PIB Backgrounder
قبائلی آرٹ میلہ 2026
متحرک روایات کو آگے بڑھانے والی خواتین فنکار
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAR 2026 10:59AM by PIB Delhi
ہندوستان کے قبائلی فنی ورثے کا جشن
قبائلی آرٹ میلہ (ٹی اے ایف) 2026 کےدوران نئی دہلی میں واقع تاریخی تراونکور پیلس رنگوں، دھنوں اور ہندوستان کے قبائلی ورثے کی کہانیوں سے متحرک ہو گیا۔ 2 سے 13 مارچ 2026 تک منعقد ہونے والے اس میلے میں 75 سے زائد قبائلی فنکاروں اور تقریباً 1000 فن پاروں کو یکجا کیا گیا، جو ملک بھر کی 30 سے زیادہ منفرد قبائلی فنون کی نمائندگی کرتے ہیں۔

قبائلی امور کی وزارت کی جانب سےایف آئی سی سی آئی اور نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹ کے اشتراک سے منعقد کیے گئے اس میلے سے قبائلی طبقہ کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت کے وسیع تر عزم کی عکاسی ہوتی۔ خصوصاً کمزور قبائلی طبقہ کے لیے پی ایم جنمن کےفوائد کی مکمل فراہمی کے لیے ڈی اے جے جی یو اے ، ایکلویا ماڈل رہائشی اسکولوں کی توسیع اورٹی آر آئی ایف ای ڈی کے ذریعے مضبوط بازار روابط جیسے اقدامات ٹی اے ایف کے پس منظر میں پالیسی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔قبائلی آرٹ میلے نے علامتی جشن سے آگے بڑھ کر منظم بازاری نظام تشکیل دیے۔ اس نے فنکاروں کو براہِ راست کلیکٹرز، گیلریوں، کارپوریٹس، ڈیزائن اداروں اور شہریوں سے جوڑا، جس سے ان کے کام کی منصفانہ قدر یقینی بنی اور ثقافتی ورثہ پائیدار معاش کا ذریعہ بن گیا۔
نمائش میں ملک بھر کے قبائلی فنی روایات کا ایک دلکش اور متنوع منظر پیش کیا گیا۔ اس میں مہاراشٹر کی وارلی، مدھیہ پردیش کی گونڈ، مدھیہ پردیش، راجستھان اور گجرات کی بھیل، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ اور اوڈیشہ کی ڈاکرا دھاتی دستکاری، جھارکھنڈ کی سوہری، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی کویا آرٹ، تمل ناڈو کی کُرومبا آرٹ، اوڈیشہ کی ساؤرا پینٹنگ، آسام اور شمال مشرق کی بودو آرٹ اور جھارکھنڈ و چھتیس گڑھ کی اوراؤں آرٹ شامل تھیں۔ میلے میں راجستھان اور مدھیہ پردیش کی منڈانا، بہار، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ سے گوڈنا، شمال مشرق کی بانس کی دستکاریاں اور کئی دیگر مقامی روایتی فن بھی پیش کیے گئے۔ مجموعی طور پر یہ ہندوستان کی غیر معمولی علاقائی تنوع اور ایک مشترکہ تہذیبی تسلسل کی عکاسی کرتا ہے ،جو فطرت، رسوم اور اجتماعی یادداشت سے منسلک ہے۔

ثقافتی یادداشت کی محافظ کے طور پر خواتین
ہندوستان کی کئی قبائلی برادریوں میں خواتین طویل عرصے سے بصری روایات کو برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ تہواروں کے دوران گھروں کی مٹی کی دیواروں کو سجانے سے لے کر فطرت، فصلوں اور رسوم کی کہانیاں فن کے ذریعے بیان کرنے تک، خواتین ثقافتی یادداشت اور تخلیقی صلاحیت کی محافظ رہی ہیں۔
قبائلی آرٹ میلہ 2026 میں اس ورثے کو متعدد خواتین فنکاروں کے کاموں کے ذریعے نئی جہت ملی، جنہوں نے ان روایات کو قومی سطح کے ناظرین تک پہنچایا۔ ان کی پینٹنگز نہ صرف آبائی علم کو محفوظ رکھتی ہیں، بلکہ اسے عصری پلیٹ فارمز کے لیے نئے انداز میں پیش بھی کرتی ہیں۔
فطرت سے منسلک فن
مہاراشٹر کے امراوتی سے تعلق رکھنے والی 38 سالہ سمیترا اہاکے وارلی فنکار ہیں،جن کے لیے فن محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ قبائلی برادریوں اور فطرت کے درمیان گہرے روحانی تعلق کی عکاسی ہے۔ تقریباً چودہ برسوں سے وارلی پینٹنگ کی مشق کرتے ہوئے وہ سادہ جیومیٹریائی اشکال اور ہم آہنگ نمونوں کے ذریعے کھیتی باڑی، فصل کی کٹائی، رقص اور اجتماعی میل جول کے مناظر پیش کرتی ہیں۔
