائد یونٹس کام کر رہے ہیں۔

image007HZJP.jpg

موبائل فونز کی برآمدات میں نمایاں پیش رفت دیکھی گئی ہے، جو 2014–15 میں 1,500 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2024–25 میں 2 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں، یعنی 127 گنا اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2025–26 کے پہلے پانچ مہینوں میں اسمارٹ فونز کی برآمدات 1 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 55 فیصد اضافہ ہے۔

بھارت نے اب موبائل پیداوار میں تقریباً خودکفالت حاصل کر لی ہے، اور ایک دہائی قبل زیادہ تر ضروریات درآمد کرنے والے ملک سے تبدیل ہو کر تقریباً تمام آلات مقامی طور پر تیار کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ یہ تبدیلی بھارت کے کے پالیسی ماحولیاتی نظام کی طاقت اور عالمی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے لیے ایک قابل اعتماد مرکز کے طور پر اس کے ابھرنے کو اجاگر کرتی ہے ۔

ای سی ایم ایس کا جائزہ

الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم کو 8 اپریل 2025 کو نوٹیفائی کیا گیا تھا، جس کے تحت ابتدائی طور پر 22,919 کروڑ روپے (تقریباً 2.7 ارب امریکی ڈالر) مختص کیے گئے تھے۔ اس اسکیم کی مدت چھ سال ہے، جس میں ایک اضافی ایک سال کی گیسٹیشن مدت کا اختیار بھی شامل ہے۔اس اسکیم کا مقصد ملک میں الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ کے لیے ایک مضبوط اور خود کفیل نظام قائم کرنا ہے۔ اس کے تحت ویلیو چین کے مختلف مراحل میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، مقامی ویلیو ایڈیشن میں اضافہ کرنا، اور بھارت کو عالمی الیکٹرانکس تجارت میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر مستحکم کرنا شامل ہے۔یہ اسکیم انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم ) کی تکمیل کرتی ہے اور اس کے ساتھ مل کر ملک کے سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ہے۔

ای سی ایم ایس کا مقصد بھارت کی الیکٹرانکس صنعت کو عالمی ویلیو چین کے ساتھ مربوط کرنا ہے، جس کے لیے ملک کے اندر ضروری اجزاء، ذیلی اسمبلیوں اور خام مال کی پیداوار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

image008YI6O.jpg

دسمبر 2025 تک اس اسکیم کے تحت متوقع سرمایہ کاری کی وابستگیاں 1,15,351 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں، جو اصل ہدف 59,350 کروڑ روپے کے تقریباً دو گنا ہیں۔ آئندہ چھ برسوں میں 10,34,751 کروڑ روپے کی پیداوار متوقع ہے، جو ابتدائی تخمینے سے 2.2 گنا زیادہ ہے۔اسکیم کے تحت ترغیبی اخراجات41,468 کروڑ روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جو اصل اندازے 22,805 کروڑ روپے سے تقریباً 1.8 گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، اس اسکیم سے 1,41,801 براہِ راست ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے، جو 91,600 کے ہدف سے زیادہ ہیں، جبکہ بالواسطہ روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

ای سی ایم ایس کے تحت منظور شدہ درخواستیں

اسکیم کے نوٹیفکیشن کے بعد سے الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم کو ملک بھر کی صنعت کی جانب سے مضبوط دلچسپی حاصل ہوئی ہے۔ اب تک اس اسکیم کے تحت 11 ریاستوں میں مجموعی طور پر 46 درخواستوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ان منظوریوں کے تحت مجموعی سرمایہ کاری 54,567 کروڑ روپے ہے، جبکہ متوقع پیداوار کی مالیت 3,67,343 کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں کے نتیجے میں تقریباً 51,000 افراد کے لیے براہِ راست روزگار پیدا ہونے کی توقع ہے۔

image0090I79.jpg

منظور شدہ درخواست گزار مختلف اقسام کے الیکٹرانک کمپوننٹس تیار کریں گے، جن میں ملٹی لیئر پی سی بی، کیمرا ماڈیولز، کنیکٹرز، آسکیلیٹرز، آپٹیکل ٹرانسیورز، اور موبائل و آئی ٹی ہارڈویئر مصنوعات کے انکلوژرز سمیت متعلقہ آلات شامل ہیں۔

ان منظوریوں کو تین مرحلوں میں جاری کیا گیا ہے، جن میں سے ہر مرحلہ پیداوار کی صلاحیت میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

Tranche

Number of Projects

Approval Date

Investment (₹ crore)

Projected Production (₹ crore)

Direct Employment

First

7

27 October 2025

5,532

36,559

5,100

Second

17

17 November 2025

7,172

65,111

11,808

Third

22

2 January 2026

41,863

2,58,152

33,791

 

یہ منظوریاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہ اسکیم بڑی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور الیکٹرانک اجزاء کی پیداوار کو فروغ دینے میں بھی مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔

مالی سال 2026-27 کے متوقع نتائج

ای سی ایم ایس سے توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 کے دوران قابلِ ذکر اور عملی نتائج حاصل ہوں گے، جو منظور شدہ منصوبوں کے فروغ اور صنعت کی مسلسل شمولیت کی عکاسی کریں گے۔ اس اسکیم کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ کے پورے نظام میں پیداواری صلاحیت میں اضافے اور روزگار کے مسلسل مواقع پیدا کرنے میں تبدیل ہونے کی توقع ہے۔

Outcome Indicator

Expected Outcome by end of FY 2026–27

Investment

₹11,156 crore

Production

₹29,024 crore

Employment generation

19,240 jobs

یہ متوقع نتائج ایک مضبوط، پائیدار اور اعلیٰ قدر والی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ بنیاد کی طرف مسلسل پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے دیگر اہم اقدامات

