کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کا اس سال ایک   ٹریلین ڈالر جبکہ آئندہ  پانچ برس میں دو   ٹریلین ڈالر تک برآمدات کرنے کا ہدف ہے: کامرس و صنعت کے مرکزی جناب وزیر پیوش گوئل


برآمدات کا مقصد ایک قومی مشن ہے ،جس سے تقریبا 38 ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ایف ٹی اے سے بازار تک رسائی میں اضافہ ہوگا: جناب پیوش گوئل

جناب پیوش گوئل نے کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ درآمدات کے رجحانات پر نظر رکھیں تاکہ درآمدی متبادل کے مواقع تلاش کئے جا سکیں اور ملک کو درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے

سودیشی کو فروغ دیں ، درآمدات پر انحصار کم کرنے کیلئے گھریلو مصنوعات کو اپنائیں: جناب پیوش گوئل

ملک میں بڑھتی ہوئی کھپت  سے نئےمواقع پیدا ہوتے ہیں ، لیکن درآمدات میں اچانک اضافے کو روکنے کیلئے گھریلو صنعت کو آگے بڑھانا ہوگا، انہوں نے نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کی زیادہ سے زیادہ شرکت پر زور دیا: جناب پیوش گوئل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 MAY 2026 2:54PM by PIB Delhi

کامرس و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل  نے آج کہا کہ بھارت نے اس سال ایک   ٹریلین ڈالر کی برآمدات اور اگلے پانچ برسوں میں 2 ٹریلین ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے اور یہ حقیقی معنوں میں “آتم نربھر بھارت” (خود کفیل بھارت) کی پہچان ہوگی۔نئی دہلی میں بھارتیہ ویاپار مہوتسو کی ویب سائٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی چیلنجز کے باوجود اس سال بھارت کی برآمدات 863 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصد زیادہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ اشیا اور خدمات دونوں کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جو موجودہ عالمی حالات میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

جناب پیوش گوئل نے کہا کہ یہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مقصد ہے اور مرکزی حکومت اس کے حصول کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے دوران تقریباً 38 ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے)پر کام کیا گیا، جس سے بھارتی مصنوعات کو بڑی عالمی منڈیوں تک ترجیحی رسائی حاصل ہوگی۔ ان معاہدوں کے تحت بھارتی مصنوعات کم درآمدی ڈیوٹی پر فروخت کی جا سکیں گی، جس سے عالمی مقابلے میں فائدہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ عمان کے ساتھ ایف ٹی اے یکم جون سے نافذ ہو سکتا ہے، جبکہ دیگر حتمی معاہدے بھی ضروری کاغذی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مرحلہ وار نافذ کیے جائیں گے۔

جناب گوئل نے صنعتوں اور کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ وزارتِ تجارت کے تجارتی پورٹل کے ذریعے درآمدات کے رجحانات کا مطالعہ کریں اور مقامی پیداوار اور درآمدی متبادل کے مواقع تلاش کریں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کون سی اشیا بیرونِ ملک سے درآمد ہو رہی ہیں، اس پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہی رجحانات بھارتی کاروبار کے لیے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ وزارتِ تجارت کو ان مواقع کو زیادہ منظم انداز میں نمایاں کرنا چاہیے تاکہ صنعتیں ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ درآمدی متبادل اور برآمدات، دونوں ترقی کے دو اہم ستون ہیں، اور حکومت ان شعبوں کی بھی نشاندہی کرے گی جہاں بھارت پہلے سے مضبوط صلاحیت رکھتا ہے تاکہ کاروباری ادارے ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

جناب پیوش گوئل نے مقامی مصنوعات کے فروغ اور “سودیشی” جذبے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی اشیا کو معمولی ترجیح دینا بھی ملکی صنعت کو کمزور کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ متوسط طبقے کے ایکسپینشن کے ساتھ ملک میں کھپت میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ بھارت اپنی ضروریات خود پوری کرے، ورنہ درآمدات اس خلا کو پُر کر دیں گی۔وزیر موصوف نے تاجروں اور صارفین سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں، یعنی ملک کے اندر ہی سپلائر اور خریدار بنیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارتیہ سودیشی میلہ جیسی سرگرمیوں کے ذریعے اس جذبے کو فروغ دیا جائے تو یہ “میڈ اِن انڈیا” مصنوعات کے حق میں ایک قومی تحریک بن سکتی ہے۔

جناب پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت اب بھی کیپیٹل گڈز جیسے شعبوں میں بیرونی ممالک پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ انہوں نے راجکوٹ، جالندھر، لدھیانہ، بٹالہ اور پونے جیسے صنعتی کلسٹرز پر زور دیا کہ وہ درآمدات پر انحصار کم کر کے مقامی پیداوار میں اضافہ کریں۔

انہوں نے طبی آلات کی بڑھتی ہوئی مقامی تیاری کا بھی ذکر کیا اور وشاکھاپٹنم میں تیار کردہ سی ٹی اسکین مشین کی مثال دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی ساختہ مصنوعات کو زیادہ اپنایا جائے تو طلب بڑھے گی اور پیداوار کا دائرہ بھی وسیع ہوگا۔

جناب پیوش گوئل نے کہا کہ دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہونے کے باوجود بھارت کو ہرگز مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مسلسل بڑے اہداف حاصل کرنے، نئی سوچ اپنانے اور “وکست بھارت 2047” کے وژن کے لیے مسلسل محنت کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ وزیراعظم جناب نریندرمودی نے “امرت کال” کے لیے تصور پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتوں، کاروباری اداروں اور عوام کا جوش و جذبہ اور 140 کروڑ بھارتیوں کی اجتماعی طاقت، اس بات کا اعتماد دیتی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت بھارت کی ترقی کو روک نہیں سکتی۔بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے بھارتیہ سودیشی میلہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مقام خود بھارت کے تنوع کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ وہاں استعمال ہونے والا سامان اور مصنوعات ملک کے مختلف حصوں سے آئی ہیں۔

