سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ہندوستانی محققین نے کم ترین مدتی گردش رکھنے والے دوہرے ستاروں کے نظاموں میں سے ایک کودریافت کر لیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 MAY 2026 3:49PM by PIB Delhi
ایک اہم سائنسی پیش رفت میں- جو ستاروں کے ارتقا سے متعلق ماہرین فلکیات کی سمجھ کو بدل سکتی ہے محققین نے دنیا میں پہلی بار ایک ایسے بلیو اسٹریگلر(نیلے کا رنگ پسماندہ ستارہ) ستارے کی محققانہ دریافت کی ہے جس کے ساتھ ایک براؤن ڈوارف ساتھی غیر معمولی طور پر مختصر دوہرے نظام میں موجود ہے۔
سائنس دان طویل عرصے سے بلیو اسٹریگلر ستاروں کے بارے میں غور و خوض کرتے رہے ہیں، کیونکہ یہ ستارے ستاروں کے جھرمٹ میں مین سیکوئنس ٹرن آف کے مقابلہ میں زیادہ روشن اور زیادہ نیلے دکھائی دیتے ہیں، جو روایتی نظریۂ ارتقائے ستاروں کے خلاف ہے، کیونکہ جھرمٹ کے تمام ستاروں کی عمر تقریباً یکساں ہونی چاہیے۔
گوہاٹی یونیورسٹی کے سائنس دانوں- جنہیں محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے انسپائر پروگرام کے تحت معاونت حاصل ہے- انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس (آئی آئی اے)، کورمنگلا، بنگلور، آریہ بھٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنسز (اے آر آئی ای ایس)، نینی تال — جو دونوں ڈی ایس ٹی کے ادارے ہیں — اور اٹلی کی آئی این ایف اے –کاتانیہ ایسٹرو فزیکل آبزرویٹری کے محققین نے اوپن کلسٹرز میں بلیو اسٹریگلرز کی تشکیل کا مطالعہ کیا اور ایک نہایت مختصر دوہرے نظام میں ایک ذیلی فلکیاتی (براؤن ڈوارف) ساتھی رکھنے والے بلیو اسٹریگلر ستارے کی دریافت کی تصدیق کی۔
اس تحقیقی ٹیم میں گوہاٹی یونیورسٹی کے علی حسن شیخ اور پروفیسر بیمن جے میدھی، آئی این ایف اے -کاتانیہ کے ڈاکٹر سرجیو میسینا، آئی آئی اے بنگلور کی پروفیسر اناپورنی سبرامنیم ، پروفیسر رام ساگر اور اے آر آئی ای ایس نینی تال کی ڈاکٹر نیلم پنوار شامل تھیں۔ محققین نے دریافت کیا کہ اس نظام کا مداری دورانیہ غیر معمولی طور پر مختصر، تقریباً 5.6 گھنٹے (0.234 دن) ہے اور اس میں موجود ساتھی بلیو اسٹریگلر کے گرد دریافت ہونے والا اب تک کا سب سے کم کمیت والا حجم ہے، جس کی کمیت سورج کی کمیت کا تقریباً 0.056 گنا ہے۔ یہ مقدار ہائیڈروجن جلنے کی حد سے کم ہے، جس کے باعث اسے واضح طور پر براؤن ڈوارف کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
فیگر 1: دریافت شدہ مختصر دوہرے نظام کا تخیلاتی خاکہ، جس میں ایک بلیو اسٹریگلر ستارہ (بی ایس ایس) مرکزی حصہ کے طور پر دکھایا گیا ہے جبکہ ایک براؤن ڈوارف (بی ڈی) ساتھی تقریباً 5.6 گھنٹے کے انتہائی مختصر اور تقریباً دائرہ نما مدار میں اس کے گرد گردش کر رہا ہے۔
یہ تحقیق جریدے‘منتھلی نوٹسز آف دی رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی: لیٹرز‘میں شائع ہوئی ہے، جس میں اب تک دریافت کیے گئے سب سے کم مدتی دوہرے ستاروں کے نظام کی نشاندہی کی گئی ہے، جو نام نہاد “براؤن ڈوارف ڈیزرٹ” کے علاقے میں واقع ہے۔ اس خطے میں ایسے ساتھی اجرام کو انتہائی نایاب سمجھا جاتا ہے۔
محققین نے ایک تیزی سے گردش کرنے والے بلیو اسٹریگلر ستارے کا مشاہدہ کیا ہے، جس کے ساتھ ایک ذیلی ستاری (سب اسٹیلر) براؤن ڈوارف موجود ہے۔ یہ ایسا فلکیاتی حصہ ہے جو کمیت کے لحاظ سے سیارے سے زیادہ بھاری ہے، لیکن اس قدر کم کمیت رکھتا ہے کہ اس میں حقیقی ستارے کی طرح ہائیڈروجن فیوژن کا آغاز نہیں ہو سکتا۔
فیگر 2: بلیو اسٹریگلر ستارہ (بی ایس ایس) اور براؤن ڈوارف ( بی ڈی) کے نظام کی مجوزہ تشکیل کا خاکہ، جو درجہ وار (ہائیرارکیکل) تین ستاروں پر مشتمل نظام کے ارتقائی عمل کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ ابتدا میں یہ نظام ایک ٹرپل سسٹم کے طور پر موجود ہوتا ہے، جس میں اندرونی بائنری میں ایک براؤن ڈوارف ساتھی شامل ہوتا ہے، جبکہ بیرونی حصے میں ایک ارتقا یافتہ تیسرا ستارہ موجود ہوتا ہے۔بڑے پیمانے پر کمیت کی منتقلی (ماس ٹرانسفر) اور کُوزائی–لیڈوف (کوزائی لیڈوف) ارتعاشات مداری نظام میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مدار کی حرکیات متاثر ہوتی ہیں اور پیشرو ستارہ اور بیرونی تیسرا ستارہ آپس میں ضم ہو جاتے ہیں، جس سے بلیو اسٹریگلر ستارہ تشکیل پاتا ہے۔اس کے بعد مداری توانائی کے بکھراؤ (ٹائڈل ڈسیپیشن) کے عمل کے ذریعے اندرونی مدار بتدریج گول ہو جاتا ہے، اور یوں موجودہ دور کا انتہائی مختصر مدتی تقریباً دائرہ نما مدار رکھنے والا بی ایس ایس-بی ڈی دوہرا نظام وجود میں آتا ہے۔
یہ تحقیق بنیادی سائنسی علم میں اہم پیش رفت فراہم کرتی ہے کیونکہ یہ ستاروں کے ارتقا، باہمی تعامل اور انتہائی سخت ماحول میں ان کی بقا کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے، جو ستاروں اور کائنات کے ارتقائی ماڈلز کو زیادہ درست بنانے کے لیے ضروری ہے۔
یہ نتائج ستاروں کے ارتقا، دوہرے نظاموں کے باہمی تعاملات اور ذیلی ستاری اجسام سے متعلق نظریاتی ماڈلز کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں، جو زمینی رصدگاہوں اور خلائی مشنز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی تشریح میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ تحقیق نوجوان محققین کے لیے بھی ترغیب کا باعث ہے، کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ آرکائیول ڈیٹا کے تخلیقی تجزیے کے ذریعے بھی بڑی سائنسی دریافتیں ممکن ہیں اور اس کے لیے لازمی طور پر نئے یا مہنگے مشاہداتی آلات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اشاعت کا لنک : https://doi.org/10.1093/mnras/staf2130
********
ش ح- ظ الف- ج
UR- 7263
(ریلیز آئی ڈی: 2262815)
وزیٹر کاؤنٹر : 14