کامرس اور صنعت کی وزارتہ
عالمی بحران کے وقت میں ہندوستانی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے: سی آئی آئی سالانہ تجارتی سمٹ میں مرکزی وزیر برائے تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل
اس سال اب تک کی سب سے زیادہ برآمدات اور سالانہ ترسیلاتِ زر سے کہیں کم تجارتی خسارہ مضبوط معاشی کارکردگی کی نشاندہی کرتے ہیں: جناب گوئل
ہندوستان کو عالمی چیلنجوں کو ایک بیداری کے پیغام کے طور پر استعمال کرنا چاہیے تاکہ معیشت کو اجتماعی طور پر مضبوط بنانے کے لیے زیادہ موثر بننے، ضیاع کو کم کرنے، پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے اور درآمدی بل میں کمی لائی جا سکے: جناب پیوش گوئل
ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے ہندوستان کو برآمدات بڑھانے کے لیے بڑی عالمی منڈیوں سے فائدہ اٹھانے میں مدد دیں گے: جناب گوئل
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کاروباری اداروں کو زیادہ موثر بنائے گی اور ہندوستانی صنعت کو اسے پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے: جناب گوئل
عالمی صلاحیت مراکز یعنی گلوبل کیپبلٹی سینٹرز (جی سی سیز) سے برآمدات سالانہ 40 سے 50 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں اور یہ ترقی کی بڑی صلاحیت رکھتے ہیں: جناب گوئل
اختراع اور عالمی مسابقت کے ذریعے 2 کھرب ڈالر کی برآمدات کا ہدف قابلِ رسائی ہے؛ 15 فیصد سالانہ برآمدی ترقی ہندوستان کو یہ ہدف حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے: جناب پیوش گوئل
ہندوستان کو "اسمبلڈ ان انڈیا" (ہندوستان میں جوڑا گیا) سے نکل کر "ڈیزائنڈ، انجینئرڈ اینڈ مینوفیکچرڈ ان انڈیا" (ہندوستان میں ڈیزائن، انجینئرڈ اور تیار کردہ) کی طرف بڑھنا چاہیے: جناب پیوش گوئل
مینوفیکچرنگ میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے اور ہندوستانی معیارات کو عالمی سطح تک بلند ہونا چاہیے: جناب گوئل
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAY 2026 5:20PM by PIB Delhi
تجارت اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی چیلنجوں کے باوجود ہندوستان کی معیشت نے لچک کا مظاہرہ جاری رکھا ہوا ہے، جس کی بنیاد مضبوط بنیادی اصول اور ہندوستان پر بڑھتا ہوا عالمی اعتماد ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت برقرار ہے اور انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ملک کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تقریباً 11 ماہ کا امپورٹ کور (درآمدی تحفظ) موجود ہے۔ ہندوستان کی برآمدی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک اس سال تقریباً 863 بلین امریکی ڈالر کی ریکارڈ برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اشیاء اور خدمات کا مجموعی تجارتی خسارہ ملک کی سالانہ ترسیلاتِ زر (ریمی ٹینسز) سے بہت کم ہے، جو مضبوط معاشی کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان نے مستقل طور پر بحرانوں کو مواقع میں بدلا ہے اور بتایا کہ ملک ہمیشہ مشکل حالات میں مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کو ہندوستان کے لیے ایک 'ویک اپ کال' (بیداری کا پیغام) سمجھا جانا چاہیے تاکہ وہ مزید موثر، پیداواری اور خود انحصار بن سکے۔
آتم نربھر بھارت کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں خود انحصاری کا نظریہ اور ہندوستانی صلاحیتوں پر اعتماد برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور صنعت کو مل کر ہندوستان کی ترقی کی کہانی کو مضبوط بنانا چاہیے۔
وزیر موصوف نے ہندوستانی صنعت کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہندوستانی صنعت کی اجتماعی ترقی ملک کے مستقبل کو مضبوط کرے گی۔ انہوں نے خود انحصاری، معیار، پیداواری صلاحیت، اختراع (انوویشن) اور اجتماعی کارروائی پر گزشتہ برسوں میں دیے گئے بیانات کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہی اصول حکومت کی معاشی سوچ کی رہنمائی کر رہے ہیں۔
جناب گوئل نے کارکردگی کو بہتر بنانے اور ضیاع کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات پر روشنی ڈالی، جس میں 2015 میں شروع کیا گیا ایل ای ڈی لائٹنگ پروگرام بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی بچت کے اقدامات سے سالانہ تقریباً 10 بلین امریکی ڈالر کے توانائی کے اخراجات بچانے میں مدد ملی ہے، جبکہ اس سے پائیداری اور ماحولیاتی تحفظ میں بھی مدد ملی ہے۔
تمام شعبوں میں زیادہ کارکردگی پر زور دیتے ہوئے جناب گوئل نے صنعت پر زور دیا کہ وہ فضول خرچی کم کرنے، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور ہر ممکن طریقے سے درآمدی بل (امپورٹ بل) کو کم کرنے پر توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے بشمول میٹرو اور ریپڈ ریل سسٹم میں سرمایہ کاری، اور صنعت کاروں و شہریوں کی شعوری کوششیں اجتماعی طور پر معیشت کو مضبوط کریں گی۔
ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی ایز) پر جناب گوئل نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں 38 ممالک کے ساتھ دستخط کیے گئے نو ایف ٹی ایز تمام ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ ہیں اور یہ ہندوستان کو سرمایہ کاری راغب کرنے اور برآمدات بڑھانے میں مدد دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممالک ہندوستان کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بجائے اس کی تکمیل کرتے ہیں اور بڑی عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔
جناب گوئل نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ، امریکہ اور یورپی یونین جیسے ممالک کی فی کس آمدنی بہت زیادہ ہے اور وہ ہندوستان سے کم قیمت پر مصنوعات تیار نہیں کر سکتے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ جہاں ان معیشتوں کے پاس مضبوط تکنیکی اور صنعتی صلاحیتیں ہیں، وہیں ہندوستان کے پاس مسابقتی مینوفیکچرنگ اور ٹیلنٹ کا فائدہ ہے، جو ملک کو ان بڑی منڈیوں سے مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھانے میں مدد دے سکتا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ان معاہدوں کا مقصد ہندوستان کی برآمدی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا اور عالمی منڈیوں میں ہندوستانی کاروبار کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے صنعت سے اپیل کی کہ وہ ان معاہدوں کا فائدہ اٹھا کر اپنی بین الاقوامی موجودگی کو بڑھائیں اور برآمدات کی شرح کو تیز کریں۔
عالمی تجارت کی بدلتی ہوئی نوعیت کا ذکر کرتے ہوئے جناب گوئل نے یہ بھی کہا کہ جدید تجارتی معاہدوں میں تیزی سے 'موبلٹی پارٹنرشپ' (نقل وحرکت کی شراکت داری) کے اجزاء شامل کیے جا رہے ہیں، جو عالمی تجارت میں ہنرمند پیشہ ور افراد اور خدمات کی نقل و حرکت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایک کروڑ سے زائد ہندوستانی خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں، جبکہ صرف یو اے ای (UAE) میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کی تعداد پچھلے 12-13 سالوں میں تقریباً 1.8 ملین سے بڑھ کر 4.5 ملین ہو گئی ہے، جو عالمی سروسز اکانومی میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔
وزیر موصوف نے صنعت پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس)، روبوٹکس اور کوانٹم کمپیوٹنگ کو ترقی اور مسابقت کے لیے 'فورس ملٹی پلائر' (طاقت بڑھانے والے عوامل) کے طور پر استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی (AI) کو محض لاگت کم کرنے کے آلے کے طور پر نہیں بلکہ کاروبار کی توسیع، کارکردگی اور مارکیٹ کی ترقی کے آلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ جناب گوئل نے سی آئی آئی جیسی صنعتی تنظیموں سے کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی تبدیلی لانے والی صلاحیت پر گہرائی سے غور کریں اور ان شعبوں کا جائزہ لیں جہاں اے آئی کاروبار کو زیادہ اسمارٹ، پیداواری اور عالمی سطح پر مسابقتی بنا سکتی ہے۔
