سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال:تحقیق و ترقی پر اخراجات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 FEB 2026 3:23PM by PIB Delhi

تحقیق و ترقی پر بھارت کا مجموعی خرچ (جی ای آر ڈی) جی ڈی پی کا تقریباً 0.6 سے 0.7 فیصد ہے۔ جبکہ گلوبل انوویشن انڈیکس (جی آئی آئی) میں بھارت کی موجودہ درجہ بندی 38ویں نمبر پر ہے، جو 2015 میں 81ویں نمبر سے نمایاں بہتری کے ساتھ 2025 میں 38ویں نمبر تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے تحقیق و ترقی کے اخراجات میں اضافہ کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں تاکہ بھارت ایک ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ حب کے طور پر ابھر سکے۔ ان میں شامل ہیں:

  • سائنسی محکموں اور تحقیق پر مبنی پروگراموں کے لیے بجٹ میں بتدریج اضافہ کیا گیا ہے۔
  • 1.0 لاکھ کروڑ روپئے مالیت کا ریسرچ، ڈیولپمنٹ اور انوویشن (آرڈی آئی) فنڈ شروع کیا گیا ہے۔
  • انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جس کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے 14,000 کروڑروپئے کابجٹ فراہم کیا گیا ہے، جبکہ غیر سرکاری ذرائع سے اضافی فنڈنگ بھی حاصل کی جا رہی ہے۔
  • قومی مشنز کا آغاز کیا گیا ہے، جن میں نیشنل کوانٹم مشن (بجٹ: 6,003.65 کروڑروپئے)، نیشنل مشن آن انٹرڈسپلنری سائبر فزیکل سسٹمز (بجٹ: 3,660 کروڑروپئے)، انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (بجٹ: 76,000 کروڑروپئے)، نیشنل سپر کمپیوٹنگ مشن وغیرہ شامل ہیں۔
  • پبلک–پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کو فروغ دیا جا رہا ہے اور نیشنل مشن آن انٹرڈسپلنری سائبر فزیکل سسٹمز اور نیشنل کوانٹم مشن کے تحت ٹیکنالوجی حب قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ مشترکہ ٹیکنالوجی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
  • ٹیکنالوجی پر مبنی جدت کے پروگرام نافذ کیے جا رہے ہیں، جن میں نیشنل انیشیٹو فار ڈیولپنگ اینڈ ہارنسنگ انوویشنز (ندھی)، بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی) پروگرامز، انوویشنز فار ڈیفنس ایکسیلنس (آئی ڈیکس)، اور ٹی آئی ڈی ای 2.0 (ٹیکنالوجی انکیوبیشن اینڈ ڈیولپمنٹ آف انٹرپرینیورز) شامل ہیں، تاکہ مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی، پروٹوٹائپنگ، اسکیل اپ اور انڈسٹری روابط کو مضبوط بنایا جا سکے اور درآمدی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کیا جا سکے۔
  • انوبلنگ پالیسی فریم ورکس متعارف کروائے گئے ہیں، جن میں جیو اسپیشل پالیسی 2022، اسپیس پالیسی 2023 اور بایو ای3 (بایوٹیکنالوجی برائے معیشت، ماحولیات اور روزگار) پالیسی 2024 شامل ہیں، جن کے تحت نجی شعبے کی شمولیت کو بڑھایا جا رہا ہے۔
  • قومی لیبارٹریوں اور تحقیقی اداروں کی ایجادات کی کمرشلائزیشن کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، جس میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر آفسز (ٹی ٹی اوز)، انکیوبیشن مراکز، پبلک–پرائیویٹ پارٹنرشپ اور منظم لائسنسنگ ماڈلز شامل ہیں۔

 

***

 ش ح۔ع و۔ش ا

UN-7409


(ریلیز آئی ڈی: 2263991) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil