صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی صحت سکریٹری پنیہ سلیلا سریواستو نے جواہر لعل انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (جپمر) میں نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے 12ویں جلسۂ تقسیم اسناد سے خطاب کیا
مرکزی صحت سکریٹری نے کہا کہ نرسنگ اور معاون طبی خدمات سے وابستہ پیشہ ور افراد ہندوستان کے صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں
پنیہ سلیلا سریواستو نے کہا کہ وکست بھارت 2047 کی بنیاد ایک صحت مند ہندوستان کے حصول میں مضمر ہے
جپمر کے جلسۂ تقسیم اسناد میں نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے 320 طلبہ کو ڈگریاں عطا کی گئیں، جبکہ 24 طلبہ کو تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی پر تمغے اوراینڈومنٹ انعامات سے نوازا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 MAY 2026 3:00PM by PIB Delhi
مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے تحت قومی اہمیت کے حامل ادارے جواہر لعل انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ میں آج نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کورسز کے 12ویں جلسۂ تقسیمِ اسناد کا انعقاد کیا گیا، جس سے مرکزی وزارتِ صحت کی سکریٹری پنیہ سلیلا سریواستو نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں پنیہ سلیلا سریواستو نے اس جلسۂ تقسیمِ اسناد کو فارغ التحصیل طلبہ کی زندگی کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو خدمت، ہمدردی اور قوم کی تعمیر کے لیے وقف کریں، کیونکہ ان کی خدمات ملک کے صحت کے نظام کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جواہر لعل انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ جیسے ممتاز ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ ایک ایسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں جو عزم، مہارت اور اخلاقی خدمت سے عبارت ہے اور انہیں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ان اقدار کو برقرار رکھنا چاہیے۔
ہندوستان کے صحت عامہ کے نظام کے رہنما اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ، انہوں نے قومی صحت پالیسی 2017 کا حوالہ دیا ، جس میں ایک جامع نقطہ نظر کا تصور کیا گیا ہے جس میں روک تھام ، فروغ دینے والی ، شفا بخش ، بحالی اور شفا بخش صحت کی دیکھ بھال شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر گریجویٹ طالب علم صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کے ان اہم پہلوؤں میں سے ایک یا زیادہ کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔
آیوشمان بھارت کے انقلابی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس کے چار بنیادی ستونوں کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ آیوشمان آروگیہ مندروں کا وسیع نیٹ ورک، جس کی تعداد اب 1.8 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، صحت کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں پہلے توجہ تولیدی اور بچوں کی صحت پر مرکوز تھی، اب اس کا دائرہ غیر متعدی بیماریوں کی اسکریننگ، ابتدائی تشخیص اور انتظام تک وسیع ہو چکا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مراکز کو اب کم از کم 12 جامع سروس پیکجز فراہم کرنے کا تصور کیا گیا ہے ، جن میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال ، معالج کی دیکھ بھال ، اور ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسے حالات کی اسکریننگ شامل ہیں ۔
صحت خدمات کی فراہمی میں معیار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے انڈین پبلک ہیلتھ اسٹینڈرڈز (آئی پی ایچ ایس) اور نیشنل کوالٹی ایشورنس اسٹینڈرڈز (این کیواے ایس) کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ آیوشمان آروگیہ مندر، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز اور ضلع اسپتالوں سمیت دو لاکھ سے زائد سرکاری صحت مراکز کا بنیادی ڈھانچے اور خدمات میں موجود کمیوں کے حوالے سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 64 ہزار سرکاری صحت مراکز پہلے ہی این کیو اے ایس سرٹیفکیشن حاصل کر چکے ہیں اور فارغ التحصیل طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ جن اداروں میں خدمات انجام دیں وہاں معیار کی بہتری میں فعال کردار ادا کریں۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے آیوشمان بھارت کے باقی ستونوں کا ذکر کیا، جن میں آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا(اے بی پی ایم –جے اے وائی) شامل ہے، جو مستحق افراد کو مالی تحفظ اور صحت کی یقین دہانی فراہم کرتی ہے۔ آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے تحت اے بی ایچ اے اکاؤنٹس کی تخلیق ممکن بنائی جا رہی ہے تاکہ ڈیجیٹل صحت ریکارڈز اور اعداد و شمار پر مبنی صحت خدمات کو فروغ دیا جا سکے۔ اسی طرح پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن (پی ایم-اے بی ایچ آئی ایم) کے ذریعے کریٹیکل کیئر بلاکس اور وائرل ریسرچ اینڈ ڈائگنوسٹک لیبارٹریز (وی آر ڈی ایل) کے نیٹ ورک کی توسیع جیسے اقدامات کے ذریعہ صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
سکریٹری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نرسنگ اور معاون صحت خدمات سے وابستہ پیشہ ور افراد بھارت کے صحت کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور عوامی صحت و طبی خدمات کی فراہمی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے اہم قانون سازی اصلاحات کا ذکر کیا، جن میں نیشنل نرسنگ اینڈ مڈوائفری کمیشن ایکٹ اور نیشنل کمیشن فار الائیڈ اینڈ ہیلتھ کیئر پروفیشنز ایکٹ شامل ہیں، جن کا مقصد ان شعبوں میں تعلیم، ضابطہ کاری اور پیشہ ورانہ معیار کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے صلاحیت سازی کے اہم اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں میڈیکل کالجوں کے ساتھ مشترکہ طور پر 157 نرسنگ کالجوں کا قیام شامل ہے، جبکہ حکومت آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ صحت پیشہ ور افراد تیار کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
صحت کے شعبے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی عالمی شراکت داری پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اٹلی، برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک کے ساتھ اشتراک کر رہی ہے، جس سے بھارتی صحت پیشہ ور افراد کے لیے عالمی سطح پر خدمات انجام دینے کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو عالمی صحت کے منظرنامے میں “بھارت کے سفیر” قرار دیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ جب ملک وِکست بھارت 2047 کے وژن کی طرف بڑھ رہا ہے، تو اس کی بنیاد ایک صحت مند بھارت کے قیام پر منحصر ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ فارغ التحصیل طلبہ کا یہ گروپ اس وژن کو حقیقت میں بدلنے اور ملک کو زیادہ صحت مند اور ترقی یافتہ مستقبل کی طرف لے جانے میں انقلابی کردار ادا کرے گا۔
یہ جلسۂ تقسیمِ اسناد ایک اہم تعلیمی سنگِ میل ثابت ہوا، جس میں مجموعی طور پر 320 طلبہ کو مختلف شعبوں میں ڈگریاں عطا کی گئیں۔ ان میں ایم ایس سی (نرسنگ)، ایم ایس سی (الائیڈ ہیلتھ سائنسز)، ماسٹر آف پبلک ہیلتھ (ایم پی ایچ)، بی ایس سی نرسنگ اور بی ایس سی (الائیڈ ہیلتھ سائنسز) شامل ہیں۔
فارغ التحصیل طلبہ کی تقسیم میں ایم ایس سی (نرسنگ) میں 55، ایم ایس سی (الائیڈ ہیلتھ سائنسز) میں 49، ماسٹر آف پبلک ہیلتھ میں 36، بی ایس سی نرسنگ میں 94، اور بی ایس سی (الائیڈ ہیلتھ سائنسز) میں 86 طلبہ شامل تھے۔
تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں 24 طلبہ کو اپنے متعلقہ کورسز میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے پر تمغے اور اینڈومنٹ انعامات سے نوازا گیا۔ ان میں ایم ایس سی (نرسنگ) کے 2 طلبہ، ایم ایس سی (الائیڈ ہیلتھ سائنسز) کے 8، ماسٹر آف پبلک ہیلتھ کے 2، بی ایس سی نرسنگ کا 1 اور بی ایس سی (الائیڈ ہیلتھ سائنسز) کے 11 طلبہ شامل تھے۔
اس موقع پر پدوچیری حکومت کے چیف سیکریٹری ڈاکٹر شرت چوہان، جواہر لعل انسٹی ٹیوٹ آف پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ویر سنگھ نیگی، فیکلٹی اراکین، معزز مہمانان اور طلبہ کے والدین موجود تھے۔
یہ جلسۂ تقسیمِ اسناد جپمر کی طبی تعلیم، تحقیق اور مریضوں کی دیکھ بھال میں اعلیٰ معیار کے عزم کی توثیق کرتا ہے اور ملک میں ایک مضبوط اور لچکدار صحت کے نظام کی تشکیل میں اس کے مسلسل کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.7061
(ریلیز آئی ڈی: 2261078)
وزیٹر کاؤنٹر : 10