سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

‘زمینی سطح پرانووٹرز’ کو فروغ دینے  سے دیہی معیشت  بہتر ہوسکتی ہے  اور علاقائی عدم توازن کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے:ڈاکٹر جتیندر سنگھ


زمینی سطح کے انووٹرز  ہندوستان کے خاموش قومی معمار ہیں؛ روایتی مہارتوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ کر جامع اقتصادی ترقی کو تیز کیا جا سکتا ہے، وزیرمملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ

کمیونٹی کی قیادت میں ایک یکساں اختراعی نظام  ہندوستان کی جامع اقتصادی تبدیلی کا ایک بڑا محرک ثابت ہو سکتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

مرکزی وزیر جناب  جتیندر سنگھ کا احمد آباد میں زمینی سطح کی اختراعات  پر قومی ورکشاپ سے خطاب

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 MAY 2026 4:11PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز اور وزیرمملکت برائے پی ایم او، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمہ جوہری توانائی اورمحکمہ خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ “ گراس روٹس انووٹرز” کو فروغ دینا  ہندوستان کی دیہی معیشت کو مضبوط بنانے اور جامع، جدت پر مبنی ترقی کے ذریعے علاقائی عدم توازن کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ  زمینی سطح کے  انووٹرز کو  ہندوستان کی اقتصادی تبدیلی کے فعال اسٹیک ہولڈرز بننا چاہیے، کیونکہ ان کا روایتی علم، مقامی مہارتیں اور عملی اختراعات روزگار کی تخلیق، غیر مرکزی ترقی اور قومی ترقی میں بڑی صلاحیت رکھتی ہیں۔

احمد آباد، گجرات کے سائنس سٹی میں منعقدہ دو روزہ قومی ورکشاپ “گراس روٹس انوویشن پاتھ ویز : فرام لوکل ریزیلیئنس ٹو نیشنل ایڈوانسمنٹ” کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زمینی  انووٹرز کو  ہندوستان کے “خاموش قومی معمار” قرار دیا، جن کی خدمات اکثر رسمی ادارہ جاتی نظام سے باہر رہ جاتی ہیں، حالانکہ ان کی سماجی اور اقتصادی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ہندوستان میں اختراع صرف میٹروپولیٹن شہروں، لیبارٹریوں یا اشرافی اداروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے دیہات، چھوٹے شہروں اور کمیونٹی سطح تک پھیلنا چاہیے۔

یہ ورکشاپ نیتی آیوگ نے نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن (این آئی ایف) اور گجرات کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (جی یو جے سی او ایس ٹی) کے اشتراک سے منعقد کی ہے۔ افتتاحی اجلاس میں گجرات کے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شری رشی کیش پٹیل، سابق ڈی آر ڈی او چیئرمین اور سابق نیتی آیوگ رکن ڈاکٹر وی کے سارسوت، سینئر ایڈوائزر (سائنس و ٹیکنالوجی) نیتی آیوگ پروفیسر وِویک کمار سنگھ، سکریٹری ڈی ایس ٹی گجرات محترمہ پی بھارتی، نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اروند رانے اور ملک بھر سے سائنس دانوں، پالیسی سازوں اور موجدین نے شرکت کی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  ہندوستان  میں کم وسائل کے باوجود اختراع کی ایک منفرد صلاحیت موجود ہے اور کئی انقلابی خیالات براہِ راست زمینی تجربات اور مقامی مسائل سے جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے  ہندوستان کے خلائی پروگرام کے ابتدائی دور کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر وکرم سارا بھائی اور دیگر بانی شخصیات کی جدوجہد کو یاد کیا جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود غیر معمولی عزم کے ساتھ کام کیا۔

وزیر نے کہا کہ بہت سے  زمینی انووٹرز کے پاس رسمی تعلیمی قابلیت نہیں ہوتی، لیکن وہ عملی تجربے پر مبنی غیر معمولی تخلیقی اور تکنیکی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں سے بڑی تعداد میں اسٹارٹ اپس ابھر رہے ہیں جو چھوٹے شہروں اور دیہی  ہندوستان  کی بڑھتی ہوئی اختراعی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ  زمینی اختراع بنیادی طور پر ایک نچلی سطح سے اوپر کی طرف (باٹم -اپ) عمل ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ مقامی  انووٹرز کو سائنسی اداروں، جدید ٹیکنالوجی، توثیقی نظام اور مارکیٹ کے مواقع سے جوڑا جائے تاکہ ان کی ایجادات کو قابلِ عمل مصنوعات اور کمیونٹی حل میں بدلا جا سکے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ   زمینی اختراع کو معاشی اور ترقیاتی ترجیح کے طور پر دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ  ہندوستان اس وقت تک ایک بڑی عالمی معیشت نہیں بن سکتا جب تک دیہی معیشت مضبوط نہ ہو اور ترقی علاقائی طور پر متوازن نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ دیہی اختراع روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کمیونٹی انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے اور ترقیاتی تفاوت کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زمینی سطح کے  انووٹرز اور رسمی اختراعی نظاموں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا، جن میں تحقیقی ادارے، انکیوبیٹرز اور صنعت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اسکیمیں اور سائنسی پروگرام اکثر مقامی  انووٹرز تک مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ پاتے کیونکہ وہ زمینی حقائق سے منقطع رہتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے انضمام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر  موصوف نے کہا کہ روایتی علم کے نظام کو جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور فوڈ پروسیسنگ ٹیکنالوجی کے ساتھ ملا کر مقامی مصنوعات اور مہارتوں کی قدر اور مارکیٹ صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے باجرہ پر مبنی مصنوعات اور روایتی علاقائی غذائی اشیاء کی مثالیں دیں جہاں سائنسی معاونت نے کمرشلائزیشن اور مقامی آمدنی کے مواقع کو بہتر بنایا۔

وزیر  موصوف نے کہا کہ وزیرِ اعظم  جناب نریندر نے ہمیشہ “من کی بات” اور “پی ایم وشوکرما” جیسے اقدامات کے ذریعے دیہی اختراع اور کمیونٹی شرکت کی حوصلہ افزائی کی ہے، جن کا مقصد روایتی مہارتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ اور معاشی مواقع سے جوڑنا ہے۔

ورکشاپ میں مختلف تکنیکی نشستیں شامل ہیں جن میں ادارہ جاتی معاونت برائے دیہی اختراع،  زمینی انووٹرز سے سیکھنا، کمیونٹی پر مبنی اختراعی اقدامات اور علاقائی و ریاستی سطح کے اختراعی پروگرام شامل ہیں۔ ان مباحثوں میں پالیسی فریم ورک، ادارہ جاتی رابطہ کاری، انکیوبیشن سپورٹ اور ملک بھر میں دیہی اختراع کو وسعت دینے کے قابلِ عمل ماڈلز پر توجہ دی جائے گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس کا  اعتماد  اظہار  کیا کہ ایسے اقدامات ایک مضبوط اور مربوط اختراعی نظام کی تشکیل میں مدد دیں گے، جہاں دیہات اور دور دراز علاقوں کے  انووٹرز ہندوستان  کی ترقی کے سفر میں برابر کے شریک بنیں گے اور ‘وِکست بھارت @2047’ کے ہدف کے حصول میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

 

 

********

ش ح- ظ الف- ج

UR- 7266


(ریلیز آئی ڈی: 2262858) وزیٹر کاؤنٹر : 16