سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این ایچ اے آئی نے پانی پت–جالندھر ہائی وے منصوبے کے تنازعات میں ثالثی کے دعوؤں کا کامیابی سے دفاع کیا


دو بڑے ثالثی مقدمات، جن میں رعایتی ہولڈرز کی جانب سے 8,375 کروڑ روپے سے زائد کے دعوے اور این ایچ اے آئی کی جانب سے 2,888.64 کروڑ روپے کے کاؤنٹر کلیمز شامل تھے، کا تصفیہ ایک خالص رقم 819.96 کروڑ روپے این ایچ اے آئی کے حق میں کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 MAY 2026 5:52PM by PIB Delhi

قومی شاہراہ  پروجیکٹوں  میں عوامی فنڈز کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے این ایچ اے آئی نے این ایچ-44 کے پانی پت–جالندھر سیکشن سے متعلق دو بڑے ثالثی مقدمات میں کامیابی سے دفاع کیا ہے۔ یہ تنازعات قومی شاہراہ منصوبے کی تعمیر اور آپریشن سے متعلق رعایتی ہولڈرز کی جانب سے این ایچ اے آئی کے خلاف دائر کیے گئے بھاری مالی دعوؤں پر مبنی تھے۔ دونوں ثالثی معاملات میں مجموعی طور پر 8,375 کروڑ روپے سے زائد کے دعوے شامل تھے، جن میں مبینہ ٹرمینیشن ادائیگیاں، ٹول آمدن کے نقصان کا معاوضہ، تاخیر کے اخراجات، لاگت میں اضافے (ایسکلیشن)،  رعایت کی مدت میں توسیع، منصوبے میں تاخیر سے پیدا ہونے والے نقصانات اور دیگر مالی مطالبات شامل تھے۔

 بڑے پیمانہ پر ہونے والی سماعتوں، معاہداتی شقوں کے تفصیلی جائزے، تکنیکی ریکارڈز، شواہد اور ماہرین کی آراء کے بعد معزز ثالثی ٹریبونل نے این ایچ اے آئی کی جانب سے پیش کیے گئے متعدد اہم دلائل کو تسلیم کیا اور ادارے کے حق میں مجموعی فیصلے صادر کیے۔

پہلی ثالثی کارروائی میں 5,443 کروڑ روپے سے زائد کے دعویٰ کیے گئے تھے، جو بنیادی طور پر مبینہ طور پر ٹول وصولی کے نقصان، موقع کے نقصان، ٹرمینیشن ادائیگیوں اوررعایتی( کنسیشن) معاہدے کے تحت اسکوپ میں تبدیلی سے متعلق تنازعات پر مبنی تھے۔ این ایچ اے آئی نے ان دعوؤں کی سختی سے مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے تحت ٹرمینیشن قانونی تھی اور اس کی ذمہ داری کنسیشن ہولڈر کی خلاف ورزیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

تفصیلی فیصلے کے بعد معزز ثالثی ٹریبونل نے این ایچ اے آئی کے خلاف دائر کیے گئے بڑے مالی دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ ٹریبونل نے این ایچ اے آئی کی جانب سے پیش کیے گئے متعدد کاؤنٹر کلیمز اور دفاعی نکات کو بھی تسلیم کیا، جو معاہداتی خلاف ورزیوں، منصوبے کی ذمہ داریوں اور اخراجاتی واجبات سے متعلق تھے۔ دعوؤں اور کاؤنٹر دعوؤں کی سماعت کے بعد ٹریبونل نے این ایچ اے آئی کے حق میں تقریباً 115.73 کروڑ روپے کا خالص ایوارڈ متعلقہ سود کے ساتھ جاری کیا۔

دوسرا ثالثی مقدمہ 2,931.79 کروڑ روپے سے زائد کے دعوؤں پر مشتمل تھا۔ دعویدار نے  پروجیکٹ کے دوران مبینہ تاخیر، لاگت میں اضافے، پروجیکٹ کے رُکے رہنے کے اخراجات اور دیگر مالی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا تھا۔ این ایچ اے آئی نے ان دعوؤں کی مکمل مخالفت کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ معاہدے کے تحت کوئی قانونی حق موجود نہیں، شواہد ناکافی ہیں، وجہ اور نتیجے کا تعلق ثابت نہیں کیا جا سکا اور معاہداتی طریق کار و دستاویزی تقاضوں کی بھی عدم تعمیل ہوئی ہے۔

تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد معزز ٹریبونل نے این ایچ اے آئی کے خلاف کیے گئے زیادہ تر دعوؤں کو مسترد کیا اور ادارے کے اہم کاؤنٹر کلیمز کو تسلیم کیا۔ رقومات کے ایڈجسٹمنٹ اور سیٹ آف کے بعد ٹریبونل نے این ایچ اے آئی کے حق میں تقریباً 704.23 کروڑ روپے کا خالص ایوارڈ جاری کیا۔

اس سے قبل بھی این ایچ اے آئی نے گجرات میں این ایچ-48 کے کامریج–چھلتھن سیکشن کی چھ لیننگ سے متعلق ایک اور ثالثی مقدمے کا کامیابی سے دفاع کیا تھا، جس کے نتیجے میں عوامی فنڈز کی نمایاں بچت ہوئی۔ ٹھیکیدار کی جانب سے تقریباً 174.49 کروڑ روپے کے دعوؤں کے مقابلہ میں ثالثی ٹریبونل نے صرف 54 لاکھ روپے کا ایوارڈ جاری کیا۔

ان ثالثی مقدمات میں کامیابی این ایچ اے آئی کے اس مستقل مؤقف کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ وہ عوامی فنڈز کے تحفظ، معاہداتی ذمہ داریوں کے سخت نفاذ اور قومی شاہراہ  پروجیکٹوں کی مؤثر اور شفاف تکمیل کے لیے مسلسل پرعزم ہے۔

 

*******

ش ح- ظ الف- ن م

UR-6973


(ریلیز آئی ڈی: 2260375) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Punjabi