سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے‘امید’ پروگرام قوم کے نام وقف کیا؛ کہا کہ جینیاتی اور درست ترین علاج کا طریقہ کار مستقبل کی طبی دیکھ بھال کی بنیاد بنے گا
امید: نایاب جینیاتی بیماریوں سے متاثرہ خاندانوں کے لیے وقت پر علاج اور سستی طبی دیکھ بھال کو فروغ دینے کی ایک قومی مہم
مرض کے علاج کا پورا مستقبل جین اور جینوم پر مبنی انفرادی علاج کی طرف بڑھ رہا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
امید اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنس اور عوامی حکمتِ عملی مل کر کس طرح زندگیوں کو بدل سکتی ہیں: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 MAY 2026 4:10PM by PIB Delhi
مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز اور وزیرِ مملکت برائے وزیرِ اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلا، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج نایاب جینیاتی خرابیوں اور بیماریوں کے لیے ‘امید’ (موروثی بیماریوں کے انتظام کے منفرد طریقے) پروگرام کو قوم کے نام وقف کیا اور کہا کہ بھارت تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں طبی دیکھ بھال، تشخیص اور علاج ہر مریض کے جینیاتی خاکے کے مطابق تیزی سے جینوم پر مبنی، درست ترین اور انفرادی نوعیت کا حامل بن جائے گا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ موروثی اور نایاب جینیاتی بیماریاں دہائیوں تک نظر انداز رہیں کیونکہ ان کی تشخیص خود ایک مشکل کام تھا، علاج تک رسائی ناممکن تھی اور ادویات یا تو دستیاب نہیں تھیں یا پھر حد سے زیادہ مہنگی تھیں، جس کی وجہ سے ایک ایسے مربوط قومی نظام کی تعمیر ضروری ہو گئی تھی جو تمام خاندانوں کے لیے تشخیص اور علاج کو ممکن، سستا اور قابلِ رسائی بنا سکے۔
‘امید’ کو بھارت میں درست ترین طب کے مستقبل کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ یہ مہم ملک کے طبی نظام کو اگلی نسل کے جین اور جینوم پر مبنی طبی علاج کے لیے بھی تیار کرے گی۔
مرکزی وزیر نئی دہلی کے پرتھوی بھون میں ‘بائیوٹیکنالوجی کے محکمے’ کی جانب سے ‘امید’(یونک میتھڈز آف منیجمنٹ آف ان ہیریٹڈڈس آرڈرز-یو ایم ایم آئی ڈی) نیٹ ورک کو قوم کے نام وقف کرنے کے لیے منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے موروثی بیماریوں کے لیے ملک بھر میں تشخیص، مشاورت، عوامی رسائی اور پروگرام کی نگرانی کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ’امید’ پر مشتمل جامع کتابچہ جاری کیا اور ‘امید’ کے معلوماتی بورڈ (ڈیش بورڈ) کا بھی افتتاح کیا۔
اس تقریب میں بائیوٹیکنالوجی کے محکمے کے سکریٹری اور بی آر آئی سی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے، ڈی بی ٹی کی سینئر مشیر ڈاکٹر سچیتا نیناوے، سینئر سائنس دانوں، معالجین، طبی ماہرین، ‘امید’ پروگرام پر عمل درآمد کرنے والے اداروں کے نمائندوں اور ملک بھر کے سائنسی و طبی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران متعارف کرائی گئی طبی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت نے مستقل طور پر ایسی طبی دیکھ بھال پر توجہ مرکوز کی ہے جو سستی، قابلِ رسائی، بیماریوں سے بچانے والی اور شہریوں کی سہولت کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے صحت کے مراکز کو وسعت دی ہے، ہیلتھ انشورنس (طبی بیمہ) کے دائرہ کار کو مضبوط کیا ہے اور سستی ادویات تک رسائی کو وسیع کیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بیماریوں کی جلد تشخیص اور احتیاطی علاج کے نظام کو بھی تشکیل دیا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ موروثی اور نایاب جینیاتی بیماریاں عوامی صحت پر ایک خاموش لیکن انتہائی مشکل بوجھ ہیں، جہاں متاثرہ خاندان اکثر تشخیص اور علاج کی تلاش میں برسوں ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال کے چکر کاٹتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نسبتاً کم آبادی کو متاثر کرنے کے باوجود، یہ بیماریاں متاثرہ خاندانوں پر شدید جذباتی، سماجی اور مالی مشکلات مسلط کرتی ہیں، اس لیے یہ بیماریاں بھی قومی سطح پر اتنی ہی توجہ اور طبی ہمدردی کی حقدار ہیں جتنی کہ کسی دوسری بڑی بیماری کا بوجھ ہوتا ہے۔
