صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 انڈین فارماکوپیا کمیشن (آئی پی سی) نے ادویات کی حفاظت کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں ادویات کے معقول استعمال کو فروغ دینے کے لیے بہار، مہاراشٹر اور میزورم کی ریاستی فارمیسی کونسلوں کے ساتھ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں


آئی پی سی اور ریاستی فارمیسی کونسلوں کے درمیان ہونے والے ان مفاہمت ناموں کا مقصد ریاستوں میں ادویات کے معقول استعمال، فارماکوویجیلنس اور مریضوں کی حفاظت کو فروغ دینا ہے

پی وی پی آئی (فارماکوویجیلنس پروگرام آف انڈیا) کو بہتر بنانے، ادویات کے منفی اثرات   کی رپورٹنگ کو فروغ دینے اور ریاستوں میں نگرانی مراکز قائم کرنے کے لیے مفاہمت نامے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 MAY 2026 6:19PM by PIB Delhi

ملک بھر میں ادویات کی حفاظت کو مضبوط بنانے اور ان کے معقول استعمال کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے، انڈین فارماکوپیا کمیشن (آئی پی سی)، غازی آباد (جو کہ وزارتِ صحت اور خاندانی بہبود، حکومتِ ہندوستان کے تحت ایک خود مختار ادارہ ہے) نے آج آئی پی سی، غازی آباد میں بہار اسٹیٹ فارمیسی کونسل، مہاراشٹر اسٹیٹ فارمیسی کونسل، اور میزورم اسٹیٹ فارمیسی کونسل کے ساتھ تین مفاہمت ناموں پر دستخط کیے۔

ان مفاہمت ناموں پر ڈاکٹر وی کلائیسیلون (سیکرٹری و سائنسی ڈائریکٹر، آئی پی سی) نے ڈاکٹر پرکاش سنہا (صدر، بہار اسٹیٹ فارمیسی کونسل)، ڈاکٹر ایچ لعل لین ماویا (نائب صدر، میزورم اسٹیٹ فارمیسی کونسل) اور جناب اتل اہیرے (صدر، مہاراشٹر اسٹیٹ فارمیسی کونسل) کے ساتھ شریک تنظیموں کے سینئر حکام اور نمائندوں کی موجودگی میں دستخط کیے گئے۔

 

ان مفاہمت ناموں کا مقصد ادویات کے معقول استعمال کو فروغ دینے، فارماکوویجیلنس کی سرگرمیوں کو بہتر بنانے اور متعلقہ ریاستوں میں مریضوں کی حفاظت کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے آئی پی سی اور ریاستی فارمیسی کونسلوں کے درمیان اشتراک عمل کو مضبوط بنانا ہے۔

اس تعاون کے حصے کے طور پر، شراکت دار رجسٹرڈ فارماسسٹوں کے درمیان نیشنل فارمولری آف انڈیا (این ایف آئی) کی وسیع پیمانے پر تشہیر اور اسے اپنانے پر کام کریں گے تاکہ ادویات کے محفوظ، مؤثر اور شواہد پر مبنی استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ ریاستی نظامِ صحت کے تحت ہسپتالوں کی فارمیسیوں میں این ایف آئی کو بطور لازمی حوالہ جاتی دستاویز (ریفرنس ڈاکومنٹ) قائم کرنے کے لیے بھی کوششیں کی جائیں گی۔

یہ تعاون ادویات کے منفی اثرات (اے ڈی آر) کی رپورٹنگ کے نظام کو فروغ دے کر اور پی وی پی آئی کے اشتراک سے اے ڈی آر نگرانی مراکز (اے ایم سیز) کے قیام میں سہولت فراہم کر کے فارماکوویجیلنس پروگرام آف انڈیا (پی وی پی آئی) کو مزید تقویت بخشے گا۔ توقع ہے کہ اس سے ادویات کی حفاظت کے نگرانی کے نظام (سیفٹی سرویلنس سسٹم) کو مضبوطی ملے گی اور فارماسسٹوں و طبی ماہرین کی فارماکوویجیلنس کی سرگرمیوں میں فعال شرکت کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

 

 

مزید برآں، آئی پی سی اور ریاستی فارمیسی کونسلیں ادویات کے معقول استعمال، فارماکوویجیلنس اور فارماکوپیئل معیارات (ادویات سازی کے معیارات) میں پیشہ ورانہ مہارتوں کو بہتر بنانے کے لیے فارماسسٹوں کے لیے تربیتی پروگرام، ورکشاپس اور مسلسل تعلیمی اقدامات کا مشترکہ طور پر انعقاد کریں گی۔ یہ شراکت داری ادویات کی حفاظت، ریگولیٹری معیارات اور معقول فارماکوتھراپی کے شعبوں میں تحقیق اور پیشہ ورانہ تعاون کو بھی فروغ دے گی۔

ان مفاہمت ناموں میں ٹارگٹڈ آؤٹ ریچ اور آگاہی کے پروگراموں کے ذریعے ادویات کی حفاظت، فارماکوپیئل معیارات اور مریضوں کی حفاظت پر عوامی اور پیشہ ورانہ آگاہی کو مضبوط بنانے کا بھی تصور کیا گیا ہے۔ آئی پی سی تکنیکی رہنمائی، سائنسی مدد اور متعلقہ شعبے میں مہارت فراہم کرے گا، جبکہ ریاستی فارمیسی کونسلیں ان اقدامات کے مؤثر نفاذ کے لیے فارماسسٹوں، اسپتالوں اور طبی اداروں کے ساتھ تال میل کی سہولت فراہم کریں گی۔

 

یہ تعاون صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں فارماکوویجیلنس کے ٹھوس طریقوں اور بہتر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے ادویات کے محفوظ اور زیادہ مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے حوالے سے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر وی کے پال (سابق ممبر، نیتی آیوگ، حکومتِ ہند )، ڈاکٹر جی این سنگھ (مشیر برائے معزز وزیر اعلیٰ، اتر پردیش) اور پروفیسر وائی کے گپتا (صدر، ایمز کلیانی) بھی موجود تھے۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 6978 )


(ریلیز آئی ڈی: 2260419) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी