صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر صحت جے پی نڈّا نے صحت کے مستقبل سے متعلق 10ویں قومی سربراہی اجلاس کا افتتاح کیا
—وزیر صحت کا جامع صحت نظام کی جانب انقلابی پیش رفت پر زور، بنیادی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے نئے اقدامات کا آغاز
—آیوشمان آروگیہ مندرس کے ذریعے احتیاطی نگہداشت کو فروغ، اموات اور بیماریوں کی تعداد میں کمی کی نشاندہی
— غیر متعدی امراض کے تدارک، این ایچ ایم کے مؤثر نفاذ اور آخری سطح تک صحت خدمات کی فراہمی کو کلیدی قراردیا
— ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے ریاست میں صحت کے شعبے میں تبدیلیوں کو اجاگر کیا
— این ایس او کے 80ویں راؤنڈ کے مطابق سرکاری صحت مراکز میں بیرونی مریضوں کے لیے اوسط خرچ صفر
— 10ویں قومی این ایچ ایم سربراہی اجلاس میں متعدد اہم صحت منصوبوں کا آغاز
جے پی نڈّا نے 10ویں قومی سربراہی اجلاس برائے اختراع اور شمولیت کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ملک میں جامع صحت نظام کی جانب نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس کے تحت عوام کو بہتر اور ہمہ جہت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آیوشمان آروگیہ مندرس کے قیام سے احتیاطی صحت خدمات کو تقویت ملی ہے، جب کہ اموات کی شرح اور بیماریوں کے بوجھ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے معیار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے فرنٹ لائن خدمات کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ غیر متعدی امراض کے خلاف مؤثر حکمت عملی، قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کے بہتر نفاذ اور آخری سطح تک صحت خدمات کی مؤثر رسائی ایک مضبوط اور جامع صحت نظام کی تشکیل کے لیے نہایت اہم ہیں۔
نائب سنگھ سینی نے اس موقع پر ہریانہ میں صحت کے شعبے میں نمایاں تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’کئیر‘ مہم، ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے سے ریاست میں طبی سہولیات بہتر ہوئی ہیں۔
صحت کے مرکزی سیکریٹری نے بتایا کہ قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کے 80ویں دور کے اعداد و شمار کے مطابق سرکاری صحت مراکز میں بیرونی مریضوں کے لیے درمیانی سطح کا خرچ صفر رہا ہے، جس سے مفت طبی سہولیات تک رسائی مزید مستحکم ہوئی ہے۔
اجلاس کے دوران متعدد اہم قومی صحت اقدامات کا بھی آغاز کیا گیا، جن میں بہترین طریقہ کار پر مبنی مجموعہ، 17ویں سی آر ایم رپورٹ، ’سوستھ بھارت‘ اور ’جننی‘ پورٹلز، اور آر بی ایس کے 2.0 شامل ہیں، جو ملک کے صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 APR 2026 4:20PM by PIB Delhi
صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر، جگت پرکاش نڈّا نے آج 10ویں قومی سربراہی اجلاس برائے اختراع اور شمولیت کا افتتاح کیا، جس میں ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی اور ریاستی وزیر صحت آرتی سنگھ راؤ بھی موجود تھیں۔
یہ سربراہی اجلاس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جہاں وہ صحت کے شعبے میں جدید اختراعات اور بہترین طریقہ کار پیش کرتے ہیں، جس کا مقصد ملک بھر میں جامع، قابلِ رسائی اور سستی صحت خدمات کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت نے ہریانہ حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے اس اہم اجلاس کی میزبانی کی، اور ریاست کی جانب سے صحت کے شعبے میں اختراعات کو فروغ دینے میں قیادت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عملی اور زمینی سطح پر مبنی حکمت عملیاں کس طرح مل کر ایک مؤثر اور جوابدہ عوامی صحت نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

تقریب کے موقع پر شروع کی گئی اسکیموں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت جگت پرکاش نڈّا نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد فرنٹ لائن طبی عملے کے کام کے ماحول کو آسان بنانا، خدمات کی فراہمی کو بہتر کرنا اور صحت کے نتائج کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے جو مؤثر، مربوط اور فراہم کنندگان و مستفیدین دونوں کی ضروریات کے مطابق جوابدہ ہو۔
گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان کے صحت نظام میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں ملک نے ’وکست بھارت‘ کے وژن کی سمت نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس سفر میں ایک اہم سنگ میل علاج پر مبنی محدود نظام سے نکل کر ایک جامع اور ہمہ جہت صحت ڈھانچے کی طرف پیش رفت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 2002 کی قومی صحت پالیسی زیادہ تر علاج پر مرکوز تھی، جب کہ 2017 کی قومی صحت پالیسی نے احتیاطی، فروغی، علاجی اور تسکینی پہلوؤں کو شامل کر کے صحت کے نظام میں بنیادی تبدیلی پیدا کی، جس سے یہ زیادہ عوام دوست اور جامع بن گیا۔
وزیر صحت نے 1.85 لاکھ سے زائد آیوشمان آروگیہ مندرس کے کردار کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مراکز تقریباً 150 کروڑ افراد کے لیے پہلا رابطہ مرکز بن چکے ہیں۔ ان مراکز نے احتیاطی صحت خدمات کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے، جس میں 30 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کینسر (منہ، چھاتی اور سروائیکل) جیسی غیر متعدی بیماریوں کی بڑے پیمانے پر جانچ شامل ہے۔
انہوں نے معیار کی بہتری اور استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ 50 ہزار سے زائد آیوشمان آروگیہ مندرس کو قومی معیارِ یقین دہانی (این کیو اے ایس) کے تحت تصدیق دی جا چکی ہے، تاہم معیار کی اس توثیق کو مزید وسعت دینے اور باقاعدہ آڈٹ کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقل کارکردگی اور بہتر نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔

اہم صحتی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت جگت پرکاش نڈّا نے کہا کہ ادارہ جاتی زچگی کی شرح 79 فیصد سے بڑھ کر 89 فیصد ہو گئی ہے، جو زچگی سے متعلق صحت خدمات تک بہتر رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زچّہ کی شرحِ اموات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس میں مسلسل بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ عالمی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں 79 فیصد اور شیر خوار بچوں کی اموات میں 73 فیصد کمی حاصل کی ہے۔
انہوں نے بیماریوں پر قابو پانے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تقریباً چھٹی بڑی آبادی رکھنے کے باوجود ہندوستان میں ملیریا کا عالمی بوجھ نسبتاً بہت کم ہے۔ اسی طرح تپ دق (ٹی بی) کے معاملات میں بھی عالمی اوسط کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کمی آئی ہے اور اس کا علاج 92 فیصد لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔
وزیر صحت نے صحت عامہ کی اہم کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو 2014 میں پولیو سے پاک قرار دیا گیا، 2015 میں نوزائیدہ تشنج کا خاتمہ ہوا اور ٹریکوما(پڑبال) اب صحت عامہ کا مسئلہ نہیں رہا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ کالا آزار کے خاتمے کا ہدف بھی جلد حاصل کر لیا جائے گا۔
ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئےجناب جگت پرکاش نڈّا نے غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ آیوشمان آروگیہ مندرس کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مؤثر جانچ، بروقت تشخیص اور مسلسل علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر جانچ کی جا چکی ہے، لیکن اب توجہ بروقت فالو اپ، علاج کی پابندی اور مؤثر ریفرل نظام پر مرکوز ہونی چاہیے۔
