سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال: بایو اکانومی (حیاتی معیشت)
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 MAR 2026 2:46PM by PIB Delhi
بایو-رائیڈاسکیم کا مقصد ملک کے بایوٹیکنالوجی کے منظرنامے کو بدلنا اور 2030 تک 300 ارب ڈالر کی بایو اکانومی حاصل کرنے میں مدد دینا ہے۔ بایوٹیکنالوجی تحقیق، ترقی اور جدت، انسانی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بایو ای3 پالیسی کی منظوری اور حکومتِ ہند کی دیگر اصلاحات نے گزشتہ دہائی کے دوران بایوٹیکنالوجی شعبے کی مسلسل ترقی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انڈیا بایو اکانومی رپورٹ 2026 (جاری کردہ: 19 مارچ 2026) کے مطابق، بھارت کی بایو اکانومی 2025 میں 195.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2024 میں 165 ارب ڈالر تھی، یعنی سالانہ 18 فیصد اضافہ۔
حکومتِ ہند کے محکمہ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) اور اس کے پبلک سیکٹر ادارے بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل(بی آئی آر اے سی) نے حال ہی میں بھارت کے پہلے بایوفاؤنڈری نیٹ ورک کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد ملک کے بایوٹیکنالوجی نظام کو مضبوط بنانا اور 2030 تک 300 ارب ڈالر کی بایو اکانومی کا ہدف حاصل کرنا ہے۔ بایو ای3 پالیسی (بایوٹیکنالوجی برائے ماحول، معیشت اور روزگار) کے تحت شروع کیا گیا یہ نیٹ ورک جدید بایو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔
یہ اقدام بی آئی آر اے سی کے تعاون سے ملک بھر میں قائم 15 جدید بایو-اینبلر سہولیات کو ایک ساتھ لاتا ہے، جو اسٹارٹ اپس، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار(ایس ایم ایز)، صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو مشترکہ بنیادی ڈھانچہ فراہم کریں گی۔ یہ مراکز مختلف شعبوں میں پائلٹ اور پری-کمرشل سطح کی ٹیکنالوجیز کی حمایت کریں گے، جن میں مائیکروبیل بایو مینوفیکچرنگ، پائیدار زراعت، اسمارٹ پروٹینز، فنکشنل فوڈز، پریسِژن بایوتھراپیوٹکس، میریں بایوٹیکنالوجی، کاربن کیپچر، اور اگلی نسل کی سیل اور جین تھراپیز شامل ہیں۔
یہ سہولیات بایوفاؤنڈریز سے لے کر، جو مائیکروبیل اسٹرینز، اسمارٹ پروٹینز، پروبائیوٹکس اور بایو بیسڈ کیمیکلز پر کام کرتی ہیں، بایو مینوفیکچرنگ ہبس تک پھیلی ہوئی ہیں جو اگلی نسل کی سیل تھراپیز،ایم آراین اے(mRNA)پر مبنی ادویات، سمندری بایو جدت اور پائیدار بایوفیولز تیار کر رہی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ مراکز جدت اور کمرشلائزیشن کے فروغ کے لیے بایو-اینبلرز کے طور پر کام کریں گے، جس سے صنعت اور تعلیمی شعبے دونوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ بایو-اینبلرز جدید بایو مینوفیکچرنگ کو فروغ دیں گے، درآمدات پر انحصار کم کریں گے، روزگار کے مواقع پیدا کریں گے اور بھارت کو عالمی بایو اکانومی میں ایک نمایاں مقام دلانے میں مدد دیں گے۔
صحت، زراعت، خوراک، توانائی اور ماحولیات جیسے اہم شعبوں پر اپنے وسیع اثرات کے ساتھ، بایوفاؤنڈری نیٹ ورک سے توقع ہے کہ وہ صاف اور سرسبز ٹیکنالوجیز کی طرف بھارت کی منتقلی میں اہم کردار ادا کرے گا، درآمدی انحصار کم کرے گا، اعلیٰ قدر کے مقامی بایو مصنوعات کی پیداوار میں مددگار ثابت ہوگا اور ملک کو عالمی بایو اکانومی میں ایک رہنما کے طور پر قائم کرے گا۔
ملک کے بایوفارماسیوٹیکل شعبے کو مضبوط بنانے اور بایولوجکس اور بایوسِملرز میں عالمی سطح پر مسابقت بڑھانے کے لیے حکومت نے ‘‘بایوفارما شکتی’’ اسکیم کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے پانچ برسوں میں 10,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد ایک ایسا مضبوط اور عالمی معیار کا مقامی نظام قائم کرنا ہے جو بایولوجکس اور بایوسِملرز کی تیاری کو فروغ دے، سستی صحت خدمات کی حمایت کرے اور بھارت کو عالمی بایوفارما مینوفیکچرنگ اور جدت کا مرکز بنائے گا۔
بایوٹیکنالوجی اگنیشن گرانٹ(بی آئی جی) پروگرام، جسے حکومتِ ہند کے محکمہ بایوٹیکنالوجی(ڈی بی ٹی) کے تحت کام کرنے والے ادارے بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آئی آر اے سی)کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، ملک میں ابتدائی مرحلے کی بایوٹیکنالوجی جدت اور کاروباری سرگرمیوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بایوٹیکنالوجی اگنیشن گرانٹ(بی آئی آر اے سی، بی آئی جی) کا ایک نمایاں پروگرام ہے جو بایوٹیکنالوجی کے شعبے میں ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کی مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ 2012 میں شروع کیا گیا یہ پروگرام جدت کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے ابتدائی سرمایہ کاری کے خطرات کو کم کرتا ہے، جس کے تحت 18 ماہ کی مدت کے لیے 50 لاکھ روپے تک کی گرانٹ فراہم کی جاتی ہے تاکہ نئے خیالات کے لیے ‘‘پروف آف کانسیپٹ’’(پی او سی) تیار کیا جا سکے۔
وقت کے ساتھ، یہ پروگرام بھارت میں ابتدائی مرحلے کی بایوٹیک فنڈنگ کے سب سے بڑے اقدامات میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہ پہلی نسل کے بایوٹیک کاروباری افراد کے لیے ایک مضبوط آغاز فراہم کرتا ہے اور ایک مؤثر اسٹارٹ اپ نظام تشکیل دیتا ہے، جو خود کفیل اور عالمی سطح پر مسابقتی بایوٹیکنالوجی جدت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ پروگرام 8 بی آئی جی پارٹنرز (بایو نیسٹ انکیوبیٹرز) کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے، جو آغاز سے لے کر منصوبے کی تکمیل (اور اس کے بعد بھی) تک مکمل رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اس میں تکنیکی، املاکِ دانش (آئی پی) اور کاروباری رہنمائی کے ساتھ ساتھ نیٹ ورکنگ کی سہولت بھی شامل ہوتی ہے۔
مارچ 2026 تک، اس پروگرام نے:
* 1,000 سے زائد ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اپس اور جدت کاروں کی مدد کی
* 200 سے زیادہ جدید مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کی تیاری کو ممکن بنایا
* 800 سے زائد املاکِ دانش (آئی پی) کی درخواستوں کو فروغ دیا
* 3,500 کروڑ روپے سے زیادہ کی اضافی فنڈنگ حاصل کرنے میں مدد دی
* 250 سے زائد خواتین کاروباری افراد کی معاونت کی
* 3,500 سے زائد ہنر مند روزگار کے مواقع پیدا کیے
* توسیع شدہ انکیوبیٹر نیٹ ورک کے ذریعے ٹئیر 2 اور ٹئیر 3 شہروں سے شرکت کی حوصلہ افزائی کی
اس پروگرام نے ابتدائی مرحلے کی جدت میں خطرات کو کم کرنے، اسٹارٹ اپس کے مضبوط سلسلے کو فروغ دینے اور بایوٹیکنالوجی کے شعبے میں سائنسی بنیادوں پر مبنی کاروباری کلچر کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک مضبوط اور خود کفیل بایو اکانومی کی ترقی ممکن ہو رہی ہے۔
یہ معلومات وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔
********
ش ح۔ش ت۔ رض
U-6601
(ریلیز آئی ڈی: 2257794)
وزیٹر کاؤنٹر : 11