راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
کارڈیک اسٹینٹس اور دیگر طبی آلات کی قیمتوں میں حد سے زیادہ اضافہ کو روکنے کے لیے ایک مؤثر طریقۂ کار وضع کرنے کی درخواست پر مشتمل، راجیہ سبھا کی کمیٹی آن پیٹیشنز کی 164ویں رپورٹ سے متعلق پریس ریلیز
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAR 2026 6:09PM by PIB Delhi
راجیہ سبھا کی پیٹیشنز کمیٹی، جس کی سربراہی رکن پارلیمنٹ جناب نارائن داس گپتا کر رہے ہیں، نے محترمہ سلگنا چٹوپادھیائے (ساکن وسنت کنج، نئی دہلی) کی طرف سے پیش کردہ اور راجیہ سبھا کے اس وقت کے رکن جناب اویناش رائے کھنہ کی دستخط شدہ عرضی پر اپنی 164ویں رپورٹ پیش کی ہے۔ اس میں ’’ملک میں کارڈیک اسٹینٹس (دل کے چھلے) اور دیگر طبی آلات کی ضرورت سے زیادہ قیمتوں کو روکنے کے لیے ایک مؤثر طریقۂ کار وضع کرنے‘‘ کی درخواست کی گئی تھی۔ اس عرضی کو راجیہ سبھا کے عزت مآب چیئرمین نے 20 اکتوبر 2015 کو کونسل آف اسٹیٹس (راجیہ سبھا) کے ضوابط عمل اور طریقۂ کار کے دسویں باب کے تحت منظور کیا تھا۔ ضابطہ 145 کے مطابق، اس عرضی کو 2 دسمبر 2015 کو جناب اویناش رائے کھنہ کے ذریعہ کونسل کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد اسے جانچ پڑتال اور ضابطہ 150 کے تحت رپورٹ پیش کرنے کے لیے پیٹیشنز کمیٹی کے سپرد کردیا گیا تھا۔
کمیٹی نے دسمبر 2015 سے مارچ 2017 کے دوران منعقدہ اپنی چھ میٹنگوں میں اس عرضی پر تفصیلی غور و خوض کیا اور کارڈیک اسٹینٹس (دل کے چھلے) کی قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار پر درخواست گزار، وزارت صحت و خاندانی بہبود اور شعبۂ ادویات کے سکریٹریوں سمیت نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی (این پی پی اے) کے چیئرمین سمیت مختلف اسٹیک ہولڈرز کے موقف کو سنا۔ چونکہ اس عرضی میں خاص طور پر کارڈیک اسٹینٹس کے حوالے سے مسئلہ اٹھایا گیا تھا، اس لیے کمیٹی نے سب سے پہلے کارڈیک اسٹینٹس کی ضرورت سے زیادہ قیمتوں کے معاملے کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے اس عرضی پر رپورٹ دو حصوں- پہلا، کارڈیک اسٹینٹس کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے کی گئی کوششوں پر ایک رپورٹ اور دوسرا، پیٹیشن کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے والی ایک جامع رپورٹ میں پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ چنانچہ، کمیٹی نے اس پر غور کیا اور 6 اپریل 2017 کو اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا، جس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ دیگر امور کے ساتھ ساتھ کارڈیک اسٹینٹس کی قیمتوں کو کم کرے۔ کمیٹی کی سفارشات کے بعد، حکومت نے اسٹینٹس کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے طریقۂ کار نافذ کیا جس کے نتیجے میں ان کی زیادہ سے زیادہ قیمتوں کی حد میں تیزی سے کمی آئی۔ متعلقہ وزارت سے موصول ہونے والی ایکشن ٹیکن رپورٹ (اے ٹی آر) پر غور کیا گیا، جسے تسلی بخش پایا گیا اور کمیٹی نے 18 فروری 2019 کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں اسے بند کر دیا۔ اس کے بعد کمیٹی نے سال 2021 میں اس عرضی کی مزید جانچ پڑتال کا آغاز کیا۔
4. کمیٹی نے اس عرضی کی مزید جانچ پڑتال کے دوران دیگر طبی آلات پر توجہ مرکوز کی۔ کمیٹی نے وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود اور دواسازی کے محکمے کے سکریٹریوں کے ساتھ ساتھ این پی پی اے کے چیئرمین، ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (ڈی سی جی آئی) کے علاوہ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز (سی آئی آئی)، ایسوسی ایٹڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری آف انڈیا (ایسوچیم) اور فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فِکّی) کے نمائندوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔ مزید برآں، کمیٹی نے اپنے مطالعاتی دوروں کے دوران وزارت برائےصحت و خاندانی بہبود، فارماسیوٹیکل ڈپارٹمنٹ اور کیمیائی مواد اور کھادوں کی وزارت کے افسران کے ہمراہ ملک بھر کے ممتاز ہسپتالوں کے نمائندوں، طبی آلات تیار کرنے والے مینوفیکچررز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بھی بات چیت کی۔
کمیٹی کی یہ رپورٹ راجیہ سبھا کی ویب سائٹ https://sansad.in/rs/committees/8?standing-committees پر دستیاب ہے۔
کمیٹی کی سفارشات/مشاہدات کو حوالے کے لیے منسلک کیا گیا ہے۔
کمیٹی کی سفارشات پر ایک نظر
1۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ طبی آلات اور ادویات کو برابر کے ضوابط کے تحت کرنے سے منفرد چیلنجز پیدا ہوتے ہیں، جیسے کہ ادویات کے لیے وضع کردہ پرائس کنٹرولز ان آلات پر نافذ ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے غیر ارادی معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں، منافع کا مارجن کم ہوتا ہے اور بعض معاملات میں اعلیٰ معیار کے آلات مارکیٹ سے ہٹا لیے جاتے ہیں۔ طبی آلات سے متعلق ضوابط اکثر ہائی اینڈ، پیچیدہ طبی آلات کی دیکھ بھال اور سافٹ ویئر کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ایک ایسے فریم ورک کے تحت کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو بنیادی طور پر ادویات کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ یہ صورتحال اس شعبے میں پیداوار اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ لہذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ حکومت کو ادویات اور طبی آلات کی الگ الگ زمرہ بندی کرنے اور اسی مناسبت سے ان کے لیے الگ الگ قوانین وضع کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
(پیرا 3.5)
2۔ کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ صحت عامہ کی پالیسیوں میں مریضوں کو خاص توجہ حاصل ہونی چاہیے اور حکومت کی طرف سے وضع کردہ کوئی بھی ایسی پالیسی جو ان کے مفادات کے منافی ہو، معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ ہسپتال اور ہیلتھ کیئر فراہم کرنے والے ادارے محض ایک سہولت کار ہوتے ہیں۔ حکومت کو صارفین میں بیداری پیدا کرنے کے پروگرام شروع کرنے چاہئیں تاکہ مریضوں کو مختلف طبی آلات کے بارے میں آگاہی حاصل ہو سکے اور ان آلات کی قیمتوں اور دستیابی کے بارے میں معلومات کو نمایاں طور پر ظاہر کیا جانا چاہیے۔
(پیرا 3.5.1)
3۔ سنٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) کو لائسنسنگ کے نظام کو آسان بنا کر طبی آلات کے شعبے میں مینوفیکچرنگ اور جدت طرازی کو فروغ دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنا چاہیے۔ لائسنس جاری کرنے کے لیے مقررہ وقت پر نظرثانی کی جانی چاہیے، کیونکہ یہ رپورٹ ملی ہے کہ تاخیری حربے اپنائے جاتے ہیں جس سے درخواست گزاروں کو بلاوجہ ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لائسنسنگ کا ایک آسان نظام غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی کرے گا، جو معیشت اور اس مخصوص شعبے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
(پیرا 3.5.2)
4۔ کمیٹی نے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ طویل اور تھکا دینے والے کلینیکل ٹرائلز کی وجہ سے لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ کلینیکل ٹرائلز سے متعلق رہنما خطوط پر نظرثانی کی جانی چاہیے، تاکہ چھوٹے مینوفیکچررز کی حوصلہ افزائی کے لیے مالیاتی رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے اور ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جا سکے کہ مریضوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
(پیرا 3.5.3)