بھارت کی الیکٹرانکس صنعت مضبوط پالیسی معاونت اور ہدفی حکومتی اقدامات کی بنیاد پر ترقی کر رہی ہے۔ ان پروگراموں کا مقصد ایک عالمی سطح پر مسابقتی مینوفیکچرنگ نظام قائم کرنا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا، اور بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے، جبکہ عالمی ویلیو چینز میں بھارت کے کردار کو بھی مضبوط بنانا ہے۔اس شعبے کو الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں 100 فیصد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) کی اجازت سے بھی فائدہ ہوا ہے، جو متعلقہ قوانین اور ضوابط کے تابع ہے۔

پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم

پروڈکشن لنکڈ انسینٹو اسکیم، جس کے تحت 1.97 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، 14 اہم شعبوں پر محیط ہے جن میں الیکٹرانکس اور آئی ٹی ہارڈویئر بھی شامل ہیں۔ یہ اسکیم کمپنیوں کو پیداوار میں اضافہ کرنے، نئی ٹیکنالوجیوں  اپنانے اور برآمدات کو وسعت دینے کی ترغیب دیتی ہے۔

image0109G14.png

بھارت نے مالی سال 2020–21 کے بعد سے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 4 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی براہِ راست ایف ڈی آئی حاصل کی ہے۔ اس سرمایہ کاری کا تقریباً 70 فیصد حصہ پی ایل آئی  اسکیم کے استفادہ کنندگان کی جانب سے آیا ہے۔

موڈیفائیڈ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز (ای ایم سی2.0)

بھارت کی حکومت نے اپریل 2020 میں موڈیفائیڈ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز (ای ایم سی 2.0) کو نوٹیفائی کیا۔ اس اسکیم کا مقصد الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے، جس کے تحت مخصوص کلسٹرز کو مشترکہ سہولیات کے ساتھ ترقی دی جاتی ہے۔ان کلسٹرز میں تیار صنعتی پلاٹس، ریڈی بلٹ فیکٹری شیڈز اور پلگ اینڈ پلے سہولیات شامل ہوتی ہیں تاکہ مینوفیکچرنگ کے عمل کو تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔

دسمبر 2025 تک 11ای ایم سی پروجیکٹوںاور 2 مشترکہ سہولتی مراکز کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔یہ منصوبے مجموعی طور پر 4,399.68 ایکڑ رقبے پر محیط ہیں، جن کی مجموعی لاگت 5,226.49 کروڑ روپے ہے، جس میں مرکزی حکومت کی مالی معاونت 2,492.74 کروڑ روپے شامل ہے۔ یہ منصوبے 10 ریاستوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن کے تحت 1,46,846 کروڑ روپے کی متوقع سرمایہ کاری اور تقریباً 1.80 لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

کسٹمز اور سرچارج میں رعایتیں

مرکزی بجٹ سال 2026-27 میں مائیکرو ویو اوونز کی تیاری میں استعمال ہونے والے کچھ خام مال پر بنیادی کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ کا اعلان کیا گیا ہے، جو 2 فروری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔

اسی طرح الیکٹرانک کھلونوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے پرزہ جات کو بھی اسی تاریخ سے سوشل ویلفیئر سرچارج سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔

image011D7MO.png

الیکٹرانک اجزاء اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے فروغ کی اسکیم (ایس پی ای سی ایس)

ایس پی ای سی ایس اسکیم کلیدی الیکٹرانک اشیا کی پیداوار کے لیے سرمائے کے اخراجات پر 25 فیصد مالی مراعات فراہم کرتی ہے ۔  یہ سپلائی چین کے اہم خلا کو پر کرنے میں مدد کرتا ہے ، مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ، اور ہندوستان کی اسمبلی پر مبنی مینوفیکچرنگ سے اعلی قیمت والے اجزاء کی مینوفیکچرنگ میں منتقلی کی حمایت کرتا ہے ۔

نیشنل پالیسی آن الیکٹرانکس (این پی ای) 2019

الیکٹرانکس سے متعلق قومی پالیسی کا مقصد ہندوستان کو الیکٹرانکس سسٹم ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ (ای ایس ڈی ایم) کے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے ۔  یہ پالیسی اختراع کو فروغ دیتی ہے ، ڈیزائن پر مبنی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ، اور طویل مدتی صنعت کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے تحقیق اور ترقی کی حمایت کرتی ہے ۔

 

یہ اقدامات مل کر حکومت کے مضبوط الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کی تعمیر ، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور عالمی ویلیو چین میں ہندوستان کی پوزیشن کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ روزگار پیدا کرنے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں ۔

نتیجہ

الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم بھارت کی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون بن کر ابھری ہے۔ مرکزی بجٹ 2026-27 میں اس کے لیے مختص رقم بڑھا کر 40,000 کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جو ملکی پیداوار کی صلاحیت کو وسعت دینے کے لیے مضبوط پالیسی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ای سی ایم سی نے بڑی سرمایہ کاری کو متحرک کیا ہے، پیداوار میں اضافہ کیا ہے اور قابلِ ذکر روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ مقامی کمپوننٹس کے نظام کو مضبوط بنا کر اور بھارت کو عالمی ویلیو چین کے ساتھ مربوط کر کے یہ اسکیم ملک کو جدید الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے ایک قابلِ اعتماد مرکز کے طور پر مستحکم کرتی ہے۔

حوالہ جات:

PIB Backgrounders:

Ministry of Electronics & IT:

Union Budget:

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں

 

***

 

(ش ح-ش آ-ش ب ن)

U-7432


(ریلیز آئی ڈی: 2264225) وزیٹر کاؤنٹر : 23