قومی انسانی حقوق کمیشن
azadi ka amrit mahotsav

این ایچ آر سی نے انسانی حقوق پر مبنی مختصر فلموں کے اپنے گیارہویں سالانہ مقابلے کے سات فاتحین کا اعلان کیا ہے


مکمل کمیشن کے جیوری پینل نے ہندوستان کے مختلف حصوں سے تقریباً چوبیس زبانوں اور بولیوں میں موصول ہونے والی پانچ سو چھبیس اندراجات میں سے انعام یافتہ فلموں کا انتخاب کیا

اتر پردیش کی مختصر فلم ’’رانی‘‘ نے پہلا انعام حاصل کیا۔ یہ فلم طبقاتی تقسیم، عدم مساوات اور گھریلو ملازم خواتین کو درپیش چیلنجوں اور ان کے انسانی حقوق پر پڑنے والے اثرات کو ایک نوجوان خاتون کے انقلابی نقطۂ نظر سے پیش کرتی ہے

کیرالہ کی مختصر فلم ’’مین وائل شی۔۔‘‘ کو دوسرا انعام ملا۔ یہ فلم صنفی تعصبات اور گھریلو تشدد کے چیلنجوں کے درمیان کام کرنے والی خواتین کے انسانی حقوق کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے

تمل ناڈو کی ’’دی ڈلیوری‘‘ کو تیسرا انعام ملا۔ یہ فلم گِگ ورکرز کی جدوجہد اور ان کے انسانی حقوق کے مسائل کو نمایاں کرتی ہے

تعلیم، جیل اصلاحات، بزرگ قبائلی جوڑے اور بیواؤں کے حقوق سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنے والی چار فلموں کو ’’خصوصی تذکیری سند‘‘ کے لیے منتخب کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 MAR 2026 6:04PM by PIB Delhi

قومی انسانی حقوق کمیشن(این ایچ آرسی)انڈیا نے سال 2025 کے لیے انسانی حقوق پرمبنی مختصر فلموں کے اپنے ’’گیارہویں سالانہ مقابلے‘‘ کے سات فاتحین کا اعلان کیا۔

 

 

مکمل کمیشن کے جیوری پینل نے پہلی پوزیشن کے لیے فلم ’’رانی‘‘ کا انتخاب کیا ہے، جس کو دو لاکھ روپے نقد انعام بھی دیا جائے گا۔ اتر پردیش کی محترمہ ساریکا جین کی بنائی گئی یہ فلم نہایت مؤثر انداز میں دکھاتی ہے کہ فرسودہ سماجی تصورات طبقاتی تقسیم اور عدم مساوات کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ فلم گھریلو ملازم خواتین کی جدوجہد اور ان کے انسانی حقوق سے متعلق مسائل کو ایک نوجوان خاتون کے انقلابی نقطۂ نظر سے پیش کرتی ہے۔ یہ فلم ہندی زبان میں ہے جبکہ اس کے ذیلی عنوانات انگریزی میں ہیں۔

کیرالہ کے جناب امل ایس کی فلم ’’مین وائل شی۔۔‘‘ کو دوسری پوزیشن کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جس کے تحت ڈیڑھ لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔ یہ فلم صنفی تعصبات اور گھریلو تشدد جیسے چیلنجوں کے درمیان کام کرنے والی خواتین پر پڑنے والے غیر مساوی بوجھ کے مسئلے کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ فلم ملیالم زبان میں ہے جبکہ اس کے سب ٹائٹلز انگریزی میں ہیں۔

تمل ناڈو کے جناب سائی ششانک تاتی کی فلم ’’دی ڈلیوری‘‘ کو ایک لاکھ روپے کے تیسرے انعام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ فلم ایک لڑکے کی دل کو چھو لینے والی کہانی کے ذریعے گِگ ورکرز کی جدوجہد، جیسے ملازمت کا عدم تحفظ، سخت کام کے حالات اور سماجی تحفظ کی کمی کو پیش کرتی ہے۔ یہ فلم تمل زبان میں ہے جبکہ اس کے سب ٹائٹلز انگریزی میں ہیں۔

 

کمیشن نے ’’خصوصی تذکیری سند‘‘ کے لیے منتخب کی گئی چار مختصر فلموں میں سے ہر ایک کو پچاس ہزار روپے نقد انعام دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یہ فلمیں درج ذیل ہیں:

 

i) ’’مالتی‘‘ مغربی بنگال کی محترمہ فالگنی بھکت کی بنائی ہوئی فلم ہے۔ یہ دستاویزی فلم بنگالی زبان میں ہے جبکہ اس کے سب ٹائٹلز انگریزی میں ہیں۔ فلم ایک قبائلی خاتون کی جانب سے اپنے سماج کے بچوں کو تعلیم دینے کی رضاکارانہ کوششوں اور تعلیم کی اہمیت کو پیش کرتی ہے۔

 

 

ii) ’’سیکنڈ چانس‘‘ اتر پردیش کے جناب روی کرنوال کی تیار کردہ دستاویزی فلم ہے۔ یہ فلم اتراکھنڈ کی ایک جیل پر مبنی ہے۔ فلم ہندی زبان میں ہے جبکہ اس کے سب ٹائٹلز انگریزی میں ہیں۔ یہ فلم قیدیوں کو مشاورت، بازآبادکاری اور مناسب ہنر مندی کی تربیت کے ذریعے نئی زندگی دینے میں جیل اصلاحات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

 

iii) ’’ڈسک آف لائف‘‘ مہاراشٹر کے جناب دامودر ڈی پاور کی بنائی ہوئی فلم ہے۔ یہ فلم مراٹھی زبان میں ہے جبکہ اس کے سب ٹائٹلز انگریزی میں ہیں۔ یہ دستاویزی فلم ایک بے اولاد معمر قبائلی جوڑے کی زندگی کے مسائل، ان کی ثابت قدمی، وقار کے ساتھ زندگی گزارنے اور روزگار کے حق کو پیش کرتی ہے۔

 

 

iv) ’’بھاگیہ شری‘‘ مہاراشٹر کے جناب منوج اپپاسو جانویکر کی بنائی ہوئی فلم ہے۔ یہ فلم مراٹھی زبان میں ہے جبکہ اس کے سب ٹائٹلز انگریزی میں ہیں۔ یہ فلم دیہی خاندانوں میں نوجوان بیواؤں کو درپیش مشکلات اور باوقار زندگی گزارنے کے ان کے حق کو اجاگر کرتی ہے۔

 

 

 

مکمل کمیشن کے جیوری پینل کی صدارت این ایچ آر سی کے چیئرمین جسٹس جناب وی راماسبرامنیم نے کی۔ اس میں رکن جسٹس ڈاکٹر بدیوت رنجن سارنگی، محترمہ وجیا بھارتی سیانی، سیکریٹری جنرل جناب بھرت لال، رجسٹرار (قانون) جناب جوگیندر سنگھ، جوائنٹ سیکریٹری جناب سمیر کمار اور محترمہ  سیندی گپوئی چھکچھواک شامل تھے۔

 

این ایچ آر سی مختصر فلم ایوارڈ کا آغاز سال 2015 میں اس مقصد کے تحت کیا گیا تھا کہ شہریوں کو انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ سے متعلق مسائل اجاگر کرنے، بیداری پھیلانے اور تخلیقی کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔ سال 2025 کے مقابلے میں ملک کے مختلف حصوں سے ہندی اور انگریزی سمیت تقریباً چوبیس زبانوں اور بولیوں میں مجموعی طور پر پانچ سو چھبیس مختصر فلمیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے قواعد و ضوابط پر پورا اترنے والی چار سو اڑتیس فلموں کو ایوارڈ کے لیے زیر غور لایا گیا۔

 

ان فلموں کا انتخاب تین مرحلوں پر مشتمل جیوری عمل کے ذریعے کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں تین پینلوں نے 48فلموں کو شارٹ لسٹ کیا۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے کی جیوری، جس کی صدارت این ایچ آر سی کی رکن محترمہ وجیا بھارتی سیانی نے کی، نے بیس فلموں کو شارٹ لسٹ کیا۔ آخری مرحلے میں مکمل کمیشن کے جیوری پینل نے سات فاتحین کا انتخاب کیا۔ ایوارڈ تقسیم کی تقریب بعد میں منعقد کی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ ع ح۔ع د)

U. No.6795


(ریلیز آئی ڈی: 2258955) وزیٹر کاؤنٹر : 17
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Telugu