سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
وزیراعظم راحت – سڑک حادثات کے متاثرین کیلئے ’کیش لیس‘ علاج کی سہولت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAR 2026 9:31PM by PIB Delhi
موٹر وہیکلز(ایم وی) ایکٹ 1988 کی دفعہ 162 کے تحت قانونی تقاضوں کے مطابق وزیر اعظم – سڑک حادثات کے متاثرین کے ہسپتال میں داخلے اور یقینی علاج (پی ایم –راحت) اسکیم’ کو نوٹیفکیشن نمبر S.O. 2015(E) مورخہ 05.05.2025 کے ذریعے جاری کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے نفاذ کے لیے جامع رہنما خطوط، متعلقہ فریقین کے کردار و ذمہ داریاں اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار(ایس او پی) نوٹیفکیشن نمبر S.O. 2489(E) مورخہ 04.06.2025 کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں۔
وزیر اعظم نےاس اسکیم کا آغاز 13.02.2026 کوکیا اور اسے ’پرائم منسٹر– روڈ ایکسیڈینٹ وکٹمس ’ ہسپٹلائزیشن اینڈ ایسورڈ ٹریٹمنٹ یعنی سڑک حادثات کے متاثرین کے ہسپتال میں داخلے اور یقینی علاج(پی ایم راحت) اسکیم‘ کا نام دیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن نمبرایس او 952(ای) مورخہ 19.02.2026 ہے۔ اس اسکیم کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
(i) ہر متاثرہ شخص کو حادثے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ 7 دن تک 1.5 لاکھ روپے تک کا علاج فراہم کیا جائے گا، خواہ حادثہ کسی بھی قسم کی سڑک پر ہوا ہو۔ یہ سہولت تمام ایسے متاثرین کے لیے ہوگی جو موٹر گاڑیوں کے استعمال سے ہونے والے سڑک حادثات میں شامل ہوں۔
(ii) ہر سڑک حادثے کے متاثرہ شخص کو ابتدائی طبی امداد اور حالت مستحکم کرنے کے لیے غیر جان لیوا صورتوں میں 24 گھنٹے تک اور جان لیوا صورتوں میں 48 گھنٹے تک نامزد اسپتالوں میں علاج فراہم کیا جائے گا، جو پولیس کے رسپانس پر منحصر ہوگا۔
(iii) یہ قانونی اسکیم کسی بھی دیگر مرکزی یا ریاستی سطح کی اسکیموں پر فوقیت رکھے گی۔
(iv) اس اسکیم کو دو موجودہ پلیٹ فارمز کے انضمام کے ذریعے کامیابی سے نافذ کیا گیا ہے — پولیس اہلکاروں کے ذریعے حادثات کی رپورٹنگ کے لیے ای ڈار(الیکٹرانک ڈیٹیلڈ ایکسیڈنٹ رپورٹ) اور نیشنل ہیلتھ اتھارٹی (این ایچ اے)اور ٹی ایم ایس 2.0(ٹرانزیکشن مینجمنٹ سسٹم)، جو اسپتالوں میں علاج، دعوؤں کی جمع آوری اور ادائیگیوں کی کارروائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اسکیم کے تحت اسپتالوں کو ادائیگی موٹر وہیکل ایکسیڈنٹ فنڈ(ایم وی اے ایف) کے ذریعے کی جا رہی ہے، جو ان کیسز میں جنرل انشورنس کمپنیوں کی شراکت سے فراہم کیا جاتا ہے ،جہاں حادثے کا ذمہ دار موٹر وہیکل بیمہ شدہ ہو، جبکہ بغیر بیمہ اور ہٹ اینڈ رن کیسز کے لیے بجٹ سے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم(ای آر ایس ایس)112 کے ساتھ انضمام کے ذریعے متاثرہ شخص یا گڈ سمیریٹن(آر اے ایچ-وی ای ای آر) قریب ترین نامزد اسپتال کی معلومات حاصل کر سکتا ہے،صورتحال کے مطابق ایمبولینس کی درخواست دے سکتا ہے، یا دونوں خدمات حاصل کر سکتا ہے۔ جیسے ہی متاثرہ شخص کو داخل کیا جاتا ہے، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی(این ایچ اے) کے تیار کردہ ہیلتھ بینیفٹ پیکیجز کی بنیاد پر علاج کا عمل شروع کیا جانا ضروری ہے۔
اسی دوران علاج شروع کرنے کے ساتھ ہی ٹی ایم ایس پلیٹ فارم پر متاثرہ شخص کی پولیس سے تصدیق کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اسپتال ٹی ایم ایس پر علاجی شناختی نمبر(ٹریٹمنٹ آئی ڈی) تیار کرے گا اور انہیں ای ڈی اے آر کے ذریعے ضلع پولیس کو بھیجے گا۔اسپتال کے منتظم کی جانب سے فیصلہ کی بنیاد پر پولیس کے لیے ای ڈی اے آر پر جواب دینے کا وقت 24 گھنٹے تک ہوگا، یا جان لیوا حالت میں 48 گھنٹے تک ہوگا۔
