سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
بھارت صحت کے شعبے میں پیروکار سے نکل کر پریسیژن میڈیسن اور بایومینوفیکچرنگ میں عالمی رہنما بن رہا ہے: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ
11 ہزار سے زائد بایوٹیک اسٹارٹ اپس اوربائیو ای 3پالیسی بھارت کی حیاتیاتی معیشت کی توسیع کو تیز کر رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
بھارت کا جینیاتی تنوع اسے ملٹی اومکس ریسرچ میں عالمی تعاون کی قیادت کے قابل بناتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 MAR 2026 6:21PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزاد چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم اور وزیر مملکت برائے پی ایم او، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت اس وقت ایک تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں جدید بایوٹیکنالوجی، جینومکس اور ملٹی اومکس تحقیق صحت کے شعبے کے مستقبل کو ازسرنو تشکیل دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں ملک پریسیژن میڈیسن، بایومینوفیکچرنگ اور طبی اختراج میں عالمی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔
انہوں نے پروٹومکس سوسائٹی آف انڈیا (پی ایس آئی)ے زیر اہتمام اور آئی ایچ ڈبلیو کونسل کی ایڈووکیسی شراکت کے ساتھ منعقدہ ملٹی اومکس سمٹ 2026 کے افتتاحی خطاب میں کہا کہ بھارت اُس دور سے آگے بڑھ چکا ہے جب جدید علاج کے لیے بیرونِ ملک جانا پڑتا تھا، اور اب یہ ملک عالمی صحت کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جو معیاری اور کم لاگت علاج کے ذریعے میڈیکل ٹورزم کو بھی فروغ دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا صحت کا نظام آج جدید بایوٹیکنالوجی، جینومکس اور اے آئی پر مبنی تحقیق کو روایتی علم کے نظام جیسے آیوروید کے ساتھ جوڑ رہا ہے، جس سے ایک منفرد مربوط طبی ماڈل تشکیل پا رہا ہے۔ وزارتِ آیوش کے قیام اور بایوٹیکنالوجی تحقیقاتی پلیٹ فارمز کی توسیع نے بھارت کو ایسا موقع دیا ہے کہ وہ روایت اور جدید سائنس کے امتزاج سے جدید طبی حل تیار کر رہا ہے۔
بایوٹیکنالوجی کی قومی ترقی میں بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت ان ابتدائی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے جامع بائیو ای 3پالیسی،بایوٹیکنالوجی برائے معیشت ماحولیات اور روزگار متعارف کرائی ہے۔ یہ پالیسی اختراع کو تیز کرنے، بایومینوفیکچرنگ صلاحیت بڑھانے اور حیاتیاتی معیشت میں نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی میں بھارت کا بایوٹیکنالوجی شعبہ تیزی سے پھیلا ہے اور آج یہاں 11 ہزار سے زائد بایوٹیک اسٹارٹ اپس موجود ہیں، جبکہ پہلے ان کی تعداد بہت کم تھی۔ حکومت کی مختلف اسکیمیں بایومینوفیکچرنگ کو مضبوط بنا رہی ہیں، جن میں بایو فارما شکتی اسکیم بھی شامل ہے جس کے تحت 10 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ فنڈ بایومینوفیکچرنگ مراکز، بایوفاؤنڈریز اور جدید تحقیقی انفراسٹرکچر کو فروغ دے گا۔
بھارت کی جینیاتی متنوع آبادی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک جینومک ریسرچ میں ایک منفرد برتری رکھتا ہے۔ جینوم انڈیا پروجیکٹ اور آئندہ آنے والے فینوم انڈیا پہل جیسے منصوبوں کے تحت تقریباً 10 ہزار جینومز کی سیکوینسنگ مکمل ہو چکی ہے اور اس کام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ اس بڑے پیمانے کے جینیاتی ڈیٹا سے بیماریوں کے پیٹرنز کو سمجھنے، ہدف بند علاج تیار کرنے اور علامات ظاہر ہونے سے پہلے ہی ابتدائی علاج ممکن بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ جینومکس، ٹرانسکرپٹومکس اور پروٹومکس کو ملٹی اومکس پلیٹ فارمز کے ذریعے یکجا کرنا، اور اس میں مصنوعی ذہانت(اے آئی ) اور مشین لرننگ کی مدد شامل کرنا، سائنس دانوں کو پیچیدہ بیماریوں کے طریقۂ کار کو بہتر طور پر سمجھنے اور مختلف آبادیوں کے لیے موزوں ذاتی نوعیت کے علاج تیار کرنے کے قابل بنائے گا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بایومیڈیکل تحقیق میں ہونے والی کئی نئی پیش رفتوں کا بھی ذکر کیا، جن میں جین پر مبنی علاج اور نیوکلیئر میڈیسن میں ترقی شامل ہے۔ انہوں نے سِکل سیل ڈس آرڈر اور ہیموفیلیا جیسے امراض کے علاج میں حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیا، ساتھ ہی ٹاٹا میموریل سینٹر میں بچوں میں ایکیوٹ لیمفوبلاسٹک لیوکیمیا کے علاج کے لیے نیوکلیئر میڈیسن میں نئی علاج پر مبنی پیش رفتوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت تیزی سے عالمی تعاون پر مبنی تحقیق کا مرکز بن رہا ہے، خاص طور پر ملٹی اومکس جیسے شعبوں میں جہاں اداروں، شعبوں اور ممالک کے درمیان بین الشعبہ جاتی شراکت داری ضروری ہے۔ حکومت پالیسی اصلاحات اور اکیڈمیا، صنعت اور اسٹارٹ اپس کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے ذریعے اس تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ حالیہ اصلاحات کے تحت نیوکلیئر شعبے کو بھی نجی شراکت کے لیے کھولا گیا ہے، جس سے نیوکلیئر میڈیسن کی تحقیق میں جدت آئے گی اور مستقبل کی صحت کی ٹیکنالوجیز میں یہ شعبہ اہم کردار ادا کرے گا، خاص طور پر جب اسے جینومکس اور پریسیژن میڈیسن کے ساتھ جوڑا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے دنیا کی پہلی ڈی این اے پر مبنی ویکسین تیار کر کے حفاظتی صحت کے شعبے میں عالمی قیادت کا مظاہرہ کیا ہے، جو ملک کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیت اور سستی صحت سہولیات فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے موجودہ دور کو جدید طب کے ارتقا کا ایک نہایت اہم اور دلچسپ مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بایوٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جینومکس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا امتزاج صحت کے شعبے میں غیر معمولی مواقع پیدا کر رہا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اعتماد ظاہر کیا کہ بھارت کی سائنسی صلاحیت، تحقیقی نظام اور مستقبل بیں پالیسیاں ملک کو نہ صرف عالمی تعاون کا حصہ بنائیں گی بلکہ بایوٹیکنالوجی اور پریسیژن میڈیسن میں مستقبل کی قیادت کے قابل بھی بنائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ سمٹ معروف سائنس دانوں، محققین، معالجین، بایوٹیک اختراع کاروں اور صنعت کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے تاکہ ملٹی اومکس تحقیق میں تازہ ترین پیش رفت اور صحت کی دیکھ بھال تشخیص اور ادویہ کی دریافت کے امکانات پر غور کیا جا سکے۔

تصویر: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ جمعہ کے روز نئی دہلی میں منعقدہ “ملٹی اومکس سمٹ 2026” کے موقع پر کلیدی خطاب کرتے ہوئے۔



*****
(ش ح ۔اک ۔م ذ)
U. No.6713
(ریلیز آئی ڈی: 2258452)
وزیٹر کاؤنٹر : 14