جناب گوئل نے صنعت کو مشورہ دیا کہ وہ ملازمین کے لیے اے آئی کے اسمارٹ استعمال کی تربیت کے خصوصی پروگرام چلائیں اور کہا کہ کمپنیوں کو افرادی قوت کم کرنے کے بجائے پیداواری صلاحیت بڑھانے، بڑی مارکیٹوں پر قبضہ کرنے اور کاروبار کو وسعت دینے کے لیے اے آئی کا استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کچھ شعبوں کو تکنیکی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن ہندوستان نے ہمیشہ بدلتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے ساتھ خود کو ڈھالا ہے، جیسے کہ کال سینٹرز سے بی پی اوز ، سافٹ ویئر سروسز اور اعلیٰ درجے کے کاروباری حل کی طرف منتقلی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہاسپیٹیلٹی (مہمان نوازی)، جیولری اور کئی عوامی شعبوں کی صنعتیں مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی انسانی تخلیق اور مہارت پر زیادہ انحصار کرتی رہیں گی۔
عالمی صلاحیت مراکز گلوبل کیپبلٹی سینٹرز (جی سی سیز) کی تیز رفتار ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ تقریباً 1800 جی سی سیز پہلے ہی ہندوستان میں کام کر رہے ہیں اور آنے والے سالوں میں مزید 500 کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی سی سیز سے برآمدات سالانہ 40-50 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں اور اس وقت تقریباً 50 ارب امریکی ڈالر ہیں، جس سے تقریباً بیس لاکھ لوگوں کو براہ راست روزگار مل رہا ہے۔
جناب گوئل نے لیب میں تیار کردہ ہیروں (لیب گرون ڈائمنڈز)، قابل تجدید توانائی پر مبنی مینوفیکچرنگ اور مصنوعی جیولری جیسے شعبوں میں ابھرتے ہوئے مواقع کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ یہ شعبے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کر سکتے ہیں اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
صنعت سے اگلے پانچ سے چھ سالوں میں 2 کھرب (2 ٹریلین) ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ سالانہ تقریباً 15 فیصد برآمدی ترقی کے ساتھ یہ ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔ انہوں نے ہندوستانی صنعت کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ آٹوموبائل، اسٹیل اور اسٹارٹ اپس سمیت معیشت کے تمام شعبوں میں اختراع، مسابقت اور عالمی منڈیوں میں توسیع کے ذریعے اس ترقی کو آگے بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔
وزیر موصوف نے صنعت کے لیے چار نکاتی 'کال ٹو ایکشن' (کارروائی کی دعوت) کے ساتھ اپنی بات ختم کی اور کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ "اسمبلڈ ان انڈیا" (ہندوستان میں جوڑا گیا) سے نکل کر "ڈیزائنڈ، انجینئرڈ اینڈ مینوفیکچرڈ ان انڈیا" (ہندوستان میں ڈیزائن، انجینئرڈ اور تیار کردہ) کی طرف بڑھیں۔ انہوں نے صنعت سے کہا کہ وہ ویلیو چین (قدر کی زنجیر) میں اوپر جائیں، اعلیٰ قدر کے اضافے پر توجہ دیں اور اہم پرزوں (کمپوننٹس) میں خود انحصار بنیں۔ جناب گوئل نے تجویز دی کہ صنعتی تنظیمیں اور کمپنیاں آنے والے سالوں میں مقامی مینوفیکچرنگ، برآمدات بمقابلہ درآمدات اور خالص غیر ملکی زرمبادلہ کی کمائی جیسے شعبوں میں ترقی کی پیمائش کے لیے 'اسکور کارڈز' بنا سکتی ہیں۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، جناب گوئل نے "زیرو ڈیفیکٹ، زیرو ایفیکٹ" (کوئی نقص نہیں، کوئی منفی اثر نہیں) مینوفیکچرنگ پر توجہ دینے کی ضرورت بتائی اور کہا کہ پائیداری اور ماحولیاتی شعور ہندوستان کی مینوفیکچرنگ ترقی کا لازمی حصہ بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 'برانڈ انڈیا' کو اعلیٰ معیارات کی عکاسی کرنی چاہیے اور اسے مستقبل میں ایک عالمی معیار بننا چاہیے۔
وزیر موصوف نے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (تحقیق و ترقی) اور اختراع میں سرمایہ کاری بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور آر اینڈ ڈی میں عالمی سرمایہ کاری کو ہندوستان لانے کی اپیل کی۔ انہوں نے ہندوستانی صنعت پر زور دیا کہ وہ گھریلو معیارات کو عالمی معیارات کے برابر لائیں اور عالمی سطح پر مسابقتی نقطہ نظر اختیار کریں۔
جناب گوئل نے مزید صنعت سے اپیل کی کہ وہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں قیادت سنبھالیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح آئی ٹی انقلاب کے دوران ہندوستان نے دنیا کی قیادت کی، ہندوستانی ٹیلنٹ میں نئے دور کی ٹیکنالوجی کے دور میں بھی دنیا کی قیادت کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :6977 )
(ریلیز آئی ڈی: 2260421)
وزیٹر کاؤنٹر : 8