شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
شماریات و پروگرام کے نفاذ کی وزارت کے زیر اہتمام 29–30 اپریل 2026 کو اڈیشہ کے شہر بھونیشور میں “انتظامی ڈیٹا کو حکمرانی کے لیے ہم آہنگ بنانے” کے موضوع پر نیشنل ڈیلیبریٹو سمٹ کا انعقاد
اس موقع پر اڈیشہ کے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈیٹا کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے، جس میں شفافیت اور ضروری رازداری کے درمیان توازن برقرار رہے
چیف سکریٹری اڈیشہ نے کہاکہ ساختی بنیادی ڈھانچہ کےساتھ معیارات پر مبنی باہم مربوط نظام ڈیٹا کی مکمل افادیت حاصل کرنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے
چیئرمین سنٹرل بیورو آف کمیونیکیشن نے کہا کہ ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے
ایم او ایس پی آئی کے سکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف شعبوں کے درمیان موجود ڈیٹا سائلوز کو ختم کیا جائے اور کھلے، معیاری اور باہم مربوط ڈیٹا نظام کو فروغ دیا جائے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 APR 2026 3:41PM by PIB Delhi
شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) نے 29-30 اپریل 2026 کو بھونیشور ، اڈیشہ میں ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ‘‘گورننس کے لیے انتظامی ڈیٹا کو ہم آہنگ کرنے’’ کے موضوع پر ڈیڑھ روزہ قومی مفاہمتی سمٹ کا انعقاد کیا ۔ اس سمٹ کا مقصد انتظامی اعداد و شمار کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ایکشن پلان اور ٹائم لائن پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے اور اس میں 31 سے زیادہ ریاستی/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں ، مرکزی وزارتوں/محکموں ، محققین اور بین الاقوامی تنظیموں/تعلیمی اداروں/نجی تنظیموں کے تکنیکی ماہرین وغیرہ کے تقریبا 300 اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا ہوئے ۔تاکہ مشترکہ معیارات کو اپنایاجائے اور بہتر پالیسی سازی اور حکمرانی کے لیے باہمی نظام کو فعال کیا جائے۔
قومی مفاہمتی سمٹ کا افتتاح اڈیشہ حکومت کے عزت مآب نائب وزیر اعلی جناب کنک وردھن سنگھ دیو اور ممتاز شخصیات نے کیا ۔ ایس رادھا چوہان ، چیئرپرسن ، صلاحیت سازی کمیشن ؛ ڈاکٹر سوربھ گرگ ، سکریٹری ، ایم او ایس پی آئی ؛ جناب دیورنجن کمار سنگھ ، ڈیولپمنٹ کمشنر-کم-اے سی ایس ، حکومت اڈیشہ نے اس موقع پر شرکت کی ۔

آغاز میں ایم او ایس پی آئی کے ڈائریکٹر جنرل (ڈیٹا گورننس)پی آر میشرم نے معزز مہمانانِ گرامی کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایم او ایس پی آئی ریاستوں کو مؤثر فیصلہ سازی کے لیے ہم آہنگ ڈیٹا نظام کی طرف پیش رفت میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
سمٹ کے پس منظر کو واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر سوربھ گرگ، سکریٹری ایم او ایس پی آئی نے وزیرِ اعظم کے اس وژن کو اجاگر کیا کہ ڈیٹا کے بارے میں مثبت اور کھلا رویہ اپنایا جائے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں موجود ڈیٹا سائلوز کو ختم کرنے اور کھلے، معیاری اور باہم مربوط ڈیٹا کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بہتر حکمرانی اور سماجی و معاشی نتائج کے لیے منظم ڈیٹا شیئرنگ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ سسٹم آف نیشنل اکاؤنٹس 2025 کے تحت ڈیٹا کو اب ایک معاشی اثاثہ کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
