سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
بزرگوں کی آبادی میں اضافہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 MAR 2026 4:11PM by PIB Delhi
آبادی کے قومی کمیشن کے تحت قائم کردہ آبادی کے تخمینوں کے تکنیکی گروپ کی رپورٹ کے مطابق بڑی عمر کی آبادی (60 سال اور اس سے زائد) کا تناسب 2011 میں 10 کروڑ سے بڑھ کر 2036 میں 23 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے ۔ یعنی اس کا مجموعی آبادی میں حصہ 8.4 فیصد سے بڑھ کر 14.9 فیصد ہو جائے گا۔ اسی دوران شرح پیدائش میں کمی کے باعث 15 سال سے کم عمر آبادی کا تناسب 2011 میں 30.9 فیصد سے کم ہو کر 2036 میں 20.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
نیتی آیوگ نے اپنی پالیسی رپورٹ “انڈیا میں بزرگوں کی دیکھ بھال میں اصلاحات - سینئر کیئر پیراڈائم کی نئی تشکیل” میں جاری آبادیاتی تبدیلی کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا ہے، جن میں روزگار، سماجی تحفظ، صحت کی خدمات اور معیشت پر اس کے اثرات شامل ہیں۔
حکومت نے بزرگ افراد کی ضروریات کو پورا کرنے اور ان کی دیکھ بھال، سماجی تحفظ اور صحت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:
- سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی وزارت ملک بھر میں بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع اسکیم یعنی اٹل وایو ابھیودے یوجنا (اے وی وائی اے وائی) نافذ کر رہی ہے۔ اس اسکیم کی تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔
- وزارت صحت و خاندانی بہبود نے اکتوبر 2024 میں آیوشمان بھارت – پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی – پی ایم جے اے وائی) کی توسیع کی ہے تاکہ 70 سال اور اس سے زائد عمر کے تمام بزرگ شہریوں کو، ان کی سماجی و معاشی حیثیت سے قطع نظر، سالانہ 5 لاکھ روپے تک کا مفت صحت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ وزارت اس کے ساتھ ساتھ نیشنل پروگرام فار ہیلتھ کیئر آف دی ایلڈرلی (این پی ایچ سی ای) بھی نافذ کر رہی ہے تاکہ بزرگ افراد کے مختلف صحت سے متعلق مسائل کو حل کیا جا سکے۔ اس کی تفصیلات ضمیمہ-II میں دی گئی ہیں۔
- دیہی ترقی کی وزارت نیشنل سوشل اسسٹنس پروگرام (این ایس اے پی) نافذ کر رہی ہے، جس کے تحت مستحق بزرگ شہریوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کی تفصیلات ضمیمہ-III میں دی گئی ہیں۔
- مالیاتی خدمات کا محکمہ اٹل پنشن یوجنا (اے پی وائی) نافذ کر رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 18 سے 40 سال کی عمر کے سبسکرائبرز کو 60 سال کی عمر حاصل کرنے کے بعد ان کی شراکت کی سطح کے مطابق ضمانت شدہ ماہانہ پنشن فراہم کی جاتی ہے، جو عمر بھر جاری رہتی ہے۔ اس کی تفصیلات ضمیمہ-IV میں دی گئی ہیں۔
حکومت نے قومی نوجوان پالیسی 2014 کے ذریعے ایک طویل مدتی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس میں تعلیم، ہنر مندی، روزگار اور کاروباری صلاحیتوں پر توجہ دی گئی ہے تاکہ آبادیاتی منافع (ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ) سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ مختلف ہنرمندی، صحت اور نوجوانوں کی شمولیت سے متعلق اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ ایک مؤثر اور مستقبل کے لیے تیار افرادی قوت کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ کوششیں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، افرادی قوت کی دستیابی بڑھانے اور آبادیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز کو متوازن انداز میں حل کرنے کے لیےکی گئی ہیں۔
ضمیمہ-I
اے وی وائی اے وائی اسکیم کے تحت اجزاء کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- آئی پی ایس آر سی(بزرگ شہریوں کیلئے مربوط پروگرام)- آئی پی ایس آرسی کے تحت تنظیموں کو گرانٹ ان ایڈ فراہم کی جاتی ہے تاکہ بزرگ شہریوں کے گھروں (سینئر سی ایچ)، مسلسل نگہداشت کے مراکز (سی سی ایچ) ، موبائل میڈیکل یونٹس (ایم ایم یو) اور فزیوتھراپی کلینکس کی دیکھ بھال کی جا سکے۔ اس اسکیم کا مقصد بزرگ شہریوں، خاص طور پر غریب اور محتاج بزرگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے، جس کے تحت رہائش، خوراک، طبی نگہداشت اور تفریحی مواقع جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور بڑھاپے کو فعال اور مفید بنانےکی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ محکمہ نے ملک بھر میں تمام سینئر سٹیزن ہومز کے لیے قابل رسائی بنیادی ڈھانچے کو یقینی بنانے کے لیے کم از کم معیارات بھی مقرر کیے ہیں۔
- ایس اے پی ایس آر سی (بزرگ شہریوں کیلئے ریاستی عملی منصوبہ) - حکومت ہند بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود میں ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کے اہم اور بنیادی کردار کو تسلیم کرتی ہے۔ ہر ریاست/یوٹی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بزرگ شہریوں کی فلاح کے لیے خود اپنا ریاستی ایکشن پلان تیار کرے۔ ایس اے پی ایس آر سی کے تحت وزارت ریاستوں/یوٹی کو ان کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے فنڈز فراہم کرتی ہے۔ ایس اے پی ایس آر سی کا نفاذ مالی سال 2019-20 سے کیا جا رہا ہے۔
- آر وی وائی(راشٹریہ ویوشری یوجنا)- اس اسکیم کا مقصد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے بزرگ شہریوں اور ان افراد کو، جن کی خاندانی آمدنی 15,000 روپے ماہانہ سے زیادہ نہ ہو، جسمانی معاون آلات اور معاون رہائشی آلات فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم پر 2017 سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
- ایلڈرلائن— بزرگ شہریوں کے لیے قومی ہیلپ لائن (14567) تشکیل دی گئی ہے، جس کا مقصد ایکٹ، مختلف مرکزی و ریاستی حکومتوں کی اسکیموں اور پروگراموں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور ملک بھر میں بزرگ شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
- بزرگوں کی (گھر میں) دیکھ بھال اور زندگی گزارنے میں مددکا نظام (پی ایم – ایس پی ای سی آئی اے ایل) — اس کا بنیادی مقصد جیریاٹرک (بزرگوں کی دیکھ بھال) کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مانگ اور دستیاب سہولتوں کے درمیان خلا کو پر کرنا ہے، تاکہ بزرگ شہریوں کو زیادہ پیشہ ورانہ خدمات فراہم کی جا سکیں اور اس شعبے میں پیشہ ور نگہداشت کرنے والوں کا ایک منظم کیڈر تیار کیا جا سکے۔
- بزرگ شہریوں کے لیے دیگر اقدامات — صحت مند اور بڑھتے ہوئے بڑھاپے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ملک بھر میں مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ مجوزہ اقدامات بزرگ افراد کو علم کی تعمیر کے عمل میں شامل کرنے کے لیے ہیں جو معاشرے کے لیے مجموعی طور پر مفید ہو سکتا ہے۔
- سینئر کیئر ایجنگ گروتھ انجن (ایس اے جی ای)— اس کا بنیادی مقصد بزرگ شہریوں کے عام مسائل کے لیے جدید اور غیر روایتی حل کو فروغ دینا ہے۔ اس کے تحت ایسے اختراعی اسٹارٹ اپس کی نشاندہی اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو بزرگوں کی فلاح و بہبود کے لیے مصنوعات، عمل اور خدمات تیار کریں۔
ضمیمہ-II
این پی ایچ سی ای حکومت کی بین الاقوامی اور قومی ذمہ داریوں کی ایک عملی تعبیر ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کے معذور افراد کے حقوق کے کنونشن (یو این سی آر پی ڈی)، حکومت ہند کی جانب سے 1999 میں منظور کی گئی بزرگ افراد کے لیے قومی پالیسی (این پی او پی) اور “والدین اور بزرگ شہریوں کی کفالت و بہبود ایکٹ، 2007” کی دفعہ 20 کے تحت طبی نگہداشت سے متعلق دفعات میں تصور کیا گیا ہے۔ این پی ایچ سی ای کا مقصد بزرگ افراد کو قابل رسائی، سستی اور اعلیٰ معیار کی طویل مدتی، جامع اور مخصوص صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
پروگرام کے اجزاء:
- نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کمپوننٹ: صحت کی بنیادی اور ثانوی سطح کی خدمات کی فراہمی ضلع اسپتالوں (ڈی ایچ) ، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز (سی ایچ سی)، پرائمری ہیلتھ سینٹرز (پی ایچ سی) ، سب سینٹر/ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹرز کے ذریعے کی جاتی ہے۔
- ٹیریٹئری کمپوننٹ: (راشٹریہ ورشٹھ جن سواستھ یوجنا) یہ خدمات ریجنل جیریاٹرک سینٹرز (آر جی سیز) کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں، جو 17 میڈیکل کالجوں میں قائم ہیں اور دو نیشنل سینٹرز آف ایجنگ (این سی ایز) بھی شامل ہیں۔ ایک ایمس، انصاری نگر، نئی دہلی میں اور دوسرا مدراس میڈیکل کالج، چنئی میں۔
- تحقیق: لانگیٹیوڈنل ایجنگ اسٹڈی ان انڈیا (ایل اے ایس آئی) پروجیکٹ :— ایل اے ایس آئی بھارت میں بزرگ افراد پر مبنی ایک قومی نمائندہ سروے ہے جو انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن سائنسز (آئی آئی پی ایس)، ممبئی کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔
خدمات کا پیکیج: اس پروگرام میں جیریاٹرک (بزرگوں کی) صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے دو اجزاء شامل ہیں، یعنی ضلع/سب ڈسٹرکٹ سطح کا جزو اور ٹیریٹئری سطح کا جزو۔ دونوں سطحوں پر بزرگ افراد کو فراہم کی جانے والی خدمات کا پیکیج درج ذیل ہے۔
سب سینٹر:
- صحت مند بڑھاپے، ماحولیاتی تبدیلیوں، غذائی ضروریات، طرز زندگی اور رویّوں میں تبدیلی سے متعلق صحت کی تعلیم فراہم کرنا۔
- گھر میں محدود یا بستر پر موجود بزرگ افراد پر خصوصی توجہ دینا اور معذور بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے خاندان کے افراد/نگہداشت کرنے والوں کو تربیت فراہم کرنا۔
پرائمری ہیلتھ سینٹر: تربیت یافتہ میڈیکل آفیسر (ایم او) کے ذریعے ہفتہ وار جیریاٹرک کلینک کا انعقاد۔ خدمات میں بزرگ افراد کی صحت کا معائنہ اور سادہ طبی ٹیسٹس جیسے خون میں شکر (بلڈ شوگر) وغیرہ کی جانچ شامل ہوں گے۔
کمیونٹی ہیلتھ سینٹر:
- سی ایچ سیز پر تربیت یافتہ عملے اور بازآبادکاری کارکنان کے ذریعے دو ہفتہ وار جیریاٹرک کلینک اور بحالی خدمات کا انتظام کیا جائے گا۔
- بستر پر موجود بزرگ افراد کے لیے بازآبادکاری کارکنان کے ذریعے گھریلو دورے کیے جائیں گے اور ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے خاندان کے افراد کو مشاورت فراہم کی جائے گی۔
ضلع اسپتال:
- بزرگ مریضوں کے لیے مخصوص جیریاٹرک او پی ڈی خدمات، 10 بستروں پر مشتمل جیریاٹرک وارڈ کے ذریعے داخل مریضوں کی سہولت، لیبارٹری تحقیقات اور بحالی کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔
- یہاں سی ایچ سیز / پی ایچ سیز وغیرہ سے ریفر کیے گئے بزرگ مریضوں کو علاج فراہم کیا جائے گا اور شدید نوعیت کے کیسز کو ٹیریٹئری سطح کے اسپتالوں میں ریفر کیا جائے گا۔
ٹیریٹئری سطح
(اے) ریجنل جیریاٹرک سینٹرز:
- پیچیدہ اور سنگین جیریاٹرک کیسز کے لیے ٹیریٹئری سطح کی خدمات فراہم کرنا، جو میڈیکل کالجز، ضلع اسپتالوں اور نچلی سطح کے مراکز سے ریفر کیے جاتے ہیں۔
- جیریاٹرک میڈیسن میں پوسٹ گریجویٹ کورسز کا انعقاد کرنا۔ ہر آر جی سی کو ہر سال 2 پوسٹ گریجویٹس (ایم ڈی جیریاٹرکس) تیار کرنے ہیں۔
- منتخب ضلع اسپتالوں اور میڈیکل کالجز کے تربیت دینے والے اساتذہ کو تربیت فراہم کرنا۔
- تربیتی ماڈیولز، رہنما خطوط اور آئی ای سی مواد تیار کرنا اور ان کو اپ ڈیٹ کرنا۔
- بزرگوں سے متعلق مخصوص بیماریوں پر تحقیق کرنا۔
(بی) نیشنل سینٹر آف ایجنگ:
- اعلیٰ سطح کی ٹیریٹئری نگہداشت، جس میں طبی اور جراحی شعبوں پر مشتمل ملٹی ڈسپلنری کلینیکل خدمات شامل ہوں۔
- مختلف طبی شعبوں میں خصوصی او پی ڈی نگہداشت فراہم کرنا۔ خصوصی کلینکس جیسے میموری کلینک، فال اینڈ سنکوپ کلینک، فریائل بزرگ کلینک، ایڈز اور معاون آلات کا کلینک، امپلانٹس اور کاسمیٹک کلینک وغیرہ۔
- ڈے کیئر سینٹر میں درج ذیل سہولیات شامل ہوں: تشخیصی معائنے، بحالی (ریہیبلیٹیشن)، ریسپائٹ کیئر، ڈیمینشیا کی دیکھ بھال اور کنٹیننس کیئر۔
- ان پیشنٹ کیئر میں شامل ہیں: انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) ، فوری بحالی، تشخیصی و علاجی خدمات، اور طویل المدتی بحالی کی خدمات۔
- جیریاٹرک میڈیسن کے تمام ذیلی شعبوں میں انسانی وسائل کی ترقی۔
- ملک میں عام پائی جانے والی بزرگوں کی بیماریوں کے لیے شواہد پر مبنی علاجی پروٹوکولز تیار کرنا۔
ضمیمہ-III
این ایس اے پی پروگرام کے تحت، بوڑھے افراد، بیوہ خواتین اور معذور افراد جو خط غربت ( بی پی ایل)سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں اور این ایس اے پی رہنما خطوط میں مقرر کردہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہوں، کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ معاونت پنشن کی صورت میں 200 روپے سے 500 روپے ماہانہ تک ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ایسے خاندان کے کفیل کی وفات کی صورت میں، سوگوار خاندان کو 20,000 روپے کی یکمشت مالی امداد بھی دی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے ایک جزو کے طور پر اندرا گاندھی نیشنل اولڈ ایج پنشن اسکیم کے تحت 60 سے 79 سال کی عمر کے افراد کو 200 روپے ماہانہ اور 80 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو 500 روپے ماہانہ مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
ضمیمہ-IV
مالیاتی خدمات کا محکمہ اٹل پنشن یوجنا (اے پی وائی) نافذ کر رہا ہے، جو 09 مئی 2015 کو اس مقصد کے ساتھ شروع کی گئی کہ تمام بھارتی شہریوں، خاص طور پر غریب، کمزور اور غیر منظم شعبے کے مزدوروں کے لیے ایک عالمی سماجی تحفظ کا نظام قائم کیا جا سکے۔ یہ اسکیم 18 سے 40 سال کی عمر کے تمام بھارتی شہریوں کے لیے کھلی ہے جن کے پاس بینک یا پوسٹ آفس میں بچت کھاتہ موجود ہو۔ غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو بہتر طور پر ہدف بنانے کے لیے، یکم اکتوبر 2022 سے انکم ٹیکس ادا کرنے والے افراد اس اسکیم میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہوں گے۔ اس اسکیم کے تحت سبسکرائبر کو منتخب کردہ پنشن کی رقم اور شمولیت کی عمر کے مطابق ماہانہ، سہ ماہی یا ششماہی بنیاد پر شراکت ادا کرنا ہوتی ہے۔ سبسکرائبر کو 60 سال کی عمر کے بعد حکومت کی ضمانت شدہ کم از کم پنشن 1000 روپے، 2000 روپے، 3000 روپے، 4000 روپے یا 5000 روپے ماہانہ، اپنی شراکت کے انتخاب کے مطابق، تاحیات حاصل ہوتی ہے۔ سبسکرائبر کی وفات کے بعد اس کا شریک حیات بھی وہی پنشن حاصل کرنے کا حق دار ہوتا ہے جو سبسکرائبر کو مل رہی تھی۔ سبسکرائبر اور شریک حیات دونوں کی وفات کے بعد، نامزد شخص کو وہ پنشن سرمایہ حاصل ہوتا ہے جو سبسکرائبر کی 60 سال کی عمر تک جمع ہوا ہو۔ اس اسکیم کے مطابق، سبسکرائبرز کو 60 سال کی عمر حاصل کرنے پر پنشن فوائد فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب بی ایل ورما نے ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
ش ح۔ ش ت۔ م الف
U. No- 6812
(ریلیز آئی ڈی: 2259083)
وزیٹر کاؤنٹر : 8