ایک طبی ماہر کے طور پر اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ماضی میں نایاب جینیاتی بیماریوں پر ان کے کم پھیلاؤ اور پیچیدہ تشخیصی عمل کی وجہ سے عام طبی تعلیم اور معالجاتی مشق میں بہت کم توجہ دی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے اکثر مریضوں کے لیے تشخیص میں تاخیر، بیداری کی کمی اور علاج تک ناکافی رسائی جیسے مسائل پیدا ہوتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا وسیع جینیاتی تنوع اس چیلنج کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، جس کے لیے ابتدائی جانچ، جینیاتی تشخیص، پیدائش سے پہلے کی مشاورت، معالجین کی تربیت اور عوامی رسائی کے ایک مضبوط نظام کی ضرورت ہے۔
ایک مشکل لیکن سماجی طور پر انقلابی مہم شروع کرنے پر بائیوٹیکنالوجی کے محکمے کی تعریف کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ‘امید’ اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح سائنس، ہمدردی اور عوامی حکمتِ عملی مل کر بروقت علاج اور احتیاطی طبی دیکھ بھال کے ذریعے انسانی تکالیف کو کم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام نے ایک متحدہ عوامی صحت کے ماڈل کے تحت جینیاتی تشخیص، پیدائش سے پہلے اور نوزائیدہ بچوں کی جانچ، جینیاتی مشاورت، معالجین کی صلاحیتوں میں اضافہ اور عوامی رسائی کو یکجا کر کے کامیابی کے ساتھ ایک قومی نظام قائم کیا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ اس پروگرام سے اب تک جانچ اور تشخیصی خدمات کے ذریعے تقریباً تین لاکھ افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں اور ترقی کے خواہشمند اضلاع اور پسماندہ علاقوں تک اس کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کی بدولت جدید ترین تشخیص اور مشاورت کے لیے تقریباً تیس ‘نیدان کیندر’ (تشخیصی مراکز) قائم کرنے میں مدد ملی ہے، جس سے یہ بات یقینی ہوئی ہے کہ جینوم پر مبنی جدید طبی دیکھ بھال بڑے شہروں سے نکل کر عام شہریوں کی پہنچ تک پہنچ جائے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ‘امید’ کے ذریعے حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل کے درست ترین علاج (پریسیزن میڈیسن) کے لیے ایک اہم بنیاد کا کام کرے گا، جہاں ذیابیطس، دل کے امراض اور کینسر جیسی بیماریوں کے علاج کا طریقہ کار تیزی سے مریضوں کے انفرادی جینیاتی خاکے پر مبنی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جینیاتی طب اور جوہری طب دو ایسے بڑے نئے میدانوں کے طور پر ابھر رہے ہیں جو آنے والی دہائیوں میں طبی دیکھ بھال کو ایک نیا رخ دے سکتے ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بائیوٹیکنالوجی کے محکمے کے سکریٹری اور بی آر آئی سی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے نے کہا کہ ‘امید’ مہم نے سائنسی اقدام، بائیوٹیکنالوجی کی مشترکہ تحقیق اور جلد تشخیص کے ذریعے ہزاروں خاندانوں میں ایک نئی امید جگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا جینیاتی تنوع سائنسی جدت طرازی اور علاج کے ایسے عملی حل تلاش کرنے کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے جو نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر بھی کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے ڈاکٹر سچیتا نیناوے نے کہا کہ‘امید’ پروگرام نے جینیاتی تشخیص، مشاورت اور صلاحیتوں میں اضافے تک رسائی کو بہتر بنا کر موروثی جینیاتی بیماریوں کے خلاف بھارت کے اقدامات کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے مربوط ادارہ جاتی شراکت داریوں کے ذریعے نایاب اور موروثی بیماریوں کے انتظام کے لیے ملک بھر میں ایک متحدہ نیٹ ورک قائم کرنے میں مدد کی ہے۔
اس تقریب میں ‘امید’ مہم کا ایک اجمالی خاکہ، کامیابیوں اور کہانیوں پر مبنی پیشکشیں اور اس مہم کے سفر، اثرات اور مستقبل کے لائحہ عمل کو اجاگر کرنے والی ایک مختصر فلم بھی دکھائی گئی۔




***
ش ح۔م م ۔ ف ر
U-7388
(ریلیز آئی ڈی: 2263768)
وزیٹر کاؤنٹر : 12