شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب جیوتیرادتیہ ایم سندھیا نے ’’کافی آف ناگالینڈ‘‘ مشن کا آغاز کیا


وزیر اعظم جناب  نریندر مودی کے “وکست نارتھ ایسٹ وژن” کے تحت ناگالینڈ کی کافی عالمی سطح پر نئی بلندیوں کو چھونے کے لیے تیار

یہ صرف “ہول آف گورنمنٹ” کا نقطۂ نظر نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں “ہول آف انڈیا”  کا نقطۂ نظر ہے: جیوترادتیہ سندھیا

ناگالینڈ کو ہندوستان کے ممتاز اور اعلیٰ معیار کے اسپیشلٹی کافی مرکز کے طور پر ابھرنے کی بے پناہ صلاحیت کا حامل  ہے: مرکزی وزیر جیوترادتیہ  سندھیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAY 2026 6:35PM by PIB Delhi

شمال مشرقی خطے کی ترقی اور مواصلات کے مرکزی وزیر جناب جیوتیرادتیہ ایم سندھیا نے آج ناگالینڈ کے لیے کلسٹر پر مبنی کافی ویلیو چین ڈیولپمنٹ مشن کا آغاز کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے شمال مشرقی خطے کی ترقی جناب سوکانت مجمدار، ناگالینڈ حکومت کے وزیر اعلیٰ جناب نیفیو ریو، نائب وزیر اعلیٰ جناب ٹی آر زیلیانگ، رکن اسمبلی اور مشیر برائے زمینی وسائل جناب جی ایکوتو ژیمومی، اور وزارتِ شمال مشرقی خطے کی ترقی کے سکریٹری جناب سنجے جاجو بھی موجود تھے۔

تقریبا175 کروڑ روپے کے بجٹ سے تیار کیے جانے والے  “کافی آف ناگالینڈ” مشن کو “ہول آف گورنمنٹ” نقطۂ نظر کے تحت تشکیل دیا گیا ہے، اور اسے تمام متعلقہ فریقوں کی تجاویز  کو مدنظر رکھتے ہوئے اس انداز میں منصوبہ بند کیا گیا ہے کہ اس کے  اقدامات زمینی حقائق اور کاشتکار برادری کی امنگوں کے مطابق ہوں۔

یہ مشن کلسٹر پر مبنی حکمتِ عملی  پر  عمل پیرا ہے، جس کے تحت دو پائلٹ کافی کلسٹر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ضلع کوہیما کے توفیما گاؤں میں عربیکا کافی اور ضلع نیولینڈ کے گھوٹوی گاؤں میں روبسٹا کافی کے کلسٹر قائم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد کافی ویلیو چین میں موجود اہم خامیوں کو دور کرنا ہے، جس کے لیے شجرکاری کے فروغ، فصل کے بعد کی پروسیسنگ، برانڈنگ، مارکیٹنگ، ٹریس ایبلٹی، برآمدات، سیاحت اور صلاحیت سازی جیسے شعبوں کو ایک مربوط نظام کے تحت فروغ دیا جائے گا۔

مرکزی وزیر برائے شمال مشرقی خطے کی ترقی نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اس عزم کو اجاگر کیا کہ کسان زراعتی ویلیو چین کے پورے نظام میں حقیقی شراکت دار بنیں۔ اس پہل کے اشتراکی اور جامع کردار پر زور دیتے ہوئے وزیر  موصوف نے کہا:

یہ صرف ‘ہول آف گورنمنٹ’ کا  نقطۂ نظر نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ‘ہول آف انڈیا’ کا نقطۂ نظر ہے، جو حکومتوں، وزارتوں، کسانوں، صنعت کاروں، پروسیسنگ کےماہرین، برانڈنگ کے ماہرین، برآمد کنندگان اور بازار کے سرکردہ اداروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرتا ہے۔

