سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: اعلیٰ اثر رکھنے والے تحقیقی شعبے

प्रविष्टि तिथि: 11 MAR 2026 5:18PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 10 ستمبر 2024 کو نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کے گورننگ بورڈ کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ملک کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے منظرنامے اور تحقیق و ترقی کے پروگراموں کی تنظیم نو پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ بورڈ نے اے این آر ایف کی اسٹریٹجک مداخلت کے کئی شعبوں پر غور کیا، جن میں اہم شعبوں میں ہندوستان کی بین الاقوامی حیثیت کو مضبوط بنانا، تحقیق و ترقی کو قومی ترجیحات کے مطابق ڈھالنا، جامع ترقی کو فروغ دینا، صلاحیت سازی، سائنسی ترقی اور جدت کے ماحولیاتی نظام کو تیز کرنا اور علمی تحقیق اور صنعتی اطلاقات کے درمیان خلا کو پُر کرنا شامل ہے۔ اے این آر ایف کے قیام کے بعد سے شروع کیے گئے اہم پروگرام درج ذیل ہیں:-

  • اے این آر ایف کا مشن فار ایڈوانسمنٹ ان ہائی امپیکٹ ایریاز (ایم اے ایچ اے) پروگرام مشن موڈ میں ترجیحی اور حل پر مبنی تحقیق کو فروغ دیتا ہے۔ یہ پروگرام سائنسی چیلنجز کے حل اور اہم سائنسی شعبوں میں ٹیکنالوجی کی حدود کو آگے بڑھانے کے لیے کثیر ادارہ جاتی، کثیر شعبہ جاتی اور کثیر محققین کے اشتراک کو فروغ دے گا۔اب تک اے این آر ایف نے ایم اے ایچ اے پروگرام کے تحت الیکٹرک وہیکل (ای وی) مشن، ڈی-2انوویشن ہب، میڈ ٹیک مشن، سائنس اور انجینئرنگ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور  سی آر ایم ریسرچ پروگرام کو ترجیحی شعبوں کے طور پر شناخت کر کے شروع کیا ہے۔
  • اے این آر ایف نے اکیڈمک اداروں میں محققین اور سائنس دانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے کئی وسیع بنیادوں پر پروگرام شروع کیے ہیں، جن میں ایڈوانسڈ ریسرچ گرانٹ (اے آر جی)، وزیر اعظم ابتدائی کریئر ریسرچ گرانٹ(پی ایم ای سی آر جی) اور شمولیتی ریسرچ گرانٹ (آئی آر جی) شامل ہیں، تاکہ ملک بھر میں سائنس اور انجینئرنگ کے جدید شعبوں میں تحقیق کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
  • اس کے علاوہ اے این آر ایف نے کنورجنس ریسرچ سینٹرز آف ایکسیلنس (سی او ای) کے قیام کے لیے ’کنورجنس‘ ریسرچ سینٹرز آف ایکسیلنس (سی او ایز) کا آغاز کیا ہے تاکہ سائنس، ٹیکنالوجی، انسانی علوم، سماجی علوم اور معاشرے کے باہمی ربط پر جدید، اختراعی اور مؤثر تحقیق کی جا سکے۔ یہ مراکز ایسے پیچیدہ سماجی مسائل کو حل کریں گے ،جن کے لیے تکنیکی اور سماجی علوم/انسانی علوم کے مربوط نقطۂ نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔
  • اے این آر ایف نے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے اشاریوں اور تجزیات کے لیے سینٹر آف ایکسیلنس(سی او ای- ایس ٹی آئی آئی اے) قائم کیا ہے، جس کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت (ایس ٹی آئی) کے اشاریوں کے لیے ادارہ جاتی نظام کو ایک مکمل اینڈ ٹو اینڈ نظام کے ذریعے مضبوط بنانا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد  ہندوستان کے ایس ٹی آئی اشاریوں کے معیار، ان کے سیاق و سباق کے مطابق مطابقت اور قابل اطلاق ہونے کو بہتر بنانا، ان کے تجزیے، تشریحات اور معلومات و بصیرت کی مختلف سطحوں پر پالیسی اور پروگرام کی منصوبہ بندی کے لیے ترسیل کو مؤثر بنانا ہے، ساتھ ہی عالمی اشاریاتی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دینا تاکہ ہندوستان کو بین الاقوامی انڈیکسز میں مؤثر طور پر نمایاں کیا جا سکے۔
  • اے این آر ایف نے پی اے آئی آر(پارٹنرشپس فار ایکسیلیریٹڈ انوویشن اینڈ ریسرچ) پروگرام بھی شروع کیا ہے ، ریاستی یونیورسٹیوں سمیت ایسے اداروں کی تحقیقی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن ان میں بہتر کارکردگی  کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس پروگرام کے تحت ان اداروں کو ایک رہنمائی (مینٹورشپ) ماڈل میں، ایک ہب اینڈ اسپوک فریم ورک کے تحت اعلیٰ درجے کے قائم شدہ تحقیقی اداروں کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔
  • اے این آر ایف کی ٹرانسلیشنل ریسرچ اینڈ انوویشن(اے ٹی آر آئی) پہل تمام اہم شراکت داروں کو ایک ساتھ لائے گی تاکہ مہارت اور وسائل کو منظم انداز میں استعمال کرتے ہوئے جدت کے بے پناہ امکانات کو بروئے کار لایا جا سکے۔ اے این آر ایف اس پہل کے تحت اے ٹی آر آئی مراکز قائم کرے گا، جو ٹیکنالوجیز کوٹی آر ایل-4 سے ٹی آر ایل-7 تک آگے بڑھانے کے لیے ہدفی معاونت فراہم کریں گے، اس طرح لیب سے مارکیٹ تک جدت کے عمل کو مضبوط بنایا جائے گا۔
  • اے این آر ایف نے نیشنل پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ(این پی ڈی ایف) پروگرام شروع کیا ہے تاکہ پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد نوجوان محققین کو معاونت فراہم کی جا سکے، جس سے انہیں ملک میں ہی تحقیق کے لیے برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اے این آر ایف نے رامانوجن فیلوشپ بھی شروع کی ہے ،تاکہ بیرون ملک کام کرنے والے بہترین ہند نژاد سائنس دانوں اور انجینئرز کو واپس آ کرہندوستان میں سائنسی تحقیق کے عہدے سنبھالنے کی ترغیب دی جا سکے۔
  • اے این آر ایف نے نیشنل سائنس چیئر، جے سی بوس گرانٹ اور وزیر اعظم پروفیسرشپ جیسے پروگرام بھی شروع کیے ہیں تاکہ ممتاز سینئر سائنس دانوں کو ان کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر شاندار خدمات کے اعتراف میں تسلیم کیا جا سکے۔ یہ اقدامات معروف تعلیمی اداروں، تحقیقی لیبارٹریوں اور صنعت سے وابستہ سائنس دانوں اور فیکلٹی کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی ہیں۔

