ٹیکسٹائلز کی وزارت
ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر جناب گری راج سنگھ نے “نئے دور کے فائبرز – اختراع، تحقیق اور مستقبل کی راہیں” کے عنوان سے قومی سیمینار کا افتتاح کیا
نئے دور کے فائبرز ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے وژن کو حقیقت کی شکل دینے میں اہم کردار ادا کریں گے، ساتھ ہی پائیدار ترقی کے حوالے سے بھارت کے عزم کو بھی مضبوط بنائیں گے: گری راج سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 MAY 2026 9:10PM by PIB Delhi
ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے آج نئی دہلی میں “نئے دور کے فائبر: اختراع، تحقیق اور مستقبل کی راہیں” کے عنوان سے قومی سیمینار کا افتتاح کیا۔
یہ سیمینار وزارت ٹیکسٹائل نے نیشنل جوٹ بورڈ کے ذریعے منعقد کیا، جس میں پالیسی سازوں، صنعت کے سرکردہ نمائندوں، محققین، اختراع کاروں، اسٹارٹ اَپس اور تعلیمی اداروں سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ سیمینار میں بھارت کے ٹیکسٹائل شعبے کے لیے ابھرتے ہوئے پائیدار فائبرز کی انقلابی صلاحیتوں پر غور وخوض کیا گیا۔تقریب میں ٹیکسٹائل کے وزیر مملکت جناب پبترا مارگیریٹا ، وزارت ٹیکسٹائل کی سکریٹری محترمہ نیلم شمی راؤ اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔ ان کی شرکت حکومت کی پائیداری، اختراع اور فائبر کے شعبے میں خود انحصاری کے فروغ کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے پائیداری کے فروغ، ماحولیاتی اثرات میں کمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں نئے دور کے فائبرز کے اسٹریٹجک کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ باقاعدہ ورچوئل اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ مسلسل رابطہ برقرار رہے، پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور نئے دور کے فائبر ماحولیاتی نظام کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فائبرز ’’آتم نربھر بھارت‘‘ کے وژن کو حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، ساتھ ہی پائیدار ترقی کے حوالے سے بھارت کے عزم کو بھی مضبوط کریں گے۔ٹیکسٹائل کے وزیر مملکت پبترا مارگیریٹا نے فائبر کے شعبے کو مستحکم بنانے میں اختراع، مہارتوں کی ترقی اور نچلی سطح کی صنعت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔وزارت ٹیکسٹائل کی سکریٹری نیلم شمی راؤ نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حاصل شدہ تجاویز اور خیالات کو عملی پالیسی اقدامات میں تبدیل کرنا نہایت ضروری ہے۔
سیمینار میں نئے دور کے مختلف ابھرتے ہوئے فائبرز، جیسے انناس فائبر، فلیکس فائبر، ملک ویڈ فائبر، بانس فائبر، بھنگ فائبر، نیٹل فائبر، کیلے کا فائبر، ریمی فائبر اور کپوک فائبر پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ ان فائبرز کو ماحول دوست، حیاتیاتی طور پر قابل تحلیل اور ہمہ جہت خصوصیات کی وجہ سے تیزی سے اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ان فائبرز کی ترقی سے زرعی تنوع کو فروغ ملنے، دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور ملکی و بین الاقوامی منڈیوں میں ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کے فروغ میں نمایاں مدد ملنے کی توقع ہے۔
پروگرام کا آغاز ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے ہاتھوں “نئے دور کے فائبرز سے متعلق ایکسپو” کے افتتاح سے ہوا، جس کے بعد انہوں نے نمائش کے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا جہاں قدرتی فائبرز پر مبنی جدید مصنوعات اور ٹیکنالوجیز پیش کی گئیں۔ چراغ روشن کرنے کی رسم کے ساتھ تقریب کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا۔معزز مہمانوں اور شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے نیشنل جوٹ بورڈ کے سکریٹری ششی بھوشن سنگھ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ نئے دور کے فائبرز پائیداری کے حصول، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور ماحول دوست ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھارت کی عالمی حیثیت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے متنوع زرعی و موسمی حالات ان فائبرز کی وسیع پیمانے پر ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
افتتاحی اجلاس کی ایک اہم جھلک “نئے دور کے فائبرز” کتابچے کی رونمائی اور نئے دور کے فائبرز پر قائم تین ٹاسک فورسز کی تیار کردہ تفصیلی رپورٹوں کے اجرا ءکی صورت میں سامنے آئی۔ توقع ہے کہ یہ رپورٹیں اس شعبے کی منظم ترقی کے لیے رہنمائی فراہم کریں گی۔وزارت ٹیکسٹائل میں جوائنٹ سکریٹری (فائبر) محترمہ پدمنی سنگلا نے اپنے کلیدی خطاب میں نئے دور کے فائبرز کے ملکی اور عالمی منظرنامے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں حیاتیاتی طور پر قابل تحلیل اور پائیدار اشیاء کی جانب تیزی سے رجحان بڑھ رہا ہے، جبکہ ماحول دوست ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پہلا موضوعاتی اجلاس “بنیادی خاکہ: نئے دور کے فائبرز کے بلیو پرنٹ کی تشکیل” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں نئے دور کے فائبرز کی ترقی کے لیے ایک منظم حکمت عملی کی بنیاد رکھی گئی۔ اس اجلاس کی نظامت ٹیکسٹائل کی کمشنروروندا منوہر دیسائی نے کی۔اجلاس میں مختلف فائبر زمروں کا جائزہ لینے کے لیے قائم تین ٹاسک فورسز نے اپنی تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔ ان میں فلیکس، ملک ویڈ اور بھنگ فائبر؛ بانس، ریمی اور سیسل فائبر؛ نیز کیلا، انناس اور کپوک فائبر سے متعلق تفصیلی نتائج شامل تھے۔مباحثوں میں موجودہ وسائل کی دستیابی، کاشت کے طریقے، فائبر نکالنے کی ٹیکنالوجیز، سپلائی چین میں موجود خامیوں اور ادارہ جاتی تال میل کی ضرورت پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پیداوار اور پروسیسنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے ایک جامع پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ضروری ہے، جسے تحقیقی اداروں، معیاری نظام اور صلاحیت سازی کے اقدامات کی مکمل معاونت حاصل ہو۔