افتتاحی خطاب میں نائب وزیر اعلیٰ حکومتِ اڈیشہ جناب کنک وردھن سنگھ دیو نے کہا کہ ڈیٹا آج کے دور کی بنیادی ضرورت ہے اور یہ “وِکست بھارت @2047” اور اڈیشہ کے 2036 کے اہداف کے حصول خاص طور پر زراعت اور توانائی کے شعبوں میں ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کے ذریعے کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈیٹا کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کیا جانا چاہیے، جس میں شفافیت اور ضروری رازداری کے درمیان مناسب توازن برقرار رہے۔
صلاحیت سازی سے متعلق کمیشن کی چیئر پرسن محترمہ رادھا چوہان نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اے آئی کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکمرانی اور خدمات کی فراہمی دونوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے، جس کے لیے دو بنیادی ستون—ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی اپنانا—پر متوازن توجہ درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی ضروری ہے کیونکہ کئی روایتی عمل ڈیٹا کو اے آئی کے لیے تیار بنانے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔دیوجی رنجن کمار سنگھ، ڈویلپمنٹ کمشنر-کم-ایڈیشنل چیف سیکریٹری، حکومتِ اڈیشہ نے ڈیٹا کی بروقت دستیابی اور قابلِ عمل تجزیاتی بصیرت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر ڈیٹا کی عدم دستیابی مؤثر فیصلہ سازی میں مشکلات پیدا کرتی ہے، اس لیے مضبوط اینالیٹکس سپورٹ ناگزیر ہے۔

افتتاحی اجلاس کے موقع پر “ڈیٹا ڈیوڈنڈ’’ پر مبنی ایک ویڈیو پیش کی گئی، جس نے کانفرنس کے مرکزی موضوع کی روح کو اجاگر کیا۔ اسی موقع پر ایم او ایس پی آئی نے اپنی اہم اشاعت ‘‘بھارت میں خواتین اور مرد :منتخب اشاریے اور اعداد و شمار’’ بھی جاری کی، جس میں بھارت میں صنفی منظرنامے کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں آبادی، تعلیم، صحت، معاشی شرکت اور فیصلہ سازی جیسے اہم شعبوں سے متعلق منتخب اشاریے اور اعداد و شمار شامل ہیں، جو مختلف وزارتوں، محکموں اور اداروں سے حاصل کیے گئے ہیں۔
پہلا دن (29 اپریل 2026) سمٹ کے مرکزی موضوع پر غور و خوض کے لیے وقف رہا، جس میں چار سیشنز اور ایک پینل مباحثہ شامل تھا۔ اجلاس کا آغاز ریاستوں کی پیشکشوں سے ہوا، جنہوں نے انتظامی ڈیٹا کو ہم آہنگ بنانے کے لیے اپنے اقدامات کو اجاگر کیا۔ ان میں مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، مشترکہ شناختی نظام اور اے پی آئی پر مبنی انٹرآپریبل سسٹمز شامل تھے۔ کیرالہ نے ایک مربوط ملٹی ڈپارٹمنٹ ڈیجیٹل ایکو سسٹم پیش کیا، مہاراشٹر نے یونیفائیڈ اسٹیٹ بزنس رجسٹر، آسام نے آدھار سے منسلک انضمام پر مبنی ڈیٹا پالیسی 2026، بہار نے اے آئی پر مبنی ڈیٹا لیب پورٹل، جبکہ دہلی نے ریکارڈز کو نیشنل میٹاڈیٹا اسٹرکچر (این ایم ڈی ایس 2.0) کے مطابق مشین ریڈ ایبل فارمیٹس میں تبدیل کرنے کا ماڈل پیش کیا۔
مباحثوں میں ایک ایسے روڈ میپ پر بھی توجہ دی گئی جس کے ذریعے کثیر ماخذ نظام کے تحت انتظامی ڈیٹا کو ہم آہنگ کیا جا سکے اور ڈیٹا سائلوز، انٹرآپریبلٹی کے خلا اور ڈیٹا کے معیار جیسے مسائل کو حل کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں این ایم ڈی ایس 2.0، معیار سازی، مشترکہ شناختی نظام، میٹاڈیٹا اور اے پی آئی پر مبنی ڈیٹا شیئرنگ جیسے اقدامات پر زور دیا گیا تاکہ مربوط اور مؤثر نظام تشکیل دیا جا سکے۔ڈیٹا ہارمونائزیشن گائیڈ لائنز اور ایکو سسٹم ڈیولپمنٹ پر بھی ایک پینل مباحثہ ہوا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک مضبوط نظام کے لیے مؤثر گورننس فریم ورک، قابلِ توسیع پلیٹ فارمز، صلاحیت سازی اور مسلسل ڈیٹا کوالٹی ایشورنس ناگزیر ہیں تاکہ ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کو مؤثر بنایا جا سکے۔
مزید مباحثوں میں حکمرانی کے لیے ڈیٹا کے دوبارہ استعمال کو فروغ دینے پر بھی غور کیا گیا، جس میں انٹرآپریبلٹی پلیٹ فارمز، فریم ورکس اور عملی تجربات جیسے تمل ناڈو کی ڈیٹا لنکیج پہل اور ڈی پی ڈی پی ایکٹ 2023 سے متعلق تکنیکی حل شامل تھے۔
دوسرے دن (30 اپریل 2026) ورکشاپ میں ڈیٹا اسٹرکچر کی بنیادوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی، جس میں میٹاڈیٹا اسٹینڈرڈز، ڈیٹا ماڈلنگ، نالج گرافس، ڈیٹا کوالٹی اور کیٹلاگنگ جیسے پہلو شامل تھے تاکہ منظم اور قابلِ استعمال ڈیٹاسیٹس تیار کیے جا سکیں۔ اس کے بعد اثرات پر مبنی سیشن میں اے آئی سے چلنے والی ڈیٹا ایکسیس اور مائیکرو ڈیٹا اینالیٹکس پر روشنی ڈالی گئی۔
اختتامی اعلیٰ سطحی پینل مباحثے میں یہ بات سامنے آئی کہ ڈیٹا ہارمونائزیشن ایک طویل مدتی اور مسلسل عمل ہے، جس کے لیے سیاسی عزم، ادارہ جاتی ملکیت اور مربوط اقدامات ضروری ہیں۔ اس کے ساتھ مرحلہ وار، لچکدار اور مقامی ضروریات کے مطابق حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اور موجودہ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ریاستیں بتدریج ایسے مربوط ڈیٹا نظام تشکیل دے سکتی ہیں جو حکمرانی کی کارکردگی، شفافیت اور شہری مرکوز خدمات کو بہتر بنائیں۔

سمٹ کے اختتامی اجلاس کی صدارت حکومتِ اڈیشہ کی چیف سیکریٹری محترمہ انو گرگ نے کی۔ انہوں نے اڈیشہ حکومت کی جانب سے شماریاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی، جن میں 600 سے زائد شماریاتی عملے کی بھرتی، ڈیٹا پالیسی 2.0 کا نفاذ ،جو ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کے مطابق ہے، ڈیٹا ڈسیمینیشن پالیسی اور ایک متحرک شماریاتی ویب پورٹل کا آغاز شامل ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست ڈیٹا کے معیار، ہم آہنگی، رسائی اور اس کی درست اہمیت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ آگے کے لائحہ عمل کے طور پر انہوں نے کہا کہ مرحلہ وار، معیارات پر مبنی اور باہم مربوط طریقۂ کار، فیڈریٹڈ آرکیٹیکچرز، صارف مرکوز پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ مل کر ڈیٹا کی مکمل قدر کو پالیسی سازی اور خدمات کی فراہمی کے لیے مؤثر طور پر بروئے کار لانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
**********
ش ح۔ ک ح۔ت ا
U. No- 6508
(ریلیز آئی ڈی: 2257041)
وزیٹر کاؤنٹر : 10