5۔ کمیٹی اس حقیقت پر تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ مینوفیکچررز سے ضرورت سے زیادہ قیمت وصول کرنے کی مد میں کی جانے والی ریکوری کا کوئی فائدہ صارفین کو نہیں پہنچتا۔ قانون بنانے کا مقصد یہ تھا کہ اس کا فائدہ عام صارف تک پہنچے اور صارف کے لیے قیمتوں کی حساسیت برقرار رہے۔ تاہم، صارف کو زیادہ وصول کی گئی لاگت کا کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ لہذا، کسی بھی قسم کی اوور چارجنگ کو روکنے کے لیے ایک مضبوط مانیٹرنگ میکانزم درکار ہے۔ زیادہ وصول کی گئی رقم کا سرکاری خزانے میں واپس جانا اس کا حل نہیں ہے کیونکہ آخر کار فائدہ صارف کو ہی ملنا چاہیے۔ کمیٹی کی سفارش ہے کہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جرمانے بھاری ہونے چاہئیں اور ضوابط کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جانا چاہیے۔
(پیرا 4.5)
6۔ کمیٹی اس دعوے پر فکر مند ہے کہ تشخیصی، اسکیننگ اور امیجنگ سروسز کی قیمتوں کے تعین میں محکمۂ ادویات کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ حقیقت تشویشناک ہے کیونکہ وزارت برائےصحت و خاندانی بہبود کا بھی یہی کہنا ہے کہ قیمتوں کا تعین ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ کمیٹی پرزور سفارش کرتی ہے کہ متعلقہ وزارتوں، یعنی صحت و خاندانی بہبود، محکمہ ادویات اور کیمیکلز اور فرٹیلائزرز کی وزارت کو آپس میں تال میل کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ ڈائگناسٹک سروسز کی قیمتوں کے بارے میں ایک یکساں پالیسی وضع کی جا سکے تاکہ مریضوں کو نقصان نہ پہنچے، کیونکہ تشخیصی طریقۂ کار کی لاگت علاج کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ پہلے ہی علاج کی بھاری لاگت کا سامنا کرنے والے صارفین کے لیے متعلقہ حکام کے درمیان قیمتوں کے حوالے سے ان تضادات کا ہونا فال نیک نہیں ہے۔ ضوابط کی بھرمار کا کوئی فائدہ نہیں ہے اگر حتمی صارف کو علاج کی ضرورت سے زیادہ لاگت کے ساتھ ساتھ اپنی جیب سے بھاری اخراجات برداشت کرنے پڑیں۔ یہ بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں مریضوں کو اپنی جیب سے نمایاں طور پر زیادہ اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں، جس سے یہ واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی طرف سے وضع کیے گئے ضوابط کا اثر عام صارف تک نہیں پہنچ رہا، جس سے فلاح و بہبود کا وہ مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے جو کہ پالیسی فریم ورک کا بنیادی محور ہے۔
(پیرا 4.5.1)
7۔ کمیٹی نے الیکٹرانک آلات کی ایم آر پی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت اور اصل پیداواری لاگت کے درمیان فرق کے تعلق سے تشویش ظاہر کی اور اسٹیک ہولڈرز کے اس موقف سے اتفاق کیا ہے کہ طبی آلات کی قیمتوں اور درآمدات پر انحصار کو کنٹرول کرنے اور کم کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مقامی مینوفیکچرنگ ہی واحد راستہ ہے، تاکہ کم لاگت والی درآمدی مصنوعات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
(پیرا 4.9.2)
8۔ کمیٹی کارڈیک اسٹینٹس (دل کے چھلوں) کی قیمتوں میں 85 فیصد تک اور گھٹنے کے امپلانٹس کی قیمتوں میں 70 فیصد تک کمی لانے میں این پی پی اے کی نمایاں کامیابی کی ستائش کرتی ہے، جس کے نتیجے میں عوام کو سالانہ تقریباً 5,900 کروڑ روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ تاہم، کمیٹی کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ قیمتوں کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر ہونے کے باوجود، غیر منظم طریقِ کار کے اخراجات کی وجہ سے آپریشن یا علاج کی مجموعی لاگت اب بھی بہت زیادہ ہے، جو کل طبی اخراجات کا 60 سے 70 فیصد بنتی ہے۔ لہذا، ان غیر منظم طریقِ کار کے چارجز کو کنٹرول کرنے کے لیے انضباطی طریقۂ کارکو مضبوط کیا جانا چاہیے۔
(پیرا 4.10.1)
