سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹی بی مکت بھارت‘ کے ہدف کی طرف ایک اور قدم’عالمی یوم تپ دق‘ کے موقع پرہندوستان نے اپنی نوعیت کا پہلا عالمی کلینیکل مطالعہ شروع کیا،جس میں روایتی آیوروید کوٹی بی کےعلاج کےجدید طریقۂ کار کے ساتھ مربوط کیا گیا ’: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


جدید سائنس اور روایتی علم ٹی بی کے جامع اور بہتر نتائج پر مبنی علاج کے لیے یکجا ہو رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

مریض پر مرکوز اور مربوط حکمت عملی ٹی بی کے خاتمے کی کلید ؛جدت کے ذریعہ ہندوستان میں ٹی بی کے معاملوں میں گراوٹ دیکھی جارہی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

سائنس کے تمام شعبوں اور حکومت کی مکمل شمولیت پر مبنی طریقہ کار آیوروید کی سائنسی توثیق اور ٹی بی کے علاج کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

آیوروید میں  ٹی بی کے علاج میں معاون طریقۂ علاج کے طور پر بے پناہ امکانات موجود ہیں، یہ مطالعہ ٹی بی کے خاتمے کے لیے ہندوستان  کے مکمل عزم کی عکاسی کرتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAR 2026 5:30PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 24 مارچ:  ہندوستان نے آج دنیا کے پہلے اور تاریخی کلینیکل مطالعے کا اعلان کیا ہے۔ اس مطالعے میں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر معیاری اینٹی ٹیوبرکلوسس (اے ٹی ٹی) علاج کے معاون کے طور پر آیوروید کا سائنسی طور پر جائزہ لیا جائے گا۔ سائنس و ٹیکنالوجی، ارتھ سائنسز کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیرمملکت برائے پی ایم او، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمہ جوہری توانائی اور محکمہ خلا ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اسے جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور روایتی علم کے نظاموں کا ایک منفرد امتزاج قرار دیا، جس کے ذریعے  ٹی بی کے مسئلے کا حل جامع اور مریض م پرمرکوز انداز میں  تلاش کیا جائے گا۔

ٹی بی ک عالمی دن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان میں عالمی ٹی بی  کے مریضوں کا تقریباً 25 فیصد حصہ موجود ہے۔  ہندوستان میں 2024 میں ٹی بی کے  معاملوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اب فی ایک لاکھ آبادی میں تقریباً 187 معاملے  آرہے ہیں، جو 2015 کے مقابلے میں 21 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ٹی بی کے کیسز میں یہ کمی ہندوستان کی پرعزم اور جدت پر مبنی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ہم سب مل کر ٹی بی سے پاک  ہندوستان کے ہدف کی جانب کام جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملک کی درست سمت میں مسلسل پیش رفت کی علامت ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان نے  تپ دق کے خاتمے کے لیے ایک پرجوش اور تیز رفتارحکمت عملی اپنائی ہے، جس کے تحت ٹی بی کے خاتمے کے قومی پروگرام کے تحت جلد تشخیص، تمام مریضوں میں ادویات کی حساسیت کی جانچ، ڈیجیٹل علاج کی پابندی کی ٹیکنالوجیز اور مریض مرکوز نگہداشت کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

 ٹی بی کے علاج کی تاریخی پیش رفت کو یاد کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ایک وقت تھا، جب ٹی بی کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں تھا اور مریضوں کو سینیٹوریمز میں الگ تھلگ رکھا جاتا تھا، جہاں وہ خوف اور سماجی بدنامی کا سامنا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ علاج کی عدم دستیابی کے باعث  ٹی بی نے ادبیات، ثقافت اور فلموں میں بھی جگہ بنا لی تھی۔ اینٹی ٹیوبرکلر ادویات کی آمد اور طبی سائنس کی ترقی کے ساتھ یہ بیماری بتدریج قابلِ علاج بن گئی، جو صحت عامہ میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

وزیر نے کہا کہ اس پیش رفت کے باوجود ٹی بی اب بھی  مشکل چیلنج ہے۔ مریض اکثر علاج کے دوران زہریلے اثرات، غذائی کمی، مدافعتی نظام کی کمزوری اور مائیکروبایولوجیکل علاج کے بعد بھی طویل مدتی پھیپھڑوں کی خرابی کا شکار رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادویات کے خلاف مزاحم ٹی بی کا بڑھتا ہوا بوجھ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے اور اس کے لیے جدید اور کثیر شعبہ جاتی حل کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ٹی بی کو الگ تھلگ بیماری کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ متعدی اور غیر متعدی بیماریاں بڑھتی ہوئی تعداد میں ایک ساتھ پائی جاتی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتی ہیں۔ انہوں نے  ٹی بی اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کے درمیان باہمی تعلق کی طرف اشارہ کیا، جہاں ہر بیماری دوسری کو مزید بگاڑ سکتی ہے، جس کے باعث مؤثر علاج کے لیے مربوط حمت عملی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

وزیر نے  موصوف نے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ڈی بی ٹی  تپ دق سے متعلق تحقیق میں مختلف اقدامات کی قیادت کر رہا ہے، جن میں میزبان اور جراثیم کے باہمی تعلق، ادویات کی دریافت، ویکسین کی تیاری اور جینومک نگرانی شامل ہیں۔ انہوں نے ری پورٹ انڈیا پروگرام کا ذکر کیا، جو ٹی بی  کےتحقیق کے اہم ترین کنسورشیمز میں سے ایک ہے، جس میں 4,500 سے زائد ٹی بی مریضوں اور 5,000 سے زیادہ گھریلو رابطوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس سے حاصل ہونے والے شواہد نے عالمی پالیسی فریم ورک، بشمول عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی غذائیت اور  ٹی بی سے متعلق رہنما اصولوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیرموصوف نے ٹی بی کے خاتمے کے لیے ڈیٹا پر مبنی تحقیقاتی پروگرام کا بھی ذکر کیا، جس کے تحت متعدد اقدامات شروع کیے گئے ہیں، جن میں ’انڈین ٹیوبرکلوسس جینومک سرویلنس کنسورشیم‘ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت مائیکوبیکٹیریم ٹیوبرکلوسس کے 32,000 سے زائد کلینیکل اسٹرینز کی ترتیب (سیکوینسنگ) کی جا رہی ہے، جس سے ادویات کی دریافت، تشخیص اور ادویات کے خلاف مزاحم ٹی بی کی روک تھام میں مدد کے لیے ایک قیمتی قومی ذخیرہ تیار کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کامیاب علاج کے بعد بھی کئی ٹی بی مریض کمزوری، وزن میں کمی اور معیارِ زندگی میں کمی جیسے مسائل کا سامنا کرتے رہتے ہیں، جو معاون اور میزبان-ہدایت شدہ علاج کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔ وزیر نے کہا کہ خصوصی طور  پر غذائیت، قوت مدافعت اور مجموعی صحت یابی کو بہتر بنانے کے حوالے سے ہندوستان کی آیوروید سے مالا مال وراثت ایسے مداخلتی طریقۂ علاج کے لیے منفرد مواقع فراہم کرتی ہے ۔

حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے اور وزارت آیوش کے درمیان مشترکہ کلینیکل مطالعے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف  ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر اپنی نوعیت کا پہلا ہے، کیونکہ اس کا مقصد روایتی طب کا سخت سائنسی جانچ کے ذریعے جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مطالعہ “مکمل سائنس” کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت بایوٹیکنالوجی اور آیوروید کو یکجا کیا جا رہا ہے؛ “مکمل حکومت” کے تحت مختلف وزارتوں کے درمیان تعاون کیا جا رہا ہے؛ اور “پورے ملک ” کی شمولیت کے ذریعے ملک بھر کے ممتاز اداروں میں 1,200 سے زائد مریض اس میں شریک ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  ٹی بی اتنا سنگین چیلنج ہے کہ اسے صرف حکومت اکیلے حل نہیں کر سکتی اور نہ ہی اسے صرف صحت کے نظام یا خاندانوں تک محدود رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے معاشرے کی مشترکہ کوشش پر زور دیا ،جس میں کمیونٹیز، سول سوسائٹی تنظیمیں اور آگاہی مہمات شامل ہوں تاکہ ٹی بی سے وابستہ بدنامی کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مریض اکثر سماجی تصورات کی وجہ سے اپنی علامات چھپا لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں تشخیص اور علاج میں تاخیر ہوتی ہے۔ وزیر نے زور دیا کہ طبی علاج کے ساتھ ساتھ غذائی بحالی، طرزِ زندگی میں بہتری اور کمیونٹی سطح پر شمولیت پر بھی توجہ دینا ضروری ہے، کیونکہ یہ عوامل مکمل اور پائیدار صحت یابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس تقریب میں حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت آیوش کے درمیان مشترکہ پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ اس میں مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے وزارت آیوش جناب پرتاپ راؤ جادھو؛ محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی میں سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے؛ وزارت آیوش میں سکریٹری ویدیا راجیش کوٹیچا؛ سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان آیورویدک سائنسز (سی سی آر اے ایس) کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ویدیا رابینارائن آچاریہ اور بریکس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف امیونولوجی (این آئی آئی)کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر دیباسیس موہنتیسمیت ملک بھر کے ممتاز اداروں کے سینئر سائنسدان، محققین اور نمائندے شریک تھے۔

سی سی آر اے ایس کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ویدیا رابینارائن آچاریہ نے مطالعے کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام وزارت آیوش اور محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے درمیان 25 مئی 2022 کو دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت تیار کیا گیا ہے اور یہ مشاورت، پروٹوکول کی حتمی تیاری اور منظوری کے مراحل سے گزرتے ہوئے آگے بڑھا ہے۔ اس مطالعے میں آٹھ اداروں میں 1,250 نئے تشخیص شدہ ٹی بی مریضوں کو شامل کیا جائے گا اور اس میں آیوروید کو معیاری علاج کے ساتھ بطور معاون علاج کے طور پر جانچا جائے گا، جس میں جسمانی وزن، غذائی نتائج، بیماری کی پیش رفت، معیار زندگی، حفاظت اور برداشت جیسے پہلوؤں پر توجہ دی جائے گی۔

بی آر آئی سی –این آئی آئی کے ڈائریکٹر، ڈاکر دیباسیس موہنتی نے کہا کہ یہ مطالعہ تپِ دق سے وابستہ کیشیکسیا (cachexia) کو ایک مدافعتی-میٹابولک حالت کے طور پر بھی جانچے گا۔ اس مقصد کے لیے جدید سائنسی آلات جیسے ڈی  ای ایکس اے،  ایم آر آئی، مدافعتی پروفائلنگ، میٹابولومکس اور سنگل سیل آر این اے سیکوینسنگ استعمال کیے جائیں گے تاکہ جسمانی ساخت، مدافعتی نظام کے افعال اور توانائی کے میٹابولزم میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھا جا سکے اور یہ جانچا جا سکے کہ مربوط علاجی مداخلتیں صحت یابی اور طویل مدتی نتائج پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔

وزارت آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب پرتاپ راؤ جادھو نے کہا کہ یہ اقدام صحت عامہ کے اس وسیع وژن کی عکاسی کرتا ہے ،جس میں توجہ صرف انفیکشن کے علاج تک محدود نہیں بلکہ آیوروید کو جدید طب کے ساتھ مربوط کر کے مکمل صحت یابی، بہتر غذائیت اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے پر بھی دی جاتی ہے۔

محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی  (ڈی بی ٹی) کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے نے کہا کہ یہ پروگرام ٹی بی تحقیق میں ڈی بی ٹی کے وسیع کام پر مبنی ہے، جس میں تشخیص، ویکسین کی تیاری اور کوہورٹ اسٹڈیز شامل ہیں اور یہ مربوط اور مریض مرکوز صحت کی دیکھ بھال کے لیے شواہد فراہم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

اختتام پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  ٹی بی کے خلاف جنگ کے لیے ہر سطح پر جدت، انضمام اور اجتماعی ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ہندوستان کو ٹی بی سے پاک ملک بنانے کے سفر کو تیز کریں گے اور ساتھ ہی روایتی دانش اور جدید سائنس کو یکجا کرنے کی عالمی مثال قائم کریں گے۔

تصویر: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ منگل کے روز نئی دہلی کے وگیان بھون میں’ٹی بی کے عالمی دن‘ کے موقع پر منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے۔

 

***

ش ح ۔م ع ا۔  ن ع

U. No.6813


(ریلیز آئی ڈی: 2259085) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: हिन्दी , English