سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
اے این آر ایف نے کنورجنس ریسرچ سینٹرز آف ایکسیلنس (سی او ای ایس) کے قیام کے لیے 10 اداروں کے انتخاب کا اعلان کیا
سماجی چیلنجوں اور مستحکم ترقی کے لیے باہمی حل تلاش کرنے کی خاطر تحقیق سے متعلق اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 MAY 2026 10:19AM by PIB Delhi
بین شعبہ جاتی تحقیقی طریقۂ کار کے ذریعے پیچیدہ اور نظام سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سماجی علوم اور انسانی علوم کے فریم ورک میں سائنسی علم کے گہرے انضمام کو فروغ دینے کی غرض سے،انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) نے اپنے ایک اہم پہل میں سے ایک کے تحت 10 کنورجنس ریسرچ سینٹر آف ایکسیلنس (سی او ای ایس)اداروں کے انتخاب کا اعلان کیا ہے۔یہ اقدام ایسے نمایاں مراکز کے قیام کے لیے ہے جو سماجی علوم، انسانی علوم، سائنس اور ٹیکنالوجی کو یکجا کرتے ہوئے مربوط اور بین شعبہ جاتی تحقیق کے ذریعے پیچیدہ سماجی مسائل کے حل پر کام کریں گے۔
اس پروگرام کے تحت منتخب کیے گئے 10 اے این آر ایف- سی او ای ایس مختلف موضوعاتی شعبوں میں قائم کیے جائیں گے۔
|
نمبر شمار
|
انسٹی ٹیوٹ کا نام
|
پروجیکٹ کا عنوان
|
وسیع موضوعاتی رقبہ
|
|
1
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی)، گاندھی نگر
|
مرکز برائے انسانی موسمیاتی تعاملات اور ماحولیاتی تاریخ(سی ایچ آئی ای ایچ)
|
آثار قدیمہ اور روایتی علم کے نظام
|
|
2
|
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز (این آئی اے ایس)، بنگلورو
|
آثار قدیمہ کی اشیاء، آثار قدیمہ، ارتھ سائنسز اور کنزرویشن ریسرچ میں سینٹر فار ایکسیلنس
|
آثار قدیمہ اور روایتی علم کے نظام
|
|
3
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)مدراس
|
ایس اے ایم یوگا- سنسکرت اے آئی موسیقی اور یوگا کا مرکز
|
آثار قدیمہ اور روایتی علم کے نظام
|
|
4
|
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(این آئی ٹی) اگرتلہ
|
اے آئی کی مدد سے ڈیجیٹل کیوریشن اور شمال مشرقی ہندوستانی لوک داستانوں کا عالمی فروغ: منی پور اور تریپورہ پر توجہ
|
ڈیجیٹل ہیومینٹیز
|
|
5
|
انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن ڈیولپمنٹ(آئی ایچ ڈی)، دہلی
|
تبدیلی آمیز اے آئی اور ہندوستانی لیبر مارکیٹ: منتخب اعلی اختیاری خدمات کے شعبوں میں جنریٹو اے آئی کے اثرات پر ایک کثیر شعبہ مطالعہ
|
ڈیجیٹل ہیومینٹیز
|
|
6
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی)دھارواڑ
|
سنٹر آف ایکسی لینس فار رورل لائیولی ہوڈ اینڈ ڈیولپمنٹ:(سی او ای- آر ایل ڈی) دیہی پائیداری اور لچک کے لیے مربوط منصوبہ بندی کا مرکز
|
دیہی ترقی
|
|
7
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) جموں
|
سنٹر آف ایکسی لینس آن ڈیجیٹل امپاورمنٹ اینڈ لائی ہُڈ ڈویلپمنٹ آف آرٹیسنز(سی او ای- ڈی ای ایل ڈی اے (
|
دیہی ترقی
|
|
8
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کانپور
|
سنٹر آف ایکسیلنس: سنٹر فار ریسرچ اینڈ انٹروینشن ان لینگویج پرفارمنس
|
صحت اور نفسیات
|
|
9
|
چانکیا یونیورسٹی
|
لسانی اور لائف ورلڈ کے مرکز
|
سماجی مسائل کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز
|
|
10
|
پی ایس جی آرکرشنمل کالج برائے خواتین
|
ایک لچکدار، پائیدار، اور سمارٹ اختراعی ماحولیاتی نظام کی طرف اکیڈمیا-انڈسٹری پارٹنرشپ کے ذریعے روایتی سے عصری ٹیکنالوجیز میں ایم ایس ایم ایز کی منتقلی کو تیز کرنے کے لیے ایک ٹیکنو مینیجریل فریم ورک تیار کرنا۔
|
کمپیوٹیشنل اکنامکس
|
پروگرام کے تحت یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ ہر مرکز میں اندرونی یا بین شعبہ جاتی اشتراک لازمی ہوگا، چاہے یہ ایک ہی ادارے کے اندر ہو یا مختلف تعلیمی و سرکاری اداروں کے درمیان۔ اس میں مختلف وزارتوں/محکموں کے تحت کام کرنے والے ادارے یا نجی تعلیمی ادارے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ان مراکز سے وابستہ سی او- پرنسپل انویسٹی گیٹر ایک متنوع نیٹ ورک کی نمائندگی کرتے ہیں، جو مجموعی طور پر 20 مختلف اداروں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں ریاستی یونیورسٹیوں، سینٹرل یونیورسٹیوں، آئی آئی ٹیز، این آئی ٹیز ، پرائیویٹ یونیورسٹیوں، کالجز اور تسلیم شدہ تحقیق و ترقی کے ادارے شامل ہیں۔
اس پروگرام کو تعلیمی و تحقیقی اداروں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے، جس کے تحت 945 تجاویز موصول ہوئیں، جو اس اقدام کی مضبوط قومی اہمیت اور افادیت کی عکاسی کرتی ہیں۔
اے این آر ایف کنورجنس ریسرچ سینٹر آف ایکسیلنس پروگرام کو قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)2020 سے تحریک حاصل ہے، جو بین الشعبہ جاتی تعلیم و تحقیق اور مختلف علمی شعبوں کے درمیان بہتر رابطے پر زور دیتی ہے۔ یہ پروگرام “وِکست بھارت 2047” کے وژن سے بھی ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد آزادی کے صد سالہ جشن تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ، جامع، اختراعی اور خود انحصار ملک بنانا ہے۔
سائنسی گہرائی اور سیاق پر مبنی فہم کو مشترک کرتے ہوئے اس پروگرام کے ذریعے علاقائی اور قومی چیلنجز کے جامع حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور بگ ڈیٹا جیسے دور میں ایسے بین شعبہ جاتی اشتراک نئے سماجی و معاشی امکانات کو جنم دے سکتے ہیں اور پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ ع ح۔ع ن)
U. No. 7300
(ریلیز آئی ڈی: 2263124)
وزیٹر کاؤنٹر : 17