9۔ کمیٹی کو اسکمز (ایس کے آئی ایم ایس) کے ان خیالات پر تشویش ہے کہ کارڈیک کیتھیٹرائزیشن کے لیے اے بی-پی ایم جے اے وائی کی کوریج کو 100 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو اپنی جیب سے بھاری اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ کمیٹی پرزور سفارش کرتی ہے کہ حکومت اے بی-پی ایم جے اے وائی کے تحت انشورنس پیکیج کوریج پر نظرثانی کرے اور خاص طور پر کارڈیک کیتھیٹرائزیشن، دل کی سرجری، نیوروسرجری اور انٹروینشنل ریڈیولوجی کے لیے اسے طریقۂ کار کی اصل لاگت کے مطابق بڑھائے۔ پیکیج کے نرخوں میں پرانے تخمینوں کے بجائے زمینی حقائق کی بنیاد پر باقاعدگی سے ترمیم کی جانی چاہیے۔
(پیرا 4.10.2)
10۔ کمیٹی کو اس پر تشویش ہے کہ مریضوں کو نیوروسرجری کی پریمیم اشیاء جیسے اینیوریزم کلپس، پیک (پی ای ای کے - پولی ایتھر ایتھر کیٹون) کیجز اور تھری ڈی میش خود خریدنی پڑتی ہیں، کیونکہ یہ رعایتی سرکاری ذرائع سے دستیاب نہیں ہیں۔ اسی طرح، دل کی سرجری میں مریضوں کو والو کے اخراجات کا 40 فیصد اور ایورٹک اسٹینٹ کی لاگت کا 70 فیصد خود برداشت کرنا پڑتا ہے، جو کہ ایک بڑا خرچہ ہے۔ کمیٹی پرزور سفارش کرتی ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر قیمتوں کے دائرہ کار میں آنے والے طبی آلات کی فہرست میں توسیع کرے اور اس میں درج ذیل کو شامل کرے:
(i) دل کے مصنوعی والوز (میکانکی اور بائیو پروستھیٹک)
(ii) پیس میکر (سنگل چیمبر، ڈوئل چیمبر، سی آر ٹی)
(iii) نیوروسرجیکل امپلانٹس (اینیوریزم کلپس، پیک کیجز، تھری ڈی میش)
(iv) جدید اسٹینٹس (ایورٹک اسٹینٹس، فلو ڈائیورٹرز، نیوروکوائلنگ ڈیوائسز)
(v) کلاس سی اور کلاس ڈی کے دیگر جان بچانے والے آلات جنھیں فی الحال منضبط نہیں کیا گیا ہے
(پیرا 4.10.3)
11۔ کمیٹی سری جے دیو انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، بنگلورو کی اس سفارش کی تائید کرتی ہے کہ دل کے مریضوں کے لیے سستے داموں دستیابی کو یقینی بنانے کے مقصد سے رِنگز (چھلوں)، مکینیکل والوز اور پیس میکرز جیسے آلات کو پرائس کنٹرول کے تحت لایا جانا چاہیے۔
(پیرا 4.10.4)
12۔ کمیٹی کا اے آئی ایم ای ڈی کی طرف سے مصنوعی طور پر بڑھائی گئی ایم آر پی کے نظام کے حوالے سے اٹھائے گئے خدشات کے تعلق سے کہنا ہےکہ جہاں ہسپتال مریضوں کی استطاعت کے بجائے محض اپنے منافع کے مقصد کے تحت کم لاگت والے متبادلات کے مقابلے میں زیادہ ایم آر پی والے سامان کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ:
(i) این پی پی اے کو درآمد شدہ طبی آلات کی ایم آر پی کی نگرانی کرنی چاہیے اور درآمدی لینڈڈ قیمتوں کے ساتھ اس کا موازنہ کرنا چاہیے اور جہاں مارجن غیر معقول حد تک زیادہ پایا جائے وہاں کارروائی کرنی چاہیے۔
(ii) چند ٹیسٹ کیسز پر ایک پائلٹ اسٹڈی کی جانی چاہیے تاکہ درآمدی لینڈڈ قیمت یا ایکس فیکٹری قیمت (سپلائی چین میں سامان داخل ہونے کا پہلا نقطۂ فروخت) پر ایم آر پی کی بالائی حد مقرر کی جا سکے۔
(iii) ہسپتالوں کے لیے یہ لازمی قرار دیا جانا چاہیے کہ وہ مریضوں کو مختلف قیمتوں پر الگ الگ برانڈز کا انتخاب فراہم کریں اور موازنہ کے لیے قیمتوں کو نمایاں طور پر ظاہر کریں۔
(iv) تجارتی مارجن کی پابندیاں ملکی اور درآمد شدہ دونوں مصنوعات پر یکساں طور پر لاگو کی جانی چاہئیں تاکہ غیر ملکی برانڈز کو کوئی غیر منصفانہ مسابقتی فائدہ حاصل نہ ہو۔
(پیرا 4.10.5)
13۔ کمیٹی اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے اجاگر کیے گئے ایم آر پی اور پیداواری لاگت کے درمیان فرق پر فکر مند ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ حکومت طبی آلات کی قیمتوں کے ڈھانچے بشمول پرزوں کی لاگت، مینوفیکچرنگ لاگت، ڈسٹری بیوشن مارجن اور ریٹیل مارک اپس پر ایک جامع مطالعہ کرائے، تاکہ سپلائی چین کے ہر مرحلے پر ناجائز منافع خوری کی نشاندہی اور اس کی روک تھام کی جا سکے۔
(پیرا 4.10.6)
14۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ جن اوشدھی کیندروں اور امرت فارمیسی نیٹ ورکس کو تمام اضلاع کا احاطہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر وسعت دی جانی چاہیے، جس میں دیہی اور پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ان ذرائع سے فراہم کیے جانے والے طبی آلات کے دائرہ کار کو موجودہ 277 اقسام کے 121 آلات سے بڑھا کر مزید مہنگے امپلانٹس اور جان بچانے والے آلات تک وسیع کیا جانا چاہیے۔
(پیرا 4.10.7)
15۔ کمیٹی طبی آلات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ایک اہم پہلو پر وزارت کے جواب کو تشویش کے ساتھ نوٹ کرتی ہے۔ کسی بھی سرکاری اسکیم یا پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس کے نتائج پر ہوتا ہے۔ نتائج کا جائزہ لیے بغیر اسکیم کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ پی ایل آئی اسکیم کا طبی آلات کی قیمت پر براہ راست اثر نہیں پڑتا۔ تاہم، اس اسکیم کا مقصد طبی آلات کی ملکی پیداوار کو بڑھانا ہے، جو بعد میں صارفین کو مناسب نرخوں پر طبی آلات کی دستیابی کا سبب بنے گا۔ ایک بحث کے دوران کمیٹی کو مطلع کیا گیا تھا کہ صارفین کو پہنچنے والے فائدے کا جائزہ لینے کے لیے ایک اسٹڈی) کرائی جائے گا، لیکن کمیٹی کوتشویش ہے کہ وزارت نے یہ مطالعہ نہیں کرایا ہے۔ لہذا، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وزارت کوپیداوار سے منسلک اسکیم کے نفاذ کی وجہ سے صارفین کو حاصل ہونے والے فوائد کا جائزہ لینے کے لیے ایک مطالعہ کرانا چاہیے، جس میں تشخیصی خدمات کی قیمتوں کا تعین بھی شامل ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ، کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ حکومت کو درآمد شدہ طبی آلات کی ملک میں پہنچنے پر اصل لاگت اور زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) کے درمیان فرق کا جائزہ لینے کے لیے بھی ایک مطالعہ کرانا چاہیے تاکہ قیمتوں کے تعین میں شفافیت حاصل ہو سکے۔
(پیرا 5.5)
16۔ وزارت کی طرف سے فراہم کردہ ڈیٹا سے کمیٹی نے مشاہدہ کیا ہے کہ پی ایل آئی اسکیم میں صرف بڑے ادارے ہی حصہ لے رہے ہیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ایم ایس ایم ای شعبے کو بھی اس اسکیم کے فوائد اور مطلوبہ مالی امداد ملنی چاہیے تاکہ وہ بھی ملک میں طبی آلات کے شعبے کو مضبوط بنانے اور روزگار پیدا کرنے میں اپنا تعاون دے سکیں۔
(پیرا 5.5)
17۔ کمیٹی ایچ ایل ایل لائف کیئر لمیٹڈ کے ذریعہ امرت فارمیسی کے اقدام کی ستائش کرتی ہے، جو صرف 5 فیصد مارجن کے ساتھ اوسط مارکیٹ کی قیمتوں سے 15 فیصد کم پر طبی آلات اور ادویات فراہم کرتا ہے۔ عوامی شعبے کے ہسپتالوں میں فی الحال 207 امرت اسٹورز کام کر رہے ہیں، کمیٹی پرزور سفارش کرتی ہے کہ اس ماڈل کو ملک بھر کے تمام مرکزی حکومتی ہسپتالوں، ایمس اور تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے بڑے ریاستی سرکاری ہسپتالوں تک وقت کے تعین کے ساتھ وسعت دی جائے۔
(پیرا 5.7.1)
18۔ کمیٹی سری جے دیو انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، بنگلورو کےمریضوں پر مرکوز نظام کی ستائش کرتی ہے، جہاں آپریشن یا علاج کے اخراجات بغیر کسی منافع کے اصل لاگت پر طے کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں نجی ہسپتالوں کے مقابلے میں 30 سے 40 فیصد تک کم لاگت آتی ہے اور غریب و ضرورت مند طبقات سے تعلق رکھنے والے 70 سے 80 فیصد مریضوں کو خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ طبی آلات اور طریقِ کار کے لیے اس بغیر منافع کے ماڈل کو ملک بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں ایک معیاری طریقۂ کار کے طور پر اپنایا جانا چاہیے۔
(پیرا 5.7.2)