اعلیٰ اثر رکھنے والے شعبوں میں دی جانے والی گرانٹس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

نمبرشمار

پروجیکٹ کا عنوان

انسٹی ٹیوٹ کا نام

کل لاگت

( کروڑ میں)

1

ٹراپیکل بیٹریوں کے لیے مواد اور تیاری  کی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور مظاہرہ۔

انٹرنیشنل ایڈوانسڈ ریسرچ سنٹر فار پاؤڈر میٹلرجی اینڈ نیو میٹریلز (آرکی)، حیدرآباد

68.38

2

ٹی ای-موبی ایکس: ٹراپیکل ای-موبلٹی ایکسیلنس کے لیے موثر چارجنگ کے ساتھ محفوظ اور انحطاط پر قابو پانے والی بیٹریاں

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (بنارس ہندو یونیورسٹی)، وارانسی

47.77

3

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے گرڈ کی تیاری: قابل بنانے والے اور تکنیکی ترقی (جی آر ای ای ٹی)

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کانپور

47.45

4

ای وی سب سسٹمز( ای- آر آئی ڈی ای ایس)کی مقامی ترقی میں تحقیق کو بااختیار بنانا

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بمبئی

56.56

5

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ہائی پاور گرڈ فرینڈلی کنڈکٹو اور سٹیٹک وائرلیس چارجرز کی ترقی

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کھڑگپور

18.37

6

نایاب ارتھ مقناطیس سے پاک محوری فلوکس سنکرونس، ریڈیل فلوکس سوئچڈ ریلکٹنس موٹر اور ای وی ایپلی کیشنز کے لیے ان کے کنٹرولرز

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کرناٹک، سورتھکل

7.76

7

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے انتہائی موثر پاور الیکٹرانکس سسٹم پر مبنی وسیع بینڈ گیپ سیمی کنڈکٹرز کی ترقی

سی ایس آئی آر-سینٹرل الیکٹرانکس انجینئرنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سی ایس آئی آر- سی ای ای آر ای)، پیلانی

18.41

محکمہ نے جدت کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اعلیٰ اثر رکھنے والی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے متعدد مشن موڈ اقدامات شروع کیے ہیں۔ نیشنل کوانٹم مشن (این کیو ایم) کو مرکزی کابینہ نے 6003.65 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ آٹھ سال کی مدت کے لیے منظور کیا ہے۔ اس مشن کا مقصد کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم کمیونیکیشن، کوانٹم سینسنگ اور کوانٹم مواد میں تحقیق و ترقی کی معاونت کرنا ہے۔

اس مشن کے تحت ستمبر 2024 میں چار موضوعاتی ہب قائم کیے گئے ہیں ، جس میں کوانٹم کمپیوٹنگ کے لیے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس(آئی آئی ایس سی)، بنگلورو؛ مدراس، سی-ڈاٹ کے اشتراک سے کوانٹم کمیونیکیشن کے لیے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی) ؛ کوانٹم سینسنگ اینڈ میٹرولوجی کے لیے آئی آئی ڈی بمبئی؛ اور کوانٹم میٹریلز اینڈ ڈیوائسز کے لیے آئی آئی ٹی دہلی شامل ہیں۔ یہ ہبز ٹیکنالوجی کی ترقی، انسانی وسائل کی ترقی، انٹرپرینیورشپ کی ترقی اور صنعت کے ساتھ اشتراک کے علاوہ بین الاقوامی تعاون پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ ملک میں کوانٹم جدت کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

نیشنل مشن آن انٹرڈسپلنری سائبر-فزیکل سسٹمز (این ایم-آئی سی پی ایس) سائبر-فزیکل سسٹمز ٹیکنالوجیز کی ترقی کو ٹیکنالوجی  اختراعی ہبز (ٹی آئی ایچ ایز) کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے تعلیمی اداروں میں فروغ دیتا ہے، جو مصنوعی ذہانت(اے آئی)، روبوٹکس، خودکار نظام، اسمارٹ مینوفیکچرنگ اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجیز جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن(اے این آر ایف) نے ڈرونز، پانی، 6جی اور لیپ فروگ ڈیمونسٹریٹرز جیسے متعدد مشن موڈ پروگرام بھی شروع کیے ہیں، جن کا مقصد ترجیحی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں حل پر مبنی اور ٹرانسلیشنل تحقیق کو فروغ دینا ہے۔

یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کی وزارت کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

 

********

ش ح ۔م ع ن۔ت ا

U. No.6645


(रिलीज़ आईडी: 2258023) आगंतुक पटल : 30
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी