الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انڈیا اے آئی اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے صحت کے شعبے میں ذمہ دارانہ اے آئی کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 MAY 2026 5:57PM by PIB Delhi

ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی) کے ذریعے الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت حکومت ہند کی اہم پہل انڈیا اے آئی نے آج بائیو میڈیکل اور صحت کی تحقیق کے لیے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) انڈیا کے اعلی ترین ادارے کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے ۔  یہ شراکت داری مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذمہ دارانہ اور قابل توسیع اطلاق کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال کے نتائج کو آگے بڑھانے کی طرف ایک اہم قدم ہے ۔

 

5.jpg

 

یہ مفاہمت نامہ (ایم او یو)، ایک منظم تعاون کا فریم ورک قائم کرتی ہے، جس کے تحت انڈیا اے آئی  کی ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ایکو سسٹم کی صلاحیتوں کوانڈین کونسل آف یڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر) کی بایومیڈیکل تحقیق اور عوامی صحت میں گہری مہارت کے ساتھ یکجا کیا جائے گا۔ اس شراکت داری کا مقصد بھارت میں صحت کے شعبے کے لیے ایک قومی سطح پر مربوط اور ہم آہنگ  ایکو سسٹم تیار کرنا ہے۔

اس تعاون کے تحت دونوں ادارے اپنی اپنی مضبوطی سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس میں انڈیا اے آئی  کی کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ڈیٹا سیٹ پلیٹ فارمز اور اے آئی  ہنرمندی سے متعلق اقدامات شامل ہیں، جبکہ دوسری جانب آئی سی ایم آر کی بایومیڈیکل تحقیق کی مہارت اور اس کا میڈیکل انفارمیشن ڈیٹا فار اے آئی سلوشنز (ایم آئی ڈی اے ایس) فریم ورک شامل ہوگا۔اس مشترکہ کوشش کا مقصد صحت کے شعبے میں جدت ، تحقیق اور مصنوعی ذہانت پر مبنی صحت کے حل  کی تیاری اور نفاذ کو ممکن بنانا ہے۔

 

تعاون کے اہم ستون

  • اے آئی کوش ڈیٹا سیٹ پلیٹ فارم

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر)اپنے مڈاس فریم ورک کے تحت تیار کردہ غیر شناخت شدہ  اور اخلاقی منظوری یافتہ صحت سے متعلق تحقیقی ڈیٹا سیٹس، اے آئی ماڈلز اور ٹول کٹس کو انڈیا ے آئی کے اے آئی کوش  پلیٹ فارم پر فراہم کرے گا۔ اس سے بھارت بھر میں محققین، اسٹارٹ اپس اور اختراع کاروں کو اعلیٰ معیار کے بایومیڈیکل ڈیٹا تک وسیع رسائی حاصل ہوگی۔

 

  • کمپیوٹ وسائل تک رسائی

انڈیا اے آئی، آئی سی ایم آر کوجی پی یو پر مبنی اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ (ایچ پی سی) انفراسٹرکچر تک سبسڈی شدہ نرخوں پر رسائی فراہم کرے گا، جو طے شدہ سروس لیول ایگریمنٹس (ایس ایل اے ایس) کے تحت ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد صحت کے شعبے میں جدیداے آئی تحقیق کو وسعت دینے کے لیے درکار بنیادی تکنیکی خلا کو پورا کرنا ہے۔

  • مشترکہ اے آئی استعمال کے کیسز کی تیاری

یہ شراکت داری بھارت میں عوامی صحت کے اہم چیلنجز کے حل کے لیے اے آئی  پر مبنی ٹولز اور حل مشترکہ طور پر تیار کرے گی۔ یہ حل آئی سی ایم آر کے بیماریوں کے بوجھ  سے متعلق ڈیٹا پر مبنی ہوں گے اور انڈیا اے آئی کے جدید ٹیکنالوجی اسٹیک کے ذریعے ممکن بنائے جائیں گے۔

 

یہ مفاہمت نامہ (ایم او یو)، دونوں اداروں کے درمیان جاری تعاون کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ ستمبر 2025 میں اے آئی انڈیا اور انڈین کونسل آف میڈل ریسرچ  کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اِن ڈیجیٹل ہیلتھ اینڈ ڈیٹا سائنسز (این آئی آر ڈیایچ ڈی ایس) کو ہیلتھ اے آئی گلوبل ریگولیٹری نیٹ ورک میں “پائنیر ممالک” کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔یہ نیٹ ورک ایک کثیرملکی اقدام ہے جس کی مشترکہ بنیاد برطانیہ اور سنگاپور کے ساتھ رکھی گئی ہے، اور اس کا مقصد صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی ذمہ دارانہ حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔

بعد ازاں، انڈیا اے آئی ،آئی سی ایم آر ( این آئی آر ڈی ایچ ڈی ایس) اورہیلتھ اے آئی  کے درمیان ایک سہ فریقی مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے، جس نے اس شراکت داری کو مزید مستحکم کیا اور بھارت میں ایک مضبوط اور ذمہ دار اے آئی  صحت کے نظام کی عملی بنیاد فراہم کی۔

انڈیا اے آئی اور آئی سی ایم آر کے درمیان یہ تعاون ٹیکنالوجی اور عوامی صحت کے امتزاج پر جدت کو فروغ دینے کی توقع ہے، جبکہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ تمام اقدامات اخلاقی اصولوں، ڈیٹا پرائیویسی اور ریگولیٹری فریم ورکس کی مکمل پاسداری کے ساتھ انجام دیے جائیں۔

انڈیا اے آئی – آئی سی ایم آرکے درمیان تعاون سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی اور صحت عامہ کے درمیان جدت کو  فروغ دے گا، جبکہ اخلاقی  اصولوں، ڈیٹا پرائیویسی، اور انضباطی ڈھانچہ کی پابندی کو یقینی بنائے گا۔

 

************

 

 

 ش ح –ع  ح -م ر

UR. No. 6775


(ریلیز آئی ڈی: 2258827) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी