حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر
نیشنل وَن ہیلتھ مشن پر سائنسی اسٹیئرنگ کمیٹی کی پانچویں میٹنگ نئی دہلی میں منعقد
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 MAY 2026 6:18PM by PIB Delhi
ون ہیلتھ سے متعلق سائنسی اسٹیئرنگ کمیٹی کی پانچویں میٹنگ حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر پروفیسر اجے کے سود کی زیر صدارت 18 مئی 2026 کو نئی دہلی کے کرتویہ بھون-3 میں منعقد ہوئی۔
اس اجلاس میں محکمۂ صحت کی تحقیق (ڈی ایچ آر) کے سکریٹری اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجیو بہل، پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے دفتر (او پی ایس اے) کی سائنٹفک سکریٹری ڈاکٹر پرویندر مینی، وزارتِ ارضیاتی علوم (ایم او ای ایس) کے سکریٹری ڈاکٹر ایم روی چندرن، نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رنجن داس سمیت آئی سی ایم آر، وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف اینڈ سی سی)، محکمۂ حیوانات و ڈیری (ڈی اے ایچ ڈی)، محکمۂ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی)، محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی)، کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر)، تنظیم دفاعی تحقیق و ترقی (ڈی آر ڈی او)، نیشنل سکیورٹی کونسل سکریٹریٹ (این ایس سی ایس)، وزارتِ آیوش، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ون ہیلتھ (این آئی او ایچ)، محکمۂ دواسازی (ڈی او پی)، او پی ایس اے، اور ریاست گجرات کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس کے آغاز میں چیئرمین نے ون ہیلتھ کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے میں تمام متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے مسلسل عزم اور فعال شرکت کی ستائش کی، اور حالیہ وبا کے پھیلاؤ اور ابھرتے ہوئے صحتِ عامہ کے خطرات کے پیشِ نظر مختلف شعبوں کے درمیان مضبوط باہمی اشتراک و تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس میں ہونے والی گفتگو کا مرکز ابھرتے ہوئے صحتِ عامہ کے خطرات، خصوصاً جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق صحت کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے قومی تیاریوں کو مضبوط بنانا تھا، جس کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان مؤثر تال میل اور طویل مدتی منصوبہ بندی پر زور دیا گیا۔
گزشتہ ایک سال کے دوران نیشنل ون ہیلتھ مشن کے تحت کئی اہم سنگِ میل حاصل کیے گئے جن میں ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ون ہیلتھ کے نظم کو مضبوط بنانے کے لیے ماڈل گورننس فریم ورک کی تیاری، ابھرتے ہوئے طبی خطرات کی بہتر شناخت کے لیے جینومکس اور میٹا جینومکس پر مبنی نگرانی کے نیٹ ورک کا آغاز، انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی رابطہ مراکز پر نگرانی کے اقدامات کا آغاز — جن میں چڑیا گھر، پرندوں کی پناہ گاہیں اور مذبح خانے شامل ہیں — نیز نیشنل ون ہیلتھ اسمبلی جیسے اقدامات کے ذریعے عوامی بیداری اور نوجوانوں کی شمولیت کو فروغ دینا شامل ہے۔
اجلاس کے دوران ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں ون ہیلتھ نظامِ حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے ماڈل گورننس فریم ورک پر مبنی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی، جس میں ملک بھر میں ادارہ جاتی اشتراک اور غیر مرکزی سطح پر ون ہیلتھ کے نفاذ کے مختلف طریقوں کو اجاگر کیا گیا۔ ویڈیو تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
کمیٹی نے نومبر 2025 میں منعقدہ نیشنل ون ہیلتھ اسمبلی کی کارروائیوں پر مبنی دستاویز، نیز 17 تا 18 مارچ 2026 کو ناگپور، مہاراشٹر میں منعقدہ “ون ہیلتھ کے عملی فریم ورک: قومی وژن اور ریاستی اقدامات” کے موضوع پر منعقدہ ورکشاپ کی کارروائیوں پر مشتمل دستاویز بھی جاری کی۔ اس ورکشاپ میں مختلف ریاستوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور اہم شراکت داروں نے شرکت کی تھی، جہاں ریاستی سطح پر ون ہیلتھ کے نفاذ کے لیے نظامِ حکمرانی اور عملی طریقۂ کار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں مزید اُن سرگرمیوں اور اقدامات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا جو مختلف متعلقہ وزارتیں اور محکمے انجام دے سکتے ہیں، اور یہ کہ انہیں سالانہ عملی منصوبوں اور بجٹ کے عمل میں کس طرح شامل کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں ہونے والی گفتگو میں ون ہیلتھ کی قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی ترجیحات کا احاطہ کیا گیا، جن میں مربوط نگرانی، تجربہ گاہوں کو مضبوط بنانا، مصنوعی ذہانت کے ذریعے جراثیم کی شناخت، مختلف شعبوں کے درمیان اعداد و شمار کے تبادلے، اور طبی انسدادی اقدامات کی تیاری پر خصوصی زور دیا گیا۔
اجلاس میں مشاورتی و جائزہ کمیٹیوں کے تحت اہم ورک اسٹریمز کے چیئرمین اور رکن سکریٹریوں کی جانب سے تازہ معلومات بھی پیش کی گئیں، جن میں میں مندرجہ ذیل اقدامات کا احاطہ کیا گیا ؛ بی ایس ایل-3/4 تجربہ گاہیں، جس کی صدارت لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ڈاکٹر مادھوری کانیتکر کر رہی ہیں؛ ٹیکنالوجی سے لیس نگرانی، جس کی سربراہی ڈاکٹر این کے اروڑہ کر رہے ہیں؛ ڈیٹا انضمام اور ڈیٹا شیئرنگ کمیٹی، جس کی صدارت ڈاکٹر وجے چندرو کر رہے ہیں؛ اور طبی انسدادی اقدامات، جس کی سربراہی ڈاکٹر رینو سوروپ کر رہی ہیں اور جس کی تفصیلات آئی سی ایم آر کی ڈاکٹر نویدیتا گپتا نے پیش کیں۔
اپنے اختتامی خطاب میں پروفیسر سود نے اس بات پر زور دیا کہ طے شدہ فریم ورک کو عملی اور پائیدار اقدامات میں تبدیل کیا جائے، اور اس سلسلے میں باقاعدہ فرضی مشقوں، مضبوط تیاری کے نظام، اور عمل درآمد کے لیے درکار مالی وسائل کی بروقت نشاندہی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تمام متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو نیشنل ون ہیلتھ مشن کے تحت انجام دی جانے والی سرگرمیوں کو منظم انداز میں دستاویزی شکل دینے اور نمایاں کرنے، اور مشن کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی تعاون اور تعمیری کوششیں جاری رکھنے کی بھی ترغیب دی ۔
******
(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)
Urdu No-7220
(ریلیز آئی ڈی: 2262528)
وزیٹر کاؤنٹر : 6