وزیر  موصوف نے کہا کہ “کافی  آف ناگالینڈ” مشن کو مکمل ویلیو چین کی ترقی کے ایک جامع منصوبے کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد ناگالینڈ کو صرف خام کافی پیدا کرنے والے خطے سے نکال کر ممتاز، قابلِ سراغ، سنگل اوریجن کافی معیشت میں تبدیل کرنا ہے،  جس کو ملکی اور عالمی منڈیوں میں مضبوط موجودگی  حاصل  ہو۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس اقدام کے تحت “برانڈ نارتھ ایسٹ — کافی آف ناگالینڈ” کو فروغ دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے، جسے میڈیا مہمات، تجارتی میلوں میں شرکت، اور کافی سیاحت کے  تجرباتی اقدامات کے ذریعے تقویت دی جائے گی۔ اس مشن کے تحت پائلٹ کلسٹرز میں کافی فارم اسٹے اور “فارم ٹو کپ” سیاحتی تجربات کو بھی فروغ دیا جائے گا، تاکہ ناگالینڈ کو اسپیشلٹی کافی سیاحت کے منفرد مرکز کے طور پر متعارف کرایا جا سکے۔وزیر  موصوف نے کہا کہ اس اقدام کی حقیقی کامیابی اُس وقت ظاہر ہوگی جب “کافی آف ناگالینڈ” ملکی اور بین الاقوامی بازاروں میں ممتاز شیلف اسپیس حاصل کرے گی، اور اس کے ساتھ ساتھ ریاست بھر میں کافی کاشت کرنے والی برادریوں کی آمدنی میں اضافہ اور پائیداری بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔ انہوں نے کسانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو یقین دلایا کہ حکومت ناگالینڈ کے لیے عالمی معیار کا مسابقتی اسپیشلٹی کافی نظام تیار کرنے کے لیے پوری طرح پابند عہد ہے۔

محترم وزیر مملکت جناب سوکانت مجمدار نے  اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آرگینک سرٹیفکیشن، جغرافیائی شناختی ٹیگ (جی آئی ٹیگنگ) اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی کو اس پروگرام میں شامل کرنے سے کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور چھوٹے کاشتکار گھرانوں  کو بااختیار بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسٹریٹجک روڈ میپ نہ صرف عالمی سطح کی اعلیٰ منڈیوں تک براہِ راست رسائی کو یقینی بنائے گا بلکہ اس شعبے کو مقامی تجرباتی سیاحت سے بھی جوڑے گا، جس کے نتیجے میں خطے کی طویل مدتی اور پائیدار ترقی کو فروغ ملے گا۔

ناگالینڈ کے محترم وزیر اعلیٰ نے وزارتِ شمال مشرقی خطے کی ترقی (ایم ڈی او این ای آر) کی جانب سے کافی ویلیو چین ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے تصور اور شروعات کو سراہتے ہوئے اسے ریاست کی زراعتی تنوع اور دیہی ترقی کی حکمتِ عملی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے متعدد  اضلاع میں کافی کی کاشت کھیتی کے ایک مؤثر متبادل کے طور پر ابھری ہے اور اس میں ماحول دوست زراعتی نظام کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ کاشتکار برادری کے لیے طویل مدتی آمدنی کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

وزارتِ شمال مشرقی خطے کی ترقی کے سکریٹری جناب سنجے جاجو نے اپنے ابتدائی خطاب میں مشن کے نفاذ کے فریم ورک پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ناگالینڈ کے زراعتی و موسمی حالات کو اعلیٰ معیار کی عربیکا اور روبسٹا کافی کی پیداوار کے لیے نہایت موزوں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ناگالینڈ میں کافی کی کاشت میں نمایاں توسیع ہوئی ہے، تاہم اب معیار، پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور بازار تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کلسٹر پر مبنی ماڈل چھوٹے کسانوں کو مشترکہ بنیادی ڈھانچے، تکنیکی معاونت اور برانڈنگ اقدامات سے اجتماعی فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے گا۔

اس اقدام سے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا ہونے، کھیت کی سطح پر بہتر منافع حاصل ہونے اور دیہی نوجوانوں کی کافی معیشت میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کی توقع ہے۔ افتتاحی تقریب میں وزارتِ شمال مشرقی خطے کی ترقی اور حکومتِ ناگالینڈ کے افسران کے علاوہ کسانوں، صنعت کاروں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے بھی شرکت کی۔

***

ش ح۔ م ش ع ۔ م ا

U N-7221


(ریلیز آئی ڈی: 2262541) وزیٹر کاؤنٹر : 14
یہ ریلیز پڑھیں: Tamil , English , हिन्दी