انہوں نے قومی صحت مشن کے تحت بہتر منصوبہ بندی اور نفاذ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ سطح کے افسران، بشمول چیف میڈیکل آفیسرز (سی ایم اوز) اور کمیونٹی ہیلتھ آفیسرز (سی ایچ اوز)، میں این ایچ ایم سے متعلق بیداری بڑھانا ضروری ہے تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ بروقت فنڈز کے استعمال، مختلف فریقین کے درمیان بہتر تال میل اور عوامی نمائندوں کی فعال شمولیت کو بھی اہم قرار دیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر صحت نے کہا کہ وسائل دستیاب ہیں، اصل ضرورت ان کے مؤثر اور بروقت استعمال کی ہے۔ مضبوط حکمرانی، بہتر رابطہ کاری اور آخری سطح تک مؤثر نفاذ ہی ایک مضبوط، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ صحت نظام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
اس موقع پر ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ سربراہی اجلاس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان بہترین طریقہ کار کے تبادلے اور باہمی سیکھنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جو عوامی صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

ہریانہ کی صحت پہلوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے بتایا کہ ’کئیر‘ مہم کے تحت ریاست بھر کے 188 مراکز پر مریضوں کے اہلِ خانہ کو گھریلو نگہداشت کے لیے تربیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل صحت کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ای سنجیونی‘ کے ذریعے آیوشمان آروگیہ مندرس میں روزانہ تقریباً 2 ہزار ٹیلی کنسلٹیشنز کی جا رہی ہیں، جس سے مریض ماہر ڈاکٹروں سے براہِ راست جڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہریانہ نے صحت بجٹ میں 32.89 فیصد اضافہ کیا ہے، جو بڑھ کر تقریباً 14 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ طبی تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں توسیع ہوئی ہے، جہاں میڈیکل کالجوں کی تعداد 2014 میں 6 سے بڑھ کر 17 ہو گئی ہے، جب کہ ایم بی بی ایس نشستیں 700 سے بڑھ کر 2,710 تک پہنچ گئی ہیں۔
معیاری صحت خدمات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کے 1,479 صحت اداروں نے قومی معیارِ یقین دہانی (این کیو اے ایس) کی تصدیق حاصل کر لی ہے۔ خدمات کی فراہمی کے حوالے سے اہم کامیابیوں میں تمام ضلعی اسپتالوں میں ماں اور بچے کی صحت کے شعبوں کا قیام، ایمرجنسی خدمات کے لیے 500 ایمبولینسز کا نیٹ ورک، اور 22 ضلعی اسپتالوں میں مفت ڈائیلاسس سہولت کی فراہمی شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست ہر شہری کے لیے قابلِ رسائی، سستی اور معیاری صحت خدمات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ہریانہ کی وزیر صحت آرتی سنگھ راؤ نے بھی وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کی قیادت میں ریاست کی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی صحت خدمات کو مضبوط کیا گیا ہے، طبی تعلیم میں توسیع ہوئی ہے اور مفت ادویات تک رسائی میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں، میڈیکل کالجوں، کمیونٹی ہیلتھ مراکز (سی ایچ سی)، پرائمری ہیلتھ مراکز (پی ایچ سی) اور آیوشمان آروگیہ مندرس میں صحت خدمات کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر صحت جگت پرکاش نڈّا کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ایمس، نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ اور این سی ڈی سی جیسے اداروں کو مضبوط بنانے میں تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے ماں اور بچے کی صحت میں بہتری کے لیے ایچ پی وی ویکسینیشن کے آغاز کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ صحت بجٹ 2014 میں 2,640 کروڑ روپے سے بڑھ کر 14 ہزار کروڑ روپے ہو گیا ہے، اور ریاست بڑے پیمانے پر غیر متعدی بیماریوں کی جانچ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے ’وکست بھارت 2047‘ کے ہدف کے حصول میں ہریانہ کے قائدانہ کردار کے عزم کو دہرایا۔
اس موقع پر مرکزی سیکریٹری صحت پُنیا سلیلہ سریواستو نے کہا کہ بہترین طریقہ کار کا مجموعہ ایک اہم دستاویز ہے جو شواہد پر مبنی اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ حل پیش کرتا ہے۔ انہوں نے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے تحت ٹیکنالوجی کے انقلابی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اے بی ایچ اے آئی ڈیز کو ایچ ایم آئی ایس، جننی اور ای سنجیونی جیسے پلیٹ فارمز سے جوڑا جا رہا ہے، جس سے نظام کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ مل رہا ہے۔

مرکزی سیکریٹری صحت پُنیا سلیلہ سریواستو نے مزید کہا کہ ’سوستھ بھارت پورٹل‘ مختلف صحت پروگراموں کو ایک مربوط اور باہم مربوط پلیٹ فارم پر یکجا کر کے ہم آہنگی کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جب کہ ’جننی پورٹل‘ حقیقی وقت میں نگرانی اور ڈیجیٹل انضمام کے ذریعے ماں اور بچے کی صحت کے نظام کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
انہوں نے 17ویں مشترک جائزہ مشن رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ ریاستوں کے لیے نفاذ کو بہتر بنانے اور عوامی شمولیت (جن بھاگیداری) کو فروغ دینے میں قیمتی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر توجہ دیتے ہوئے کہا کہ آر بی ایس کے 2.0 اور بچوں میں ذیابیطس سے متعلق رہنما اصول ابتدائی تشخیص اور مسلسل علاج میں معاون ثابت ہوں گے۔
سیکریٹری صحت نے علاج کے معیار میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 48 ہزار سے زائد صحت مراکز آئی پی ایچ ایس معیارات پر پورا اتر رہے ہیں اور 50 ہزار سے زائد مراکز این کیو اے ایس سے تصدیق شدہ ہیں، جب کہ ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے تحت بھی پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے تیاری کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا، جن میں فائر سیفٹی آڈٹس، لوُ سے نمٹنے کی حکمت عملی اور اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس سے نمٹنے کی کوششیں شامل ہیں۔
انہوں نے قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کے 80ویں دور کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری صحت مراکز میں بیرونی مریضوں کے علاج پر درمیانی ذاتی خرچ اب صفر ہو گیا ہے، جو حکومت کے مفت اور قابلِ رسائی صحت خدمات فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اس موقع پر متعدد اہم اقدامات کا آغاز بھی کیا گیا، جن میں قومی صحت مشن کے تحت قابلِ تقلید اختراعات پر مبنی بہترین طریقہ کار کا مجموعہ، 17ویں مشترک جائزہ مشن رپورٹ، ’سوستھ بھارت پورٹل‘، ’جننی پورٹل‘، بنیادی صحت ٹیموں کے لیے مربوط تربیتی ماڈیول، اور آر بی ایس کے 2.0 کے ساتھ بچوں اور نوعمروں میں ذیابیطس سے متعلق رہنما دستاویز شامل ہیں۔

17ویں مشترک جائزہ مشن (سی آر ایم) رپورٹ اور متعلقہ صحت اقدامات کی تفصیل
مشترک جائزہ مشن (سی آر ایم) وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کا سالانہ جائزہ عمل ہے، جس کے تحت قومی صحت مشن (این ایچ ایم) اور اس سے متعلق پروگراموں کے نفاذ اور کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس سال سی آر ایم کا 17واں مرحلہ ملک کی 17 ریاستوں—آندھرا پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، کیرالا، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، میگھالیہ، ناگالینڈ، اوڈیشہ، پنجاب، راجستھان، سکم، تمل ناڈو، تلنگانہ، اتر پردیش اور اتراکھنڈ—میں انجام دیا گیا۔ یہ وسیع عمل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مختلف خطوں کے تجربات، مسائل اور اختراعات کو شامل کر کے ایک جامع جائزہ لیا جائے۔ اس کے ذریعے احتساب مضبوط ہوتا ہے، ریاستوں کے درمیان باہمی سیکھنے کا عمل فروغ پاتا ہے اور شواہد پر مبنی صحت نظام کو مزید بہتر بنانے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
سوستھ بھارت پورٹل
’سوستھ بھارت پورٹل‘ ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد مختلف قومی صحت پروگراموں کو ایک ہی نظام میں یکجا کرنا ہے۔ اس کے ذریعے متعدد لاگ اِن اور بار بار ڈیٹا درج کرنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے، جس سے صحت عملے کا انتظامی بوجھ کم ہوتا ہے اور خدمات کی فراہمی زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔
یہ پورٹل آشا، اے این ایم، سی ایچ او اور میڈیکل آفیسرز (ایم اوز) جیسے فرنٹ لائن کارکنوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر رسائی فراہم کرتا ہے، جہاں وہ ڈیٹا کا تجزیہ اور مقامی سطح پر منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ یہ نظام آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے مطابق ہے اور اے بی ایچ اے (آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹ) کے ذریعے مریضوں کے ریکارڈ کے محفوظ اور آسان تبادلے کو ممکن بناتا ہے۔ مستقبل میں اسے ہیلتھ پروفیشنل رجسٹری (ایچ پی آر) اور ہیلتھ فیسلٹی رجسٹری (ایچ ایف آر) سے بھی جوڑا جائے گا۔
جننی پورٹل
’جننی پورٹل‘ (جَرنی آف اینٹینیٹل، نیٹل اینڈ نیونیٹل انٹیگریٹڈ کیئر) ایک مضبوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو تولیدی، زچّہ، نوزائیدہ، بچوں اور نوعمروں کی صحت (آر ایم این سی ایچ) سے متعلق ڈیٹا کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ یہ نظام حمل سے پہلے، دورانِ حمل، زچگی اور بچپن تک مکمل نگہداشت کو یقینی بناتا ہے۔
یہ پورٹل حقیقی وقت میں ڈیٹا فراہم کرتا ہے، جس سے ہائی رسک حمل اور دیگر طبی مسائل کی جلد نشاندہی ممکن ہوتی ہے اور بروقت مداخلت کی جا سکتی ہے۔ اس طرح نہ صرف فرنٹ لائن عملہ بلکہ پالیسی ساز بھی بہتر فیصلے کر سکتے ہیں، جس سے ماں اور بچے کی صحت کے عالمی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں مدد ملتی ہے۔
بنیادی صحت ٹیموں کے لیے مربوط تربیتی ماڈیول
یہ اقدام مختلف پروگراموں کی تربیت کو ایک جامع، منظم اور مہارت پر مبنی نظام میں یکجا کرتا ہے، جس سے فرنٹ لائن طبی عملے کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے صحت کارکنان احتیاط، ابتدائی تشخیص، علاج اور فالو اپ تک مکمل خدمات فراہم کرنے کے قابل بنتے ہیں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارم جیسے ’آئی گوٹ کرمایوگی‘ کے ذریعے مسلسل تربیت ممکن ہوگی، جس سے صحت عملہ جدید تقاضوں کے مطابق خود کو بہتر بنا سکے گا۔ اس اقدام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس سے خواتین صحت کارکنوں—جو اس نظام کا 70 فیصد سے زائد حصہ ہیں—کو مزید بااختیار بنایا جا رہا ہے۔
آر بی ایس کے 2.0 اور بچوں میں ذیابیطس سے متعلق رہنما اصول
آر بی ایس کے 2.0 (راشٹریہ بال سواستھیا کاریہ کرم) 2013 کے فریم ورک کا جدید ورژن ہے، جس میں بچوں کی صحت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس میں چار بنیادی پہلو—پیدائشی نقائص، بیماریاں، غذائی کمی اور نشوونما میں تاخیر—کو مزید وسعت دی گئی ہے۔
اہم نکات میں شامل ہیں:
- مزید پیدائشی اور ذہنی و رویہ جاتی مسائل کا احاطہ
- بچوں میں غیر متعدی بیماریوں کی شمولیت
- ہر بچے کی ڈیجیٹل ٹریکنگ اور بہتر ریفرل نظام
- بروقت تشخیص، علاج اور مسلسل نگہداشت کو یقینی بنانا
یہ پروگرام دنیا کے سب سے بڑے بچوں کی صحت اسکریننگ پروگراموں میں شامل ہے، جو پیدائش سے 18 سال تک کے بچوں کا احاطہ کرتا ہے۔
سربراہی اجلاس کی اہمیت
یہ اجلاس تکنیکی نشستوں، پینل مباحثوں اور ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی پیشکشوں پر مشتمل ہے، جس میں ڈیجیٹل صحت، بنیادی صحت نظام کی مضبوطی، مالی تحفظ اور عوامی شمولیت جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ نیشنل ہیلتھ کیئر انوویشن پورٹل (این ایچ آئی این پی) کے تحت منتخب بہترین اقدامات کو پیش کیا گیا تاکہ دیگر ریاستیں بھی ان سے سیکھ سکیں اور انہیں اپنایا جا سکے۔
یہ تمام اقدامات مجموعی طور پر ایک جدید، مربوط اور عوام دوست صحت نظام کی تشکیل کی جانب اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 6522)
(ریلیز آئی ڈی: 2257140)
وزیٹر کاؤنٹر : 9