الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

“پیٹنٹ سے پروڈکٹ تک: الیکٹرانکس اور آئی ٹی میں آئی پی کمرشلائزیشن کو تیز کرنے” کے موضوع پر منعقد قومی کانفرنس کے دوران آئی پی کیٹالسٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا آغاز کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 MAY 2026 12:23PM by PIB Delhi

بھارتی حکومت کی الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے  12 مئی 2026 کو نئی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں ایک روزہ قومی کانفرنس “پیٹنٹ سے پروڈکٹ تک: الیکٹرانکس اور آئی ٹی میں آئی پی کمرشلائزیشن کو تیز کرنے”پرقومی کانفرنس منعقد کی۔

اس کانفرنس میں پالیسی سازوں، اختراع کاروں، صنعت کے رہنماؤں، اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز، تعلیمی اداروں، محققین اور آر اینڈ ڈی اداروں نے حصہ لیا، تاکہ الیکٹرانکس اور آئی ٹی کے شعبے میں بھارت کے دانشورانہ املاک  اور اختراعی نظام کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا جا سکے۔Bottom of Form

افتتاحی اجلاس کے دوران آئی پی کیٹالسٹ  اقدام اور اس کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم باضابطہ طور پر لانچ کیا گیا۔ اس کاافتتاح جناب ایس.کرشنن، سیکریٹری، وزارتِ الیکٹرانکس و آئی ٹی نے کیا، اور اس موقع پر جناب امیتیش کمار سنہا، ایڈیشنل سیکریٹری،اور سی ای او انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن، سُمت سُنیتا ورما، گروپ کوآرڈینیٹر اور سائنسدان جی،ایم ای آئی ٹی وائی  اور پروفیسر (ڈاکٹر) اُنّت پی .پنڈت، رجسٹرار کاپی رائٹس،سی جی پی ڈی ٹی ایم ،ڈی پی آئی آئی ٹی، تجارت و صنعت کی وزارت سمیت دیگر اعلیٰ سرکاری حکام اور اہم متعلقہ فریق بھی موجود تھے۔

 

آئی پی کیٹالسٹ

آئی پی کیٹالسٹ ایک اقدام ہے جسےسی ڈی اے سی پونے کے ذریعے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ایک جامع ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام فراہم کرنا ہے جو اختراع کے مکمل سلسلےیعنی تحقیق، دانشورانہ املاک (آئی پی) کی تخلیق سے لے کر ٹیکنالوجی کی منتقلی، کمرشلائزیشن اور مارکیٹ میں نفاذ تک میں معاون ہو۔ یہ اقدام سرکاری فنڈ سے چلنے والی تحقیق و ترقی(آر اینڈڈی)اور صنعتی استعمال کے درمیان خلا کو پُر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاکہ ایم ای آئی ٹی وائی اداروں، اسٹارٹ اپس،ایم ایس ایم ایز،،ماہرین تعلیم اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

آئی پی کیٹالسٹ کی اہم خصوصیات اور معاونت:

  • ایم ای آئی ٹی وائی اداروں اور گرانٹ حاصل کرنے والے اداروں کے لیے آئی پی فائلنگ میں مالی معاونت
  • اسٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ایز کے لیے بین الاقوامی پیٹنٹ فائلنگ میں مدد
  • ٹیکنالوجی کمرشلائزیشن اور آئی پی سروسز تک یکساں ڈیجیٹل رسائی
  • پریئر آرٹ سرچ اور آئی پی ایڈوائزری خدمات
  • ٹیکنالوجی کی تیاری اور میچورٹی اسیسمنٹ
  • آئی پی کی قدر  اور کمرشلائزیشن میں معاونت
  • ٹیکنالوجی کی منتقلی اور لائسنسنگ کی سہولت
  • صنعت، ماہرین تعلیم ،اسٹارٹ اپ تعاون کے مواقع
  • ایم ای آئی ٹی وائی کی معاونت یافتہ ٹیکنالوجیز اور مقامی حل تک رسائی
  • پروٹوٹائپ سے پروڈکٹ تک ترقی اور مارکیٹ تک نفاذ میں مدد

پلیٹ فارم(cipie.in)

 

ڈیجیٹل پلیٹ فارمhttps://cipie.in ایک متحد آن لائن گیٹ وے کے طور پر کام کرے گا، جو دانشورانہ املاک (آئی پی) اور کمرشلائزیشن سپورٹ سروسز فراہم کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم ایم ای آئی ٹی وائی کے تعاون سے چلنے والے آر اینڈ ڈی اقدامات کے تحت تیار ہونے والی ٹیکنالوجیز کا ایک قومی ڈیجیٹل ریپوزیٹری بھی ہوگا، جس کے ذریعے اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز اور صنعتیں قابلِ استعمال مقامی ٹیکنالوجیز تک رسائی حاصل کر سکیں گی اور باہمی تعاون کے مواقع تلاش کر سکیں گی۔

افتتاحی خطاب میں جناب ایس. کرشنن، سیکریٹری، ایم ای آئی ٹی وائی نے کہا کہ بھارت اپنی اختراعی سفر کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کا مقصد “وکست بھارت” کا وژن حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 25–2024 میں بھارت میں 1,10,375 پیٹنٹ درخواستیں دائر ہوئیں، جن میں الیکٹرانکس اور آئی ٹی شعبے کا حصہ تقریباً 44 فیصد رہا۔ جبکہ مالی سال 26-2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 1,43,729 ہو گئی، اور الیکٹرانکس و آئی ٹی شعبے میں پیٹنٹ فائلنگ میں 52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رجحان بھارت کے مضبوط ہوتے ہوئے ٹیکنالوجی اور اختراعی نظام کی واضح علامت ہے۔

سکریٹری موصوف نے مزید کہا کہ آئی پی کیٹالسٹ ایک اہم اقدام ہے جو اختراع کو براہِ راست ٹیکنالوجی، مصنوعات اور سماجی اثرات میں تبدیل کرنے میں مدد فراہم گا، تاکہ پروٹوٹائپ سے پروڈکٹ تک کا سفر تیز کیا جا سکے۔

 

جناب امیتیش کمار سنہا، ایڈیشنل سیکریٹری، ایم ای آئی ٹی وائی اور سی ای او انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن نے کہا کہ سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اسٹریٹجک آئی پی کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی کیٹالسٹ ،اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ایز  اور صنعت کو مقامی ٹیکنالوجیز تک رسائی، تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون اور اختراع پر مبنی ترقی کو تیز کرنے میں مدد دے گا۔

محترمہ سُنیتا ورما، گروپ کوآرڈینیٹر (جی سی) نے کہا کہ یہ اقدام اختراعی نظام کے تمام اہم فریقوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، اور یہ پلیٹ فارم آئی پی خدمات کو منظم اور ڈیجیٹل طور پر قابلِ رسائی بنا کر ٹیکنالوجی کمرشلائزیشن کو فروغ دے گا۔

 

پروفیسر (ڈاکٹر) اُنّت پی. پنڈت نے کہا کہ بھارت کو اب صرف پیٹنٹ فائلنگ بڑھانے کے بجائے ان سے اقتصادی اور تکنیکی قدر حاصل کرنے پر توجہ  مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے “پیٹنٹ فائلنگ” سے “پیٹنٹ پروڈکٹ پرافٹ” کے ماڈل کی طرف منتقلی پر زور دیا، تاکہ پیٹنٹس کو عالمی سطح پر مسابقتی مصنوعات اور معاشی ترقی کی بنیاد بنایا جا سکے۔

 

کانفرنس میں مختلف موضوعات پر پینل مباحثے بھی منعقد ہوئے، جن میں لیب ٹو مارکیٹ ایکسیلیریشن، اسٹارٹ اپس اورایم ایس ایم ایز کی معاونت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، عالمی پیٹنٹ  حکمت عملی اور آئی پی کی حقیقی قدر کا تعین شامل تھا۔ آئی پی کیٹالسٹ اقدام حکومتِ ہند کے وکست بھارت وژن کے تحت مقامی اختراع کو مضبوط بنانے اور الیکٹرانکس و آئی ٹی شعبے میں لیب سے مارکیٹ تک کے سفر کو تیز کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

 

***

ش ح۔ش م۔ ش ا

U NO: 7008


(ریلیز آئی ڈی: 2260554) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: हिन्दी , English