دوسرا اجلاس “کاروباری برتری: نئے دور کے فائبرز کی ترقی کے لیے عملی ماڈلز” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں صنعت سے متعلق اہم تجربات اور بصیرتوں کو اجاگر کیا گیا۔ اس اجلاس کی نظامت وزارت ٹیکسٹائل میں جوائنٹ سکریٹری (فائبر)محترمہ پدمنی سنگلا نے کی۔اجلاس میں ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری نمائندوں نے نئے دور کے فائبرز پر مبنی تجارتی طور پر کامیاب کاروباری ماڈلز کی تشکیل کے اپنے تجربات مشترک کیے۔ صنعت کے رہنماؤں نے ملک ویڈ فائبر کے استعمال، فلیکس اور ہیمپ سے تیار شدہ ٹیکسٹائل، بانس سے تیار اشیاء، ریمی فائبر کی پروسیسنگ، کیلے کے فائبر سے بنی مصنوعات اور انناس کے پتوں سے حاصل ہونے والے فائبر(پی اے ایل ایف) کے استعمال میں ہونے والی اختراعات پیش کیں۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس ابھرتے ہوئے شعبے کی ترقی میں اسٹارٹ اَپس، نجی شعبے کی شمولیت اور تکنیکی اختراع نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی مضبوط مارکیٹ روابط، مؤثر برانڈ سازی اور سرمایہ کاری کے سازگار نظام کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی تاکہ نئے دور کے فائبرز سے وابستہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
تیسرا اجلاس “رکاوٹوں کا خاتمہ: نئے دور کے فائبرز کے تکنیکی و تجارتی مسائل کا حل” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں ان بنیادی چیلنجز پر غور کیا گیا جو ان فائبرز کے وسیع پیمانے پر استعمال اور تجارتی فروغ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اس اجلاس کی نظامت سی آر آئی جے اے ایف کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گورنگا کر نے کی۔اجلاس میں ممتاز تحقیقی اداروں، سرکاری محکموں اور صنعت سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ مباحثوں میں فائبر نکالنے اور پروسیسنگ کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے، کم لاگت مشینری تیار کرنے، لاجسٹک مسائل کے حل اور معیار میں یکسانیت برقرار رکھنے جیسے اہم امور پر توجہ دی گئی۔پینل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنایا جائے، کسانوں میں بیداری پیدا کی جائے، کلسٹر پر مبنی پروسیسنگ ماڈلز کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ایسے مؤثر سپلائی چین نظام قائم کیے جائیں جو پیداوار کنندگان کو براہِ راست منڈیوں سے جوڑ سکیں۔شرکاء نے موجودہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے زراعت، ٹیکسٹائل اور صنعتی شعبوں کے درمیان زیادہ مؤثر اشتراک اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
چوتھا اور آخری اجلاس “2030 کا روڈ میپ: نئے دور کے فائبرز کی ترقی کے لیے ایک اسٹریٹجک منصوبہ” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں نئے دور کے فائبرز کو مرکزی ٹیکسٹائل معیشت کا حصہ بنانے کے لیے طویل مدتی وژن اور پالیسی سمت پر غور کیا گیا۔ اس اجلاس کی نظامت جوٹ کمشنر اور ڈیولپمنٹ کمشنر (ہینڈی کرافٹس) محترمہ امرت راج نے کی۔اجلاس میں پالیسی سازوں، ماہرین اور صنعت کے نمائندوں نے اپنے خیالات پیش کیے۔ مباحثوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومتی پالیسی معاونت کے ذریعے ان فائبرز کو مرکزی دھارے میں لایا جائے، مختلف وزارتوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کیا جائے، پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے لیے بنیادی ڈھانچہ مضبوط بنایا جائے اور عالمی مسابقت کے لیے معیارات اور سرٹیفکیشن نظام تیار کیے جائیں۔شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ بھارتی پائیدار فائبرز کی برآمدات کو فروغ دیا جائے، ان کی مؤثر برانڈنگ کی جائے اور اس شعبے کو عالمی پائیداری کے معیارات اور فریم ورکس کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے۔اجلاس کے اختتام پر ایک جامع اسٹریٹجک روڈ میپ پیش کیا گیا، جس کا مقصد 2030 تک پیداوار میں توسیع، ویلیو چین کو مضبوط بنانا اور بھارت کو پائیدار ٹیکسٹائل اختراع کے میدان میں عالمی رہنما کے طور پر تیار کرنا ہے۔
سیمینار کے دوران ہونے والے مباحثوں اور پیش کی گئی سفارشات کی بنیاد پر ایک جامع “نئے دور کے فائبر” پالیسی فریم ورک تشکیل دیے جانے کی توقع ہے، جس کا مقصد اختراع کو فروغ دینا، تحقیق و ترقی کو مستحکم بنانا، مضبوط ویلیو چینز قائم کرنا اور عالمی پائیدار ٹیکسٹائل مارکیٹ میں بھارت کی مسابقتی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ ع ح۔ع ن)
U. No. 7295
(ریلیز آئی ڈی: 2263103)
وزیٹر کاؤنٹر : 4