19۔ کمیٹی کو اس پر تشویش ہے کہ مرکزی حکومت کی منظوری کے باوجود میڈی پارکس تیار کرنے کے منصوبے برسوں سے بے کار پڑے ہیں اور ان میں سے بیشتر فعال نہیں ہیں۔ کیمیائی مادوں اور کھادوں کی وزارت کے تحت دوا سازی کے محکمے کی طرف سے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق، صرف تین ریاستوں کو میڈ ٹیک پارکس الاٹ کیے گئے ہیں، جبکہ یہ یقینی بنایا جانا چاہیے تھا کہ یہ پورے ملک میں مساوی طور پرہوں۔ کمیٹی پُرزور سفارش کرتی ہے کہ مرکزی حکومت کو متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ بات چیت کو تیز کرنے اور ان میڈی پارکس کو جلد از جلد فعال کرنے کے لیے ہنگامی مداخلت کرنی چاہیے، تاکہ انہیں مینوفیکچرنگ کی سہولیات سے لیس ایک میڈیکل کلسٹر اور نالج پارک کے طور پر تیار کیا جا سکے۔
(پیرا 5.7.3)
20۔ کمیٹی آندھرا پردیش میڈ ٹیک زون (اے ایم ٹی زیڈ) ماڈل کی ستائش کرتی ہے، جو ریکارڈ 342 دنوں میں تیار کیا گیا تھا اور اب یہاں 100 سے زیادہ کمپنیاں طبی آلات کی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) اور پیداوار پر کام کر رہی ہیں۔ وبا کے دوران، اے ایم ٹی زیڈ نے روزانہ 100 سے زیادہ وینٹی لیٹرز، 500 آکسیجن کنسنٹریٹرز اور 10 لاکھ آر ٹی پی سی آر کٹس تیار کر کے مقامی صلاحیت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ اے ایم ٹی زیڈ ماڈل کو کم از کم 10 مزید ریاستوں میں لاگو کیا جانا چاہیے، جس میں ان ریاستوں کو ترجیح دی جائے جہاں پہلے سے فارماسیوٹیکل یا بائیوٹیکنالوجی کا نظام موجود ہے، جیسے مہاراشٹرا، گجرات، کرناٹک، تلنگانہ، مغربی بنگال، پنجاب، اتراکھنڈ، مدھیہ پردیش اور کیرالہ۔
(پیرا 5.7.4)
21۔ کمیٹی ایمس جموں کی طرف سے اپنائی گئی کثیر جہتی خریداری کی حکمت عملی کی ستائش کرتی ہے، جس میں متعدد وینڈرز کے ساتھ ریٹ کنٹریکٹس، ایچ ایل ایل لائف کیئر، پی ایم بی جے کے اور کیندریہ بھنڈار کے ساتھ مفاہمت کی عرضداشتیں، آلات کی خریداری کے لیے ہائیٹس (ایچ آئی ٹی ای ایس) کے ساتھ شراکت داری اور ہنگامی ضروریات کے لیے گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس کا استعمال شامل ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ خریداری کے اس جامع ماڈل کو بہترین طریقۂ کار کے طور پر دستاویزی شکل دی جانی چاہیے اور یکساں قیمتوں، معیار کی ضمانت، سستے داموں فراہمی اور بروقت سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ایمس اور مرکزی حکومت کے بڑے ہسپتالوں کے ذریعہ اسے اپنایا جانا چاہیے۔
(پیرا 5.7.5)
22۔ کمیٹی جے کے ایم ایس سی ایل کی طرف سے کارڈیک کیتھ لیب کے سامان کے لیے اپنائے گئے شفاف ٹینڈر کے طریقۂ کار کی تعریف کرتی ہے، جس میں اہلیت کے سخت معیار، مالیاتی بولی کھلنے سے پہلے نمونے کی منظوری اور قیمتوں کے معقول ہونے کی جانچ شامل ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ تمام ریاستی میڈیکل سروسز کارپوریشنز کو خریداری میں شفافیت کے ایسے ہی اقدامات اپنانے چاہئیں، جس میں مالیاتی بولی کھلنے سے پہلے تکنیکی جانچ کا لازمی ہونا اور کارٹلائزیشن کو روکنے اور حقیقی مقابلے کو یقینی بنانے کے لیے قیمتوں کی معقولیت کی رینڈم تصدیق شامل ہو۔
(پیرا 5.7.6)
23۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ بھارت میں سرنج انفیوژن پمپ تیار کرنے والی صرف پانچ کمپنیاں ہیں اور انہیں برآمدی سبسڈیز کی وجہ سے سستے نرخوں پر فروخت کرنے والی چینی کمپنیوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال بھارتی مینوفیکچررز کے لیے پالیسی سپورٹ کی شدید ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ کمیٹی پُرزور سفارش کرتی ہے کہ حکومت کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
(i) ملکی مینوفیکچررز کو یکساں مواقع فراہم کرنے اور’’میک ان انڈیا‘‘ اقدام کے تحفظ کے لیے، درآمد شدہ طبی آلات پر درآمدی ڈیوٹی کو موجودہ 5 سے 7.5 فیصد کی حد سے بڑھا کر 10 سے 15 فیصد کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
(ii) اہم شعبوں میں سبسڈیز یافتہ چینی درآمدات کے خلاف مقابلہ کرنے والے بھارتی مینوفیکچررز کو ہدف شدہ مالی امداد اور سبسڈیز فراہم کی جائیں۔
(iii) سرکاری خریداری میں کم از کم ملکی پرزوں کی شمولیت کی ضرورت کو لازمی قرار دیا جائے اور اسے اگلے پانچ برسوں میں بتدریج 40 فیصد سے بڑھا کر 75 فیصد کیا جائے۔
(پیرا 6.3.1)
24۔ کمیٹی ایف ایس ایس اے آئی کی طرز پر، ادویات سے الگ، طبی آلات کے لیے ایک علاحدہ قانونی فریم ورک قائم کرنے کی سفارش کی تائید کرتی ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ مجوزہ میڈیکل ڈیوائسز ایکٹ کے تحت معمولی طریقۂ کار کی کوتاہیوں کو جرم کے زمرے سے باہر کیا جانا چاہیے اور ان کی جگہ گریڈڈ پینلٹی سسٹم نافذ کیا جانا چاہیے، تاکہ تعزیری یا سزا دینے والے رویے کے بجائے قوانین پر عمل آوری پر توجہ مرکوز کرنے والے نقطۂ نظر کو فروغ دیا جا سکے۔ اس سے ڈیولپرز اور مینوفیکچررز کو تکنیکی عدم تعمیل کی صورت میں مجرمانہ کارروائی کے خوف کے بغیر جدت طرازی میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب ملے گی۔
(پیرا 6.3.2)
25۔ کمیٹی نے نوٹ کیا ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور درآمدی انحصار کو کم کرنے کے لیے مقامی مینوفیکچرنگ اور اندروں ملک پیداوار ہی مستقبل کا واحد راستہ ہے۔ تاہم، خاص طور پر اعلیٰ معیار کے پرزوں کے لیے 70 سے 80 فیصد سے زائد درآمدی انحصار کی وجہ سے ملکی مینوفیکچرنگ کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ:
(i) حکومت کو پیداوار سے منسلک ترغیب(پی ایل آئی) اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنا چاہیے تاکہ اس میں بہت سےہائی اینڈ پرزوں کی مینوفیکچرنگ کا احاطہ کیا جا سکے، جس میں سینسرز، الیکٹرانک سب اسمبلیز، مخصوص میٹریل اور باریک پرزے شامل ہوں۔
(ii) میڈیکل ڈیوائس پارکس کو زیادہ لاگت والے مشترکہ انفراسٹرکچر سے لیس کیا جانا چاہیے جیسے کہ گاما ریڈی ایشن اسٹرلائزیشن پلانٹس، جدید ٹیسٹنگ لیبز اور پروٹوٹائپنگ سینٹرز، تاکہ ایم ایس ایم ایزکے لیے سرمایہ کاری کے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔
(iii) میڈیکل ڈیوائس پارکس کے اندر مخصوص سینٹرز آف ایکسیلنس (سی او ای) قائم کیے جانے چاہئیں تاکہ بائیومیڈیکل انجینئرنگ، انضباطی تعمیل اور کوالٹی مینجمنٹ سسٹم کے شعبوں میں ایک ہنرمند اور ماہرافرادی قوت کو تربیت دی جا سکے۔
(پیرا 6.3.3)
26۔ کمیٹی نے نوٹ کیا ہے کہ طبی آلات کے لیے ایکسپورٹ پروموشن کونسل(ای پی سی-ایم ڈی) قائم کی گئی ہے، لیکن اسے مکمل طور پر فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ کمیٹی پُرزور سفارش کرتی ہے کہ حکومت کو مناسب بجٹ مختص کرنے اور درج ذیل لازمی ذمہ داریوں کے ساتھ ای پی سی-ایم ڈی کو فوری طور پر فعال کرنا چاہیے:
(i) عالمی انضباطی تقاضوں (یو ایس-ایف ڈی اے، ای یو-ایم ڈی آر) کو سمجھنے میں مینوفیکچررز کی مدد کرنا۔
(ii) برانڈ انڈیا کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی تجارتی میلوں اور خریدار-فروخت کنندہ ملاقاتوں کا انعقاد کرنا۔
(iii) برآمدی مواقع اور مسابقتی پوزیشننگ کے بارے میں مارکیٹ انٹیلیجنس فراہم کرنا۔
(iv) برآمدی رکاوٹوں جیسے کہ زیادہ لاجسٹک اخراجات اور انورٹڈ ڈیوٹی اسٹرکچرکو حل کرنا۔
(پیرا 6.3.4)
27۔ کمیٹی نے نوٹ کیا ہے کہ موریسنز لائف کیئر جیسی کچھ کمپنیاں پیداوار کے مختلف مراحل پر مادی، کیمیائی، حیاتیاتی اور مائیکرو بائیولوجیکل ٹیسٹنگ کے ساتھ ایک جامع کوالٹی سسٹم برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ حکومت کو درج ذیل سہولیات فراہم کر کے بین الاقوامی معیارِ کیفیت (آئی ایس او 13485، آئی ایس او 13485:2016، آئی ای سی60601) کو اپنانے کی ترغیب دینی چاہیے:
(i) ایم ایس ایم ایزکے لیے رعایتی سرٹیفیکیشن پروگرام شروع کرنا۔
(ii) آئی ایس او/آئی ای سی سے تصدیق شدہ مینوفیکچررز کے لیے ٹیکس فوائد فراہم کرنا۔
(iii) سرکاری ٹینڈرز میں تصدیق شدہ ملکی مینوفیکچررز سے خریداری کو ترجیح دینا۔
(پیرا 6.3.5)
