صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پہلی آئی سی ایم آر سالانہ  طبی تجربات سے متعلق اجلاس 2026  میں مربوط طبی تحقیق میں بھارت کی ابھرتی ہوئی قیادت کو اجاگر کیا گیا


آئی سی ایم آر نے بھارت میں انسانی کے پہلے مرحلے کے طبی تجربات کو مستحکم بنانے کے لیے ایک رپورٹ جاری کی

مختلف شعبہ جات پر مبنی تحقیق کے لیے واحد اخلاقی جائزے سے متعلق عملی رہنما اصول جاری کیے گئے

ماہرین نے بھارت کے طبی تجربات اور  انضباطی نظام کو مزید مضبوط بنانے پر غور و خوض کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 MAY 2026 11:35AM by PIB Delhi

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے 20 مئی 2026 کو کامیابی کے ساتھ “پہلی آئی سی ایم آر سالانہ کلینیکل ٹرائل میٹ 2026” کا انعقاد کیا، جس کا موضوع تھا: “انٹرنیشنل کلینیکل ٹرائلز ڈے: فوکس آن انٹیگریٹو میڈیسن کلینیکل ٹرائلز”۔

یہ قومی سطح کا اہم اجلاس بھارت میں طبی تجربات کے نظام کو مضبوط بنانے اور شواہد پر مبنی مربوط طبی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوا۔

اس اجلاس میں پالیسی سازوں، سائنس دانوں، معالجین، محققین، قانونی  اداروں کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین نے شرکت کی، جنہوں نے  طبی تحقیق میں ابھرتے ہوئے مواقع، اخلاقی اصولوں، قانونی طریقۂ کار اور جدت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

اس پروگرام میں پروفیسر (ڈاکٹر) وی کے پال، ڈاکٹر راجیو بہل اور ویدیہ  راجیش کوٹیچا سمیت صحت اور سائنسی  علوم کے ممتاز ماہرین ارو جملہ متعلقین نے شرکت کی۔

اپنے خطاب میں معزز شخصیات نے اس بات پر زور دیا کہ ابھرتے ہوئے صحتِ عامہ کے چیلنجوں سے نمٹنے اور ملک میں صحت کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے طبی تحقیق کا مضبوط نظام، اخلاقی ضابطہ اور مربوط طبی طریقوں کی سائنسی توثیق ناگزیر ہے۔

اس تقریب کی ایک بڑی خاص بات انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) اور سنٹرل کونسل فار ریسرچ اِن آیورویدک سائنسز (سی سی آر اے ایس) کے مشترکہ ملٹی سینٹر فیز III رینڈمائزڈ کنٹرولڈ ٹرائل (آر سی ٹی) کے نتائج کا پیش کیا جانا تھا، جو خون کی کمی پر مبنی تھا۔ یہ تحقیق بھارت میں ایک بڑے عوامی صحت کے مسئلے کے علاج کے لیےمربوط طریقۂ علاج کا جائزہ لینے کے لیے کی گئی۔

اس  طبی تجربہ میں پنرنواڈی منڈورہ کو اکیلے اور دراکشاولیہ کے ساتھ ملا کر، معیاری آئرن فولک ایسڈ سپلیمنٹیشن کے مقابلے میں پرکھا گیا۔ یہ تحقیق 18 سے 49 سال کی عمر کی تقریباً 4,000 غیر حاملہ خواتین پر کی گئی جنہیں معتدل درجے کی انیمیا لاحق تھی۔ 90 دن کے دوران ہیموگلوبن کی سطح اور طبی نتائج کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ دونوں آیورویدک ادویات مؤثر طور پر معیاری آئرن فولک ایسڈ تھراپی کے برابر ثابت ہوئیں۔

اس موقع پر “ایدوانسنگ فرسٹ اِن ہیومن فیز 1 کلینیکل ٹرائلز ان انڈیا: اے ڈیلفی اسٹڈی آن  ریگیولیٹری پاتھویز اینڈ اپارچیونیٹیز” کے عنوان سے رپورٹ بھی جاری کی گئی۔ یہ رپورٹ 37 ماہرین کی دو مرحلوں پر مشتمل مشاورت کے ذریعے تیار کی گئی، جن میں دواسازی کی صنعت، کنٹریکٹ ریسرچ آرگنائزیشنز (سی آر او)، تعلیمی اداروں اور قومی انضباطی ایجنسیوں کے نمائندے شامل تھے۔

اس تحقیق میں بھارت میں ابتدائی مرحلے کے طبی تجربات کی پیش رفت میں حائل بڑی رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی اور اس سلسلے میں کئی سفارشات پیش کی گئیں، جن میں قانونی صلاحیت کو مضبوط بنانا، منظوری کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانا، اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ و ہم آہنگی قائم کرنا شامل ہے، تاکہ ملک میں جدت پر مبنی طبی تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔

اس تقریب کے دوران ایک اور اہم پیش رفت “بھارت میں کثیر المرکزی تحقیق کے لیے واحد اخلاقی جائزے سے متعلق عملی رہنما اصول” کا اجرا تھا، جس کا مقصد ملک بھر میں کثیر المرکزی تحقیقی مطالعات کے اخلاقی جائزے کے نظام کو مضبوط اور ہم آہنگ بنانا ہے۔

پروگرام کے دوران “مربوط طبی تحقیقی شواہد کی پالیسی میں شمولیت” کے موضوع پر ایک پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیا گیا۔ اس مباحثے میں سائنسی شواہد کو عوامی صحت کی پالیسی اور طبی عمل میں تبدیل کرنے کے طریقوں پر بامعنی غور و خوض کیا گیا۔

طبی تجربات سے متعلق اس سالانہ ن اجلاس نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ  آئی سی ایم آر بھارت کے طبی تحقیق کے نظام میں تعاون کو فروغ دینے، اخلاقی وانضباطی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، اور جدت اور سائنسی برتری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

******

(ش ح ۔  ع و۔ع ن)

U. No. 7369

 


(ریلیز آئی ڈی: 2263624) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati