قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

این ایچ آر سی نے مئی 2026 کے آن لائن مختصر مدتی انٹرن شپ پروگرام کا آغاز کیا

مختلف تعلیمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے 1,417 درخواست دہندگان میں سے 100 یونیورسٹی سطح کے طلبہ کا انتخاب

چیئرپرسن، جسٹس وی راما سبرامنین نے کہا کہ اس انٹرن شپ کا مقصد طلبا کو معاشرے اور انسانی حقوق کے مسائل کے حوالے سے زیادہ ہمدرد، منصف مزاج اور حساس بنانا ہے

این ایچ آر سی کے سکریٹری جنرل، جناب بھارت لال نے ضرورت مندوں کے لیے ہمدردی اور کردار سازی کی اہمیت پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 MAY 2026 6:11PM by PIB Delhi

بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے یونیورسٹی سطح کے طلبہ کے لیے اپنے دو ہفتوں پر مشتمل آن لائن مختصر مدتی انٹرن شپ پروگرام (او ایس ٹی آئی) کا آغاز کر دیا۔ این ایچ آر سی کے چیئرپرسن، جسٹس وی راما سبرامنین نے اس پروگرام کا افتتاح سیکریٹری جنرل جناب بھرت لال، جوائنٹ سکریٹری محترمہ سائیڈنگ پوئی چھاکچھواک، ڈائریکٹر جناب ارشاد عالم اور دیگر سینیئر افسران کی موجودگی میں کیا۔ ملک بھر کی 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے موصول ہونے والی 1,417 درخواستوں میں سے مختلف تعلیمی شعبوں سے تعلق رکھنے والے 100 طلبا کو انٹرن شپ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ دو ہفتوں پر مشتمل پروگرام 29 مئی 2026 کو اختتام پذیر ہوگا۔

 

 

طلبا سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس وی راما سبرامنین نے کہا کہ دنیا اس وقت تقریباً 130 مسلح تنازعات کا سامنا کر رہی ہے، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے اور یہ صورتحال انسانی حقوق سے متعلق آگاہی اور مکالمے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے گلوبل پیس انڈیکس 2025 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت 98 ممالک بیرونی تنازعات کی زد میں ہیں اور عالمی معیشت کو ہونے والا نقصان تقریباً 20 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تنازعات میں 120 سے زائد غیر ریاستی مسلح گروہ ملوث ہیں، جن میں سے کئی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں، جس کے باعث نسلیں تشدد اور عدم تحفظ کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں 122 ملین سے زائد افراد کو زبردستی بے گھر کیا جا چکا ہے، جبکہ 17 ممالک میں پانچ فیصد سے زیادہ آبادی پناہ گزینوں یا اندرون ملک بے گھر افراد پر مشتمل ہے۔

 

 

جسٹس راما سبرامنین نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے رابطے اور سماجی شمولیت کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ تاہم، بعض مواقع پر اس نے بے چینی اور عدم استحکام کو بھی جنم دیا ہے، جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والے احتجاج بعض اوقات پرتشدد رخ اختیار کر لیتے ہیں اور مختلف ممالک میں سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انصاف اور مساوات سے متعلق اخلاقی و فلسفیانہ سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے انٹرن کو مکالمے اور مختلف نقطۂ نظر کے لیے کشادہ دلی رکھنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے ہمدردی یا ”دیا“ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، جسے بھارتی مذہبی صحیفوں میں سب سے بڑا دھرم قرار دیا گیا ہے، کہا کہ اس پروگرام کا مقصد طلبا کو معاشرے اور انسانی حقوق کے مسائل کے حوالے سے زیادہ ہمدرد، منصف مزاج اور حساس بنانا ہے۔

 

 

اس سے قبل، این ایچ آر سی، بھارت کے سیکریٹری جنرل جناب بھرت لال نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے دوران شروع کیے گئے او ایس ٹی آئی پروگرام نے ملک بھر کے طلبا کو مالی اور انتظامی رکاوٹوں کے بغیر شرکت کا موقع فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال منعقد کیے جانے والے انٹرن شپ پروگراموں کی تعداد تین یا چار سے بڑھا کر چھ کر دی گئی ہے، جبکہ ہر بیچ میں طلبا کی تعداد 80 سے بڑھا کر 100 کر دی گئی ہے۔ اس طرح این ایچ آر سی اس فارمیٹ کے ذریعے سال بھر میں 600 طلبا تک رسائی حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے انٹرن سے زور دے کر کہا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، آئین میں درج مساوات، انصاف اور بھائی چارے کی اقدار کو اپنائیں اور مشاہدہ کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انٹرن اپنے اندر حساسیت پیدا کریں اور کسی بھی صورتحال پر ردعمل دینے سے پہلے غور و فکر کرنے کی عادت ڈالیں۔

 

 

انہوں نے روزمرہ زندگی میں حساسیت اور ہمدردی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انٹرن سے کہا کہ وہ ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دو ہفتوں پر مشتمل پروگرام کا بنیادی مقصد انٹرن کی کردار سازی کرنا اور انہیں مستقبل کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرنا ہے۔

این ایچ آر سی کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ سائیدنگ پوئی چھاکچھواک نے انٹرن شپ پروگرام کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرن کے لیے 45 سیشن ترتیب دیے گئے ہیں، جن میں 40 ممتاز مقررین شرکت کریں گے۔ ان مقررین میں سینیئر سرکاری افسران، ماہرین تعلیم، انسانی حقوق کے محافظ، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے، سول سوسائٹی تنظیموں کے اراکین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، ذہنی صحت، بچوں کے حقوق اور انسانی حقوق کے تحفظ کے ماہرین شامل ہیں۔ انٹرن کو عملی معلومات فراہم کرنے کے لیے پولیس اسٹیشن، تہاڑ جیل اور آشا کرن شیلٹر ہوم کے ورچوئل دورے بھی کرائے جائیں گے تاکہ وہ ان اداروں کے کام کاج کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ پروگرام میں کتابوں کے جائزے کے مقابلے، تقریری مقابلے اور گروپ ریسرچ پروجیکٹس کی پیشکش جیسے باہمی تعلیمی سرگرمیاں بھی شامل ہوں گی۔

                                               ******  

 

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 7278

 

 

 

 

 

 

 

                                                          

 

 

 

 

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2262979) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Marathi , Tamil