28۔ کمیٹی بصارت سے محروم افراد کے لیے تقریباً 5,000 روپے میں وائبریٹنگ اسٹکس تیار کرنے میں فینکس میڈیکل سسٹمز کی طرف سے دکھائی گئی دیسی جدت طرازی کی ستائش کرتی ہے، جو تدریس جیسے پیشوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ حکومت کو خاص طور پر معذوری اور معاون ٹیکنالوجیز سے متعلق طبی آلات کے لیے ایک انوویشن فنڈ قائم کرنا چاہیے، جس کے تحت ہر اختراع کے لیے گرانٹس دی جائیں اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ایسے آلات کو تیز رفتار ریگولیٹری منظوری فراہم کی جائے۔
(پیرا 6.3.6)
29۔ کمیٹی نے نوٹ کیا ہے کہ اگرچہ غیر ملکی منظوریاں (سی ای یا یو ایس- ایف ڈی اے) تکنیکی دستاویزات کو مضبوط بنانے میں مدد کرتی ہیں، لیکن 2025 سے بھارتی سرکاری ٹینڈرز میں یہ سی ڈی ایس سی او لائسنسنگ کا متبادل نہیں رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی سطح کے اختراع کاروں کو سخت بین الاقوامی ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد، یہاں دوبارہ ایک طویل مقامی منظوری کے مرحلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ، 2030 تک 50 ارب ڈالر کی مارکیٹ کے قومی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے، کمیٹی ایک ڈیمڈ اپروول کا راستہ تجویز کرتی ہے، جس کے تحت عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکام (مثلاً ای یو-ایم ڈی آر، ایف ڈی اے) سے پہلے سے تصدیق شدہ آلات کو 30 سے 45 دنوں کے اندر عبوری بھارتی مارکیٹنگ لائسنس حاصل کرنے کی اجازت ہوگی، بشرطیکہ وہ نیشنل سنگل ونڈو سسٹم کے ذریعے بنیادی مقامی حفاظتی اور لیبلنگ کے معیارات پر پورا اترتے ہوں۔
(پیرا 6.3.7)
30۔ کمیٹی نے نوٹ کیا ہے کہ طبی ماہرین کے پیشہ ورانہ طرز عمل کو کنٹرول کرنے والا ریگولیٹری فریم ورک پہلے ہی ان خطرات کو تسلیم کرتا ہے جو کلینیکل فیصلے (بشمول ادویات، آلات اور طریقۂ کار کا انتخاب) کرنے میں دوا سازی اور اس سے منسلک صحت کے شعبے کی صنعت کے غیر مناسب اثر و رسوخ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ انڈین میڈیکل کونسل (پیشہ ورانہ طرز عمل، آداب اور اخلاقیات) ضوابط، 2002 کی شق 6.8 واضح طور پر ڈاکٹروں کو تحائف، سفری سہولیات، مہمان نوازی، نقد یا مالیاتی گرانٹس قبول کرنے اور کسی بھی دوا یا مصنوعات کی تشہیری توثیق (پروموشنل اینڈورسمینٹ) میں شامل ہونے سے روکتی ہے اور نیشنل میڈیکل کمیشن کے ایتھکس اینڈ میڈیکل رجسٹریشن بورڈ (ای ایم آر بی) اور ریاستی میڈیکل کونسلز کو خلاف ورزی کی صورت میں تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ کمیٹی کی یہ سنجیدہ رائے ہے کہ ان اخلاقی تحفظات کا سخت اور نمایاں نفاذ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے کہ کارڈیک اسٹینٹس (دل کے چھلوں) اور دیگر طبی آلات کا انتخاب اور استعمال محض مالی یا تشہیری ترغیبات کے بجائے، صرف اور صرف مریض کے مفاد اور شواہد پر مبنی طریقۂ علاج کے تحت ہو۔
(پیرا 7.1)
31۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وزارت برائے صحت و خاندانی بہبود، نیشنل میڈیکل کمیشن اور ریاستی میڈیکل کونسلز کے ساتھ تال میل قائم کر کے، خاص طور پر طبی ماہرین، ہسپتالوں اور کارڈیک اسٹینٹس و دیگر مہنگے طبی آلات کے مینوفیکچررز/سپلائرز کے درمیان ہونے والے روابط کے حوالے سے انڈین میڈیکل کونسل (پیشہ ورانہ طرز عمل، آداب اور اخلاقیات) ضوابط، 2002 کی شق 6.8 کی نگرانی اور نفاذ کو مضبوط کرے۔ اس میں شکایات کا وقت کے تعین کے ساتھ ازالہ کرنا، خلاف ورزیوں کی تعداد و نوعیت اور عائد کردہ جرمانوں سے متعلق گمنام ڈیٹا (مطلوبہ تحفظات کے ساتھ) شائع کرنا اور تحائف، ترغیبات اور مصنوعات کی تشہیر پر عائد پابندیوں کو دہراتے ہوئے طبی برادری کو باقاعدگی سے سرکولر/یاد دہانیاں جاری کرنا شامل ہونا چاہیے۔
(پیرا 7.2)
********
ش ح۔ ک ح۔ن ع
U. No.7381
(ریلیز آئی ڈی: 2263865)
وزیٹر کاؤنٹر : 5