معیار اور پیداواریت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی چاہتے ہیں کہ ملک میں معیار بہتر ہو اور پیداواریت میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بہتر معیار اور پیکیجنگ کے بغیر بھارت عالمی منڈیوں میں مؤثر مقام حاصل نہیں کر سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی چیلنجز کے باوجود بھارت تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اس کی برآمدات بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

جناب پیوش گوئل نے زراعت اور ماہی گیری کے شعبوں کی صلاحیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارت کی زرعی برآمدات، جن میں کسانوں اور ماہی گیروں کی مصنوعات شامل ہیں، تقریباً 5 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں ویلیو ایڈیشن اب بھی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان صنعت کار ویلیو ایڈڈ شعبوں میں آئیں اور چھوٹے، درمیانے اور بڑے پیمانے پر پروسیسنگ اور مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کریں تو اس میدان میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ جب بھارت برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف بڑھتا ہے تو معیار خود بخود بہتر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی مصنوعات عالمی معیار کی برآمدی مصنوعات بن جائیں تو لوگ غیر ملکی اشیا کی طرف راغب نہیں ہوں گے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی منڈیوں میں مؤثر مقابلے کے لیے مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانا، مسابقت بڑھانا اور پیداوار کے پیمانے کو وسیع کرنا ضروری ہے۔

جناب پیوش گوئل نے کہا کہ ایم ایس ایم ای (مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز) کی تعریف کو وسعت دی گئی ہے، اور اب 500 کروڑ روپے تک ٹرن اوور رکھنے والے ادارے بھی ایم ایس ایم ای کے دائرے میں شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ کاروباری ادارے مزید بڑے ہوں اور حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیر موصوف نے منتظمین سے اپیل کی کہ وہ ملک بھر سے مینوفیکچرنگ سیکٹر سے وابستہ افراد کوبھارتیہ ویاپار مہوتسومیں مدعو کریں۔ انہوں نے پروگرام میں 1,000 کاروباری اداروں کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے تجویز دی کہ ہر ریاست سے 25 خواتین صنعت کاروں کو مدعو کیا جائے، جس سے تقریباً 700 سے 750 مزید شرکاء شامل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا بڑھتا ہوا متوسط طبقہ اور بڑھتی ہوئی کھپت تاجروں، صنعتوں اور ایم ایس ایم ای کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بے شمار مواقع پیدا کر رہی ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقامی صنعتیں ملک کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہیں تو درآمدات اس خلا کو پُر کر دیں گی۔جناب پیوش  نے اس بات پر زور دیا کہ اس مہم میں نئی نسل کو شامل کرنا ضروری ہے، جن میں نوجوان صنعت کار، اسٹارٹ اپس اور ملک بھر کے نوجوان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی متبادل اور ان مصنوعات سے متعلق مواقع، جو اس وقت بیرونِ ملک سے درآمد کی جا رہی ہیں، عوام کے سامنے پیش کیے جانے چاہئیں تاکہ لوگ مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور امکانات کو سمجھ سکیں۔

جناب گوئل نے این پی سی آئی ، جو رو پے کارڈ اور یو پی آئی چلاتی ہے ، کو انڈیا سودیشی میلے میں شامل کرنے کی بھی تجویز پیش کی ۔  انہوں نے کہا کہ یو پی آئی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن روپے کارڈ کا کافی استعمال نہیں کیا جا رہا ہے ۔  انہوں نے مشورہ دیا کہ پورے مقام پر 50 سے 100 کیوسک لگائے جائیں ، جہاں زائرین آدھار اور دیگر شناختی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے رو پے ڈیبٹ کارڈ حاصل کر سکتے ہیں اور یو پی آئی یا رو پے کارڈ کے ذریعے تمام لین دین ڈیجیٹل طریقے سے کر سکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اگر بینک اس اقدام میں مل کر کام کریں تو بھارت کے مقامی ڈیجیٹل ادائیگی نظام کے استعمال کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ بھارت منڈپم میں باقاعدگی سے نمائشیں اور بین الاقوامی پروگرام منعقد ہوتے ہیں اور اس طرح کے اقدامات پورے ملک میں زیادہ لوگوں کو روپے او ر یو پی آئی اپنانے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

جناب پیوش گوئل نے کہا کہ اس نوعیت کے چھوٹے اقدامات بھارت کے “امرت کال” کے سفر کو نئی توانائی اور نئی سمت فراہم کریں گے اور عوامی شمولیت کے ذریعے خوشحال اور ترقی یافتہ بھارت کی راہ مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جب ہر فرد ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو ملک 140 کروڑ قدم آگے بڑھ جاتا ہے۔

جناب گوئل نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ مل کربھارتیہ ویاپار مہوتسوکو کامیاب بنائیں اور پروگرام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

بھارتیہ ویاپار مہوتسو کا انعقاد 12 اگست سے 15 اگست 2026 تک ہوگا۔

ویب سائٹ کا لنک:: BharatiyaVyaparMahotsav

.......................................

) ش ح۔ ک ا۔   ع ا )

U.No. 7202


(ریلیز آئی ڈی: 2262319) وزیٹر کاؤنٹر : 9