اس اسکیم کے تحت حادثے کی رپورٹنگ112 ای آر ایس ایس پلیٹ فارم سے لے کر متاثرہ شخص کے داخلے، علاج، پولیس تصدیق، دعوے کی کارروائی اور حتمی ادائیگی تک مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ موجود رہے گا۔
نیشنل ہیلتھ اتھارٹی(این ایچ اے) نے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے اضافی اسپتالوں کے تعین اور ان کی شمولیت کے لیے تفصیلی رہنما خطوط OM S-12018/81/2024 مورخہ 20.05.2025 کے ذریعے جاری کیے ہیں تاکہ علاجی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسکیم کے رہنما خطوط، جو نوٹیفکیشن S.O. 2489(E) مورخہ 04.06.2025 کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں،جس کے مطابق اس اسکیم کے تحت نامزد اسپتال—جن میں آیوُشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا(اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے تحت وہ اسپتال بھی شامل ہیں جو اس اسکیم کے لیے این ایچ اے کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط پر عمل کرتے ہیں—اسکیم کے مقاصد کے لیے نامزد اسپتال تصور کیے جائیں گے۔
نیشنل ہیلتھ اتھارٹی(این ایچ اے) کے تحت آیوُشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا میں شامل اسپتالوں کی تعداد 09.03.2026 تک 36,112 ہے۔
شفافیت کو یقینی بنانے اور غلط استعمال کو روکنے کے لیے اس اسکیم کو مکمل طور پر ڈیجیٹل ورک فلو کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جس میں ٹی ایم ایس 2.0 اور ای ڈار( eDAR )پلیٹ فارم کو مربوط کیا گیا ہے، تاکہ ہر کیس میں حادثے کی تفصیلات اور علاجی ریکارڈ کے درمیان الیکٹرانک رابطہ قائم ہو سکے۔ اس کے علاوہ اسکیم کے تحت کیش لیس علاج فراہم کرنے والے اسپتالوں کو بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے لیے یہ طے کیا گیا ہے کہ دعویٰ ریاستی ہیلتھ ایجنسی (ایس ایچ اے) کی جانب سے منظور ہونے کے بعد 10 دن کے اندر ضلع کلکٹرز یا جنرل انشورنس (جی آئی) کونسل، جیسا بھی معاملہ ہو، ادائیگی کریں گے۔
اسکیم میں ضلع، ریاست اور قومی سطح پر ایک منظم شکایت ازالہ اور نگرانی کا نظام بھی شامل ہے تاکہ مؤثر نفاذ اور مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسکیم کے رہنما خطوط کے مطابق، ضلعی سطح پر ضلع روڈ سیفٹی کمیٹیاں(ڈی آر ایس سیز) مجموعی نگرانی اور رابطہ کاری کی ذمہ دار ہوں گی۔ ڈی آر ایس سی کی جانب سے ضلعی سطح پر ایک مخصوص شکایت ازالہ افسر (جی آر او) یا رابطہ کار مقرر کرنا لازمی ہے، جو اسکیم سے متعلق شکایات کے حل کے لیے ذمہ دار ہوگا۔
اگر کوئی شکایت ضلع سطح پر تسلی بخش طور پر حل نہ ہو تو اس معاملے کو ضلع کلکٹر تک اور اس کے بعد متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی ریاستی روڈ سیفٹی کونسل (ایس آر ایس سی) تک بھیجا جا سکتا ہے، جو اس اسکیم کے نفاذ کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر کام کرتی ہے۔ قومی سطح پر ایک بین وزارتی اسٹیئرنگ کمیٹی اس اسکیم کے مجموعی نفاذ اور نگرانی کی ذمہ دار ہے، جس میں اس کے نفاذ کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کا جائزہ بھی شامل ہے۔
یہ اسکیم موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کی دفعہ 162 کے قانونی تقاضوں کے مطابق تیار کی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد سڑک حادثات کے متاثرین کو خاص طور پر گولڈن آور کے دوران(کسی بھی حادثے کے بعد کا پہلا گھنٹہ)، بروقت اور بلا تعطل طبی امداد فراہم کرنا ہے۔
یہ معلومات روڈ ٹرانسپورٹ اور قومی شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن جے رام گڈکری نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*********
UR-6615
(ش ح۔ م ع ن ۔ ن ع)
(ریلیز آئی ڈی: 2257890)
وزیٹر کاؤنٹر : 17