قبائیلی امور کی وزارت
نئی دہلی میں12 روزہ قبائلی فن میلہ 2026 اختتام پذیر؛ قبائلی فن پاروں کی براہِ راست فروخت 1.25 کروڑ روپے سے زیادہ
دس ہزار سے زائد ناظرین نے بھارت کے قبائلی فن کے ورثے کا جشن منایا؛ قبائلی فن اور تخلیقی اشتراک کے ایک نئے دور کی راہ ہموار ہوئی
प्रविष्टि तिथि:
13 MAR 2026 8:21PM by PIB Delhi
قبائلی امور کی وزارت کے زیر اہتمام ٹرائبس آرٹ فیسٹ( قبائلی فن میلہ) 2026 ، قبائلی فن ، ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کے 12 روزہ جشن کے اختتام کے موقع پرآج ٹراونکور پیلس ، کے جی مارگ نئی دہلی میں ایک شاندار اختتامی تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ۔ اس میلے میں ملک بھر کے قبائلی فنکاروں ، عصری فنکاروں ، ثقافتی گروہوں ، طلباء اور آرٹ کے شوقین افراد نے پرجوش شرکت کی ۔
نمائش میں 10,000 سے زیادہ ناظرین نے شرکت کی ، جو ہندوستان کی مالا مال قبائلی آرٹ کی روایات کے تئیں بڑھتی ہوئی عوامی دلچسپی اور ستائش کی عکاسی کرتی ہے ۔ اس میلے نے فنکارانہ تعاون ، ثقافتی تبادلے اور عوامی مشغولیت کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا ، جس میں 30 سے زیادہ قبائلی آرٹ فارموں ، 70 قبائلی فنکاروں اور 1,000 سے زیادہ فن پاروں کی نمائش کی گئی ۔ نمائش کے دوران عصری فنکاروں نے قبائلی فنکاروں کے ساتھ بھی تعاون کیا ، جس کے نتیجے میں منفرد تخلیقی تاثرات سامنے آئے جنہوں نے روایتی علم کو جدید فنکارانہ طریقوں کے ساتھ ملانے کا کام کیا ۔
اس میلے میں ورکشاپس ، براہ راست آرٹ کے مظاہرے اور انٹرایکٹو سیشن بھی پیش کیے گئے ، جس سے ناظرین قبائلی آرٹ کی شکلوں اور روایات کے ساتھ قریبی طور پر جڑے ۔ ملک کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی گروہوں کی ثقافتی پرفارمنس نے روایتی موسیقی اور رقص پیش کرکے اس تہوار کو مزید تقویت بخشی ۔

اختتامی تقریب کا آغاز معزز مہمانوں کی آمد اور نمائش کے معائنے سے ہوا، جس کے بعد قومی گیت ’’وندے ماترم‘‘ پیش کیا گیا۔ اس موقع پر جناب جُوئل اورام، معزز مرکزی وزیر برائے قبائلی امور، مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ جناب گجندر سنگھ شیخاوت، معزز مرکزی وزیر برائے ثقافت و سیاحت، محترمہ ریکھا گپتا، معزز وزیر اعلیٰ دہلی اور جناب درگاداس اوئیکے، معزز وزیر مملکت برائے قبائلی امور نے مہمانِ اعزاز ی کے طور پر شرکت کی۔ اس تقریب میں معروف اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت محترمہ جے مدان اور فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فکی) کی محترمہ جیوتسنا سوری بھی موجود تھیں، جبکہ وزارتِ قبائلی امور کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
وزارتِ قبائلی امور کی سیکرٹری محترمہ رنجنا چوپڑا نے کہا “یہ واقعی ایک کامیاب تجربہ ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ” آرٹ گیلری کے نظام، کارپوریٹ خریداروں اور ادارہ جاتی اشتراک کو یکجا کر کے ہم نے ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے جو نہ صرف قبائلی فن کو پیش کرتا ہے بلکہ قبائلی فنکاروں کی روزی روٹی کو بھی براہِ راست مضبوط کرتا ہے۔
وزارت بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر مسلسل کام کر رہی ہے، لیکن ہم نے یہ بھی محسوس کیا کہ روزگار کے ذرائع پر توجہ دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ قبائلی تناظر میں روزگار اور فن و ثقافت کے درمیان ایک نہایت باریک فرق ہے، کیونکہ ان کا فن خود ان کی شناخت اور روایات کا ایک زندہ اظہار ہوتا ہے۔
یہ ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ صرف پچھلے دس دنوں میں ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے فن پارے فروخت ہوئے ہیں۔ کچھ فنکار ایسے ہیں جن کی ماہانہ آمدنی عموماً تقریباً پچیس ہزار روپے ہوتی ہے، لیکن اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان میں سے بعض فنکار تقریباً سات لاکھ روپے تک کما کر اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ تبدیلی اس اقدام کے حقیقی اثر کو واضح کرتی ہے۔”
جناب درگاداس اوئیکے، معزز وزیر مملکت برائے قبائلی امور نے اس بات پر زور دیا کہ قبائلی فن، قبائلی برادریوں کے فطرت، ثقافت اور روایات کے ساتھ گہرے اور فطری رشتے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فن پارے صرف جمالیاتی تخلیقات نہیں بلکہ قبائلی معاشروں کی روزمرہ زندگی، عقائد اور اجتماعی یادوں میں گہرائی سے پیوست ہوتے ہیں۔ نقش و نگار، رنگوں اور داستان گوئی کی روایات کے ذریعے قبائلی فن صدیوں پر محیط علم اور تہذیبی اقدار کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی نمائشیں قبائلی صلاحیتوں کے فروغ، ثقافتی تبادلے کے فروغ اور عوام کی بڑی تعداد کے مابین قبائلی ورثے کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔ ایسے اقدامات کے ذریعے فنکاروں کو آرٹ کے شائقین، کلیکٹرز اور اداروں سے براہِ راست رابطے کا موقع ملتا ہے، جس سے قبائلی ہنرمندوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک بھر کی مختلف قبائلی برادریوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کی شرکت نے اس نمائش کو بھارت کے بھرپور قبائلی ورثے کی حقیقی نمائندہ بنا دیا۔ اس میں مختلف علاقوں سے روایتی اور عصری قبائلی فن کی غیر معمولی اور متنوع شکلیں یکجا ہوئیں، جو اس تہذیبی ورثے کی وسعت اور گہرائی کو نمایاں کرتی ہیں۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے محترمہ ریکھا گپتا، معزز وزیر اعلیٰ دہلی نے وزارتِ قبائلی امور کی ان کاوشوں کو سراہا جن کے تحت قبائلی فن و ثقافت کی خوبصورتی کو قومی دارالحکومت تک لایا گیا اور ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے فنکاروں کو ایک قیمتی پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات بھارت کی قبائلی برادریوں کی متحرک روایات، تخلیقی صلاحیتوں اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ شہریوں اور زائرین کو ان فنون کے قریب سے مشاہدے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے پلیٹ فارم ثقافتی فاصلے کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، کیونکہ یہ فنکاروں کو براہِ راست آرٹ کے شائقین، کلیکٹرز اور عوام سے جوڑتے ہیں، جس سے قبائلی تخلیق کاری اور دستکاری کے لیے قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا ہے۔ شہر کی جامع اور ہمہ گیر فضا پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی دارالحکومت ہمیشہ ان فنکاروں اور ثقافتی شخصیات کا خیرمقدم کرے گا جو اپنی روایات، کہانیوں اور فنکارانہ اظہار کے ذریعے دہلی کو مزید رنگین اور بامعنی بناتے ہیں۔
جناب گجیندر سنگھ شیخاوت، معزز مرکزی وزیر برائے ثقافت و سیاحت نے فنکاروں کو براہِ راست ناظرین، آرٹ کے شائقین اور اداروں سے جوڑنے کی کوشش کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات، جو فنکاروں اور برادریوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہیں، قابلِ تعریف بھی ہیں اور قابلِ تقلید بھی۔ انہوں نے تمام موجود فنکاروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنے فن پاروں کے ذریعے اپنے جذبات، ثقافتی ورثے، طرزِ زندگی اور روایات کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا، خواہ وہ کاغذ پر ہوں یا مختلف فنّی ذرائع کے ذریعے، اور انہیں وسیع عوام تک پہنچایا۔
انہوں نے قبائلی فن کی گہری اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی مصوری اور دیگر فنون محض بصری اظہار نہیں ہیں، بلکہ یہ زندہ دستاویزات ہیں جو قبائلی معاشروں کے علم، یادوں اور روایات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ ہر اظہار ایک معنی رکھتا ہے، جو فنکار کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے، اور ہر لکیر ایک ایسے فکری زاویے کی نمائندگی کرتی ہے جو فطرت اور اجتماعی زندگی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی فن روایتی ماحولیاتی علم، روحانی تخیل اور برادریوں کی سماجی کہانیوں کی بھرپور عکاسی کرتا ہے، جو مختلف فنّی اندازوں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس موقع پر فنکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فن کو صرف دیکھنے یا سراہنے کی چیز تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے فنکاروں کے لیے روزگار کا ایک بامعنی ذریعہ بھی بننا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سطح کے آرٹ فیسٹیول جیسے اقدامات فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پائیدار روزگار کے مواقع سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایسے میلوں کو ہر سال باقاعدگی سے منعقد کیا جائے اور انہیں مختلف قومی فورموں اور اداروں کے اشتراک سے مزید مضبوط بنایا جائے، تاکہ ان کی رسائی، اثر اور نمایاں حیثیت پورے ملک میں مزید وسعت اختیار کرے۔
جناب جُوئل اورام، معزز مرکزی وزیر برائے قبائلی امور نے کہا، “بھارت کی قبائلی برادریوں کے پاس فن، ثقافت، ورثے، پکوان کی روایات اور روایتی علم کے ایسے بے مثال خزانے موجود ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔ یہ زندہ روایات فطرت، برادری اور اس دانائی کے ساتھ گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔
معزز وزیر اعظم کے وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم قبائلی برادریوں کے لیے پائیدار اور باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ وزارت اور شراکت دار اداروں کی کاوشوں کے نتیجے میں ملک بھر سے فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا اور اس اقدام کو کامیابی سے ہمکنار کیا گیا۔ یہ صرف آغاز ہے اور ہم آئندہ بھی ایسے اقدامات جاری رکھیں گے، جو معزز وزیر اعظم کے وِکست بھارت کے وژن سے ہم آہنگ ہوں گے۔”
تقریب کے دوران ، پانچ زمروں میں قبائلی فن میں بہترین کارکردگی اور تعاون کے لیے فنکاروں کو اعزاز سے نوازا گیا:
- بہترین فنکار برائے قبائلی فن – جناب راجیش چیتیہ وانگڈ
- قبائلی فن میں نوجوان کامیاب فنکار – جناب دھنیشور دھروے اور مس سُدھا کماری
- قبائلی فن میں جدت طرازی – مس لیشرم میمبی دیوی
- قبائلی فن کو دوبارہ زندہ کرنے والے فنکار – جناب بالاسبرامنی
- قبائلی فن میں تاحیات خدمات – محترمہ پتلی گنجو
نمائش کے دوران سُریش چندر پونگاتی، راجیش چیتیہ وانگڈ، راجکمار سوڈی، منگلا بائی، بھوری بائی، انل چیتیہ وانگڈ، کنگسن سوئگاریاری، رام سنگھ اُرویتی، وینکٹ رامان سنگھ شَیام اور سکھنندی ویام جیسے فنکاروں نے خریداروں کو خاص طور پر متوجہ کیا اور ان کے فن پاروں کو عوام کی جانب سے بھرپور توجہ حاصل ہوئی۔
اس میلے نے قبائلی فنکاروں اور ان کے فن پاروں کے فروغ میں بھی ایک اہم سنگِ میل درج کیا، جہاں 12 روزہ نمائش کے دوران 800 سے زائد فن پارے فروخت ہوئے اور براہِ راست فروخت کی مالیت1.25 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔ آرٹ کے شائقین، کلیکٹرز اور ناظرین کی جانب سے ملنے والا بھرپور ردِعمل قبائلی فن کے بڑھتے ہوئے اعتراف کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف قبائلی فنکاروں کو معاشی سہارا ملا بلکہ انہیں معاصر آرٹ کے منظرنامے میں بہتر نمایاں مقام بھی حاصل ہوا۔
پروگرام کا اختتام جناب اننت پرکاش پانڈے، جوائنٹ سیکرٹری، وزارتِ قبائلی امور کے شکریہ کے کلمات کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے تمام شراکت دار اداروں، شریک فنکاروں اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا جنہوں نے اس میلے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ناظرین، آرٹ کے شائقین اور کلیکٹرز کے پُرجوش ردعمل کی بھی تعریف کی، جس نے اس تقریب کو قبائلی فن و ثقافت کا ایک بامعنی جشن بنانے میں مدد فراہم کی ۔













************
ش ح۔م م۔ش ت
(U: 6906)
(रिलीज़ आईडी: 2259802)
आगंतुक पटल : 24