"ہماری برادری میں فطرت خود ایک دیوتا کی مانند ہے۔ کٹائی جیسے کام شروع کرنے سے پہلے ہم زمین اور جنگل کا شکر ادا کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں۔"
ان میں سے بہت سی رسومات کی جھلک وارلی پینٹنگز میں نظر آتی ہیں، جو اکثر فطرت کی پوجا، اجتماعی میل جول اور تہواروں کے رقص کے مناظر پیش کرتی ہیں اور انسانوں اور ان کے ماحول کے درمیان ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ کامیاب فصل کی کٹائی کے بعد برادری پہلی پیداوار مقامی دیوتاؤں کو نذر کرتی ہے اور موسیقی و رقص کے ساتھ مل کر جشن مناتی ہے — یہ روایات اکثر کینوس پر بھی منتقل ہو جاتی ہیں۔گریجوٹ سمیترا اپنی فنی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو تعلیم دینے کا کام بھی کرتی ہیں اور انہیں فن، موسیقی اور کہانی سنانے کے ذریعے اپنے ثقافتی ورثے سے روشناس کراتی ہیں۔ نمائشوں، آرٹ میلوں اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے وہ اپنے گاؤں سے باہر وسیع تر ناظرین تک پہنچتی ہیں۔ان کا مقصد اب بھی برادری اور ثقافتی تسلسل سے گہرائی سے پنہا ہے۔
گونڈ ورثے کی نسلیں
‘‘مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ میں اپنی پینٹنگز کے ذریعے گونڈ پرادھان روایت کو محفوظ رکھنے اور اسے آگے بڑھانے میں مدد کر سکتی ہوں۔ ہر پینٹنگ ہمارے طبقے کی ثقافتی شناخت کی عکاسی کرتی ہے۔’’
گونڈ پینٹنگ کی ماہر55؍ سالہ نانکوشیا شیام کو تقریباًچار دہائیوں کا فنی تجربہ ہے۔ انہوں نے 18 سال کی عمر میں پینٹنگ شروع کی، یہ ہنر اپنے خاندان سے سیکھا اور برسوں کے دوران آہستہ آہستہ اپنا منفرد انداز تشکیل دیا۔
گونڈ پینٹنگز اپنے متحرک اور شوخ رنگوں اور باریک نقش و نگار کے لیے مشہور ہیں، جو جانوروں، جنگلات اور اساطیری کہانیوں کو زندگی بخشتے ہیں۔ نانکوشیا کے لیے پینٹنگ ایک ذاتی شوق کے ساتھ ساتھ ثقافتی ذمہ داری بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی آرٹ میلہ جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے دور دراز علاقوں کے فنکاروں کو اپنی ثقافت کو بڑے پیمانے پر ناظرین کے سامنے پیش کرنے کے مواقع ملتے ہیں، جبکہ وہ اپنی برادری کی ثقافتی شناخت کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ نانکوشیا شیام کے لیے ان کے کام کا مقصد واضح ہے — یہ یقینی بنانا کہ گونڈ فن کی روایت برقرار رہے اور نئی نسلوں تک پہنچتی رہے۔
ماحول اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے ایک نوجوان کی مؤثر آواز
“قبائلی برادریوں کے لیے فطرت خود عبادت کی ایک صورت کی مانند ہے۔ اگر ہم فطرت کا احترام کریں اور اس کی حفاظت کریں، تو یہ ہمیں مسلسل سہارا دیتی رہے گی اور ہماری زندگی کو صحت مند اور متوازن رکھے گی۔’’
صرف 26 سال کی عمر میں جھارکھنڈ کے ہردا ضلع سے تعلق رکھنے والی سدھا کُماری قبائلی فنکاروں کی نئی نسل کی نمائندگی کرتی ہیں جو فن کو ماحولیاتی آگاہی کے ذریعے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ ان کی جدید پینٹنگز قبائلی فلسفہ ‘جل، زمین، جنگل”یعنی پانی، زمین اور جنگلات سے متاثر ہیں، جو قدرتی وسائل کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔
آج وہ پینٹنگ، دیواری آرٹ (مورلز) اور دستکاری سمیت مختلف ذرائع پر کام کرتی ہیں، جبکہ ان کے موضوعات قبائلی زندگی اور ماحولیاتی شعور کے گرد ہی مرکوز رہتے ہیں۔
انہوں نے قبائلی آرٹمیلے میں پہلی بار شرکت کو ایک متاثر کن تجربہ قرار دیا۔ ان کے مطابق پورے ہندوستان سے آئے فنکاروں کو ایک ہی قومی پلیٹ فارم پر اپنی منفرد روایات پیش کرتے دیکھنا اس یقین کو مضبوط کرتا ہے کہ قبائلی فن ہندوستان کے تخلیقی مستقبل میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔
ہندوستان کے قبائلی تنوع کا ایک کینوس
قبائلی آرٹ میلہ ایک روایتی نمائش سے کہیں آگے تھا۔ اس میلے میں عصری اظہار اور قبائلی و جدید فنکاروں کے اشتراک پر مبنی فن پارے پیش کیے گئے، جن میں شمال مشرق کی بھرپور شرکت نمایاں رہی۔
اس12 روزہ پروگرام میں موضوعاتی پینل مباحثے شامل تھے، جن میں قبائلی فن کے احیا اور پائیدار مستقبل، عصری فنی مقامات میں قبائلی فن اور روزگار و منڈی سے روابط جیسے موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ اس نے فنکاروں، کیوریٹرز، اداروں اور پالیسی سازوں کو منظم مکالمے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ شراکت پر مبنی ورکشاپس، کہانی سنانے کے سیشنز اور براہ راست پیشکش نے ناظرین کو دور سے دیکھنے کے بجائے زندہ روایات سے براہِ راست جڑنے کا موقع فراہم کیا۔
معذور افراد کے لیے جامع ورکشاپس نے کمیونٹی کی شرکت کو مزید وسیع کیا۔ اس کے علاوہ، روزانہ قبائلی موسیقی اور رقص پر مشتمل ثقافتی پیشکش نے ہر شام میلے کے ماحول کو مزید جاندار بنا دیا۔
ہندوستان کے کونے کونے سےآئے آئے 100 سے زائد قبائلی فن کے طلبہ کو رہنمائی پر مبنی واک تھرو اور سینئر فنکاروں کے ساتھ مینٹورشپ سیشنز فراہم کیے گئے، جس سے ورثے کو آئندہ نسل کے فنکاروں سے جوڑا گیا۔
قبائی آرٹ میلہ 2026 کی ایک خاص جھلک ’پروجیکٹ کھُم – جڑوں سے جڑی تخلیق‘ تھی۔ ’کھُم‘ کا مطلب کوکبوروک (تریپورہ) زبان میں پھول ہے، جو شگوفے، توانائی اور مکمل تخلیقی اظہار کی علامت ہے۔ ایک شمولیتی تنصیب کے طور پر ڈیزائن کیے گئے اس پروجیکٹ میں قبائلی خواتین فنکاروں نے مشترکہ بصری فریم ورک کو رنگوں، نقش و نگار اور جیتی جاگتی روایات کے ذریعے ایک متحرک فن پارے میں تبدیل کیا۔ بین الاقوامی یوم خواتین کے جذبے کے تحت پیش کی گئی اس تنصیب نے خواتین کی تخلیقی صلاحیت، قیادت اور ثقافتی یادداشت کو اجاگر کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ جب خواتین تخلیق کرتی ہیں تو ثقافت پروان چڑھتی ہے۔
مستقبل کے لیے ورثےکا تحفظ
قبائلی آرٹمیلے میں شامل کئی خواتین فنکاروں کے لیے پینٹنگ محض ایک پیشہ نہیں بلکہ اپنی برادریوں کی کہانیوں کو محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ان فنکاروں نے اپنی ذاتی یادوں اور ثقافتی روایات کو بصری کہانیوں میں تبدیل کیا ہے جو ان کے گاؤں سے کہیں دور تک گونجتی ہیں۔
تراونکور پیلس کے ہال رنگوں اور تخلیقی صلاحیتوں سے بھر گئے اور قبائلی فن میلہ ہندوستان کی مقامی بصری روایات کی ایک متحرک گیلری کے طور پر ابھرا۔ اس نے مسلسل ترقی، ثقافتی تحفظ اور قبائلی برادریوں کومعاشی طو رپر پائیدار بااختیار بنانے کےحکومت ہند کے عزم کو مزید مضبوط کیا۔
اس طرح یہ وزیر اعظم کے’وکست بھارت 2047‘ کے وژن کے مطابق ہے — ایک ایسا مستقبل جو معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ متحرک ورثے پر بھی قائم ہو۔ میلے میں شریک خواتین فنکار اس وعدے کی ایک زندہ مثال ہیں، جو اپنی روایات کو ایک ایک برش اسٹروک کے ذریعے آگے بڑھا رہی ہیں۔
حوالہ جات:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2234758®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2233932®=3&lang=2
پی ڈی ایف کےلیے یہاں کلک کریں:
*****
UR-6621
(ش ح۔ م ع ن ۔ ن ع)
(ریلیز آئی ڈی: 2257869)
وزیٹر کاؤنٹر : 16